Sitam Yaar By Dars Novel

 Second Marriage Base | Emotional Story | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel 

” پلیز۔۔ رحم کریں مجھ پہ ۔۔۔۔۔” اریحہ گڑگڑائی تو عابد نے غصے سے اسے دیکھا! ” بس مزے لینے کے لیے شادی کی ہے تم نے ایک بچہ تو تم مجھے دے نہیں سگی۔۔۔” بانجھ عورت کا طعنہ دے کر عابد نے اسے طلاق دی تو بھائی بھابھی نے اس کی دوسری شادی کر دی! ” یہ شادی میں نے اپنے بچوں کے لیے کی ہے لیکن میری جسمانی ضرورتیں پوری کرنا تمہارا فرض ہے۔” عفان اس کے اوپر جھکتے سر گوشی نما لہجے میں بولا۔ ” نہ نہیں چھوڑ دیں مجھے۔ میں تو یہاں بچوں کی۔۔” ” خاموش بیوی ہو تم میری۔ شرما ایسے رہی ہو جیسے آج سے پہلے کوئی مردانہ لمس محسوس نہ کیا ہو وہ مکمل اریحہ پر حاوی ہوتا اسے اپنے شکنجے میں قید کر چکا تھا۔۔۔۔۔

” بس بہت ہو گیا، اب ایک لمحہ بھی سامنے مت آنا!” عابد کی آواز میں ایسی سختی تھی کہ اریحہ کے قدم وہیں جم گئے۔ “جس عورت سے مجھے اولاد نہ ملے، اس کی خوبصورتی میرے کس کام کی؟ دنیا بھر کےطعنے میں سنتا ہوں، ماں کے سوالوں کا سامنا کرتا ہوں، اور تم ہو کہ چار سال میں بھی مجھے باپ نہ بنا سکیں!” وہ نفرت سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا، جیسے سامنے کوئی انسان نہیں بلکہ کوئی بوجھ کھڑا ہو۔ ” میں تھک چکا ہوں اماں کے سامنے دوسری شادی سے انکار کرتے کرتے بتاؤ کیا رکھا ہے تمہارے وجود میں؟ اگر ایک اولاد بھی نہ دے سکیں تو ایسی خوبصورتی پر لعنت ہی بنتی ہے!” اریحہ ابھی کچن سے برتن رکھ کر آئی تھی۔

ہاتھوں میں نمی تھی اور آنکھوں میں حیرت۔ وہ پلک جھپکائے بغیر اپنے شوہر کو دیکھتی رہ گئی، جس کا غصہ آج قابو سے باہر تھا۔ اس غصےکے پیچھے نسرین بیگم کے الفاظ تھے، جو ابھی ابھی اس کے کانوں میں زہر گھول چکی تھیں۔ وہ اپنی بھانجی کو اس گھر کی بہو بنانا چاہتی تھیں، اور اس کے لیے اریحہ کا یہاں رہنا ضروری نہیں تھا۔ عابد نے اس کا بازو پکڑا اور دروازے کی طرف دھکیلنے لگا۔ عابد! خدا کے لیے چھوڑ دیں مجھے! ” اریحہ
کی آواز لرز گئی۔۔۔

” آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ میرے نصیب میں اولاد نہیں تو اس میں میرا کیا قصور؟ ایک بار… بس ایک بار میرا علاج کروا کر دیکھ لیں۔ شاید اللہ ہم پر رحم کر لے” عابد نے تلخی سے ہنستے ہوئے اس کی بات کاٹ دی۔ “اور تیرے باپ نے کون سا مجھے دولت کے انبار دے دیے تھے کہ میں تیرا علاج کرواتا پھروں؟ میں اتنا نادان نہیں کہ پیسہ اس جگہ لگاؤں جہاں مجھے پہلے ہی معلوم کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔” اس نے فیصلہ کن انداز میں کہا، ”میں نے سوچ لیا ہے، میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں۔ اماں نے میرے لیے دوسری لڑکی پسند کر لی ہے۔ دیکھنا، اس کے گھر قدم رکھتے ہی میں صاحب اولاد بن جاؤں گا۔” اس کے لہجے کی حقارت نے اریحہ کے وجود کو جھنجھوڑ دیا۔

وہ اپنے مجازی خدا کو یکھ رہی تھی۔ چار سال پہلے وہ اسی کے ساتھ نئی زندگی کے خواب لے کر اس گھر میں آئی تھی، مگر اس گھر کو صبر نہیں تھا۔ اولاد کی جلدی نے اس کی ہر خوشی نگل لی تھی۔ ان چار برسوں میں وہ کتنی خاموشی سے ڈاکٹر کے دروازے کھٹکھٹا چکی تھی، کتنی امیدیں باندھ کر لوٹی تھی، مگر بار بار خالی ہاتھ لوٹتی وہ آج بھی ماں بننے کی نعمت سے محروم تھی، اور آج یہی محرومی اس کا جرم بن چکی تھی۔ نسرین بیگم کا ایک ہی حکم تھا: “طلاق دو، تبھی دوسری شادی ہو گی۔” اور آج عابد وہی فیصلہ لے کر اس کے سامنے کھڑا تھا۔ “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، اریحہ طلاق دیتا ہوں۔۔۔ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں!” وہ تین لفظ اریحہ کو پتھر کا بت بنا گئے۔۔۔۔

وہ بالکل ساکت کھڑی اس چہرے کو دیکھتی رہی جس میں کبھی اس نے اپنا مستقبل تلاش کیا تھا۔ اسے اتنا یقین ضرور تھا کہ عابد نے کبھی اس سے محبت نہیں کی۔ رشتہ یا تو معاشرے کے دباؤ پر چل رہا تھا، یا پھر اس کی خوبصورتی کے سہارے جس پر وہ ہمیشہ شک بھی کرتا تھا۔ عابد جہاں بھی جاتا، اریحہ کو اپنے ساتھ رکھتا، مگر اس ساتھ میں تحفظ کم اور نگرانی زیادہ ہوتی۔ کسی شادی یا دعوت میں وہ اگر ذرا سنور کر آجاتی تو عابد کی نظریں اس کا پیچھا کرتیں، مسکراہٹ پر حساب رکھا جا رہا ہو۔ اسے بار بار دیکھتا رہتا کہ وہ کسی اجنبی
سے ہنس کر تو بات نہیں کر رہی، یا کسی سے نظر تو نہیں مل گئی۔

اور اگر کبھی وہ کپڑے سکھانے چلی جاتی تو عابد کے لہجے میں فوراً زہر گھل جاتا، “ضرور محلے بھر کو اپنا حسن دکھا کر آئی ہو گی! ” اریحہ اس کے جملوں پر ٹوٹ جاتی۔ آنکھیں لباب پانیوں سے بھر جاتیں ہاتھ کپکپانے لگتے۔ “آپ ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں عابد؟ کیا آپ کو مجھ پر ذرا سا بھی یقین نہیں؟” وہ روتے ہوئے پوچھتی، مگر جواب میں اسے صرف خاموشی یا شک کی ایک اور دیوار ملتی۔ وہ اس شک کے بوجھ تلے بارہا آنسو بہا چکی تھی۔ عابد ستائیس برس کا سانولا سا مرد تھا، اور اریحہ کی شادی محض انیس برس کی عمر میں ہوئی تھی۔

اب چار سال گزر چکے تھے، مگر وہ اب بھی ویسی ہی دبلا پتلا سا وجود معصوم چہرہ، اور ایسی سادگی کہ دیکھنے والا یقین ہی نہ کرے کہ شادی شدہ ہے۔ وہ اپنا خاص خیال بھی نہیں رکتی تھی، پھر بھی اس کی معصومیت اور حسن خود بخود نمایاں ہو جاتا۔ ابتدا میں عابد خود حیران رہ گیا تھا کہ اس جیسے بھاری جسامت اور کھردرے رنگت والے آدمی کے نصیب میں اتنی نازک اور حسین بیوی کیسے آ گئی۔ وہ اسے دیکھ کر الجھ سا گیا تھا۔۔۔۔

1st Link  ↓

Download Link

2nd Link  ↓

Download Link

3rd Link  ↓

Download Link

4th Link  ↓

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *