Panah e Dilshekasta Novelistan Novel20746
Panah e Dilshekasta Novelistan
Second Marriage Base | Emotional Story | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel
” عجیب لڑکی ہے اس کا آٹھواں مہینہ چل رہا ہے پھر بھی روز آفس آتی ہے۔ ” عالیہ کو اپنی پشت سے سرگوشی کرنے کی آواز سنائی دی تھی اس کا دل دکھ سے بھر گیا تھا کوئی بھی کسی کی مجبوری نہیں سمجھ سکتا۔ اس کے چہرے پر ایک تلخ سی مسکراہٹ بکھری تھی وہ بھی کسی کو اپنی مجبوری نہیں سمجھا سکتی تھی وہ وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنی ڈیسک پر جا کر بیٹھ گئی اور آنسو پیتی ہوئی اپنا کام کرنے لگی۔
مگر اب تک عالیہ کی طبیعت نہیں سنبھل سکی تھی اسے شدید گھبراہٹ ہو رہی تھی اس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔
” عالیہ تم ٹھیک ہو نہ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے۔ ”
عالیہ کی دوست نے عالیہ کی اڑی ہوئی رنگت دیکھ کے سوال کیا تھا عالیہ نے بہ مشکل ہی مسکرا کر اس کی طرف دیکھا تھا۔
” میں ٹھیک ہوں اتنی گرمی میں چل کر آئی ہوں تو تمہیں ایسا لگ رہا ہوگا۔ ”
عالیہ نے خود کو سنبھالتے ہوئے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے جواب دیا تھا۔
” ویسے عالیہ ایک بات بولوں۔۔۔۔”
عالیہ کی کولیگ اور دوست نے جھجھکتے ہوئے اس سے اجازت طلب کی تھی عالیہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
” تمھیں اس حالت میں آفس نہیں آنا چاہیے تم آفس سے چند دنوں کے لیے چھٹی لے لو مُجھے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے یہ تمہارے آرام کرنے کے دن ہے گھر پہ آرام کرو کیوں اس قدر گرمی میں بسوں میں خوار ہو رہی ہو۔ ”
وہ اس سے ہمدردی بھرے لہجے میں بول رہی تھی عالیہ کی آنکھوں میں نمکین پانیوں کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی فائل بند کی تھی اور ٹھنڈی سانس بھر کر اپنی دوست کو دیکھا تھا۔
” اگر میرے لیے یہ سب اتنا آسان ہوتا تو میں کر چکی ہوتی مگر یہ میرے لیے آسان نہیں ہے میں اپنے بھائی بھابھی کے ساتھ ان کے گھر میں رہتی ہوں اور اپنی آدھی سے زیادہ تنخواہ اپنی بھابھی کے ہاتھ پر رکھتی ہوں جبھی وہ مجھے اپنے گھر میں برداشت کر رہی ہیں ورنہ وہ کب کا مجھے اپنے گھر سے دھکے مار کر نکال چکی ہوتیں اگر میں جاب سے چھٹیاں کر لوں گی تو انہیں پیسے کیسے دوں گی۔ ”
عالیہ مطمئن سے لہجے میں بول رہی تھی جیسے یہ بات اس کے بارے میں نہیں ہو رہی تھی بلکہ کسی اور کے بارے میں ہو رہی تھی وہ اپنی ذات کے لئے یونہی بے حس ہو گئی تھی۔
” عالیہ انہیں تمہاری کنڈیشن سمجھنی چاہیے ۔ اس حالت میں تمہارے لیے یہ سب محفوظ نہیں ہے تمہیں یا تمہارے بچے کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
سدرہ ابھی بھی اپنی بات پر قائم تھی عالیہ کے دل کو کچھ ہوا تھا اس کے چہرے پر درد بھری مسکراہٹ ابھری تھی جب اس بچے کی فکر اس کے باپ نے نہیں کی تو وہ لوگ کون ہوتے ہیں اس کی فکر کرنے والے عالیہ نے دوبارہ سے اپنے سامنے فائل کھولی تھی اس کا صاف مطلب تھا کہ وہ اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔
نا چاہتے ہوئے بھی سدرہ خاموش ہو گئی تھی اور واپس اپنی ڈیسک پر چلی آئی تھی وہ دل سے عالیہ کے لئے کچھ کرنا چاہتی تھی مگر سچ تو یہ تھا کہ وہ خود بھی مجبور تھی۔ عالیہ بظاہر تو سر جھکائے کام کر رہی تھی مگر اس کے اندر طوفان اٹھ رہے تھے۔
اس کی شادی اس کے بھائی نے زبردستی اس کی مرضی کے خلاف کی تھی عالیہ اس رشتے کے لئے راضی نہیں تھی مگر اس کے سر پر ماں باپ کا سایہ نہیں تھا وہ بھائی بھابھی کے ساتھ رہتی تھی اس کی بھابھی اس کا وجود اپنے گھر میں برداشت کرنے کو تیار نہیں تھی۔ اسی لئے جب اس کا پہلا رشتہ آیا تو اسی رشتے پر حامی بھر لی گئی تھی وہ آدمی عالیہ سے پورے بیس سال بڑا تھا عالیہ بیس سال کی تھی تو وہ چالیس سال کا تھا عالیہ نے اس رشتے سے انکار کرنے کی کوشش کی تھی مگر اس کے بھائی نے اسے یہ کہہ کر خاموش کروا دیا تھا کہ اس غربت بھرے گھر میں اگر اس کے لیے کوئی رشتہ آگیا ہے تو یہ بھی غنیمت ہے اسے زیادہ نخرے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ وہ یہیں بیٹھی رہ جائے گی عالیہ نے اپنے بھائی کی بات مان کر اس رشتے کے لئے حامی بھر لی تھی یوں ایک ہی ہفتے میں عالیہ بیاہ کر چلی گئی تھی مگر سسرال جا کر اس کا اصل امتحان شروع ہوا تھا اس کا شوہر اس سے بیزار تھا وہ تو یہ شادی کرنا ہی نہیں چاہتا تھا گھر والوں کے اصرار پر مارے باندھے اس شادی کے لئے راضی ہوا تھا کیوں کہ وہ پہلے ہی دبئی میں شادی کر چکا تھا مگر یہاں اس کی ماں اور بہنوں کو ایک نوکرانی کی ضرورت تھی اسی لیے وہ عالیہ کو بیاہ کر لے آئیں تھیں کیوں کہ جانتی تھیں کہ اس کی بھابھی اس سے بیزار ہیں اور اسے بوجھ سمجھتی ہیں عالیہ کے پاس واپس جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا اس کا شوہر فراز
بامشکل ہی ایک ہفتے شادی کے بعد اس کے ساتھ رہا تھا اور پھر ایک ہفتے بعد ہی واپس دبئی چلا گیا تھا دو ماہ تو سکون سے گزر گئے تھے فراز کی بیوی کو اس کی دوسری شادی کی خبر نہیں ہو سکی تھی فراز نے دبئی جا کر عالیہ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا تھا ۔
ان دو ماہ میں اس نے نہ ہی عالیہ کو خرچہ دیا تھا اور نہ ہی اس سے کوئی بات کی تھی وہ مکمل طور پر اس سے کنارہ کش ہوگیا تھا دو ماہ بعد فراز کی بیوی جس کو کسی طرح سے خبر ہو گئی کہ فراز پاکستان میں دوسری شادی کر کے آیا ہے اس نے ایک ہنگامہ مچا دیا تھا فراز کے وہاں پہلے سے چار بچے تھے اور پھر اس نے اپنی پہلی بیوی کے زور دینے پر عالیہ کو طلاق بھیج دی عالیہ نے ہی وہ طلاق نامہ موصول کیا تھا اس نے جیسے ہی کھول کر دیکھا تھا اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی محض دو ماہ کی شادی میں اسے بنا کوئی وجہ بتائے طلاق دے دی گئی تھی وہ بے ہوش ہو کر گر پڑی تھی اس کے سسرال والے اسے ہسپتال لے گئے وہاں جا کر خبر ملی کہ وہ حاملہ ہے مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا اسے طلاق ہو چکی تھی وہ اجڑ کر اپنے بھائی کے گھر آ بیٹھی تھی مگر اس کی بھابھی کسی صورت اسے برداشت کرنے پر راضی نہیں تھیں انہوں نے صاف کہہ دیا تھا کہ وہ اپنا خرچہ خود اٹھائے گی جبھی اس گھر میں رہ سکتی ہے ورنہ وہ اپنے لئے کوئی اور انتظام کر لے عالیہ نوکری ڈھونڈنے کے کئے نکل کھڑی ہوئی تھی کیوں کہ وہ اب اکیلی نہیں تھی اس کے ساتھ ایک ننھی سی جان بھی تھی جس کا اسے ہی خیال رکھنا تھا آخر کار اسے ہمدان انٹرپرائزز میں نوکری مل گئی تھی۔
عالیہ تمہیں سر نے اپنے روم میں بلایا ہے ۔ عالیہ کی کولیگ نے آکر اسے اطلاع دی تھی عالیہ اپنے وجود پر چادر درست کرتی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھی تھی اور باس کے کمرے کی طرف بڑھی تھی وہ ناک کر کے اندر داخل ہوئی تو۔۔۔۔۔۔۔
1st Link ↓
Download Link
2nd Link ↓
Download Link
3rd Link ↓
Download Link
4th Link ↓
Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕