Maan Yaram Maan Janam by Uzma Mujhahid

Rude Hero Base |   Haveli Base | Revenge Base  |   After Marriage | Rude Hero   

“نہیں زرغام جب تک سردار صاحب نہیں آجاتے تم مہرماہ کے متعلق کسی کا کوئی حکم نہیں مانوگے۔”
محراب خاتون کی آنکھوں کے سرخ ڈوروں پر بطشہ مسکائی تھی۔
“تم لاکھ چھپا لو محراب خاتون مہرماہ کی حالت چیخ چیخ کے بتارہی ہے کہ اس پر کیا بیتی ہے۔”
بطشہ کے طنزیہ لب ولہجے پر محراب خاتون نے صبر کا گھونٹ پیا تو زرغام بھی مٹھیاں بھینچے باہر نکل گیا تھا۔کچھ ہی دیر میں مہرماہ کی آمد کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔قبیلے کے معززین سردار یوسفزئی کی حویلی آن پہنچے تھےتاکہ مسئلے کی سنگینی کا احساس کیا جاسکے۔اسکی مستقل بےہوشی کو ڈاکٹر نے صدماتی کیفیت کا نام دیا تھا۔
“سردار تمہاری بیٹی کیا کہتی ہے سننے میں تو یہی آرہا ہے کہ وہ جوان ہے ،پڑھی لکھی خوبصورت ہے کیا پتا وہ خود گھر چھوڑ کے گئی ہو؟”
وہ قبیلے کے انتہائی معزز بزرگ تھے جنکی بات سن کے سردار یوسفزئی کے چہرے پر غصہ واضع ہوا تھا۔
“دیکھیئے محترم آپ کے پاس اس مسئلے کا کوئی حل ہے تو بتائیں مجھے انصاف چاہیئے ناکہ میرے گھر کی جانب اٹھتی انگلیاں۔”
وہ بڑی مشکل سے بول پارہے تھے۔
“جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں تمہاری بیٹی کی شادی ہونے والی تھی اگر اسکا منگیتر اسے اپنا لے تو جرگہ یقینا فیصلہ اسی کے حق میں دے گا ورنہ تمہاری بیٹی کو گاؤں کی خواتین کے سامنے اپنی آبرو کی پاکدامنی کا ثبوت دینا ہوگا دوسری صورت میں اسکا مقدر موت ہوگی کیونکہ کسی غیرشادی شدہ لڑکی کا چار دن گھر سے غائب ہوکے غیر مردوں کے ہمراہ رہنا کسی طرح قابل قبول نہیں ہوگا۔ ہم نہیں چاہتے کل کلاں کوئی اور لڑکی بھی اپنی من مرضی سے بھاگ جائے اور اسکے ورثہ کسی پر بھی اسکے اغوا کا الزام دھر دیں اور احتساب سے بچ جائیں۔”
جرگے کے فیصلے پر وہ پہلو بدل کے رہ گئے تھے جبکہ وہ سب انہیں سوچنے کا وقت دے کر جاچکے تھے۔
“اب کیا ہوگا سردار صاحب کیا وہ لوگ میری بیٹی کو مار دیں گے؟”
محراب خاتون تک اس فیصلے کی خبر پہنچی تو وہ اپنے ڈر سمیت انکے پاس آن پہنچی تھیں۔
“کچھ سمجھ نہیں آرہا عجیب منجدھار میں پھنس گیا ہوں مجھے سفیان سے بات کرنی ہوگی اسوقت وہیں ہے جو ہماری بچی کچی عزت بچا سکتا ہے ۔”
سردار یوسفزئی نے فورا سفیان اور مائرہ کو بلوایا تھا۔ادھر مہروماہ ہوش کی دنیا میں لوٹی تو جیسے بولنا ہی بھول چکی تھی۔
“کچھ تو بولو مہرو آخر وہاں کیا ہوا تھا جانتی ہو جرگے کا کیا فیصلہ آیا ہے؟وہ چاہتے ہیں تمہیں ستی کرکے ماردیا جائے۔”
منتہا نے ایک زہر اسکے وجود میں انڈیلا تھا۔وہ بےیقین نظروں سے اسے دیکھنے لگی تھی۔
“پر تہو آپی کیوں میں نے کیا کیا ہے؟”
وہ آگاہی کی سیڑھیوں پر قدم دھرنے لگی تھی۔
“کسی غیرمرد کی سنگت کا شعبہ ہے انہیں تم پر۔۔۔۔میرا مطلب ہے یہ سب جرگہ کہہ رہا میں تو تمہیں وہیں بتا رہی ہوں جو سنا ہے۔”
مہرماہ کے پاؤں تلے سے زمین سرکی تھی۔وہ انہیں سب بتانا چاہتی تھی مگر اسے زبان بندی کا حکم دیا گیا تھا۔مبارک خان نے کہا تھا اگر وہ اپنے حق میں بھی گواہی پیش کرنے کی کوشش کرے گی تو اسکا اگلا ہدف ارحان ہوگا ،مہرماہ کے نام سے عزت کی چادر اترنے کا الزام لگے لگا لیکن ارحان کی جان جائے گی اور سردار یوسفزئی یقینا اکلوتے بیٹے کے مرنے کا صدمہ سہل نہیں کرپائیں گی۔
وہ جو ان دیکھی بیڑیاں اسکے پاؤں میں ڈالی گئی تھیں ماسوائے ان پر گریہ زاری کے وہ کچھ بھی نہیں کرسکتی تھی ۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *