- Age Difference
- Army Based
- Cheat Based
- Class conflict
- Cousin Marriage Based
- Crime Thriller
- Digest Novel
- Drugs Based
- Family Rivelary Based
- Fantasy Novels
- Forced Marriage Based
- Friendship Based
- Gaddi Nasheen
- Gangster Based
- hacking
- Halala Based
- Haveli based novels
- Hidden Nikah Based
- Inspirational Fiction
- Jageer Dar Based
- Journalist Based
- Khoon Baha Based
- Khubsurat Muhabbat ki Kahani
- kidnapping Based
- Love Story Based
- Love Triangle
- Murder Mystery
- Mystery
- Past Story Based
- Politician Based
- Revenge Based
- Revenge Based Novels
- Robotics Fiction
- Romantic Fiction
- Romantic Urdu Novel
- Rude Hero Based
- Rural to Urban Transformation
- scam
- Science Fiction Based
- Second Marriage Based
- Social Engineering
- Social issues Based
- Step Brothers Rivelry
- Suspense Thriller
- Under Cover Agent
- University life
- Village Based
- Women’s Empowerment
Eshq e Bi-Iman by Amna Riaz
2nd marriage based | Age difference based | Amna riaz | Caring hero
سعدی تم میری ایک بات مانو گے۔آنٹی کی ملازمہ مہروالنساء کو تم جانتے ہو نا۔”
“اس سے قبل تمہاری وہ کون سی بات ہے
جو میں نے نہ مانی ہو یا ٹال دی ہو۔”اسد کا ہاتھ اس کے بالوں میں تھا۔
“نہیں تم مجھ سے وعدہ کرو کہ تم میری بات ضرور مانو گے۔
“اس نے ایک دم سر پر رکھا ہاتھ تھام لیا تھا۔
“ٹھیک ہے میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہاری بات ضرور مانوں گا۔”
“تم سعدی تم شادی کر لو۔”
اسد کے ہاتھ کی گرفت یخلقت کمزور پڑ گئی تھی دوسرے پل وہ دیجہ کا ہاتھ چٹک کر اٹھ کھڑا ہوا۔
“مجھے لگتا ہے دیجہ تم نیند میں ہو جاؤ جا کر سو جاؤ۔” اس نے حکم دیا تھا سخت لہجے میں
دیجہ کو وحشت سی ہوئی اپنے دل کی دھڑکنوں سے اسد ریک کے پاس کھڑا تھا وہ اس کے سامنے آگئی۔
“نہیں سعدی میں نیند میں قطعی نہیں ہوں بلکہ میں پورے ہوش و حواس میں تمہیں اجازت دے رہی ہوں۔”
“مجھے تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں ہے دیجہ۔”
وہ دھاڑا تھا دیجا بے اختیار دو قدم پیچھے ہٹی اور ریک سے جان لگی۔
“تم کیا سمجھتی ہو میں تمہاری اجازت کا منتظر ہوں
کہ ادھر تم اشارہ کرو اور
میں شادی کرنے چل دوں۔نہیں دیجہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے شادی کرنی ہوتی تو میں تب ہی کر لیتا
جب ڈاکٹر نے تمہارے بانجھ پن کی خبر دی تھی۔” اسد ایک بار پھر رخ موڑ گیا تو وہ پھر سامنے اگئی۔
“پلیز سعدی پلیز ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ۔ میں خود تمہاری شادی کرواؤں گی
وہ جو ملازمہ ہے مہر النسا اس سے۔
“اسعد نے اسے بازو سے پکڑ کر دھکا دینے والے
انداز میں ہٹایا تھا وہ لڑکھڑا گئی تب تک اسعد دھڑ سے دروازہ بند کر کے جا چکا تھا۔
