Raaz Gehre Se Novel By KH

 Emotional Story| Forced Marriage | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel

 

آنیہ کی آنکھ کھلی تو گھر میں کہرام بھرپا تھا۔ کسی نے اس کی نازیبا تصاویر گھر والوں کو بھیج دی تھیں۔ اسے اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوئی۔ دیوانگی کی حد تک محبت کرنے والا یاور اس کے ساتھ اتنا بڑا دھو کہ کیسے کر سکتا تھا؟؟ وہ سر جھکائے حویلی والوں کی دی گئی سزا کے مطابق ڈرائیور کے بیٹے مبشر کے ساتھ بیاہ دی گئی۔

مبشر کو وہ پہلی بار دیکھ رہی تھی۔ ہیوی باڈی اور روعب دار چہرہ۔۔۔۔ ڈرائیور بھی اتنے خوبصورت ہوتے ہیں؟؟؟ وہ دل میں سوچ رہی تھی کہ چیک پوسٹ پر سپاہی نے مبشر کو دیکھتے سیلیوٹ کیا “ویلکم بیک سر!”

آنیہ زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھی ہوئی تھی، ہاتھ جوڑے سر جھکائے فرش کو چھونے لگی تھی اس کے کندھے بار بار ہل رہے تھے جیسے رو دھو کر تھک چکے ہو مگر آنسو ابھی بھی رکے نہیں تھے۔۔

بڑے صوفے پر سلیمان صاحب سنجیدہ اور غصے سے بڑے چہرے کے ساتھ بیٹھے تھے ان کے برابر میں اصغر صاحب اور کمرے کے کونے میں خواتین خاموش بیٹھی تھیں کے سلیمان صاحب کی بھاری آواز خاموشی کو چیرتی ہوئی نکلی۔۔۔

” ہم نے زندگی میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ دن دیکھنے پڑیں گے۔ آنیہ تم نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا ہمیں شرم اتی ہے تمہیں اپنی اولاد کہتے ہوئے بولو کس یار کے ساتھ یہ حرکتیں کر رہی تھیں؟؟؟ ” ان کی آواز میں غصے سے زیادہ ایک ٹوٹا ہوا اعتماد بول رہا تھا۔۔۔

آنیہ سر اٹھائے بغیر بلکتی آواز میں بولی۔۔۔ ” بابا مجھے معاف کر دیں یہ سب میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا خدا کے واسطے مجھے معاف کر دیں!!! میں وعدہ کرتی ہوں ایسا دوبارہ کبھی نہیں ہوگا۔ بابا وہ تصویریں بھی میری نہیں ہیں۔ مجھ پر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے آپ تو کم از کم مجھ پر یقین کریں میں آپ کی بیٹی ہوں آپ سب سے زیادہ مجھے جانتے ہیں۔ میں سب سے زیادہ آپ کے قریب ہوں کم از کم تھوڑا تو بھروسہ رکھیں میں اپنی بے گناہی ثابت کروں گی۔۔۔۔” ابھی وہ مزید کچھ کہتی ہے اس سے پہلے اصغر صاحب بات کاٹتے ہوئے بولے کرخت لہجے میں بولے۔۔۔

” بھائی صاحب آپ اس ناہجاز سے بات کر کیوں رہے ہیں؟؟؟ فیصلہ سنائیں ورنہ مجھے بولیں میں اس کا دماغ درست کرتا ہوں۔ جلد سے جلد بتائیں اس کا کیا کرنا ہے؟؟ میری اب بس ہو چکی ہے۔ میں مزید بدنامی برداشت نہیں کر سکتا،،، میں تو کہتا ہوں ہمیں اسے زندہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہمارے لیے یہ ناسو بن چکی ہے یہ ہمارے خاندان کے ساتھ رہنے کے لائق نہیں رہی۔۔۔۔ ” ان کے الفاظ بجلی کی کڑک کی طرح کمرے میں گونج رہے تھے تمام عورتوں نے دل تھام لیے تھے۔۔۔۔

آنیہ گھبرا کے فورا بولی۔۔۔ ” نہیں چاچو ایسا کچھ نہیں وہ تصویر وہ صرف آپ لوگو کو بھیجی گئی ہے تاکہ مجھے بدنام کیا جائے میں قسم کھا کے کہتی ہوں وہ کسی اور کے پاس نہیں جائیں گی۔۔۔ مجھے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔۔۔ آپ لوگ یقین کریں میں سچ کہہ رہی ہوں یہ سب ایک جھوٹ ہے ڈونگ ہے۔۔۔۔ وہ تصویریں میری نہیں ہیں میں آپ لوگ کا خون ہوں کم از کم مجھ پر بھروسہ کریں۔۔۔۔ کیا میں ایسا غلط کام کر سکتی ہوں؟؟؟ کیا ہو گیا ہے آپ سب کو اتنی بے اعتباری ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ جب حقیقت آپ سب کے سامنے آئے گی تب آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ لوگ کتنے بڑی غلطی کر رہے ہیں۔۔۔” مزید کچھ کہتی اس سے پہلے شاہستہ بیگم بولیں۔۔۔۔

” اگر اسے معافی دی گئی تو میں گھر چھوڑ کر چلی جاؤں سلیمان صاحب اسے سزا دینی ہوں گی۔۔۔ یہ ہمارے ساتھ رہنے کے لائق نہیں۔۔ اس کی اوپر ذرا بھی رحم کھانے کی ضرورت نہیں ہے اس نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا پورا خاندان میں سب باتیں بنا رہا ہیں سب میری تربیت پہ انگلی اٹھا رہے ہیں صرف اس منحوس کی وجہ سے میری اب بس ہوچکی ہے اس کو ہر حال میں سزا دی جائے۔۔۔” کمرے میں خاموشی چھا گئی تھی سب کی باتیں سن کر سلیمان صاحب جیسے پتھر کی مورت بن گئے تھے۔۔۔۔

ان کا چہرہ سخت، آنکھوں میں ایک عجیب سی سفاک خاموشی، انہوں نے ایک نظر روتی ہوئی اپنی بیٹی پر ڈالی جس میں شفقت کا کوئی سایہ باقی نہیں تھا انہوں نے گہری سانس لی تھی اور بلند آواز میں اپنی بیگم کی جانب دیکھتے ہوئے بولے۔۔۔۔ ” بس خاموش جو ہے سو ہے اب مزید تماشے کہ میرے پاس کوئی گنجائش نہیں،،، شائستہ جاؤ اسے نکاح کے لیے تیار کرو نہ میں اپنے ہاتھوں سے اسے ختم کر سکتا ہوں نہ اسے معاف کر سکتا ہوں ہاں لیکن اب یہ ہمارے خاندان کے ساتھ رہنے کے لائق نہیں رہی تو اس کی اب اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے آج میں اس کا نکاح کروا کر اسے اپنے خاندان سے میری نظروں سے دور کروں گا آج سے یہ میرے لیے مر چکی ہے۔۔۔۔ ” ان کا لہجہ مدہم مگر زہریلا سا تھا جیسے ہر الفاظ خنجر کی نوک پر رکھا ہوا تھا تمام لوگ حیرت زدہ ہو گئے۔۔۔

آنیہ بےیقین نظروں سے اپنے باپ کو دیکھ رہی تھی وہ مزید بولے۔۔۔ ” ابھی اور اسی وقت اسکا نکاح ہمارا ڈرائیور مبشر سے کرواؤں گا اور نکاح کے فورا بعد اس کے گاؤں روانہ کر دوں گا۔۔۔۔ سنا ہے وہ

 

Download link

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *