Dill E Mehram By Ayesha Majeed Novel20986

Second Marriage Based | Divorce Based | Emotional Drama | Social Issues | Betrayal | Single Mother | Workplace Romance | Rich Hero | Family Drama | Slow-Burn Romance

Short Description

A heart-touching story of a woman who sacrifices everything for her husband, only to be abandoned when he becomes successful. After divorce, she starts rebuilding her life for her little daughter and unexpectedly crosses paths with a powerful businessman who may change her destiny.

“دوسری شادی کرنی ہے تو کریں پر مجھے طلاق دیں۔ ” وہ سب کے سامنے بولی تھی کہ طلاق کا نام سن کر اس کا شوہر رک جائے گا۔ اس نے تین سال اپنے شوہر کے ساتھ غربت میں گزار کر اپنا زیور بیچ کر اسے کاروبار کروایا تھا اب وہ امیر ہوا تو دوسری عورت بھا گئی پر اس کے پیروں تلے زمین تب نکلی جب اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی۔ وہ اپنی دو سالہ بیٹی کو لیے باپ کے گھر آگئی۔کچھ دن بعد وہ بوجھ لگنے لگی تو اس نے خانزادہ انٹرپرائزز میں نوکری شروع کی۔ جب پورے ماہ بعد عالیان خانزادہ ضروری میٹنگ کے لیے آفس آیا، سب اس کے نام سے بھی ڈرتے تھے ۔میٹنگ کی ضروری فائل اس کے پاس تھی پر بیٹی کی اچانک طبیعت بگڑنے پر وہ غلطی سے فائل سمیت ہسپتال چلی گئی۔

“اس غیر زمہ دار لڑکی کی وجہ سے میرا اتنا بڑا نقصان ہوا ہے۔۔۔ میں اسے چھوڑوں گا نہیں۔ آفس بلاؤ ابھی! ” وہ دھاڑا۔۔۔ “دوسری شادی کرنی ہے تو شوق سے کریں پر پہلے مجھے طلاق دیں” سنیناں کی آواز ڈرائنگ روم کی چار دیواری میں گونجی تھی۔ اس کی سانسیں پھول رہی تھیں اور آنکھوں میں ضبط کیے ہوئے آنسوؤں کا سمندر تھا مگر اس کے باوجود اس کے لہجے میں بلا کا یقین تھا۔ یہ وہ یقین تھا جو اس نے طلحہ کے ساتھ گزرے تین انتہائی کٹھن اور مفلسی سے بھرپور سالوں سے کمایا تھا۔ اسے پورا گمان تھا کہ طلاق کا نام سنتے ہی طلحہ کے قدم لڑکھڑا جائیں گے اس کا غرور خاک میں مل جائے گا اور وہ ماضی کی قربانیوں کو یاد کر کے خاموش ہو جائے گا۔ لیکن سامنے صوفے پر بیٹھے طلحہ کے چہرے پر پشیمانی کا ایک احساس تک نہ ابھرا۔ اس نے انتہائی لاپرواہی سے اپنے مہنگے سوٹ کا کوٹ درست کیا اور ایک سرد مسکراہٹ کے ساتھ سنیناں کی طرف دیکھا۔

“طلاق؟” طلحہ کا لہجہ طنز سے بھرا ہوا تھا “تم واقعی یہ سمجھتی ہو سنیناں کہ اس لفظ سے مجھے ڈرا لو گی؟ “طلحہ ہوش کے ناخن لو” سنیناں کی آواز لرز گئی۔ وہ قدم آگے بڑھاتے ہوئے بولی “تم کیسے بھول سکتے ہو کہ ہم نے یہ دن کیسے دیکھے ہیں؟ جب تمہارے پاس کاروبار شروع کرنے کے لیے ایک روپیہ تک نہیں تھا جب تم راتوں کو سر پکڑ کر بیٹھتے تھے تب میں نے اپنے باپ کے دیے ہوئے سونے کے تمام زیورات تمھاری ہتھیلی پر رکھ دیے تھے۔ میں نے تین سال ایک ایک پیسے کی محتاجی میں گزارے پرانے کپڑے پہنے کبھی تم سے کوئی فرمائش نہیں کی۔ اور آج… آج جب اللہ نے تمھاری محنت اور میری قربانیوں کا پھل دیا ہے تمھاری گاڑیاں اور بنگلے بن گئے ہیں تو تمہیں میں نچلے درجے کی لگنے لگی ہوں؟ دوسری عورت تمھاری نظروں میں جچنے لگی ہے؟” چائے کا گھونٹ بھرتی ہوئی طلحہ کی ماں نے پیالی پرچ میں رکھی اور نخوت سے بولی “زبان سنبھال کر بات کرو سنیناں میرے بیٹے نے رات دن ایک کر کے یہ نام اور مقام بنایا ہے۔ اب وہ ایک بہت بڑا بزنس مین ہے۔ اس کی ایک سوسائٹی ہے اس کا ایک معیار ہے۔

تم تو گھر سے باہر قدم بھی نہیں نکالتیں تم میں وہ ماڈرن کلاس ہی نہیں ہے جو طلحہ کے ساتھ کسی پارٹی میں کھڑی ہو سکے۔ اگر وہ عاشی کو اپنی زندگی میں لا رہا ہے تو تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ تمھاری ذمہ داری سے وہ پیچھے نہیں ہٹ رہا تمہیں بھی اسی گھر میں رکھ رہا ہے۔””خالہ جان ذمہ داری؟” سنیناں نے تڑپ کر اپنی ساس کی طرف دیکھا “کیا عزت اور سچی محبت کا نعم البدل صرف روٹی کپڑا ہوتا ہے؟ میں نے اس گھر کی اینٹوں کو اپنے خون جگر سے سینچا ہے۔ میں اس سوتن کے ساتھ ایک ہی چھت تلے گھٹ گھٹ کر نہیں جی سکتی۔ اگر طلحہ کو اپنے معیار کی عورت چاہیے تو پہلے مجھے اس بندھن سے آزاد کرے” طلحہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کی آنکھوں میں رقم اور طاقت کا گھمنڈ صاف جھلک رہا تھا۔ “تم نے مجھ سے طلاق مانگی ہے نا سنیناں؟” طلحہ نے سنجیدگی سے سنیناں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا “تمہیں لگتا ہے کہ تمھارے ان چار تولے سونے کے زیورات کے احسانوں تلے میں عمر بھر دبا رہوں گا۔۔ ۔ ۔۔۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Summary

Saneenah spends three difficult years with Talha, supporting him through poverty and even selling her jewelry to help him establish his business. But when Talha becomes wealthy, he falls for another woman and decides to marry her. Believing that her husband will reconsider when she asks for divorce, Saneenah is shattered when Talha actually divorces her.

With her two-year-old daughter, Saneenah returns to her father’s home, only to eventually feel like a burden. Determined to stand on her own feet, she takes a job at Khan Zada Enterprises. Her life takes an unexpected turn when her daughter’s sudden illness causes her to accidentally take an important office file to the hospital, leading to a confrontation with the strict and intimidating CEO, Ailyan Khan Zada.

As Saneenah struggles with betrayal, motherhood, financial hardship, and rebuilding her self-respect, Ailyan gradually becomes an important part of her life. What begins with anger and misunderstanding may slowly turn into a relationship filled with trust, healing, and unexpected love.

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *