Ishq Hai Aatish By Naina Khan Novel20771
Ishq Hai Aatish By Naina Khan Novel20771
Toxic Romance | Second Chance Romance | Emotional Trauma | Obsessive Love | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel

” کیا چاہتی ہو؟ کیوں میرا امتحان لے رہی ہو؟ محبت دے رہی ہوں۔۔۔۔” وہ پیار سے اس کے رخصار پر انگلیاں پھیرنے لگی۔ “یہی چاہتے تھے نا تم جب شراب پی کر گاڑی میں مجھے نوچ گھسیٹ رہے تھے! آج میں خود وہ تمہیں سونپ رہی ہوں تو گھبرا کیوں رہے ہو؟” ” ماہین معاف کردو پلیز۔۔۔۔۔” ” شش اس وقت مجھے تمہاری ضرورت ہے، مجھے الجھاؤ مت، میں تم میں الجھنا چاہتی ہوں۔” وہ روز بڑے حق سے اپنا حق وصول کرتی تھی ارمان سے۔ لیکن اسے معاف نہیں کرتی تھی۔ ” تم چاہتے تھے نا میں تمہیں معاف کر دوں؟ لیکن میں نہیں کر سکتی معاف۔ ان دونوں گلاس میں زہر ہے۔ ہم مل کر پیتے ہیں۔ کیونکہ میں تمہیں معاف نہیں کر سکتی اور تمہارے بنا میں جی بھی نہیں سکتی۔ اس لیے ساتھ مرتے ہیں۔۔۔۔”
” کدھر ہے وہ؟ ” ” اندر ہی ہے۔۔” ارہم ایک طرف ہوگیا تھا۔ ماہین اور لائبہ کمرے میں داخل ہوئے تھے۔ وہ نشے میں دھت، اوندھے منہ بستر پر پڑا تھا۔ ماہین نے گہرا سانس لیا، “کب آیا ہے یہ واپس؟” ” کچھ گھنٹے پہلے، تب اس کی حالت اور بری تھی، مگر میں نہیں چاہتا تھا کہ تم اس کو اس حالت میں دیکھو۔” “کب تک چھپاتے؟” ماہین نے پلٹ کر ارہم کی طرف غور سے دیکھا۔ ” جب تک یہ ہوش میں نہیں آ جاتا۔” “اگر تم یہاں نہیں آتی تو میں تمہیں نہیں بتاتا” ” یہ کب سدھرے گا؟” ” مجھے نہیں پتہ، یہ ایسا ہی ہے، تم جانتی ہو۔” ارہم آگے بڑھا اور ماہین کی آنکھوں میں مزید دیکھا۔۔۔۔
“تم کیوں چاہتی ہو کہ یہ سدھر جائے؟ کیوں کرتی ہو اس سے اتنا پیار؟ دو سال سے میں تمہیں سمجھا رہا ہوں۔” “کیسے دوست ہو تم اس کے؟ مجھے سمجھانے کے بجائے تم اسے نہیں سمجھا سکتے کہ اپنی زندگی کے ساتھ کھیلنا چھوڑ دے؟ کس چیز کی فرسٹریشن ہے جو یہ شراب پی کر نکالتا ہےخود پر؟؟ لڑکیوں سے افیئرز، ان کے ساتھ غلط ریلیشن شپ بنانا کب تک کرتا رہے گا یہ؟ اور جب ہوش میں آئے گا تو بتا دینا، میں اس سے محبت نہیں کرتی۔ سمجھ آ رہی ہے میری بات؟؟؟” ارحم نے سر جھکایا تھا۔۔۔
” تم سے بات کرنا، تمہیں سمجھانا آج بھی اتنا ہی بیکار ہے ماہین جتنا دو سال پہلے تھا۔ تم اس محبت کر رہی ہو جو تمہاری محبت ڈیزرو بھی نہیں کرتا۔ میں جانتا ہوں تم تین دن اس سے ناراض ہوگی اور اگلے دن اسی کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہو گی۔” ” کیونکہ میں کرتی ہوں محبت ارمان سے۔ اسے اس حال میں نہیں دیکھ سکتی۔ اس کو سدھارنے کے لیے مجھے کچھ بھی کرنا پڑا نا، میں کروں گی۔” ” یہ نہیں سدھرے گا۔” ” یہ تمہاری سوچ ہے، میری نہیں۔” ماہین پلٹی اور لائبہ کی طرف دیکھا، “چلو لائبہ” لائبہ اور ماہین دونوں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی تھی۔
ارمان کی طرف دیکھتے ہوئے ارہم نے گہرا سانس لیا تھا۔ ” مجھ سے دور بیٹھو، میں تم سے بات نہیں کر رہی۔” ارمان کتاب کھولتا ہوا لائبریرین کو دیکھنے لگا، جو مصروف دکھتی تھی، “یار!!! آئی ایم سوری ” ” کل تم پھر سے پی کر بےحال تھے۔ ” ” تم آئی تھی کیا؟” ” ہاں آئی تھی، اور تمہیں وہاں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی یوں پڑے ہوئے، بے حال” “ماہین، آئی ایم سوری۔ ” ” کتنی بار سوری کہتے ہو تم مجھ سے؟ اور کتنی بار مجھے ماننا پڑتا ہے؟ کیونکہ میں تم سے محبت کرتی ہوں، اور محبت میں تم مجھے مجبور کر دیتے ہو ارمان۔ مگر پلیز اپنے ساتھ کھیلنا بند کر دو۔ تمہاری وہ جو ایکس گرل فرینڈ ہے نا، جس کے ساتھ آخری دفعہ تم تھے، آئی تھی وہ میرے پاس۔ خوب سنا کے گئی ہے مجھے۔”
“وہ تمہارے پاس آئی تھی؟ وہ بلڈی چیپ! ” ” بالکل، وہ بلڈی میرے پاس آئی تھی۔ پتہ ہے کیا کہنے آئی تھی؟ کہ اس کی رات تمہارے ساتھ بے حد اچھی گزری ہے۔ اب تم سوچو، میں جو تم سے محبت کی دعویدار ہوں، کیا گزری ہو گی مجھ پر؟ وہ مجھے یہی جتانے آئی تھی کہ میری کیا اوقات ہے۔” “تم جانتی ہو، جب میں نشے میں ہوتا ہوں تو میرا کنٹرول نہیں ہوتا خود پر۔ ” اور تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی میں تمہارے کنڑول میں رہوں؟ نہیں، ارمان صاحب، میں وہی کروں گی جو میرے والدین مجھے بولیں گے وہ چاہتے ہیں نا میں شادی کر لوں؟ ہمارا آخری سال ہے، اس کو ختم ہونے دیں، میں کر لوں گی شادی۔” یہ کہتی ہوئی وہ لائبریری سے ہی باہر چلی گئی تھی۔
ارمان نے گہرا سانس لیا۔ آج وہ رو رہی تھی، روتے روتے بات کر کے گئی تھی۔ اس کی آنکھوں میں اتنے آنسو تھے جو ارمان کو اپنے دل پہ گرتے ہوئے محسوس ہوئے۔ وہ بے ساختہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھ چکا تھا۔ کیا وہ اس لڑکی کو رلا سکتا تھا؟ کیا اس کی آنکھوں کے آنسو دیکھ سکتا تھا؟ نہیں۔ کیا یہ سب کچھ اس لڑکی سے، ان دونوں کی محبت سے زیادہ تھا؟ ہر گز نہیں۔ وہاں کھڑے کھڑے اسے بہت سی چیزوں کا اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ ماہین قریشی کے حوالے سے کتنا حساس ہے۔۔۔۔
” کیوں اپنا خون جلا رہی ہو؟ ” ” لائبہ پلیز، اب تم بھی پلیز وہ ٹاپک لےکر مت بیٹھ جانا جس سے مجھے تکلیف ہو۔” ” وہ نہیں سدھرے گا۔ تمہارے امی ابو نے جو تمہارے لیے چوز کیا ہے، وہ بہتر ہے۔ کر لو اس سے شادی۔ ارہم ٹھیک کہتا ہے، تم کیوں ارمان کے معاملے میں ڈھیٹ بنی ہوئی ہو؟ وہ تمہیں نقصان پہنچائے گا۔ ہم نہیں چاہتے کہ
تمہیں نقصان پہنچے” ” تم ٹھیک کہہ رہی ہو، میں سمجھ رہی ہوں۔ کہہ کر آئی ہوں اسے کہ اب کی بار اگر اس نے کوئی غلطی کی تو کھو دے گا وہ ماہین قریشی کو۔” لائبہ پھیکا سا مسکرائی اور اپنی دوست کو گلے سے لگایا، “یار بہت بڑا دل ہے تمہارا۔”
” کیا کروں، اس شخص سے مجھےاتنی محبت محبت ہے نا، میں نہیں جانتی اگر میں نے اسے چھوڑ دیا تو میں کیسے جیوں گی۔” اس کی آواز میں لڑکھڑاہٹ واضح آگئی تھی۔ لائبہ غور سے اپنی دوست کی شکل دیکھنے لگی۔ کوئی اتنی محبت کیسے کر سکتا تھا، جب کسی کا کردار آپ کے سامنے یوں واضح ہو، پھر بھی اتنی محبت؟؟؟”۔۔۔۔
وہ دونوں کلاس میں چلہ آئیں۔۔ ” پچھلے پانچ دن سے تم مجھے اگنور کر رہی ہو، میں پاگل ہو جاؤں گا!” ماہین نے بڑی سخت نظروں سے ارمان کو دیکھا، “ہوش میں ہو تو بات ہو سکتی ہے۔ ورنہ چلے جاؤ یہاں سے، کلاس چل رہی ہے، میرا تماشہ مت بناؤ۔ ویسے بھی ساری یونیورسٹی میں میرا تماشہ کم نہیں بنا تمہاری وجہ سے۔” “اچھا، آئی ایم سوری، خدا کی قسم میں نے پانچ دن سے شراب کو ہاتھ تک نہیں لگایا ”
” اور وہ لڑکیاں؟؟؟ ” “کون لڑکیاں؟” کیسی لڑکیاں؟ میں نہیں جانتا، بس تم ہی ہو جو ہو۔ پلیز بات کر لو مجھ سے۔” وہ مکمل التجائیہ ہو رہا تھا، دونوں ہاتھ ماہین کے آگے جوڑ چکا تھا۔ ماہین نے سر جھٹکا اور اس کے ہاتھ تھام لیے۔۔۔ “بیٹھ جاؤ، کلاس کے بعد بات کرتے ہیں۔” وہ تیسں منٹ کی کلاس اس کے ساتھ بڑی خاموشی سے سنتا رہا، بڑے اچھے بچوں کی طرح۔ ماہین ترچھی آنکھوں سے اسے دیکھ بھی لیتی تھی۔ اسے ارمان کو یوں دیکھنا بہت اچھا لگتا تھا، اور ارمان جانتا تھا وہ اسے دیکھ رہی تھی۔ ” میں وعدہ کر رہا ہوں، آج کے بعد کبھی کچھ غلط نہیں کروں گا۔ شراب تو بہت دور کی بات ہے، اور اگر تمہیں پتہ چل جائے کہ میں نے کسی لڑکی کی طرف دیکھا ہے تو تم میری جان لے لینا۔” وہ بڑے غور سے اسے دیکھ رہی تھی
“ان دو سالوں میں ایسے وعدے تم نے بہت بار کیے ہیں مجھ سے ، اور کبھی نبھائے نہیں اگر اس دفعہ تم نے وعدہ توڑا نا، تو ماہین قریشی اپنی جان دے دے گی۔ میں جھوٹ نہیں کہہ رہی، میں سچ کہہ رہی ہوں۔ اور ہاں، جتنی جلدی ہو سکے اپنے گھر والوں کو میرے لیے راضی کرو۔ میں کمٹمنٹ چاہتی ہوں، سمجھ رہے ہو نا؟” “ہاں، سمجھ رہا ہوں۔” ” تم ہمیشہ کمٹمنٹ سے بھاگتے ہو، اب میں تمہاری منتیں نہیں کروں گی ارمان۔” وہ اٹھ کر چلی گئی تھی۔ اس کے جانے کے بعد ارہم اس کے ساتھ آ کے بیٹھا تھا، “کیا ہوا؟” ارمان نے اپنے دوست کے بازو پہ ہاتھ رکھا، ” کچھ نہیں۔ آج وہ یوں چھوڑ کر اٹھ کر گئی تو اندازہ ہوا ہے کہ ماہین قریشی نے اگر مجھے چھوڑ دیا، تو میں مر جاؤں گا۔ ”
” تو کیوں کرتے ہو ایسی حرکتیں؟ اس کے ہوتے ہوئے دوسری لڑکیوں کے پاس جاتے ہو، ان کے ساتھ وقت گزارتے ہو۔ یہ ماہین کی ناقدری نہیں ہے تو اور کیا ہے؟” “تم ٹھیک کہتے ہو۔ میں نے بہت ہرٹ کیا ہے اسے، اب نہیں کروں گا۔ وہ مجھے معاف کر دیتی ہے ہر دفعہ، اس دفعہ وہ میری وجہ سے ہرٹ نہیں ہوگی۔۔۔۔” ” دیکھتے ہیں۔۔۔۔ ارحم اسے بڑے غور سے دیکھ رہا تھا، کیونکہ جانتا تھا کچھ دن اس پر ماہین کے آنسوؤں کا اثر ہوتا ہے، پھر وہ وہیں کا وہیں ہو جاتا ہے جیسے تھا۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕