Tar E Ankaboot By Uzma Mujahid

Feudal system  | University Base | Emotional Story | Complete Novel | Romantic Urdu Novel

میرے پاس تک سے گزرے میرا حال تک نا پوچھا
یہ میں کیسے مان لوں کہ وہ دور جاکے روئے۔۔۔
پاس سے گزرتی افق اور ایلیاء کو دیکھتے بار نے سنوایا تھا وہ تلملا کے رہ گئی تھی۔
افق کو جواب کیلئے پر تولتے دیکھ ایلیاء کے اردگرد الارم بجنے لگے تھے جب وہ اسے کھنچنے لگی تھی۔
“تمہیں یہ غلط فہمی کیونکر ہوئی باری صاحب کہ افق شاہ تم جیسوں کیلئے جوگ لے گی۔افق شاہ ،افق کے اس پار چمکتا وہ درخشاں ستارہ ہے جسے تم جیسے حاصل کرکے بھی حاصل نہ کرپاؤں۔”
تمسخر سے کہتی وہ اپنے اور اسکے رشتے کو بھلا چکی تھی شاید۔
باری کا چہرہ خفت کے مارے سرخ پڑنے لگا تھا بنا سوچے سمجھے اس نے آگے بڑھتے افق کا بازو تھاما تھا نجانے وہ کن سوچوں میں تھی جسے باری کا ہاتھ لگانا وبال پیدا کرگیا ۔بنا سوچے سمجھے اسکا ہاتھ اٹھا تھا۔
وہاں موجود تمام اسٹوڈنٹس ہکا بکا سے انہیں دیکھ رہے تھے ۔
درختوں پہ بیٹھی کوئل نےاداسی سے اس منظر کو دیکھا۔اس نے کئی بار شرارتی اور محبت بھرے جملے سنے تھے اور آج انہی دونوں کی نفرت کی انتہا اسے بھی دکھی کررہی تھی۔پنجاب یونیورسٹی کا پتا پتا حیران تھا ابھی زیادہ عرصہ تو نہیں گزرا تھا جب انہوں نے باری کو افق شاہ کے لیے بھنورا بن کے اڑتا دیکھا تھا اور وہ بھی کسی کوئل کی طرح صرف باری کے گیت گاتے دکھائی دیتی تھی۔
“تم تمہاری اوقات کیا ہے افق شاہ۔”
اسکی آنکھوں سے ایک سیلاب سا رواں ہونے لگا تھا جبکہ اسکا لہجہ اتنا سخت نہیں تھا جتنا ہونا چاہیئے تھا۔
“اور تم کیا چیز ہو باری ،تمہاری کیا اوقات ہے یہ۔۔”
افق نے موبائل سے اسکی تصاویر نکالتے سامنے کیا۔وہ اسے روک ہی نہیں پایا تھا جسکی انگلیاں سرعت سے ایک ایک منظر کو آگے کررہی تھیں۔
“افق مت کرو۔۔”اسٹوڈنٹس کو انتہائی دلچسپی سے باری کی تصاویر دیکھتے اور گوسپ کرتے دیکھ ایلیاء چلائی تھی۔
“کیوں ؟کیوں ایلیاء اگر مر افق شای گئی ہے تو زندہ رہنے کا حق اسے بھی نہیں ہونا چاہیئے کس حق سے یہ افق پہ انگلی اٹھانے آیا تھا۔”
افق نے سختی سے اپنا بازو ایلیاء کی گرفت سے آزاد کروایا۔
باری حیران سا تھا موبائل اسکے سامنے سے ہٹ چکا تھا لیکن اسکی آنکھوں کے سامنے وہ منظر رک سے گئے تھے جہاں زرمینہ شاہ اور افق شاہ پہ انگلی اٹھانے والا عبدلباری پارسائی کے دعوایداری سے خارج ہوچکا تھا۔
“یہ سب جھوٹ ہے۔”
گہری نیند سے بیدار ہوتے اس نے کمزور احتجاج کیا تھا۔
“ترس آرہا ہے تم پہ باری اور شرم بھی کہ کبھی افق شاہ نے تم جیسے شخص سے عقد کیا تھا۔”
افق کا انکشاف ایک اور جھٹکا تھا۔
وہ اپنے اور اسکے رشتے پہ نادم تھی وہ رشتہ جو عرش معلٰی پہ بہترین قرار دیا گیا۔وہ رشتہ جو آئیندہ آنے والی نسلوں کی شناخت ہوتا۔
سب لوگوں کی دبی دبی سرگوشیاں انہیں ایک اور ہاٹ ٹاپک مل گیا تھا ایلیاء اور اسٹوڈنٹس کے ذریعے اس تماشے کو دیکھنے آئی عنیزے بھی اس انکشاف پہ حیران تھیں۔اتنی بڑی بات انہوں نے کیسے چھپا لی تھی اور اگر یہ سچ تھا تو اتنے برے طریقے سے اسے کیوں ایکسپوز کیا جارہا تھا کئی ایک نئے سوال جنم لے رہے تھے ۔
مبشر نے آگے بڑھتے باری کو تھاما تھا اور ایلیاء افق کو مزید کچھ بولنے سے روکنے کیلئے وہاں سے کھنچتی لے گئی۔
اداس بیٹھی کوئل نے غمزدہ محبت سے ہمدردی کی لیکن اسکی آنکھوں میں انتقام کی روش دیکھتے وہ تاسف سے سرجھکا گئی۔معراج کے اونچے مسند پہ لیے جانا والا انسان جو ہر طرح سے برتر تھا محبت اسے یوں خود کمتر کرتا دیکھ برداشت نہیں کرپائی تھی۔اپنی ہتک کرنے والوں کو کبھی نا معاف کرنے کا سوچتی وہ بھی ہٹ گئی تھی۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *