Ishq Di Chashni By Maham Hameed Novel 20773

Halala Marriage | Dark Romance | Obsessive Hero | Emotional Trauma | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel

Ishq Di Chashni By Maham Hameed Complete Urdu Novel Cover

Read Ishq Di Chashni By Maham Hameed Complete Urdu Novel Online

” دیکھو میری بات سنو میں تمہیں کمرے میں صرف ایک گھنٹے کے لئے بھیج رہا ہوں میں نہیں چاہتا کہ تم میری بیوی کو ایک بار سے زیادہ استعمال کرو۔۔۔” ارسلان اپنی بیوی کو غصے میں طلاق دے چکا تھا اور اب حلالے کے لئے اپنے دوست آریان سے رانیہ کا نکاح کر چکا تھا جیسے ہی آریان کمرے میں آیا تو گلچاتی نظروں سے رانیہ کو دیکھنے لگا جو اسکی ایک رات کی دلہن تھی۔ “پپ پلیز مجھے چھونا مت۔” رانیہ سسکی مگر عورت کے وجود کو ترسا آریان کہاں رحم کرنے والا تھا وہ رانیہ پر شدتیں لٹانے لگا باہر کھڑا ارسلان کمرے سے آوازیں سن کر برداشت نا کر سکا جیسے ہی دروازہ کھولا سامنے۔۔
” عدت کب ختم ہو گی اسکی۔۔۔ ” آریان نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا تھا۔ ارسلان نے کہا ” چند دن بعد لیکن یہ کام بڑی رازداری سے ہونا چاہیے کسی کو بھی پتہ نا لگے۔” ارسلان نے آہستگی سے کہا۔ آریان نے سامنے رکھا چیک اٹھایا کہنے لگا “ہو جائے گا۔”ارسلان نے کہا کہ ” اگلے ہفتے کو میرے گھر پر بارہ بجے پہنچ جانا۔” آریان نے کہا ” اچھا سیٹھ آجاؤں گا۔” اگلے روز اس نے چیک کیش کرایا اور اپنے دوست کو بڑے ہوٹل میں کھانے کی دعوت دی۔ اس کا دوست فرحان سامنے بیٹھا بڑی حیرت سے بھرا ہوا ٹیبل دیکھ رہا تھا اور آریان کھانے میں مصروف تھا۔ ” کیا بات ہے اس بار لگتا ہے بڑا ہاتھ مارا ہے۔” وہ کہنے لگا ” ہاں بہت بڑا ہاتھ مارا ہے سمجھ لے کہ میری قسمت کا ستارہ جاگ اٹھا اب تو میرا سونا ہی سونا ہے۔” فرحان کہنے لگا
” ایسا بھی کون سا کام مل گیا ہے جو تمہارا سونا ہی سونا ہے۔” وہ کہنے لگا ” تو نہیں سمجھے گا بس میں نے سونا ہی تو ہے سونے کا مجھےسونا مل جائے گا۔” آریان کی معنی خیز بات فرحان کے سر کے اوپر سے گزری تھی۔ کہنے لگا ” ایسے کام تم ہی جانو۔” اریان کہنے لگا ” اس لیے تو کہہ رہا ہوں کہ آم کھاؤ پیڑ مت گنو۔” ایک ہفتے بعد آریان ارسلان کے گھر پر تھا۔ گھر میں بے حد خاموشی تھی لگ رہا تھا جیسے موت جیسا سناٹا چھایا ہوا ہے۔
آریان کو ارسلان ایک ڈرائنگ روم میں لے گیا جہاں ایک مولانا صاحب تھے چند مرد موجود تھے۔ وہ کہنے لگا ” باقی کے پیسے تمہیں صبح صبح مل جائیں گے۔” آریان کہنے لگا ” کوئی بات نہیں سیٹھ۔۔” آریان جا کر مولانا صاحب کے ساتھ بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد ہی ارسلان ایک کمرے سے باہر آیا ہاتھ میں نکاح نامہ تھا۔ مولانا صاحب بھی اس کے ساتھ کئے تھے اور پھر ایجاب و قبول آریان نے کیا تھا۔ آہستہ آہستہ وہ سب لوگ جا چکے تھے۔ ایک ایک کو ارسلان نے پیسے دیے تھے اور یہی کہا تھا کہ بات مٹھی میں رہے۔
سب کے جانے کے بعد ارسلان اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ رات کا ایک بج رہا تھا آریان جمائیاں لے رہا تھا۔ کہنے لگا۔۔۔” اب بتا کہ کیا کرنا ہے کمرے میں جاؤں یا پھر ۔۔۔۔” یہ سن کر ارسلان نے قہر بھری نظروں سے اسے دیکھا تھا۔ اچانک کس جذبے کے تحت آنکھیں سرخ ہوئی تھیں۔ آریان کچھ گھبرایا تھا پھر اپنی نظریں چڑا گیا۔ ارسلان کہنے لگا ” آسان نہیں ہوتا اپنی بیوی کے کمرے میں کسی اور کو بھیجنا میں اس وقت کس اذیت سے گزر رہا ہوں تمہیں اندازہ نہیں ہے۔” ارسلان کی بات سن کر آریان اس وقت من ہی من میں مسکرایا تھا۔ اسے نیند نہیں آرہی تھی بس کمرے میں جانے کی جلدی تھی۔
وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اس امیر زادے کی بیوی دیکھنے میں کیسی تھی یقیناً خوبصورت ہی ہوگی۔ ایسے امیر لوگ عام شکل و صورت والی لڑکیوں سے شادی تھوڑی کرتے ہیں۔ دل اندر سے مچل رہا تھا جذبات عروج پر تھے لیکن کمبخت ارسلان ابھی تک چپ بیٹھا تھا۔ بیچارا آج کی رات تو باہر بیٹھا سوگ منائے گا ساری رات جاگ کر یہ سوچے گا کہ آج کی رات اسکی بیوی کے ساتھ کیا کیا کروں گا۔ دل میں گد گدانے والے خیالات نے اسے مسکرانے پر مجبور کیا تھا۔ وہ یہی سوچ رہا تھا کہ کب ارسلان ہمت کر کے کہے کہ وہ رہا میری بیوی کا کمرہ لیکن ارسلان نے ابھی تک کچھ نہیں کہا تھا۔
وہ اپنا سر پکڑے بیٹھا تھا۔ آریان کہنے لگا “سیٹھ اگر تو نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا تو میں یہی صوفے پر سو جاؤں اللہ قسم بڑی گہری نیند آ رہی ہے۔” ارسلان نے دوبارہ اسے کینه توز نظروں سے دیکھا۔ پھر کہنے لگا “دیکھو میری بات سنو میں تمہیں کمرے میں اس لیے نہیں بھیج رہا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ تم میری بیوی کو ایک بار سے زیادہ استعمال کرو۔ تمہیں کمرے میں دیر سے بھیجنے کا مقصد بس یہی ہے۔ میں بھی یہیں بیٹھا ہوں اور تم بھی یہیں بیٹھے رہو گے۔ چار بجے تم کمرے میں جاؤ گے پانچ بجے باہر آجاؤ گے۔ آتے ہوئے اسے طلاق دے کر باہر آؤ گے۔” یہ سن کر آریان کہنے لگا۔۔
“سیٹھ میرے پاس اتنا بھی فالتو کا وقت نہیں ہے مجھے پہلے ہی بہت سخت نیند آ رہی ہے اور میں اپنا کام بہت ایمانداری سے کرتا ہوں۔ اگر ایک بار میں یہاں سو گیا تو تیری آج کی رات برباد جائے گی۔ میں اگر ایک بار سو جاؤں تو پھر مجھے کوئی جگا نہیں سکتا۔” آریان نے جمائی لے کے کہا تھا۔ ارسلان نے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ” جلدی کمرے سے باہر آنا اور میری بیوی کو زیادہ تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔” آریان کے چہرے پر خباثت بھری مسکراہٹ چھائی تھی۔کہنے لگا کہ ” سیٹھ اگر تو کہتا ہے تو ہاتھ بھی نہیں لگاتا تیری بیوی کو۔۔” ارسلان کہنے لگا ” زیادہ بک بک مت کرو جو کہا ہے بس وہ کرو۔” آریان گہری سانس بھرکے اٹھا اور کمرے کے اندر چلا گیا۔ دروازہ پاؤں سے بند کیا۔
بیڈ پر ایک نازک سا وجود سیکیوں سے ہچکیوں سے رہا تھا۔ نا تو اس لڑکی نے فینسی لباس پہنا تھا اور نا زیورات۔ آریان کی ایک دن کی دلہن تمام زیبائشوں سے عاری تھی میاں کی سے عاری تھی۔ وہ بلکل سادہ سے دوپٹے سے اپنا چہرہ گھونگھٹ سے چھپائے روئے جا رہی تھی سسکیوں سے ہچکیوں سے۔ آریان بڑی بے نیازی سے چلتا ہوا اس لڑکی کے سامنے جیسے ہی بیٹھا تو وہ بدک کر پیچھے ہٹی تھی۔ لڑکی کے سفید دودھیا ہاتھ دیکھ کر آریان کی بے تابی بڑھی تھی۔
وہ کچھ کھسک کر لڑکی کے قریب ہوا۔ وہ اور پیچھے ہٹی تھی۔ آریان نے ایک گہری سانس لی کہنے لگا ” دیکھو لڑکی ایسا کرو گی تو کیسے چلے گا۔ تمہارے سابقہ شوہر نے بس ایک گھنٹے کی اجازت دی ہے اور ایک گھنٹہ اگر میرا تمہارے قریب آنا اور تمہارا مجھ سے دور جانا یہی کرتے رہے تو کیسے ہو گا حلالہ۔ جان من میں نے نکاح کیا ہے تم سے تمہارا ایک رات کا شوہر ہوں۔ مجھے اچھا رسپانس دو یوں دور بھاگوں گی تو مجھے تھوڑی زبردستی کرنی پڑے گی اور باہر بیٹھا تمہارا شوہر مجھے سے کہتا ہے کہ میں تمہیں زیادہ سخت ہاتھ نا لگاؤں۔” گھونگھٹ میں بیٹھی رانیہ کا دل چاہا کمرہ کھولے اور
یہاں سے بھاگ جائے اتنی دور کے اسے کوئی دیکھ نا سکے۔
غلطی مرد کرے اور حلالہ کے نام پر رات بھر کی اذیت عورت کیوں بھرے۔ وہ ابھی یہی سوچ رہی تھی جب آریان نے اس کا گھونگھٹ الٹ دیا تھا اور اسے دیکھا تو آنکھیں جھپکنا بھول گیا تھا۔ رو رو کے آنکھوں کے ڈورے گلابی، ناک گلابی اور ہونٹ گلاب کی پنکویوں جیسے لگ رہے تھے۔ سادگی میں بھی وہ لڑکی قیامت ڈھا رہی تھی۔ کچھ پل کو آریان کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا اتنی حسین لڑکی کیاا س دنیا میں ہو سکتی ہے؟؟؟
اگر ارسلان باہر سر پکڑے بیٹھا تھا تو بالکل ٹھیک بیٹھا تھا۔ جس پریشانی میں وہ مبتلا تھا آریان اب سمجھ گیا تھا۔ وہ کیوں کہہ رہا تھا کہ دیر سے کمرے میں جاؤ اور اس کی بیوی کے ساتھ بس ایک بار ہی رشتہ قائم کرنا اس سے زیادہ نہیں کیونکہ جتنی وہ حسین تھی رات بھر بھی آریان اس پر پیار نچھاور کرتا کم تھا۔۔۔
وہ کہنے لگا ” اتنی حسین لڑکی کو کون بیوقوف طلاق دے سکتا ہے میں اگر تمہارے شوہر کی جگہ ہوتا تو مر کر بھی تمہیں طلاق نہ دیتا۔ عجیب وبےقوف شخص ہے ارے ایسی خوبصورت لڑکی کے ساتھ ہر رات گلزار بنانے کو دل
چاہتا ہے اسے چھوڑا نہیں جاتا۔ ویسے برا مت منانا تمہارا شوہر ایک نمبر کا احمق انسان ہے۔” رانیہ اس کی بات سن کر گھبرائی تھی۔ اس کی آنکھوں میں وارفتگی دیکھ کر دل بے چین ہوا تھا لیکن تب تک آریان اس کا ہاتھ پکڑ چکا تھا۔
رانیہ نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی لیکن آریان ہاتھ اور بھی زیادہ مضبوطی سے پکڑ چکا تھا۔ ” میرا ہاتھ چھوڑو۔ ہاتھ ہے یا کوئی ریشمی رومال تم جیسی لڑکی کو چھوڑنے کا دل کس کمبخت کا چاہے گا ۔۔۔” یہ کہہ کر وہ رانیہ کو جھٹکے سے اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔ وہ بے ساختہ اس کے قریب ہوئی تھی لیکن اگلے ہی لمحے فوراً سے سنبھل کر پیچھے ہٹنے کی کوشش کی تھی مگر کوشش ناکام ہوئی تھی۔ رانیہ کے چہرے پر جھولتی لٹ کو آریان نے اپنی شہادت کی انگلی سے پیچھے کیا۔
اس کے حسین روپ کو دیکھ کر کہنے لگا ” تمہیں تو سجنے سنورنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ تمہیں اپنی خوبصورتی کا اندازہ نہیں ہے تم ماسٹر پیس ہو لڑکی اس لیے بہت مشکل ہے آج تم سے دور رہنا۔” رانیہ کے چہرے پر چھائی بد حواسی دیکھ کر مزید بے خود ہوا تھا۔ ” ایک بار سے تسلی نہیں ہو گی۔۔۔” رانیہ کے کان کے پاس وہ بڑے مخمور لہجے میں کہہ رہا تھا۔
” تمہیں دیکھ کر میری نیند اڑ کے رہ گئی ہے اور نیند میں تمہاری بھی اڑا کے رکھ دوں گا۔” وہ ہچکچاتے ہوئے کہنے لگی ” پیچھے رہو مجھ سے مجھے ہاتھ مت لگاؤ۔” بمشکل ہی صحیح لیکن اپنا ہاتھ وہ اس سے چھڑوا چکی تھی۔ وہ کہنے لگا ” ارے ایسے کیسے ہاتھ نہ لگاؤں میں تو تمہیں دیکھ کر پاگل ہو رہا ہوں۔ یہ رات مجھے چھوٹی لگ رہی ہے اس لیے تمہارے نخرے نہیں دیکھوں گا۔” رانیہ اس کی باتیں سن کر اس کے ارادے جان کر رونے لگی۔ وہ کہنے لگی ” میں ۔۔۔ میں۔ تمہارے ساتھ۔ ۔۔۔۔” اس سے پہلے وہ کچھ اور کہتی وہ اس کے منہ پر ہاتھ رکھ چکا تھا۔
” مجھے اور کچھ نہیں سننا۔۔” کمرے کا واحد لیمپ وہ بجھا چکا تھا۔ پھر مکمل طور پر رانیہ پر حاوی ہونے لگا تھا۔ وہ بے حد نروس تھی رو بھی رہی تھی ہاتھ آریان کے سینے پر رکھ کر فاصلہ برقرار رکھنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی مگر وہ اس میں کھونے لگا تھا۔ اپنے ہونٹوں کا لمس رانیہ کے چہرے پف دینے لگا مگر اس کے بہتے آنسو
محسوس کر کر کے ایک لمحے کے لیے ٹھٹکا لیکن پھر بے نیازی دیکھاتے ہوئے کبھی وہ اس کے نازک پنکھڑیوں جسے ہونٹوں پر اپنے لب رکھتا تو کبھی اس کے بہتے آنسوؤں کو اپنے لبوں سے صاف کرتا۔
اس پری وش کے نازک وجود کو سمیٹنے لگا تھا۔ اس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ جماتا ہوا اس پر مکمل طور پر حاوی ہو چکا تھا۔ پہلی بار کسی لڑکی کے ساتھ وقت گزار رہا تھا اس لیے ہوس سے انجان تھا بس پیار کر رہا ہے۔ اپنے پہلو میں رانیہ کے دل کی دھڑکنیں کسی ساز کی طرح سے بجتی ہوئی محسوس ہو رہیں تھیں۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا آریان کی شدتیں بڑھنے لگیں تھیں بس نہیں چل رہا تھا کہ رانیہ کو اپنے اندر بسا لے یا خود اس کے اندر بس جائے۔
رانیہ نے بڑی مشکل سے یہ رشتہ قائم کیا تھا پھر اپنا آپ چھپانے کی خاطر خود پر بیڈ کی چادر لپیٹ چکی تھی مگر آریان کی آنکھوں کی وارفتگی میں کمی نہیں آئی تھی۔ بیڈ سے اٹھنے لگی تو آریان نے اسکی کلائی پکڑ کر اسے کھینچ کر خود پر گرایا تھا۔۔۔۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

 

SEO Description (700–900 words)

Ishq Di Chashni By Maham Hameed is a compelling Urdu dark romance that explores the painful consequences of anger, divorce, halala marriage, obsession, and unconditional love. The novel revolves around Rania, whose peaceful married life is shattered after an impulsive decision changes everything. What follows is a heartbreaking journey filled with emotional pain, difficult choices, betrayal, sacrifice, and unexpected relationships.

The story presents powerful emotions through realistic characters and intense situations. Every chapter reveals new twists that keep readers emotionally invested while highlighting the psychological impact of toxic relationships, forced decisions, and family pressure. The heroine’s struggle for dignity and survival makes the novel deeply moving, while the hero’s complicated personality adds suspense and unpredictability to the storyline.

Maham Hameed has written this novel in an engaging style that combines romance, family drama, suspense, and emotional depth. Readers who enjoy obsessive heroes, dark romance, emotional conflicts, and relationship-based stories will find this novel highly engaging. The balance between romance and psychological tension makes Ishq Di Chashni stand out among contemporary Urdu novels.

If you enjoy Urdu novels featuring emotional storytelling, forced circumstances, family conflicts, possessive heroes, heartbreak, and unexpected plot twists, this novel deserves a place on your reading list. Every episode builds curiosity and encourages readers to continue until the very end.

Read Ishq Di Chashni By Maham Hameed online on Novelistan and experience a story filled with love, regret, sacrifice, obsession, and unforgettable emotional moments.

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *