Chasheen By Nayab Jelani
Chasheen By Nayab Jelani
اپنے تایا زاد کا دیدار کر آئے۔ بلکہ تایا آزاد کے ولی عہد کا۔ جس کی گردن میں سریافٹ ہے۔
کسی کی طرف دیکھنا گناہ سمجھتا ہے۔ کلام کرنا اپنی بے عزتی۔ کس طرح ذلت کی بات ہے۔
ہم سب با جماعت سلام کرنے کے لیے گئیں اور اس نے نگاہ اٹھائے بغیر جو اب ہمارے منہ پر دے مارا۔
دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔ “ناجیہ احساس توہین سے بھر بھر جل رہی تھی۔ ” وہ دفتر خارجہ میں بڑا افسر ہے۔
بہت بڑا انٹر نیشنل ویزے پہ ساری دنیا گھوم سکتا ہے۔ بہت قابل ہے بہت با کمال ہے اور پھر اتنا
تو اس کا حق بنتا ہے نا؟ تھوڑا سا نخرہ دکھا دے۔ تھوڑا ایٹی ٹیوڈ تھوڑی سی بے نیازی ۔۔۔۔۔
Download Link

Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Amazing novels