Tum Bin Jiya Jaye Kese By Uzma Mujahid Novel20640
Tum Bin Jiya Jaye Kese By Uzma Mujahid
Rude Hero | Wadera System | Haveli Base | Revenge Base | Cousin base | After Marriage | Romantic Novel | Complete Novel
حیدر مجھے آپ سے ملنا ہے حیدر کو اسکا مسیج ریسو ہوا تو پریشان ہوگیا کیا ہوا مشی کالج آتو رہے ہیں۔۔۔۔
نہیں آپ کالج نہیں آؤ گے نہ ہی میں۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ابھی آپکے گھر آرہی ہوں ۔۔۔
اسکے مسیج نے اک تفکر کا جال حیدر کے ماتھے پہ بچھایا تھا۔۔۔
اوکے میں انتظار کررہا ہوں کچھ دیر توقف کے بعد اس نے مشعل کو مثبت جواب دیا تھا۔۔۔۔۔
اتنا تو وہ جانتا تھا کہ آجکل انکے گھر زہرہ کے رشتے کو لے کے ٹینشن چل رہی مگر اب ایسا کیا ہوگیا بے چینی سے ٹہلتے وہ اسکا انتظار کررہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلی۔ہی بیل پہ اسکیلئے دروازہ کھولتا اسے اندر لایا تھا جبکہ وہ کالج یونیفارم۔میں ملبوس تھی تو مطلب وہ گھر سے کالج کا بہانہ کر کے نکلی تھی۔۔۔۔۔۔۔
حیدر نے تاسف سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔
مشعل کتنی بری بات ہے آپکا یہ حلیہ جانتی ہیں نا اس بلڈنگ میں مجھے بھی مشکوک کرسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو پہلے بھرے دل سے تھی اسکی مزید ڈانٹ سنتے زور سے رونا شروع کردیا جبکہ حیدر اسکے ریکشن پہ گھبرا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
واٹ ہیپنڈ میری جان سوری مجھے نہیں ڈانٹنا چاہیے تھا کیا ہوآ مشی بوکھلاتے ہوئے اسے اب خود پہ ندامت ہونے لگی تھی ۔۔۔
آگے بڑھ کے مشعل کا سر اٹھایا پر سہارا پاتے ہی وہ اس سے لپٹ کے مزید رونے لگی تھی۔۔۔۔
مشعل اب آپ مجھے پریشان کررہی ہو کچھ بتائیں گی کے کیا ہوا ہے حیدر اسے خود سے لپٹائے تھپکنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ جانتا تھا کہ مشعل بہت سینسٹو ہے اور شاید عمر ہی ایسی بچکانہ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آ آپ مجھ سے شادی کر لیں آج ہی پلیز اسکے سینے میں سر دیے وہ بچوں کی طرح جزباتی ہورہی تھی جبکہ حیدر اسکا مطالبہ سنکے سکتے میں آگیا تھا ۔۔۔۔
مشی آپ شاید اسوقت جزباتی ہورہی ہیں آپ کو پتا بھی ہے کہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔
حیدر نے غصہ دباتے پیار سے اسے پچکارا تھا۔۔۔
آپ۔مجھ سے آج کے آج شادی کررہے ہیں کہ نہیں اس سے دور ہوتی چیخ چیخ کے بولی تھی جبکہ حیدر اسکے اس قدر جنونی انداز کو دیکھ پریشان ہوا تھا۔۔۔۔۔
دیکھو مشی یہ معاملے ایسے طے نہیں ہوتے تم۔گھر جاؤ میں شام میّ کسی بڑے ساتھ تمہارے بابا پاس آؤں گا۔۔۔۔۔
مجھے ہاں یا ناں میں جواب دیں حیدر نہیں تو میں اپنی جان لے لونگی بند مٹھی کو اسکے سامنے کھولا تھا اور دوسرے ہی لمحے زناٹے دار تھپڑ نے اسے سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور زمین پہ گری تھی۔۔۔۔۔۔
پاگل ہوگئی ہوں تم ۔۔۔
ہاں ہوگئی ہوں پاگل اس سے پہلے کے آپ یا کوئی اور میرے بھیا کو ڈیگریڈ کرے میں یہ نہیں یہ دیکھ سکتی سب۔۔۔
حیدر کو اب کچھ کچھ معاملہ سمجھ آنے لگا تھا ۔۔۔
دیکھو مشعل جزباتی ہوکے فیصلے کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔۔۔۔۔
آپ صاف صاف کیوں نہیں کہتے کہ ٹائم پاس کررہے ہیں آپ میرے ساتھ کبھی شادی نہیں کریں گے۔۔۔۔
اپنی سدھ بدھ کھوچکی تھی وہ۔۔۔۔۔
اسکی بات پہ حیدر نے شاکڈ انداز میں اسے دیکھا تھا کچھ اندازہ ہے کہ کیا بول رہی ہیں آپ مشی کو بازو سے پکڑ کے اپنے سامنے کھڑا کیا تھا ۔۔۔۔۔۔
تو پھر کیوں کررہےہیں آپ انکار پلیز حیدر وہ اک بار پھر سے منت پہ اتر آئی تھی۔۔۔۔
اوکے ڈن تم اندر روم۔میں جاؤ میں کچھ کرتاہوں۔۔۔
مگر وہ وہاں سے ہلی بھی نہیں تھی اف یہ لڑکی۔۔۔۔
کیا ہے اب مشعل ۔۔۔
کورٹ چلیں وہ بے یقین سی ٹہری تھی جبکہ حیدر کا دل۔کیا اسکا منہ توڑ دے ۔۔۔۔
میں کچھ دوستوں کو بلا کے فلیٹ پہ بندوبست کرتا ہوں مشی پلیز اب مزید مجھے تنگ نہ کرو جو کہا ہے وہ مانو۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی بےبسی دیکھتے مشی آرام سے اسکے بیڈروم۔چلی گئی تھی وہ کال۔پہ کسی سے رابطہ کرنے لگا تھا۔۔۔۔
جب وہ کمرے میں داخل ہوا وہ مزے اسکے بیڈ پہ بیٹھی چپس کھا رہی تھی اس پہ بجلیاں گرائے اب وہ پرسکون ہوچکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ لو ابنا حلیہ بدل لو میری بھی کوئی عزت ہے سب کیا کہیں گے اپنی سٹوڈنٹ کو بھگا کے شادی کررہا ۔۔۔
سنجیدہ انداز میں وہ۔اس سے مخاطب ہوا۔۔۔۔۔۔۔
مشعل اسکی ناراضگی کا حظ اٹھاتی کپڑے۔لے کے چینج کرنے چلی۔گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاید اس نے ارجنٹ بیسز پہ انکا اہتمام کیا تھا مگر مشعل نے جب پہن کے خود کو آئینے میں دیکھا اسے لگا یہ بنائے ہی اسی کیلئے گئے ہیں اپنے بیگ سے پنک گلوز اور آئی لینر اٹھا کے اپنی تیاری کو فائنل ٹچ دیا ۔۔۔۔
حیدر جو مکمل انتظام۔کے بعد اسے بلانے آیا تھا اک لمحے اس معصوم چہرے کو دیکھ خود کو ملامت کی مگر وہ بیچ منجدھار پھنس چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جانتا تھا جتنی وہ سائیکو ہورہی تھی کوئی انتہائی غلط فیصلہ کرگزرتی۔۔۔۔۔۔۔
کور کرو چہرہ اپنا دبے دبے غصے میں اس سے مخاطب ہوا وہ جو تعریف سننے کی۔منتظر تھی اسکا کڑوا انداز دیکھ صبر کے گھونٹ پی کے رہ گئ تھی۔۔۔۔۔۔
مشعل۔رحمٰن بنت عبدالرحمٰن علی حیدر علوی سکہ رائج الوقت 1لاکھ حق مہر آپکو قبول ہے۔۔
قبول ہے مشعل نے بخوشی ایجاب قبول کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕