Waris Ki Tarap By Zaryva Novel20766 

Betrayl Based |  Forced Marriage | Rude Hero |  Romantic Urdu Novel | Complete Novel 

” بس کرو یہ رونا دھونا۔ ہمارے خاندان کے ہر مرد نے دو شادیاں کی ہیں۔ اگر تمہارا مرد دوسری شادی کر رہا ہے تو گناہ نہیں ہے یہ۔ اسلام بھی اجازت دیتا ہے۔” عبیرہ کی بڑی نند نے غصہ ضبط کرتے سر جھٹکتے کہا۔ پر امیر سائیں میں۔ میں اپنا شوہر نہیں بانٹ سکتی۔” وہ ان کے پیر پکڑ گئی۔ ” ارے جنم جلی وہ اولاد کی خاطر نکاح کر رہا ہے۔ راہ میں روڑے نہ اٹکاؤ۔ اور نئی دلہن کے لیے کمرہ خالی کرو۔” وہ غصہ سے دھاڑیں۔ حویلی کا ہر بڑا چھوٹا فیصلہ وہی کرتی تھیں۔ دل پے پتھر رکھے وہ اپنے کپڑے بیگ میں ڈالتے رو پڑی۔ اس کی شادی کو ایک سال کا عرصہ ہوا تھا۔ سب جانتے تھے کہ شہاب سدزوئی کی دوسری شادی خاندانی چپقلش کا نتیجہ ہے۔ وہ رات حویلی چھوڑ کے چلی گئی۔ ” یہ کیا کیا امیر سائیں۔ وہ میرے بچے کی ماں؟؟؟ ” پانچ سال بعد وہ اسے۔۔۔۔
حویلی کے وسیع و عریض اور شاہانہ لاؤنج میں اسوقت ایک ، بوجھل اور تپتی ہوئی خاموشی طاری تھی۔ عبیرہ، جس کی شادی کو ابھی صرف ایک سال کا قلیل عرصہ ہوا تھا، وہ فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھی پاگلوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ اس نے آج ہلکے نیلے رنگ کا ایک سادہ سا روایتی جوڑا پہن رکھا تھا، اس کے لمبے، گھنے سیاہ بال پیٹھ پر بکھرے ہوئے تھے اور اس کے معصوم، کورے چہرے پر بہنے والے آنسوؤں کی قطاریں اس کے دل کے اندر لگی ابدی آگ کا پتہ دے رہی تھیں۔ اس کا پورا نازک وجود صدمے اور بے بسی کی شدت سے بری طرح کانپ رہا تھا۔۔۔۔۔
اس کے بالکل سامنے، حویلی کے مرکزی چمڑے کے بڑے شاہی صوفے پر سدوزئی خاندان کی سب سے با اختیار جابر اور سنگدل خاتون، یعنی عبیرہ کی بڑی نند “امیر سائیں” پیر پر ٹانگ جمائے بیٹھی تھیں۔ ان کے ہاتھ میں عقیق کے سرخ پتھروں کی ایک بھاری تسبیح تھی جسے وہ بڑی بے رحمی سے گھما رہی تھیں، ان کے چہرے کی سخت اور گہرے لکیریں، اور ان کی سرد آنکھیں یہ صاف بتا رہی تھیں کہ ان کے اندر رحم نام کی کوئی شے موجود نہیں ہے۔ حویلی کا ہر چھوٹا بڑا فیصلہ، نوکروں کی سزا سے لے کر خاندانی شادیاں اور جائیداد کے بٹوارے تک، سب امیر سائیں کے ایک ہی اشارے پر ہوتے تھے۔
انہوں نے عبیرہ کے اس تڑپتے ہوئے رونے کو دیکھا، اپنے چہرے پر بیزاری کے تاثرات سجائے اور غصہ ضبط کرتے ہوئے اپنا سر جھٹک کر تسبیح کو سامنے شیشے کی بڑی میز پر بیچ دیا جس سے ایک کرخت آواز گونجی۔ ” بس کرو یہ روایتی رونا دھونا عبیرہ! اپنی یہ سستی ڈرامے بازی اب بند کرو۔ ہمارے سدوزئی خاندان کے ہر مرد نے تاریخ گواہ ہے کہ دو دو شادیاں کی ہیں۔اگر تمہارا مرد، اس حویلی کا بڑا نواب دوسری شادی کر رہا ہے تو کوئی گناہ یا کفر نہیں کر رہا وہ۔ اسلام بھی اس بات کی پوری اجازت دیتا ہے، اور پھر سب سے بڑی بات یہ کہ اس سدوزئی حویلی کو ایک سچے اور خاندانی وارث کی ضرورت ہے جو تم ایک سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اس گھر کو نہ دے سکیں! ہم کب تک ایک بے اولاد عورت کے طعنے سنیں؟” امیر سائیں کی یہ کڑک دار، بھاری اور زہریلی آواز عبیرہ کے کانوں میں پگھلے ہوئے لوہے کی طرح اتری، جس نے اس کے دل کو ہزار ٹکڑوں میں کاٹ دیا۔
” پر امیر سائیں! خدا کے لیے ایسا مت کہیں، خدا کے لیے مجھ پر یہ قیامت مت ڈھائیں۔ میں اپنے شوہر کو، اپنے شہاب کو کسی دوسری عورت کے ساتھ نہیں بانٹ سکتی۔۔ وہ صرف میرے ہیں، ان پر صرف میرا حق ہے!” عبیرہ تڑپ کر فرش پر رینگتی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے امیر سائیں کے بھاری، سونے کے سے لادے پاؤں کو اپنے دونوں کانپتے ہوئے نازک ہاتھوں میں جکڑ لیا۔ اس کی آواز میں ایک ایسی درد ناک بے بسی، ایک ایسی التجا تھی جو کسی بھی کچے پتھر کو پگھلا کر پانی کر دیتی، مگر امیر سائیں کا دل حویلی کے سرد قوانین کی طرح سخت اور بے رحم تھا۔ انہوں نے حقارت سے اپنے پیر کو پیچھے کھینچا جس سے عبیرہ کا سر فرش پر جا لگا، اور وہ غصے سے لاؤنج میں دھاڑیں۔۔
” ارے جنم جلی! اپنی اوقات میں رہ کر بات کرو۔ وہ سدوزئی خاندان کا بڑا خان ہے، وہ اولاد کی خاطر نکاح کر رہا ہے، اپنے خون کا وارث پانے کے لیے یہ سودا کر رہا ہے، کوئی عیاشی ی! شوق کے لیے نہیں! سب جانتے ہیں کہ شہاب سدوزئی کی دوسری شادی خاندانی چپقلش اور ہمارے نوابی وقار کا حتمی نتیجہ ہے تہیہ فیصلہ خاندانی دباؤ کے تحت طے ہو چکا ہے اور اب تم ہمارے خاندانی فیصلوں کی راہ میں روڑے نہ اٹکاؤ۔۔۔ اور چپ چاپ ابھی کے ابھی اوپر جا کر اس شاہی کمرے کو خالی کرو اور اپنے کپڑے سمیٹو! نئی دلہن کل صبح اس حویلی کے پورچ میں اپنا پہلا قدم رکھے گی، اس کے استقبال کے لیے وہ کمرہ سجنا چاہیے!”امیر سائیں کا یہ حتمی اور ہولناک حکم سن کر عبیرہ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔
اس کا سر بری طرح چکرانے لگا، اسے لگا جیسے حویلی کی یہ بلند و بالا چھت اس کے معصوم وجود پر آ گری ہو۔ عبیرہ کو اپنی حالت کا، اپنے اندر پنپنے والے اس ننھے سے حمل کا دور دور تک کوئی احساس نہیں تھا، وہ تو بس اس صدمے میں مری جا رہی تھا کہ اس کا شہاب، جو اس سے اتنی محبت کا دعویٰ کرتا تھا، وہ آج اس خاندانی دباؤ اور جائیداد کی چپقلش کے سامنے ایسا مہرہ بنا کہ خاموش تماشائی بن گیا۔ عبیرہ دل پر پتھر رکھے، روتی ہوئی، لڑکھڑاتے اور بے جان قدموں کے ساتھ اوپر اپنے اس بڑے شاہی کمرے میں آئی جہاں اس نے شہاب کے ساتھ محبت کے حسین لمحات گزارے تھے۔ کمرے کے اندر ائیر کنڈیشنڈ کی تیز ٹھنڈک موجود تھی مگر وہ ٹھنڈک بھی عبیرہ کے سینے کے اندر لگی پچھتاوے اور دکھ کی آگ کو بجھا نہیں پا رہی تھی۔
اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے لکڑی کی بڑی الماری کھولی، اس نے روتے ہوئے چند سادہ سے سوتی کپڑے اٹھائے اور انہیں ایک پرانے سفر کے بیگ میں ڈالنے لگی۔ اس کی بڑی بڑی چمکدار آنکھوں سے گرنے والے گرم گرم آنسو کپڑوں کے ریشوں پر گر کر جذب ہو رہے تھے اور اس کی سسکیاں کمرے کی خاموشی کو چیر رہی تھیں۔ رات کے بارہ بج چکے تھے، پورے ولا پر گہرا اندھیرا اور مہیب سکوت طاری ہو چکا تھا، حویلی کے نوکر اور گارڈز بھی اپنی اپنی جگہوں پر گہری نیند سو رہے تھے۔ آسمان پر چاند گہرے سیاہ بادلوں کے پیچھے چھپ چکا تھا جیسے وہ بھی اس معصوم لڑکی کا دکھ نہ دیکھ سکتا ہو۔۔۔۔۔

 

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

 

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *