Taqub E Ishq By Habiba Novel20781
Taqub E Ishq By Habiba Novel20781
Revenge Base Novel | Forced Marriage Base | Family Story | Romantic Urdu Novel | Complete Novel
“سر، سب انتظام ہو چکا ہے، لیکن میڈم کل پالر نہیں جا رہی، وہ گھر پر ہی تیار ہوں گی۔۔” اس کے ہاتھ میں تصویر تھی۔ سرخ نفرت بھری نگاہوں سے دیکھتا، وہ ایک ہاتھ سے سیگریٹ پی رہا تھا۔ جب اپنے ملازم کی بات سنتا، لائٹر سے اس تصویر کو جلا دیا۔۔ “کتنا چھپو گی مجھ سے۔۔ وقت آ گیا ہے ہماری ملاقات کا۔۔” گھر میں شادی کی ہلچل مچی ہوئی تھی۔ وہ ہوڈی میں کچھ سامان لیے دلہن کے کمرے میں داخل ہوا۔ راستے میں بہت لوگوں کے سوال جواب سے بچ نکلا تھا۔ “مہرین، اچھا ہوا آ گئی، میرا دوپٹہ تو اٹھاؤ، ذرا مدد کرو پہنانے میں۔۔” وہ بغیر دوپٹہ کے آئینے کے آگے جھکی بولی تھی کہ اسے محسوس ہوا کوئی بہت پاس کھڑا ہے۔ جیسے سر اٹھایا، سانس سینے میں اٹک گیا۔ “آ۔آپ یہاں۔۔” وہ شاک سی اس کے مقابل ہوئی تھی کہ اسکے منہ پر بھاری اپنا ہاتھ رکھتے ہی وہ اسے خاموش کروا چکا تھا، اور وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ “مہرو، میں تمہیں لینے آیا ہوں۔” وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتا، گھمبیر لہجے میں بولا تھا، اور مہرو کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، اتنا کہ عالیار اس کی دھڑکن کی آواز واضح سن سکتا تھا۔ کتنی ہی دیر تک تو مہرو کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہی تھی۔ “عااا۔عالیار پلیز، آپ یہاں سے جائیں، میں آپ کے ساتھ نہیں جانے والی۔” “مہرو، میں تمہیں کسی اور کا ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتا، اب بہت دیر ہو چکی ہے۔” وہ فوراً بولی تھی، “مجھے پتہ ہے تم بھی مجھ سے اتنی محبت کرتی ہو۔” وہ اس کو دیوار کے ساتھ پن کیے، اس کے دونوں سائیڈوں پر ہاتھ رکھے، اس کے فرار کے سارے راستے بند کر چکا تھا۔ “ایس۔ایسا کچھ نہیں ہے۔۔” اس کی زبان لڑکھڑائی تھی۔ “تو میری آنکھوں میں جھانک کر بتاؤ، میری آنکھوں میں دیکھ کر کہہ دو کہ تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے، خدا کی قسم ابھی یہاں سے واپس چلا جاؤں گا۔” وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتا، سنجیدگی سے بولا تھا۔ اس نے اس کی ٹھوڑی سی پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کیا تھا۔ “میں مم۔۔۔۔میں آپ سے محبت نہیں کرتی۔” “تمہاری زبان بھی تمہارا ساتھ نہیں دے رہی، مہرو۔ تم مان کیوں نہیں جاتی؟ نہیں ہے وہ شخص تمہارے قابل۔” “وہ شخص میرے قابل ہے یا نہیں ہے، یہ میرے بابا کا فیصلہ ہے۔ میں اپنے بابا کو بھرے پنڈال میں بے عزت نہیں کر سکتی، اور اگر آپ مجھے یہاں سے زبردستی لے کر جائیں گے تو میں خود کشی تو کر لوں گی، مگر میں آپ کے ساتھ کبھی بھی نہیں رہوں گی، یہ میرا اٹل فیصلہ ہے۔” “تو پھر ٹھیک ہے، میں ابھی اور اسی وقت تمہارے سامنے خود کو ختم کر دیتا ہوں، کیونکہ تمہیں میں کسی اور کا ہوتا ہوا تو نہیں دیکھ سکتا۔” تب ہی باہر سے کسی کے آنے کی آواز آئی تھی، اور مہرو اسے جلدی سے دھکا دے کر کھڑکی تک لائی تھی، اور اسے پردے کے پیچھے کر کے پردہ اچھی طرح سیٹ کیا تھا۔ مہرین اندر آئی تھی۔ اس کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ “کیا ہوا؟” “وہ باہر تمہارے دلہے کو کیا ہوا؟ وہ گر کر بے ہوش ہو گیا ہے۔” اور مہرو نے پردے کے پیچھے چھپے ہوئے اس شخص کی طرف دیکھا تھا۔ “یہ ضرور اس کی کارستانی ہو گی۔” مہرو نے دل میں سوچا تھا۔ “اسے کیا ہوا؟؟؟؟” اس نے پانی پیا، اور اچانک وہ گر کر بے ہوش ہو گیا۔ “تو کیا ہو گیا اگر بے ہوش ہو گیا ہے تو؟ کون سی قیامت آ گئی؟ مر تو نہیں گیا۔” مہرو غصے میں چلائی تھی۔ “تم کیسی باتیں کر رہی ہو؟ اچھا اچھا، بولو، وہ تمہارا ہونے والا شوہر ہے۔” “شوہر ہے تو کیا کروں؟ سر پر بٹھا لوں؟ تمہارا دماغ خراب ہو گیا، مہرو۔” اس کی کزن مہرین کو اس پر غصہ آیا تھا۔ “اوپر سے وہ تمہاری ساس اور کچھ اور سسرالی عورتیں بہت اول فول بک رہی تھیں۔” “کیا بک رہی تھیں؟؟” وہ حیران ہوئی تھی۔ “وہ کہہ رہی تھیں دلہن منحوس ہے، اور اس طرح کی بہت ساری باتیں۔” منہ پھٹ کنزا نے اسے ایک ایک بات بتا دی تھی۔ “تو چلو ٹھیک ہے، ان سے کہو دلہن واقعی ہی منحوس ہے، وہ اپنے دولہے کو لے کر نکلیں یہاں سے، مجھے نہیں شادی کرنی ان جاہلوں میں۔” تب ہی پیچھے سے حرا اور ثمرا آئی تھیں۔ “ارے مہرین، تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” وہ جانتی تھیں اس کی عادت کو، اس کے پیٹ میں ایک بات بھی نہیں ٹکتی تھی۔ “موٹے عقل کی، تمہیں کس نے کہا یہاں آنے کو؟” “اپی، میں مہرو کو بتا رہی تھی اس کا دولہا بے ہوش ہو گیا ہے۔” “تمہیں ہم نے کہا تھا یہاں آنے کو؟ چلو، نکلو یہاں سے۔” “اپی، مجھے مہرین نے سب بتا دیا ہے۔” “اوہ ہو، مہرو کی باتوں میں آ رہی ہو؟ پتہ تو ہے وہ پاگل ہے۔۔۔۔” تھوڑی دیر بعد ہی مہرو کی چچی اور ماں بھی پیچھے آ گئی تھیں، اور مہرو کو لگ رہا تھا جیسے آج اس کا اس گھر میں نہیں، اس دنیا میں آخری دن ہے۔ رش تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا، اور وہ شخص تھا کہ ابھی تک پردے کے پیچھے موجود تھا۔ گھبراہٹ میں مہرو کی حالت خراب ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕