- Age Difference
- Army Based
- Cheat Based
- Class conflict
- Cousin Marriage Based
- Crime Thriller
- Digest Novel
- Drugs Based
- Family Rivelary Based
- Fantasy Novels
- Forced Marriage Based
- Friendship Based
- Gaddi Nasheen
- Gangster Based
- hacking
- Halala Based
- Haveli based novels
- Hidden Nikah Based
- Inspirational Fiction
- Jageer Dar Based
- Journalist Based
- Khoon Baha Based
- Khubsurat Muhabbat ki Kahani
- kidnapping Based
- Love Story Based
- Love Triangle
- Murder Mystery
- Mystery
- Past Story Based
- Politician Based
- Revenge Based
- Revenge Based Novels
- Robotics Fiction
- Romantic Fiction
- Romantic Urdu Novel
- Rude Hero Based
- Rural to Urban Transformation
- scam
- Science Fiction Based
- Second Marriage Based
- Social Engineering
- Social issues Based
- Step Brothers Rivelry
- Suspense Thriller
- Under Cover Agent
- University life
- Village Based
- Women’s Empowerment
Kisi Nazar Ko Tera Intizar Aj Bhi Hai By Ann Fatima
Genre : Police hero | Strong Heroin | Forced Marriage | Suspense | Revenge Base | Romantic
“بھائی جلدی چلائیں پلیز۔”
وہ لزرتے ہاتھ اپنے چہرے پہ پھیرتے ہکلاتے لہجے میں بولی۔پیچھے کھڑا زاویار اس کی حرکت پہ پیچ و تاب کھاتا رہ گیا۔
“بہت ماہان ہیں آپ۔”وہ اس کے سینے پہ انگلی رکھتے ہوئے بولی۔
“فرشتہ ہیں آپ۔”وہ اسے پیچھے کی جانب دھکیلتے غصے سے بولی۔معیز نے اپنی پیشانی مسلی۔
“حوریہ میری بات۔”
“کیا ہیں آپ۔آج مجھے بتا ہی دیں۔آپ کی پسند نا پسند کہاں ہیں۔آپ کی خود کی بھی کوئی پہچان ہے۔
”بولتے بولتے ناچاہتے ہوئے بھی اس کا لہجہ بھراگیا۔معیز نے پریشانی سے
اس کی جانب دیکھا۔اس سے پہلے کہ وہ اسے تھامتا وہ اس کے ہاتھ جھٹک گئی۔
“خود پہ ترس نہیں آتا آپکو معیز۔انسان ہیں آپ جس کی پسند ناپسند ہوتی ہے۔کبھی تو اپنے
حق کی بات کریں۔کبھی تو کسی پہ حق جتانا سیکھیں۔کوئی غلط بولتا ہے آپ کے متعلق تو بولتا رہے
آپ کو تو پرواہ ہی نہیں ہے۔فرشتہ جو ہیں آپ۔”کیسا پتھر دل انسان تھا اتنا سب ہوجانے کے
بعد بھی خاموش تھا۔وہ ابھی بھی بس سکتے کی کیفیت میں اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔
“خیر میں بھی کس سے بات کررہی ہوں۔ابھی بھی جو گھبراہٹ جو بےچینی مجھے ہونی چاہیے تھی
دلہن ہونے کی حیثیت سے وہ آپ کو ہے کیوں معیز۔اپنا گھر چھوڑ کر میں یہاں آئی ہوں آپ نہیں۔
اگر میں صرف انکل کی بدولت اس گھر میں لائی گئی ہوں تو مجھے ابھی بتادیں میں صرف
ان سے ہی رابطہ رکھوں کیونکہ آپ تو کسی اور کی محبت میں مبتلا ہے اب تک۔اس گھر میں میرا
واسطہ آپ سے تھوڑی ہے۔ویسے بھی آپ نے یہ شادی انکل کی خوشی کیلیے ہی تو کی ہے۔”
وہ ایک بھیگی مگر کاٹ دار نگاہ اس پہ ڈالتے دوبارہ بیڈ کی جانب بڑھ گئی اور کمفرٹر سر تک
تان تک لیٹ گئی۔معیز نے سختی سے اپنی آنکھوں کو میچا تھا۔اگلے ہی لمحے وہ صوفے سے
اپنا تکیہ اٹھاتے وہ بیڈ کی جانب بڑھا اور دوسری جانب کروٹ بدل کر لیٹ گیا۔ذہن میں صرف
اسی کی باتیں گردش کررہی تھی۔اس نے ذرا سی گردن موڑتے اس کی جانب دیکھا لیکن اس
کی طرف حوریہ کی پشت تھی۔اس نے اپنی آنکھوں کو دباتے گہری سانس فضا کے سپرد کی تھی۔