Phir Mohabbat Karne Chala By Amna Shohaib Novel20782

 Emergency Nikah | Romantic Urdu  Novel | Complete Novel | Family Drama | Love Destiny

” میں جب مرضی شادی کروں تم مجھے روک نہیں سکو گی آرام سے اس پیپر پر سائن کرو۔۔۔” ارشمان نے دلہن بنی رائمہ کے سامنے پیچ پھینکا وہ ارشمان سے دس سال بڑی تھی ارشمان کے بڑے بھائی نے شادی والے دن کسی اور لڑکی سے شادی کر لی اور خاندان کی عزت بچانے کے لیے رائمہ کی شادی دس سال چھوٹے ارشمان سے کروا دی مگر جیسے ہی اپنے سائن کیئے ارشمان نے ہنستے ہوئے وہ دیکھا اور لائٹ بند کر دی بیوی کا درجہ دے کر چار بجے اسے چھوڑا صبح شور سے اسکی آنکھ کھلی جیسے ہی نیچے گئی تو ارشمان بھی اپنے پہلو میں ایک نئی دلہن لیے کھڑا۔۔۔۔
رائمہ سرخ بھاری عروسی جوڑے میں ملبوس، آئینے کے سامنے بیٹھی اپنی قسمت پر نازاں تھی۔ اس کے چہرے پر حیا اور ہونٹوں پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ تھی، لیکن یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ اچانک کمرے کا دروازہ زور سے کھلا اور اس کی سہیلی ہانپتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ “رائمہ! غضب ہو گیا، بہت بڑا تماشہ بن گیا ہے باہر”رائمہ نے گھبرا کر اپنے دوپٹے کو سنبھالا اور پوچھا، “کیا ہوا ہے صبا؟ تم اتنی پریشان کیوں ہو؟ دانیال آگئے ہیں کیا؟ ” صبا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روتے ہوئے کہا۔ “دانیال نہیں آئے گار ائمہ، وہ تو بارات لانے کے بجائے اپنی کسی یونیورسٹی کی کلاس فیلو کے ساتھ بھاگ گیا ہے اور ان دونوں نے نکاح بھی کر لیا ہے۔ ابھی ابھی دانیال کے ابا کا فون آیا ہے۔” یہ سنتے ہی رائمہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔
اس کے ہاتھ یکدم ٹھنڈے ہو گئے اور وہ سکتے کی حالت میں وہیں بیٹھ گئی۔ اسی دوران باہر صحن سے رائمہ کی ماں کے رونے اور چیخنے کی آوازیں آنے لگیں، جو سینہ پیٹ کر کہہ رہی تھیں، “ہائے مٹی میں مل گئی میری عزت! میں برباد ہو گئی، اب لوگ کیا کہیں گے؟ میری بیٹی کا کیا قصور تھا؟ “رائمہ کے والد صدمے سے سر پکڑ کر صوفے پر بیٹھ گئے اور بولے، ” میں اب کس منہ سے برادری کا سامنا کروں گا؟ دانیال کے باپ نے میری سالوں کی دوستی اور عزت کا ذرا بھی پاس نہیں رکھا، میری بچی کو کہیں کا نہیں چھوڑا ” پورا گھر جو کچھ دیر پہلے خوشیوں سے گونج رہا تھا، اب ماتم کدہ بن چکا تھا اور رائمہ اپنے عروسی لباس کو دیکھ کر خاموشی سے آنسو بہا رہی تھی۔
باہر ہال میں دونوں خاندانوں کے لوگ جمع تھے اور ہر طرف ایک کہرام مچا ہوا تھا۔ رائمہ کی ماں نے دانیال کے والد کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے اور روتے ہوئے کہنے لگیں، “خدا کے لیے کچھ کریں بھائی صاحب! میری بیٹی کی ڈولی اس گھر سے نہ اٹھی تو ہم کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے، لوگ تو میری معصوم بچی پر ہی انگلیاں اٹھائیں گے۔” رائمہ کے والد نے بھی دل گرفتہ آواز میں کہا، “ہماری تو عزت ہی مٹی میں مل گئی، آپ کا بیٹا تو بھاگ گیا پر میری بیٹی کا مستقبل تو تباہ ہو گیا۔ ” دانیال کے والد شرمندگی سے جھکے جارہے تھے، انہوں نے غصے اور بے بسی میں اپنے چھوٹے بیٹے ارشمان کا ہاتھ پکڑا اور اسے سب کے سامنے کھینچتے ہوئے لائے۔
” ابا! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ میرا اس سب سے کیا لینا دینا؟ “ارشمان نے حیرت اور خفگی سے اپنے ہاتھ کو چھڑانے کی کوشش کی۔ اس کے والد نے اس کے شانے مضبوطی سے دبوچے اور پاگلوں کی طرح بولے، ” تمہیں یہ شادی کرنی ہو گی ارشمان! اپنے بھائی کے گناہوں کا کفارہ تمہیں ادا کرنا ہو گا، میں اس خاندان کی عزت کو یوں بازار میں نیلام ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ “ارشمان نےپیچھے بٹتے ہوئے کہا، “آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے ابا؟ رائمہ مجھ سے دس سال بڑی ہے، میں اس سے کیسے شادی کر سکتا ہوں؟ میرا اس کا کوئی جوڑ ہی نہیں ہے۔” دانیال کے والد نے غصے سے اس کے منہ پر تھپڑ مارا اور بولے
“اگر تم نے انکار کیا تو تم میرا مرا ہوا منہ دیکھو گے، تمہیں برادری کی خاطر اور میری پگڑی کی لاج رکھنے کے لیے رائمہ سے ابھی اور اسی وقت نکاح کرنا ہوگا۔ ” ارشمان اپنے والد کی ضد اور خاندانی دباؤ کے سامنے بے بس ہو کر رہ گیا اور اس کی مٹھیاں غصے سے بھینچ گئیں۔ مولوی صاحب نے جب نکاح نامہ آگے بڑھایا تو ارشمان کا پورا وجود غصے سے تپ رہا تھا، اس نے پاس پڑے قلم کو اتنی زور سے پکڑا کہ اس کی انگلیاں سفید پڑ گئیں۔” سائن کرو ارشمان! اب سب کی نظریں تم پر ہیں۔۔” اس کے والد نے دبی ماری آواز میں اسے گھورا۔
ارشمان نے ایک گہرا سانس لیا، اپنی بے بسی پر دانت چبا کر کاغذ پر دستخط کیے اور بولا، ” میں صرف آپ کی سفید داڑھی کا بھرم رکھ رہا ہوں ابا پر اس زبر دستی کے رشتے کو میں کبھی دل سے نہیں مانوں گا۔ ” مولوی صاحب نے جیسے ہی ایجاب و قبول کے الفاظ دہرائے، ارشمان نے انتہائی سرد اور دھیمی آواز میں تین بار قبول ہے کہدیا، جس میں کسی خوشی کے بجائے صرف ایک سلگتا ہو ا غصہ تھا۔
دوسری طرف رائمہ کمرے میں صدمے سے بےحال بیٹھی تھی، اس کی آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور وہ اکھڑی اکھڑی سانسوں کے ساتھ بس سامنے دیوار کو تکے جارہی تھی۔ جب عورتیں نکاح نامہ لے کر اس کے پاس آئیں اور اس کی ماں نے روتے ہوئے اس کے شانے کو ہلایا، “رائمہ بچی! سائن کر دے، ہماری لاج رہ جائے گی، ” تو رائمہ نے بنا کچھ کہے، بالکل ایک بے جان مورت کی طرح کا غذ پر دستخط کر دیے۔ کسی دھوم دھام یا شہنائیوں کے بغیر ، انتہائی سادگی سے یہ شرعی نکاح مکمل ہو گیا، اور مبارکباد دینے کے بجائے وہاں موجود ہر شخص کی زبان پر صرف ایک افسوس ناک خاموشی چھا گئی۔۔۔
رائمہ سہمے ہوئے قدموں سے ارشمان کے کمرے میں داخل ہوئی اور دروازے کے پاس ہی رک گئی۔ ارشمان نے رخ موڑ کر اسے دیکھا تو اس کے لبوں پر ایک تلخ اور طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے میز پر رکھا ہوا ایک سفید کاغذ اٹھایا اور رائمہ کے سامنے بیڈ پر پھینک دیا۔ ” یہ کیا ہے؟” رائمہ نے دھیمی آواز میں پوچھا۔ ارشمان نے سر لہجے میں کہا، ” یہ ایک معاہدہ ہے، تمہاری اوقات کا فیصلہ۔۔ اس پر صاف لکھا ہے کہ میں جب مرضی دوسری شادی کروں، تم مجھے روک نہیں سکو گی اور نہ کوئی اعتراض کرو گی” رائمہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے، اس نے تڑپ کر کہا ” نکاح کے پہلے ہی دن ایسا معاہدہ؟ ” ارشمان نے طنز سے جواب دیا۔۔۔
” ہاں! کیونکہ یہ شادی میری مرضی سے نہیں ہوئی۔ چپ چاپ اس پر سائن کردو اگر اس گھر میں رہنا چاہتی ہو تو ۔ ” ارشمان نے کاغذ پر انگلی مارتے ہوئے سخت لہجے میں دہرایا، ” میں جب مرضی شادی کروں تم مجھے روک نہیں سکو گی، آرام سے اس پیپر پر سائن کرو۔ ” رائمہ نے بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا، اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔ ” تم اتنے بے رحم کیسے ہو سکتے ہو ارشمان؟ میں تمہارے بھائی کی چھوڑی ہوئی عزت بچانے یہاں آئی ہوں” رائمہ کی آواز رندھ گئی۔ ارشمان نے بے رخی سے کہا
” مجھے بحث بالکل نہیں پسند، بس سائن کرو اور یہ ڈرامہ ختم کرو” رائمہ نے ایک گہرا سانس لیا، میز پر پڑا چ
پین اٹھایا اور اپنے کانپتے ہاتھوں سے اس کاغذ پر دستخط کر دیے۔ دستخط کرتے ہی پین اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور اس کا ایک گرم آنسو سیدھا اس پیپر پر جا گرا۔ ارشمان نے وہ سائن شدہ پیپر اٹھایا اور اطمینان سے دیکھا۔ اب تم شرعی اور قانونی طور پر مکمل میری گرفت میں ہو رائمہ! ” اس نے تضحیک آمیز لہجے میں کہا۔ رائمہ نے چونک کر اسے دیکھا
“تمہارا کیا مطلب ہے ارشمان؟ ” ارشمان نے کوئی جواب نہیں دیا، بس آگے بڑھ کر کمرے کی لائٹ بند کر دی۔ اندھیرے میں رائمہ کا دل بری طرح دھڑکا۔ “ارشمان! یہ کیا کر رہے ہو؟ لائٹ کیوں بند کی؟ ” رائمہ نے گھبرا کر پوچھا۔ ارشمان نے اندھیرے میں اس کے قریب آتے ہوئے سرد آواز میں کہا، نہیں تمہارا حق دینے لگا ہوں، تاکہ کل کو تم یا تمہارا خاندان اس نکاح سے مکر نہ سکے”رائمہ کے آنسوؤں اور خاموش التجائوں کے باوجود ارشمان نے اسے بیوی کا درجہ دیا تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے اس کے بندھن میں جکڑی رہے۔
صبح کے ٹھیک چار بجے ارشمان بیڈ سے اٹھا، اپنے کپڑے درست کیسے اور رائمہ کی طرف دیکھے بغیر بولا، ” میرا کام ہو گیا۔ اب تم یہاں اکیلی رہو”رائمہ کو اسی حال میں نڈھال چھوڑ کر وہ کمرے کا دروازہ بند کر کے باہر نکل گیا۔ صبح کی پہلی کرن کمرے میں پھیلی تو رائمہ کی آنکھ کھلی، اس کا پورا وجود رات کی تھکن اور ذہنی صدمے سے چور چور ہو رہا تھا۔ ابھی وہ بستر پر سیدھی ہو کر خود کو سنبھالنے کی کوشش ہی کر رہی تھی کہ اچانک نیچے صحن سے آنے والے شدید شور اور عورتوں کی اونچی آوازوں نے اسے بری طرح چونکا دیا۔۔۔
“ارے! یہ اتنی صبح صبح گھر میں کیسا تماشہ لگا ہے؟” رائمہ نے بد حواسی میں اپنے بکھرے بال سمیٹتے ہوئے خود سے کہا۔ باہر سے چچی اور تائی کی حیرت زدہ آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں، توبہ توبہ! یہ لڑکا تو بالکل پاگل ہو گیا ہے، کل رات ہی تو اس کا نکاح ہوا تھا اور آج صبح یہ کیا نئی آفت لے آیا ہے! ” ان باتوں کو سن کر رائمہ کا دل کسی بڑی ان ہونی کے خوف سے زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے بستر سے اٹھ کر اپنا دوپٹہ درست کیا اور تیز قدموں سےکمرے کے دروازے کی طرف بڑھی تاکہ نیچے جاکر دیکھ سگے کہ آخر باہر کیا ماجرا ہے؟؟
رائمہ بدحواسی میں سیٹرھیاں اتر کر نیچے پہنچی تو صحن میں موجود سب لوگ اسے دیکھ کر یکدم خاموش ہو گئے، لیکن سامنے کھڑے ارشمان پر نظر پڑتے ہی رائمہ کا دل جیسے رک گیا۔ ارشمان ایک دوسری لڑکی کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا جو زرق برق لباس میں دلہن بنی ہوئی تھی۔ ارشمان نے رائمہ کے چہرے پر پھیلی زردی کو دیکھا اور بلند آواز میں سب سے کہا، “امی ، ابا! سب سن لیں، یہ علینہ ہے، میری پسند اور میری نئی دلہن، میں آج صبح ہی اس سے نکاح کر کے آرہا ہوں۔ م” رائمہ نے صدمے سے کانپتے ہوئے علینہ کو دیکھاجو ایک مغرور مسکراہٹ لیے ارشمان کے پہلو میں کھڑی تھی۔۔۔
“ارشمان! یہ تم کیا کر کے آئے ہو؟ ابھی تو چند گھنٹے پہلے ہماری۔۔۔ ” رائمہ کی زبان نے آگے ساتھ نہ دیا اور وہ سہم کر دیوار سے جالگی۔ ارشمان نے لا پروائی سے شانے اچکائے اور بولا، ” معاہدہ یاد ہے نا رائمہ؟ میں نے رات ہی کہہ دیا تھا کہ تم مجھے روک نہیں سکو گی، اس لیے اب تماشہ مت بناؤ ” تمہاری یہ ہمت ار شمان! کل رات ایک معصوم لڑکی کی زندگی تباہ کی اور آج صبح یہ تماشہ لے آئے؟ ” ارشمان کے ابا نے غصے سے تپتے ہوئے چہرے کے ساتھ دھاڑ کر کہا۔
ارشمان کی امی بھی روتے ہوئے بولیں۔۔ ” ہم کس منہ سے رائمہ کے ماں باپ کا سامناکریں گے؟ تو نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا ” ارشمان کے ابا کا غصہ اس حد تک بڑھ گیا کہ انہوں نے آگے بڑھ کر ہاتھ اٹھایا اور ارشمان کے منہ پر زور دار تھپڑ مار دیا۔ ارشمان نے اپنا گال سہلایا، لیکن اس کے چہرے پر کوئی شرمندگی نہیں تھی، اس نے فورا اپنی جیب سے وہ سائن شدہ کاغذ نکال کر اپنے ابا کے سامنے لہرایا۔ “ر کیے ابا! مجھ پر غصہ کرنے سے پہلے اپنی اس لاڈلی بہو کا یہ کارنامہ دیکھ لیں” ارشمان نے طنزیہ لہجے میں کہا۔ ارشمان کے ابا نے چونک کر وہ کاغذ جھپٹ لیا اور جب اس پر رائمہ کے صاف دستخط دیکھے تو ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ ارشمان نے پورے صحن میں کھڑے لوگوں کو دیکھا اور بلند آواز میں کہا۔۔۔۔۔۔۔

 

 

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

 

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *