Shikast e Wisal by Sadaf Asif

Social Romantic Novel | digest base | Happy Ending 

محترمہ ایک بات کان کھول کر سن لیں۔”دلہن بنی بیٹھی حنا نے چونک کر
اسے دیکھا۔اسد یوں شروع ہوا جیسے ان دونوں میں قدیم بیر چلا آ رہا ہو۔
“مجھے سن رہی ہیں نا۔”اسد نے چٹکی سے سنہری کامدار آنچل سر کایا۔
اب کی بار اس کے لہجے کی سختی اور انداز پر حیرت ہوئی۔
“جی۔” حنا نے پٹ سے انکھیں بند کی اور دھیرے سے جواب دیا۔
“میری امی ہی میرا سب کچھ ہے۔” وہ بڑے عقیدت سے پھر شروع ہوا۔
“لو اس میں کیا نئی بات ہے میری ممی خود مجھے بہت عزیز ہیں اب یہ کوئی اس وقت بتانے
والی بات ہے حد ہے جی۔” حنا کا بس چلتا تو وہ اسے دلیل دے کر خاموش کروا دیتی۔
“میں ان کا کلوتا بیٹا ہوں۔” اسد نے بڑے فخر سے کہا۔اسے دولہا کے ذہنی حالت پر شبہ ہونے لگا۔
“شکر ہے بتا دیا مجھے تو یہ بات پتہ نہیں تھی۔”دل سے جواب آیا۔
“جورو کے غلام۔” برا ہوا ان دوستوں کا جن کے طعنے غلط وقت پر کانوں میں ادھم مچانے لگ گئے۔
“پاپا کے انتقال کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہے میں تو شادی کرنا ہی
نہیں چاہتا تھا مگر امی کا دل بہلانے کے لیے راضی ہونا پڑا۔”
“میں کوئی دل بہلانے والا کھلونا ہوں۔” اسے یہ بات خاصی ناگوار گزری۔
“اب آپ کا فرض ہے کہ نہ صرف امی کا خیال رکھیں بلکہ ان کی ہر بات مانے ورنہ۔۔”
اس کی لمبی تقریر کا لب و لباب حنا کا دماغ ماؤف ہونے لگا۔
” ورنہ۔” مہین سی آواز میں پوچھ ہی لیا۔
“ورنہ باہر کا دروازہ کھلا ہے۔”اسد نے کھٹاک سے جواب دیا۔
“میں اس سلسلے میں کوئی شکایت نہیں سنوں گا۔” بیوی کی بے توجہ محسوس کر کے وہ تھوڑا زور سے بولا۔

Download Link

Direct Download

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *