Black Monster By Ayn Khan

After Marriage | Forced Marriage | Haveli Base | Rude Hero | Cousin Base | Hero Gangster | Multiple Couple | Romantic Novel

سد۔۔۔۔۔۔مجھے بھی یونیورسٹی لے جائے ۔۔۔۔وہ اس کی گاڑی کے سامنے آئی جس کی وجہ سے اسے گاڑی کو روکنا پڑا ۔

ارانیہ ۔۔۔۔۔۔اپنی اس عادت کو بدل لو ۔۔۔۔۔سعد نے اس کو گھورتے ہوئے کہا جس پر ۔۔۔. ارانیہ چہرے کو جھکا گئی ۔

اب یہ بت کی طرح کھڑی کیوں ہو ۔۔۔؟ ؟بیٹھوں اندر ۔۔۔۔۔سعد روڈ سا بولا جس پر ارانیہ شرمندہ سی اس کی گاڑی میں بیٹھ گئی ۔

میں تو آپ کی دوست ہوں سڈ پلیز اس طرح روڈ مت ہوا کریں ۔۔۔۔۔۔وہ اپنے لب چھباتے ہوئے نم آنکھوں سے رُخ باہر کی طرف موڑے بولی ۔

دوست ۔۔۔میرے سر پر مسلت کیا ہوا ایک رشتہ ہو صرف تم ۔۔۔۔۔۔. سعد بے زار سا بولا ۔

ارانیہ نے نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا تھا اسے اپنی تزلیل محسوس ہوئی اسی لیے ضبط سے بیٹھی رہی ۔

……………..

تم تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔۔عفاف نے اپنے خوف پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے مڑ کر اس کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔

میں نے سوچا اپنی پروفیسر کو اسائنمنٹ دے آؤ جس کی وجہ سے انہوں نے میری سب کے سامنے انسیلٹ کرتے ہوئے مجھے کلاس سے باہر نکال دیا تھا پر ۔۔۔۔۔ معاز کھڑے ہوتے ہوئے عفاف کی طرف بڑھتے ہوئے بولا ۔

معاز کی نظروں میں عجیب سی بے باکی تھی جیسے دیکھتے ہوئے عفاف خوفزدہ سی پیچھے ہٹنے لگی ۔

معاز جاؤ یہاں سے ۔۔۔عفاف کانپتے ہوئے لہجے میں چیخی ۔

آپ پوچھے گی نہیں میرے پر کا مطلب ۔۔۔۔۔۔معاز خوفزدہ سے عفاف کے بالکل قریب کھڑا ہوتے ہوئے بولا جو خوف سے آئینہ کے ساتھ جڑ چکی تھی ۔

ن۔۔۔. نہ ۔۔۔۔نہیں مجھے انٹرسٹ نہیں ہے ۔۔۔۔۔عفاف اپنی کانپتی آواز پر قابو پا کر بولی ۔

پر میں پھر بھی بتاؤ گا ۔۔۔۔۔معاز عفاف کے دائیں بائیں ہاتھ رکھتے ہوئے گھمبیر انداز لیے بولا ۔

عفاف خوفزدہ سی آنکھوں کو بند کر چکی تھی ۔

ہے تو آپ میری پروفیسر پر ۔۔۔۔معاز شاہ کا دل آپ پر آ چکا ہے ۔۔۔۔آپ کی یہ ادا مجھے پاگل کر رہی ہے ۔۔معاز نے خوف سے کانپتی ہوئی عفاف کے چہرے سے لیٹوں کو پیچھے کرتے بے باک انداز میں کہا ۔

یہ ڈوپٹہ لے کر رکھا کریں ۔۔۔۔ورنہ ۔۔۔۔ معاز نے کہتے ہوئے ڈوپٹہ اس کی طرف اچھالا ۔

چلتا ہوں پروفیسر اسائنمنٹ کل یونیورسٹی میں دے دوں گا ۔۔۔اور ایک بات یاد رکھنا آئند معاز شاہ سے پنگا مت لینا کیوں کہ میں کسی کو نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔اور اگر حریف آپ جیسا خوبصورت اور معصوم ہو تو پھر تو کھیلنے میں اور بھی مزا آتا ہے ۔۔۔۔.

معاز اسے ایک آنکھ دبا کر کہتے ہوئے کھڑکی کی طرف کھود گیا جہاں سے وہ آیا ۔

عفاف دھڑکتے دل کے ساتھ وہی آئینہ کے ساتھ لگی نیچے زمین پر بیٹھ گئی تھی ۔ خوف سے جیسے دل بند ہونے کو تھا ۔۔

Download link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *