Meri Talab Ka Chand Novel By Farah Bhutto
Meri Talab Ka Chand Novel By Farah Bhutto
“مجھے ابھی گھر جانا ہے مجھے یہاں نہیں رہنا۔” ندا نے بھیگی اواز میں ضد کی۔
“پاگل مت بنو ندا۔”وہ جھنجھلایا۔”میں بیٹھا ہوں نا اکیلی تو نہیں ہو۔”
“آپ نظر ہی نہیں آرہے۔” ندا نے سادگی سے کہا تو حطیم نے بے اختیار سر پکڑا۔
مجھے دیکھ کر کیا کرنا ہے بس محسوس کرو میں تمہارے ساتھ ہوں پھر
اس نے نرمی سے کہہ کر ندا کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں پکڑا اور اپنے ساتھ بٹھا لیا۔
“اب تسلی ہوئی۔” اس نے ندا کا ہاتھ دبا کر پوچھا تو ندا کو اندازہ ہوا کہ اس اندھیری رات کی
تاریکی میں وہ حطیم کے انتہائی قریب بیٹھی ہے اور اس خیال کے اتے ہی اس کے مساموں سے پسینہ پھوٹ نکلا۔
“کتنا ڈر رہی ہو پورا ہاتھ پسینے سے تر ہو گیا ہے۔”حطیم نے نرم ای ہتھیلی کی نمی محسوس
کی۔ندا خاموش رہی کیا کہتی اب تو دہرے ڈر کا سامنا ہے۔
“آپ سو جائیں میں نے خواہ مخواہ اپ کی نیند خراب کی۔”اس نے آہستہ سے کہا۔
“اب تو ہو گئی خراب۔” حطیم نے صوفے سے ٹیک لگا لی۔مردانہ پرفیوم کی
خوشبو ندا کو ڈسٹرب کرنے لگی۔دل بےربط دھڑک رہا تھا۔
“تمہاری پلس کی رفتار بھی بہت تیز ہے۔”حطیم نے محسوس کیا تو اس کی کلائی تھام کر نبض ٹٹولی۔
“مجھ سے ڈر رہی ہو۔؟”اس نے اچانک پوچھا تھا۔ندا کو جھٹکا سا لگا۔
“ہاں۔”وہ صاف گوئی سے بولی۔حطیم چپ سا ہوگیا۔بجلی ایک بار پھر زور
سے کڑکی اور اس روشنی میں ندا کا گورا سراپا چاندی کی طرح چمکا

Download Link
Direct Download
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕