Mohabbat Sitamgar Ki By Rija Mujahid Novel20765
Revenge Base | Forced Marriage | Rude Hero | Romantic Urdu Novel | Complete Novel
” زمان بابا کو بتائیں ہم نے نکاح کیا تھا یہ ہماری جائز اولاد ہے ” میرب نے روتے ہوئے زمان کا بازو تھام کر فریاد کی ” چاچو جان میرا آپکی لاڈلی کلموہی بیٹی سے کوئی لینا دینا نہیں میں تو کل واپس لندن جا رہا ہوں یہ گناہ ختم کروا کر اسکی جلدی سے شادی کروادیں۔۔ ” تایا جان نے نفرت سے میرب کو ٹھوکر ماری اور کمرے میں چلے گئے۔ میرب دو بجے رات کے زمان کے روم میں گئی ” زمان خدا کے لیے مت کریں یہ بچہ آپکا ہے میں آپ کے نکاح میں ہوں” مگر اس رات بھی زمان نے کئی بار اسے تنگ کیا اور اگلے دن دوبئی چلا گیا پانچ سال بعد بزنس ایسٹابلش کرکے لوٹا تو چچا کے گھر میں دو ہمشکل بچے دیکھ ٹھٹھک گیا جو اسی کی کاربن کاپی تھے۔۔۔۔
میرب کی ہچکیاں بندھ چکی تھیں اور آنسو اس کے گالوں پر مسلسل بہہ رہے تھے۔ اس نے روتے ہوئے آگے بڑھ کر زمان کا بازو مضبوطی سے تھام لیا اور اپنے بابا کے سامنے کھڑے ہو کر گڑگڑانے لگی۔ وہ اونچی آواز میں روتے ہوئے اپنے اور زمان کے نکاح کا اعتراف کر رہی تھی اور بابا کو بتارہی تھی کہ اس کے پیٹ میں پلنے والا بچہ زمان کا ہی ہے اور وہ دونوں میاں بیوی ہیں۔ میرب کی حالت دیکھ کر زمان نے ایک لمحے کے لیے اس کی طرف دیکھا، لیکن پھر سردمہر بنتے ہوئے جھٹکے سے اپنا بازو اس کے ہاتھ سے چھڑ والیا۔۔۔۔
زمان نے سب کے سامنے بالکل صاف انکار کر دیا اور کہنے لگا کہ ” اس لڑکی کا دماغ خراب ہو گیا ہے، میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی میں کسی نکاح یا بچے کو جانتا ہوں۔۔” میرب زمان کے اس کھلے انکار پر ہکا بکا رہ گئی اور اس کی بےبسی مزید بڑھ گئی۔ زمان غصے سے تلملاتے ہوئے اپنے چچا جان کے سامنے کھڑا ہوگیا اور میرب کی طرف نفرت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا کہ ” میرا اس کلموہی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، یہ جھوٹ بول رہی ہے۔”
اس نے چچا جان کو صاف لفظوں میں بتادیا۔۔۔ ” میں کل ہی واپس لندن جا رہا ہوں اور میرا یہاں رکنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ آپ لوگ جلدی سے اسکا یہ گناہ ختم کروائیں اور جہاں دل چاہے اس کی شادی کروا کے اسے اس گھر سے دفع کریں۔” اپنی بات ختم کرتے ہی زمان نے غصے میں ایک زور دار جھٹکا دیا اور چچا جان اور میرب کو اسی حال میں چھوڑ کر تیز قدموں سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔
چچا جان کے چہرے پر غصے اور نفرت کے تاثرات گہرے ہو گئے۔ انہوں نے اپنے سامنے زمین پر بیٹھی روتی ہوئی میرب کو دیکھا، جس نے ان کے خاندان کی ناک کٹوادی تھی، اور شدید غصے میں آکر اسے زور سے ایک ٹھوکر ماری۔ میرب درد اور صدمے سے تڑپ کر ایک طرف گری لیکن چچا جان کا دل بالکل نہیں پگھلا۔ وہ غصے سے چلاتے ہوئے کہنے لگے کہ ” تو میرے نام پر اور ہماری خاندانی غیرت پر ایک بد نامی کا دھبہ ہے ، کاش تو پیدا ہوتے ہی مر جاتی۔” انہوں نے میرب کا بازو بالوں سے پکڑا اور اسے گھسیٹتے ہوئے پاس موجود ایک اندھیرے کمرے میں لے گئے۔۔۔
اسے اندر پھینکا اور باہر سے تالا لگا دیا تاکہ وہ کسی کو اپنی شکل نہ دکھا سگے۔ رات کے دو بجے حویلی میں ہر طرف گہرا سناٹا تھا، جب میرب کسی طرح رورو کر اور ہمت کر کے اپنے باپ کی قید سے نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔ وہ ڈرتے اور کانپتے ہوئے قدموں سے زمان کے کمرے کی طرف بڑھی اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئی۔ زمان کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی اور اس کے پیروں میں بیٹھ گئی۔ میرب نے زمان کے پاؤں پکڑ لیے اور روتے ہوئے خدا کا واسطہ دینے لگی۔۔۔
” زمان خدا کے لیے ایسا مت کریں، یہ بچہ آپ ہی کا ہے اور میں آپ کے نکاح میں ہوں، مجھ پر اور اپنی اولاد پر رحم کریں۔” وہ بار بار زمان کے سامنے گڑ گڑا رہی تھی اور التجا کر رہی تھی کہ وہ سب کے سامنے سچ قبول کرلے، لیکن اس کی آواز بس اس کمرے کی دیواروں تک ہی رہ گئی۔ زمان نے اپنے پیروں میں بیٹھی میرب کو دیکھا تو اس کے دل میں رحم کا ایک جذبہ بھی پیدا نہ ہوا، بلکہ اس نے الٹا حقارت سے ہنستے ہوئے میرب پر طنز کے تیر چلانے شروع کر دیے۔
” اب یہاں رات کے اندھیرے میں آکر رونے دھونے کا کیا فائدہ، جب سب کے سامنے تماشا بنا تھا تو بن گئیں۔” زمان نے اس کی بے بسی کا مذاق اڑایا اور اس کی ایک نہ سنی، لیکن اس سب کے باوجود اس کی نیت بدل گئی۔ اس نے میرب کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس رات بھی زبردستی اس پر اپنے شوہر ہونے کا پورا حق جتایا اور میرب اس کی اس بےحسی اور ظلم پر بالکل خاموش ہوگئی۔ وہ زمان کے اس رویے پر گہرے صدمے میں چلی گئی اور نڈھال ہو کر کمرے کے ایک کونے میں پڑی رہ گئی، جیسے اس کے اندر زندگی کی کوئی رمق ہی باقی نہ رہی ہو۔
اگلی صبح جب سورج نکلا تو زمان نے میرب کی طرف ایک نظر بھی نہ دیکھا، جو اسی طرح نڈھال اور ہاری ہوئی فرش پر پڑی تھی۔ وہ اسے اسی بے بسی کی حالت میں کمرے میں چھوڑ کر اپنا سامان اٹھاتا ہے اور چپ چاپ گھر سے نکل جاتا ہے۔ سب گھر والوں کو یہی معلوم تھا کہ وہ لندن جا رہا ہے،،، زمان نے آخری وقت پر اپنا ارادہ بدل لیا اور لندن کے بجائے دبئی کی فلائٹ لے کر ملک سے باہر نکل گیا تاکہ وہ اس سارے تماشے، میرب کے آنسوؤں اور خاندان والوں کے سوالوں سے دور ہو سکے اور کوئی بھی اس تک نہ پہنچ سگے۔۔۔۔
تایا جان غصے سے بھرے ہوئے میرب کے سامنے آکھڑے ہوئے اور اس پر شدید دباؤ ڈالنے لگے کہ وہ ہر حال میں اس بچے کو ضائع کر دے کیونکہ وہ اس ناجائز اولاد کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ انہوں نے میرب کو ڈرایا اور دھمکایا، لیکن میرب نے روتے ہوئے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ لیا اور صاف انکار کر دیا۔ اس نے روتے ہوئے قسم کھائی کہ یہ گناہ نہیں بلکہ زمان کی جائز اولاد ہے اور وہ اپنی جان دے دے گی لیکن اپنی اولاد کو کچھ نہیں ہونے دے گی۔۔۔
اسی دوران زمان کے چچا جان بھی وہاں موجود تھے، وہ میرب کی یہ تڑپ اور بے بسی دیکھ کر اندر سے ہل گئے اور ان کے دل میں میرب کے لیے ترس آگیا، کیونکہ وہ محسوس کر رہے تھے کہ اس کہانی میں کوئی گہرا راز چھپا ہے۔ تایا جان کا غصہ اب نفرت اور جنون کی آخری حدوں کو چھو رہا تھا، انہوں نے میرب کی ایک نہ سنی اور حویلی کے ملازمین کو حکم دیا کہ اسے گھسیٹتے ہوئے حویلی کے مرکزی دروازے کی طرف لائے اور اسے باہر کی طرف دھکیلتے ہوئے سخت لہجے میں بولے۔۔ ” آج کے بعد تمہارا اس گھر اور اس خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہے، تم جہاں چاہو جا کر مرو،،، ہمارے لیے تم اسی دن مر گئی تھیں جب تم نے یہ حرکت کی تھی۔”
میرب دروازے کی چوکھٹ پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور اپنے تایا جان کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگی۔۔۔
” خدا کے لیے مجھے اس حالت میں رات کے اندھیرے میں باہر نہ نکالیں، میں کہاں جاؤں گی، میرا اس دنیا میں آپ لوگوں کے سوا کوئی نہیں ہے، لیکن تایا جان کا دل پتھر کا ہو چکا تھا اور انہوں نے منہ دوسری طرف پھیرلیا۔” اسی لمحے چچا جان جو کافی دیر سے یہ سب دیکھ رہے تھے اور جن کا دل میرب کی اس حالت پر خون کے آنسو رورہا تھا، وہ تایا جان کے سامنے آکر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے میرب کا سر اپنے ہاتھ سے ڈھانپتے ہوئے تایا جان سے کہا
” بھائی صاحب بس کر دیں، اگر زمان نے اس لڑکی کو چھوڑ دیا ہے اور آپ نے بھی اسے ٹھکرا دیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اسے سڑک پر مرنے کے لیے چھوڑ دیں، آخر یہ بھی ہمارے ہی خون کا حصہ ہے۔ ” تایا جان نے چڑ کر کہا۔۔ ” اگر تمہیں اس گناہ کا اتنا ہی درد ہے تو لے جاؤ سے اپنے ساتھ،،، لیکن یاد رکھنا کہ پھر میرا تمہارے ساتھ بھی کوئی رشتہ نہیں رہے گا۔” چچا جان نے بنا کسی خوف کے میرب کو زمین سے اٹھایا، اس کے آنسو پونچھے اور اسے سہارا دے کر حویلی کے دوسرے حصے کی طرف لے گئے جہاں ان کا اپنا گھر تھا، اور میرب کو اپنے گھر کے اندر لے جا کر پناہ دے دی اور اس سے وعدہ کیا کہ جب تک وہ زندہ ہیں، کوئی بھی اسے یا اس کے بچے کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ زمان دبئی پہنچتے ہی خود کو کارو باری مصروفیات میں بری طرح الجھا لیتا ہے تاکہ اسے ماضی کا کوئی چہرہ یاد نہ آئے۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی
1st Link
2nd Link
3rd Link
4th Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain,
to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕