پر شکوہ عمارت کے 10 فلور پر موجود آفس میں اس وقت افراتفری کا سماں تھا کیونکہ انکا باس سخت اصول پسند تھا اور وقت کا پابند بھی۔۔۔۔۔کام میں کوتاہی اسے سخت ناپسند تھی۔۔۔۔جس سے وہاں موجود ہر شخص آگاہ تھا۔۔۔۔تبھی تو اسکی موجودگی میں ہر کوئی الرٹ رہتا تھا۔۔۔۔۔

دفتا لفٹ کا دروازہ کھلا جہاں سے وہ باہر آیا۔۔۔۔۔۔ڈارک بلیو شرٹ اور بلیک کوٹ میں ٹائی ندارد تھی۔۔۔بلیک پینٹ جس کے پائینچے ٹحنوں تک فولڈ تھے۔۔۔۔۔۔بلیک ٹسلز شوز میں اپنی چھا جانے والی پرسنالٹی سمیت وہ وہیل چئیر پر بیٹھا ” ذوالنون جبیل ” تھا جبیل اینڈ سنز کا اونر جس نے اپنی محتاجی کے باوجود اس ایمپائر کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔۔۔۔۔

کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ شہزادوں کی آن بان لیے وہ شخص اپاہج تھا۔۔۔۔لیکن اس محتاجی نے بھی اسکی شخصیت میں کوئی کمی نہیں پیدا کی تھی۔۔۔وہ آج بھی ویسا ہی پروقار اور شاندار تھا۔۔۔جسکی مثالیں دنیا دیتی تھی۔۔۔۔۔جیسے آج تک اسکی زات کو کوئی سمجھ نہیں پایا تھا۔۔۔ویسے ہی گہری آنکھوں میں چھایا خزن بھی اسکی زات کی مانند پراسرار تھا۔۔۔۔۔

اپنی زات کے ادھورے پن سمیت وہ شخص ایک پہیلی تھا۔۔۔جیسے سمجھنا ناممکن تھا۔۔۔۔ایسے کم ہی موقع آئے تھے جب اسے مسکراتے دیکھا گیا ہوا۔۔۔۔گزرے 6 سالوں میں وہ ایک مختلف شخصیت بن کر ابھرا تھا۔۔۔۔

وہ روڈ،بدلخاظ اور مار ڈالنے کی حد تک صاف گو تھا۔۔۔۔جس سے بات کرتے وقت کم سے کم سو بار تو سوچنا پڑتا تھا۔۔۔۔۔
” مجھے سائیٹ کا سارا ریکارڈ چاہیے۔۔۔۔۔بلیک کافی اور فائل لے کر میرے روم آئو۔۔۔۔”۔
بارعب آواز میں اپنے سیکرٹری سے مخاطب ہوتے وہ وہیل چئیر کے بٹن پریس کرتے اپنے کیبن میں جا چکا تھا۔۔۔۔جس پر تمام لوگوں نے سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔۔انکے سلام کا جواب بھی اسنے محض سر ہلا کر دیا تھا۔۔۔۔۔

” یار سچ میں جب بھی باس آفس آتے میری سانس اٹک جاتی ہے۔۔۔۔۔”

بند دروازے کو دیکھتے آفان جھرجھری لے کر بولا جس پر باقی سب نے بھی تائید کی۔۔۔۔جبیل صاحب کے مقابلے میں وہ بہت بدلخاظ تھا۔۔۔۔منٹوں میں طبیعت صاف کر دیتا تھا۔۔۔جس سے پورا آفس خائف رہتا۔۔۔۔۔۔

اپنے کیبن میں آتے وہ سیدھا گلاس وال کے سامنے رک گیا۔۔۔۔۔نیچے رواں زندگی کو دیکھتے اسکی آنکھیں دہک اٹھیں تھیں۔۔۔نامعلوم سے تاثر نے اسکے چہرے کا احاطہ کیا۔۔۔لب بھینچ کر نظریں پھیرتے وہ اپنے ٹیبل کی طرف آیا۔۔۔۔ناک کی آواز پر مدھم سا یس کہا جس پر سعد فائل اور کافی لے کر اندر آیا۔۔۔۔۔۔

” سائیٹ کا کام اے ون ہے سر۔۔۔۔باقی آپ خود بھی وزٹ کر کے چیک کر لیں۔۔۔۔۔”

اسے فائل میں گم کافی کے سپ لیتے دیکھ وہ رسانیت سے بولا جس پر ذوالنون نے سر ہلا دیا۔۔۔۔۔۔

” ہممم۔۔۔۔۔تم جا سکتے ہو اب۔۔۔کسی کو بھی میرے کیبن میں مت بھیجنا ۔۔۔۔ میں کچھ دیر اکیلے رہنا چاہتا ہوں۔۔۔۔”

فائل کے صفحے الٹاتے وہ سرد لہجے میں گویا ہوا۔۔۔سعد یس سر کہہ کر باہر نکل گیا۔۔۔اسکے جاتے ہی اسنے فائل بند کر کے پرے سرکا دی۔۔۔۔۔دل ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔اور ایسا تو ہر بار ہوتا تھا۔۔۔۔گزرے چند سالوں میں اس کے اندر یکسوئی اور برادشت ختم ہو چکی تھی۔۔۔۔۔لوز ٹیمپر تو وہ شروع سے تھا ۔۔۔مگر بیتے وقت نے اسے مزید شائوٹ کر دیا تھا۔۔۔۔۔ایک پل نہیں لگتا تھا اسکے موڈ کو بدلنے میں۔۔۔۔۔۔

کافی پیتے اسکی آنکھیں سرد تھیں۔۔۔۔چہرے پر ناقابل فہم تاثرات چھائے ہوئے تھے۔۔۔۔۔سامنے گلاس وال سے نظر آتے منظر کو دیکھتے اسکا ذہن کہیں اور محو پرواز تھا۔۔۔۔۔

” آہ کاش۔۔۔۔۔کہیں سے تم میرے سامنے آ جائو تو میرے دل کو قرار آئے ورنہ ایک دن یوں ہی ریزہ ریزہ ہوتے میں خاک ہو جائوں گا۔۔۔۔۔”

سر ہاتھوں میں تھامتے وہ مدھم سا بڑبڑایا۔۔۔لہجہ زمانوں کی تھکن سمیٹے ہوئے تھا۔۔۔۔۔اور آنکھوں میں ٹوٹے کانچ کی کرچیاں تھیں جنہوں نے اسکے پورے وجود کو لہولہان کر دیا تھا۔۔۔روز اپنے رستے زخموں کو سینے کی کوشش میں وہ نئے سرے سے بکھرتا تھا۔۔۔مگر قسمت کو شائد ابھی اسکی آزمائش مقصود تھی۔۔۔تبھی تو اسکی آہ و زاری کو نظر انداز کیا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔طویل عرصے سے آگ کا دریا عبور کرتے رہنے کے بعد بھی کنارے کا نام و نشان تک نا تھا۔۔۔۔جس نے ذوالنون جبیل کو ذہنی اور جسمانی طور پر تھکا ڈالا تھا۔۔۔۔۔لیکن قدرت کو ابھی رحم نہیں آیا تھا ۔۔۔۔۔ابھی تو اسکے امتحان باقی تھے۔۔۔۔۔

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟

وہ کوریڈور میں چل رہی تھی۔۔نفاست سے کیا گیا حجاب اسکی شخصیت کو نکھار رہا تھا۔۔۔سانولی رنگت،عام سے نقوش اور درمیانہ قد وہ بہت خوبصورت نہیں تھی عام سی شکل و صورت کی تھی۔۔۔بھوری آنکھوں میں صدیوں کی تھکن نمایاں تھی۔۔۔ اسکے چہرے پر پرکشش بس اسکی آنکھیں ہی تھیں گہرے بھورے کانچ۔۔۔باقی ایک بار دیکھ کر ٹھٹھک جائے ایسا اس میں کچھ نہیں تھا۔۔۔اگر وہ بن سنور جاتی تو بھی خاص لگتی مگر حالات کی چکی میں پستے اسے اس سب سے کوئی غرض نہیں تھی۔۔۔۔۔۔

گھر میں راشن ختم ہونے کو تھا اور اسکی پے ملنے میں بھی چار پانچ دن تھے۔۔۔۔وہ شام میں اکیڈمی جاتی تھی دو گھنٹے کے لیے۔۔۔۔اور شام سات بجے گھر پہنچتی تھی۔۔۔۔یونیورسٹی بھی وہ سکالر شپ پر پڑھ رہی تھی۔۔۔ورنہ کہاں ممکن تھا کہ ماموں اسکا ایڈمیشن ایسی مہنگی یونیورسٹی میں کرواتے۔۔۔۔۔ اب اس چیز نے اسکی مشکل بڑھا دی تھی۔۔۔۔بھوری آنکھوں کی پریشانی عروج پر تھی۔۔۔۔ہلکے نیلے رنگ کے سادہ سے سوٹ میں دوپٹے کا حجاب کیے وہ عام سے بھی زیادہ عام لگ رہی تھی۔۔۔لب بھینچے اس سے پہلے وہ کاریڈور مڑتی سامنے سے آتے وجود سے زبردست سا تصادم ہوا جس کے نتیجے میں اسکے ہاتھوں میں موجود سامان سمیت وہ خود بھی زمین بوس ہوئی جبکہ مقابل کو تو فرق بھی نہیں پڑا تھا۔۔۔۔وہ ویسے ہی کھڑا تھا صرف ہاتھ میں موجود سیل فون زمین بوس ہوا تھا۔۔۔۔

” وٹ دا ہیل!!!…..اندھی ہو کیا؟؟؟۔۔۔یا یہ کوئی سٹنٹ ہے لوگوں کی اٹینشن حاصل کرنے کا؟؟۔۔۔۔ہنہ مڈل کلاس اٹینشن سیکرز۔۔۔۔”

اسکے جھکے سر کو دیکھتے وہ حقارت اور تندہی سے اسکی زات کے پرخچے اڑاتے اپنے فون کو نظرانداز کرتا مڑا۔۔۔جبکہ وہ اسکے لفظوں سے خود کو زمین میں گڑتا محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔بھوری آنکھیں پل میں بھر آئیں۔۔۔۔۔۔

” سٹاپ۔۔آئی سیڈ سٹاپ مسٹر۔۔۔”

تیزی سے کھڑے ہوتے وہ غم وغصہ کی شدت سے کانپتی آواز میں بولی۔۔۔اسکی آواز پر مقابل نا چاہتے ہوئے بھی رک گیا۔۔۔۔لیکن مڑا نہیں محض گردن موڑ کر اسکی طرف دیکھا جو بری طرح روتی اسکی طرف متوجہ تھی۔۔۔۔اسکی حالت نے اسے چونکایا۔۔۔۔نظر ٹھٹھک کر اسکی بھیگی بھوری آنکھوں پر جا ٹھہری۔۔۔۔

” کیا سوچ کر آپ مجھ پر یہ گھٹیا الزام لگا رہے ہیں؟؟؟۔۔۔۔۔”

وہ مٹھیاں بھینچ کر سلگتے لہجے میں بولی۔۔لہجے کے برعکس آواز کی لرزش نے مقابل کو مخظوظ کیا۔۔۔

” جو سچ ہے وہی بولا ہے۔۔۔۔اور اپنے ایسے حربے کسی اور پر آزمائو مجھ پر بے اثر ہیں۔۔۔۔سو ڈونٹ ویسٹ مائی ٹائم”

سر جھٹک کر قدرے بے زاری سے بولتے وہ آگے بڑھا۔۔۔

” آپ سچ کیا بولیں گے؟۔۔۔۔آپ جیسوں کو میں بہت اچھی طرح جانتی ہوں ۔۔۔۔بگڑے امیر زادے جھنیں عزت لفظ کے ہجے بھی معلوم نہیں ہوتے۔۔۔”

اپنے گال رگڑتے وہ چھبتے لہجے میں بولتی مقابل کی کنپٹیاں سلگا گئی۔۔ ۔وہ تپ کر پلٹا اور اسے گھورا جو جھک کر اپنی کتابیں سمیٹ رہی تھی۔۔۔۔

” ہئے یو!!!۔۔۔۔۔کیا بولا ہے تم نے؟؟۔۔۔۔۔۔ مجھ جیسوں سے کیا مراد ہے تمہاری ہاں؟۔۔۔۔”

وہ بھڑک کر بولتا اسکے نزدیک آیا۔۔۔۔اسنے ہراساں ہو کر اسے دیکھا جو بلیک جینز پر بلیو شرٹ اور بلیک لیدر جیکٹ میں ملبوس بالوں کے سپائیکس بنائے بلیو ٹسلز شوز میں اپنے ٹھٹھکا دینے والے نقوش اور ہائیٹ سے ماحول پر چھایا ہوا تھا۔۔۔۔ ارد گرد موجود سٹوڈنٹس اس نئے تماشے کے لیے رک گئے تھے۔۔۔۔

اسے یوں اپنے مقابل دیکھ کر اسکی سانس اٹکی۔۔۔۔اسکی خوبصورت آنکھیں اسے گھور رہی تھیں جس نے اسکا سارا اعتماد ہوا کر دیا۔۔۔۔۔

” کیا مطلب کیا بولا ؟؟۔۔۔۔ جو بھی بولا ہے سچ بولا ہے ۔۔۔اگر آپکو عزت کا پتا ہوتا تو مجھ سے ایسے بات نہیں کرتے۔۔۔مینرز بھی کسی چیز کا نام ہے۔۔۔۔۔”

دو قدم پیچھے ہٹتے وہ بظاہر مظبوطی سے بولی۔۔۔ورنہ دل تو خلق میں آرہا تھا۔۔۔۔۔جبکہ اسکی بات نے مقابل کو ہتھے سے اکھاڑ دیا۔۔۔۔۔

” او یو شٹ اپ!!!۔۔۔۔۔ٹو ہیل ود یور مینرز۔۔ہمت بھی کیسے ہوئی تمہاری مجھ سے یوں بات کرنے کی ہاں۔۔۔۔آج تک کسی کے باپ کی اتنی جرآت نہیں ہوئی مجھ سے ایسے لہجے میں بات کرے۔ ۔۔اور تم دو ٹکے کی لڑکی مجھے عزت کی ڈیفینیشن بتا رہی ہو۔۔۔۔”

جھپٹ کر اسکا بازو دوبوچتے وہ غصے کی شدت سے غرایا۔۔اسکا لہجہ آگ برسا رہا تھا اور احساس توہین سے چہرہ سرخ تھا۔۔۔اسے اپنے بازو میں اسکی انگلیاں گڑتی محسوس ہوئیں تھیں۔۔۔ اسکی سلگتی سانسوں نے دل کی دھڑکنیں روکیں۔۔مگر لفظوں میں موجود حقارت نے اسے پوری ہستی سمیت منہ کے بل گرا دیا تھا۔۔۔۔۔زلت کے احساس سے پل میں چہرہ متغیر ہوا۔۔۔آنکھیں سمندر بن گئیں۔۔اتنی زلت کا اسنے تصور بھی نہیں کیا تھا۔۔مگر وہ شخص اسے دو منٹ میں اسکی اوقات باور کروا گیا تھا۔۔۔۔

” بکواس بند کریں اپنی اور چھوڑیں میرا بازو۔۔۔۔۔” لب بھینچ کر خود پر قابو پاتے وہ بھرائی آواز میں مزاحمت کرتے ہوئے بولی مگر مقابل نے اسکا دوسرا بازو بھی جکڑتے اسکی ساری مزاحمت ناکام کر دی۔۔۔۔انکے درمیان فاصلہ ناہونے کے برابر رہ گیا جس نے اسے خوفزدہ کر دیا تھا۔۔۔۔اردگرد موجود سٹوڈنٹس کی دبی دبی ہنسی دیکھتے وہ زمین میں دفن ہونے کی دعائیں کررہی تھی۔۔۔۔۔۔

” سے سوری۔۔۔۔ آئی سیڈ سے سوری رائیٹ نائو۔۔ڈیم اٹ۔۔۔۔۔۔”

اسے مزید اپنے قریب کرتے وہ سرخ آنکھوں سے غرایا ۔۔۔اسکی قربت نے اسکا پورا وجود دہکا دیا۔۔۔۔ ارد گرد کے ماحول اور اسکی ڈھٹائی نے اسکی ساری مصلحت کی کوششیں ناکام کر دیں۔۔۔۔

اپنی پوری جان سے اسے دھکا دیتے وہ خود کو آزاد کروا گئی۔۔۔پیچھے ہٹتے کھینچ کر دائیں ہاتھ کے تھپڑ سے اسکا گال سلگا دیا۔۔۔۔ جب کے اسکے دھکے پر وہ ابھی سنبھلا بھی نہیں تھا کہ اسکے تھپڑ نے اسکے چودہ طبق روشن کر دیے۔۔۔۔۔اپنے گال پر ہاتھ رکھے وہ ہلکا سا جھکا۔۔۔۔۔

” ڈونٹ یو ڈیئر۔۔۔۔”

انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتے وہ بھیگی آنکھوں سے لرزتے لہجے میں بولی۔۔۔۔۔بدن کپکپا رہا تھا مگر لہجہ مظبوط تھا۔۔۔۔

“ہائو ڈئیر یو؟؟؟۔۔۔۔۔۔ یو ول پے فار اٹ ۔۔۔۔آئی ول نیور فارگیو یو فار دس۔۔۔۔۔”

اسکے قریب ہوتے وہ قدرے جھک کر ہتھے سے اکھڑتا سرسراتے لہجے میں بولا۔۔۔۔احساس توہین سے بایاں گال سلگ رہا تھا۔۔۔اور آنکھیں ضبط کی شدت سے دہکتیں سرخ ہو چکیں تھیں۔۔۔۔اسکے لہجے میں موجود غراہٹوں نے اسکی ریڑھ کی ہڈی سنسنا دی۔۔لمحے کے ہزارویں حصے میں اسے اپنی فاش غلطی کا ادارک ہوا تھا۔۔۔۔

” اسامہ سٹاپ یار۔۔۔۔چھوڑ دے اسے ۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ غصے کی شدت سے پاگل ہو کر اسکا گلا دبوچ لیتا پیچھے سے بھاگ کر آتے حیدر نے سرعت سے اسے تھام لیا۔۔۔۔۔

” چھوڑ مجھے!!!!۔۔۔۔چھوڑ مجھے اسے بتانے دے اسنے کیا کیا ہے۔۔۔۔۔۔لیٹ می گو حیدر۔۔۔۔۔”

اسکی گرفت میں مچلتے وہ اسے سرخ آنکھوں سے گھورتا کسی زخمی شیر کی مانند غرایا تھا۔۔۔۔۔۔

اسکی آنکھوں میں جنون کا طوفان اٹھتے دیکھ زری صیحح معنوں میں گھبرائی تھی۔۔۔۔

” نو اسامہ لسن سٹاپ دس نانسنس۔۔۔۔سٹاپ اٹ۔۔۔۔لیو ہر۔۔۔۔”

اسامہ کو مزید آپے سے باہر ہوتے دیکھ حیدر بھی غصے سے غرایا تھا۔۔۔مگر وہ تھا کہ کسی طور اسکے شکنجے سے نکل کر زری کی گردن دبوچنا چاہتا تھا۔۔۔۔سرخ آنکھیں زری کو دیکھتیں سلگ رہیں تھیں۔۔۔اور اسکی طرف دیکھتی زری کا رواں رواں کانپ رہا تھا۔۔۔۔۔

” پل۔۔۔پلیز۔۔۔۔مم۔۔میں نے جا۔۔جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔۔۔۔۔”

بہتے اشکوں سمیت وہ بڑی مشکل سے بول پائی۔۔۔۔۔حیدر کی گرفت میں مچلتا اسامہ اسکی بھیگی آواز سن کر پل میں ساکت ہوا تھا۔۔۔۔۔

” وہاٹ یو مین ہاں۔۔۔۔سرے عام اسے تھپڑ مار کر تم کہہ رہی ہو کہ تم نے جان بوجھ کہ نہیں کیا۔۔۔۔۔”

حیدر اسکے روئے روئے چہرے کو دیکھتا تنک کر چیخا ۔۔جبکہ اسامہ ہنوز ساکت تھا۔۔۔۔۔۔
بھیگی بھوری آنکھیں،سانولی رنگت عام سے نقوش کچھ بھی تو خاص نہیں تھا۔۔۔مگر کچھ تھا۔۔۔۔۔کچھ تو تھا۔۔۔۔غور سے اسے دیکھتے حیدر کو پیچھے جھٹک کر وہ جھٹکے سے خود کو آزاد کرواتے مڑ کر نکلتا چلا گیا۔۔۔زری کو ملامتی نظروں سے دیکھتے حیدر بھی اسکے پیچھے بھاگا تھا۔۔۔۔۔۔اور پیچھے اپنی ٹانگوں کو بے جان محسوس کرتے زری بیٹھتی چلی گئی آنسو بھل بھل بہہ رہے تھے۔۔۔۔ارد گرد موجود سٹوڈنٹس بھی نکلنے لگے ۔۔۔آخر تماشہ ختم جو ہو چکا تھا۔۔۔۔مگر زری جانتی تھی کہ تماشہ ختم نہیں ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟

” فاطمہ بیٹے آج تو مت جائیں آپ ۔۔۔۔۔پہلے ہی آپ کی صحت خراب ہے۔۔۔۔”

کمرے سے باہر آتی فاطمہ کو دیکھ کر وہ فکرمندی سے بولیں۔۔۔۔۔ان کے لہجے میں اپنے لیے فکر اور محبت محسوس کرتے اسکے چہرے پر بڑی درد بھری تلخ مسکراہٹ ابھری تھی۔۔۔۔۔

” میں ٹھیک ہوں بوا۔۔۔۔۔یہ چھوٹی چھوٹی بیماریاں میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔۔۔۔۔آپ بے فکر رہیں بڑی سخت جان ہوں۔۔۔۔۔۔”

پرس چیک کرتے وہ سرسری لہجے میں بولتی انکا دل چیر گئی۔۔۔۔۔

” اللہ نا کرے کچھ ہو بھی ایسا نہیں کہتے۔۔۔۔آپ سے کتنی بار کہا کہ مایوسی والی باتیں مت کیا کریں۔۔۔۔۔۔”

اسکے سنجیدہ چہرے کو دیکھ کر وہ کچھ خفگی سے بولیں۔۔۔۔۔

” چلیں نہیں بولتی۔۔۔۔اب اجازت دیں مجھے جانا ہے۔۔۔۔یہ نا ہو پوائنٹ مس ہو جائے۔۔۔۔”

انکے قریب آتے وہ نرمی سے بول کر جھکی۔۔۔۔۔جس پر انھوں نے آگے بڑھ کر اسکا سر چومتے دعائوں حصار باندھ دیا۔۔۔۔۔۔

ایک پل کے لیے انکا مامتا بھرا روپ دیکھ کر دل میں ٹیس اٹھی تھی۔۔۔۔ایک کسک جاگی تھی۔۔۔جس نے پل میں اسکی آنکھوں کے گوشے نم کیے۔۔۔۔۔

” اللہ خافظ۔۔۔”

خود کو سنبھالتے وہ سنجیدگی سے بول کر باہر نکل گئی۔۔۔

” اللہ کی امان میں دیا۔۔۔۔”

اسکی پشت دیکھتے انکے لب پھڑپھڑائے۔۔۔۔سفید شلوار قمیض اور گلابی دوپٹے کا حجاب کے ہالے میں سوگوار چہرے پر زمانوں کی تھکن سجائے ان کا دل دکھ سے بھر گئی۔۔۔۔۔اسکی ہمہ وقت نم رہتی آنکھوں نے ہر بار کی طرح آج بھی انھیں دکھی کر دیا۔۔۔۔اسکی حالت دیکھتے انکی آنکھیں نم ہو جاتیں تھیں تو پھر اسکے دل پر کونسی قیامتیں گزرتیں ہوں گی وہ اکثر یہ بات سوچتیں تھیں۔۔۔۔۔

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *