Ni Me Kamali Han By Nabila Aziz
Ni Me Kamali Han By Nabila Aziz
Genre : 2nd marriage based | cousin marriage based | Rude hero based | Village based
Download Link
“میں اماں سے کچھ سن کر آرہا ہوں۔کیا یہ سچ ہے۔؟”وہ قریب آکر پارو کا گداز بازو دبوچ چکا تھا
وہ اس کی اتنی سختی گرفت اور جارحانہ تیوروں سے الجھ گئی۔
“لیا سن کر آرہے ہیں۔؟”
“کہ تم پریگنینٹ ہو۔:وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا جواباً ایک سیکنڈ میں
پارو کی پلکیں جھک گئی کیونکہ یہی سچ تھا اور یہ سچ ازمیر کیلیے ناقابل برداشت تھا۔
“میں کیا پوچھ رہا ہوں؟”اس نے پارو کو یکدم جھنجھوڑ کر کہا اور وہ اس کے اس قدر وحشی پن پہ تڑپ اٹھی تھی۔
“کیا پوچھ رہے ہیں؟”
“جو کچھ تم سن چکی ہو۔”
“اور جو کچھ آپ بھی سن چکے ہیں وہ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے۔”
“یعنی اماں کی بات سچ ہے۔”وہ سختی سے بولا۔
“اماں جھوٹ کیوں بولیں گی؟”
“مگر مجھے یہ سچ گوارا نہیں۔”اژمیر کا سخت لہجہ کافی پتھریلا لگ رہا تھا۔
“کیوں؟”بےساختہ پارو نے کیوں کا لفظ اٹھادیا۔
“کیونکہ مجھے بچوں سے نفرت ہوچکی ہے۔میں بچوں کا وجود تو کیا ان کا
نام بھی برداشت نہیں کرسکتا کیونکہ بچوں کی وجہ سے رینا مجھ سے چھن گئی
ان ہی بچوں کی خواہش نے میری ہم سفر میری ساتھی کو مجھ سے دور کردیا۔یہ
بچہ ہی اس کی جان لے گیا موت کے منہ میں دکھیل دیا؟تمہیں چھٹکارا پانا ہوگا
اس چکر سے۔”ملک آژمیر میر حیات نے پارو کے سر پہ بم پھوڑ ڈالے تھے وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی رہ گئی تھی۔
“وہ مرگئی ہے تو اس کیلیے آپ خود کیوں نہیں مرجاتے کسی اور کا قتل کیوں کروارہے ہیں؟”
“میں کوئی بکواس نہیں سن سکتا۔تمہیں ہرقیمت پہ میری بات ماننی ہوگی اس لیے
صبح تمہیں میرے ساتھ شہر جانا ہوگا۔”اس نے سگریٹ سلگاتے ہوئے ڈبیا اور لائٹر سائید ٹیبل پہ پٹخ دئیے۔
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕