Sham-e Hejran by Samra Bukhari

After marraige | Caring hero | Family politics | Social Romantic |  Teacher heroine

یہ آدمی کون ہے آپا اکثر آتا رہتا ہے۔بہت دیر بیٹھتا ہے آپ کے سکول کا کلرک وغیرہ ہے کیا۔”صنوبر نے پوچھا تھا۔
“نہیں وہ میرے سکول کا آدمی نہیں ہے بس دوستی ہیں ہماری۔” اس نے کہا۔
“دوستی۔” صنوبر کی آنکھیں پھیل گئی۔
ْ” شرم کرو آپا اس عمر میں ایسی حرکت ہائے ہائے توبہ توبہ۔” وہ کلے پیٹنے لگی۔
“تمہیں اب شرم آرہی ہے اور جب تم نے اپنی پسند سے عقیل سے شادی کی تھی تب شرم نہیں ائی تھی۔”
“ہائے یہ وہی آپا ہے جن کے منہ میں زبان ہی نہیں تھی جن کو ہزار باتیں
بھی سنا ڈالو سر جھکائے سنتی رہتی تھی۔ کبھی برا نہیں مانتی تھی۔”
صنوبر نے اس روز یہ بات عقیل سے کہی تھی پھر عقیلہ باجی کو بلوایا گیا تھا۔ وہ تو صبح سکول چلی گئی دیر تک میٹنگ ہوتی رہی۔
“اگر آپا شادی کر لیتی ہیں تو اس میں سراسر نقصان ہی نقصان ہے یہ مکان جو آپا کے بعد ظاہر ہے
انہی کے نام ہوگا ایسی صورت میں ان کے ہاتھ سے نکلے گا چلو وہ
تو بعد کی بات ہے اب بھی ایک غیر شخص ہمارے کمرے پہ قابض ہو جائے گا۔”
“یہ شادی ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔”
“باجی تم آپا کو سمجھاؤ اس عمر میں شادی کر کے ہمارا تماشہ نہ بنوائیں۔
ان سے کہہ دینا کر انہوں نے نکاح کیا تو ہم تینوں اس کا بائیکاٹ کر دیں گے اور میرے سسرال والے۔۔
وہ لوگ کیا سوچیں گے۔۔انہیں تو اس عمر میں رنگ رلیاں منانے کی پڑگئی۔”
“ٹھیل کہتے ہو عقیل ہمیں آپا کو ہر حال میں روکنا چاہیے۔”

Download Link

Direct Download

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *