- Age Difference
- Army Based
- Cheat Based
- Class conflict
- Cousin Marriage Based
- Crime Thriller
- Digest Novel
- Drugs Based
- Family Rivelary Based
- Fantasy Novels
- Forced Marriage Based
- Friendship Based
- Gaddi Nasheen
- Gangster Based
- hacking
- Halala Based
- Haveli based novels
- Hidden Nikah Based
- Inspirational Fiction
- Jageer Dar Based
- Journalist Based
- Khoon Baha Based
- Khubsurat Muhabbat ki Kahani
- kidnapping Based
- Love Story Based
- Love Triangle
- Murder Mystery
- Mystery
- Past Story Based
- Politician Based
- Revenge Based
- Revenge Based Novels
- Robotics Fiction
- Romantic Fiction
- Romantic Urdu Novel
- Rude Hero Based
- Rural to Urban Transformation
- scam
- Science Fiction Based
- Second Marriage Based
- Social Engineering
- Social issues Based
- Step Brothers Rivelry
- Suspense Thriller
- Under Cover Agent
- University life
- Village Based
- Women’s Empowerment
Murh Aa Kay Mol Na Jayen By Shagufta Bhatti
Genre : Social Romantic Novel |Digest base | Complete Novel
طوبی ! ان لوگوں نے مجھے بہت ستایا ہے پورے ڈیڑھ ماہ تک ۔ عمیر نے اس مکے دونوں ہاتھ اپنے
ہاتھوں میں لے لیے۔ پھر اس نے وہ تمام واقعات طوبی کو بتا دیئے جس طرح
صورہ بیگم رامین ارم اور سعد خان نے مل کر اسے بے وقوف بنایا تھا۔
اگر میں بیچ بیچ ویسی ہی ہوتی جیسا ان لوگوں نے کہا تھا تو کیا آپ مجھے جانے کیوں اس کے ذہن میں خدشہ آگیا۔
مگر تم تو ویسی نہیں ہو تم تو وہ اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔ جو بار حیا سے اور جھک گئی تھیں۔
تم بالکل ویسی ہو جیسی میں سوچا کرتا تھا۔ جیسی میں چاہتا تھا۔ عمیر نے اس کے دونوں ہاتھوں کو
اپنی آنکھوں سے لگالیا۔ اس کے ہاتھوں کی چوڑیاں اور کنگن بج اٹھے۔ ارے ۔ وہ مسکرا کر انہیں دیکھنے لگا۔
طوبی——- جی۔ وہ ہولے سے بولی۔ وہ اس کے کنگنوں سے کھیل رہا تھا۔
یہ کنگن ہمارے خاندانی کنگن ہیں اور یہ تو تمہیں امی جان کی طرف سے تحفہ ہیں میں نے بس رات تمہیں پہنا دیئے تھے ۔ وہ بتانے لگا۔
اچھا یہ آپ نے نہیں دیئے ۔ اس نے ایک لمحے کو اسے حیرت سے دیکھا۔
نہیں ۔ وہ ہنس پڑا ۔ در اصل میں تو ان لوگوں کی وجہ سے اتنی ٹینشن میں تھا کہ میں نے تو خود کچھ بھی نہ خریدا تھا۔
مطلب اگر میں ویسی ہی ہوتی تو آپ مجھے کوئی تحفہ نہ دیتے ۔“ اس کا دل پھر اداس ہو۔ گیا۔
پتا نہیں۔ لیکن اب تو میں تمہیں بہت خوبصورت تحفہ دوں گا ۔“
اس نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اس کا دل تو جیسے دھڑکنا ہی بھول گیا۔