Qarz E Jaan By Dia Novels Novel20763

Forced Marriage | Age Gap Romance | Emotional Trauma | Family Drama | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel

 

” کیوں اتنا چیخ رہی ہو تمہارا عاشق تو بارات لے کر نہیں آیا شکر کرو میں نے تمہارے باپ کی عزت بچا لی۔ اب بلاؤز اتار کر میرے سامنے بیٹھو۔” بازل کی نظریں اسکی بھاری دھڑکنوں پر تھیں۔ بازل کی جنونی قربت سے وہ معصوم بہت تکلیف میں تھی۔ کونین کے سسرال والوں نے کم جہیز کی وجہ سے بارات نہیں لائی تو اس کا نکاح بابا نے دوست کے بیٹے بازل شاہ سے کر دیا جو انتہائی سخت مزاج عمر میں اس سے بڑا تھا۔ بازل نے سنا تھا کہ کونین اس لڑکے کو پسند کرتی ہے۔ دو سال منگنی رہی۔۔” یقینا تمہارے منگیتر کی ہی وجہ ہے تمہارا فیگر اتنا بھرا ہے بتاؤ ٹچ کرتا تھا نا تمہیں؟ تبھی سرخ رنگ کی فرمائشی پہنی تھی؟” کونین پریگننٹ ہوئی تو بازل نے غصے سے اسکے پیٹ میں مکہ۔۔۔۔۔۔
” سنا تھا کہ لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔۔ ارے تو پھر لڑکا بارات کیوں نہیں لے کر آیا! ” ایک عورت کی آواز پر بازل نے غصے سے اپنے لب بھینچ لیے تھے۔ یعنی کہ جس لڑکی سے اس کا نکاح ہوا ہے وہ پہلے سے ہی کسی اور کو پسند کرتی تھی اور اسے بابا نے بالی کا بکرا بنا کر اس لڑکی کے سامنے پیش کر دیا اس کا بس نہ چل رہا تھا کہ وہ اسے رخصت کروا کر اپنے ساتھ نہ لے
.کر جائے جو اپنے باپ کے گلے لگی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔اسے ابھی سے ہی اس لڑکی سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
دلہن کے لال جوڑے میں لیٹی کونین سسکی تھی اس کے باپ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگا ” بیٹا بس یہی تمہارا نصیب تھا۔ اسے اپنے نصیب کا لکھا سمجھ کر قبول کر لو! خدا تمہیں خوش رکھے آباد رکھے۔۔۔” وہ انہیں دعائیں دے رہے تھے جب کہ بازل غصے سے دل ہی دل میں سوچ رہا تھا ” کہ تو ایسے رہے ہیں بڑے میاں جیسے میں کوئی گرا پڑا انسان ہوں جو ان کی حور پری جیسی بیٹی کو بیاہ کر لے جا رہا ہوں!۔۔۔ ” بابا کی عزت کا خیال نہ ہوتا تو وہ سب لوگوں کی موجودگی کی پرواہ کیے بغیر اس لڑکی کو یہیں پر چھوڑ کر چلا جاتا لیکن اب اسے بھگتنا تھا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ رش انداز میں گاڑی سڑک پر دوڑانے لگا! بابا اس کے غصے کو دیکھ کر حیران رہ گئےجبکہ کونین پچھلی سیٹ پر بیٹھی سہمی ہوئی تھی اس نے جالی دار گھونگھٹ کے پار سے ہی دیکھ لیا تھا کہ جس سے اس کا ایمرجنسی میں نکاح ہوا ہے اس کے ماتھے پر بل ہیں اور وہ نہایت غصے میں لگ رہا ہے۔ ” یا اللہ یہ تو نے میرا کیسا نصیب لکھ دیا! پہلے مجھے اس مکروہ شخص کی گندی باتوں کو عذاب سہنا پڑا جو مجھ سے شادی کرنے والا تھا اس سے جان چھوٹی تو یہ کھڑوس اور غصے والا انسان میرا نصیب بن گیا نہ جانے میری آگے کی زندگی کیسے گزرنے والی ہے۔۔۔۔
اسے ابھی سے فکر ہو رہی تھی۔ پھر جیسے ہی وہ گھر پہنچے گھر میں بےچینی سے ادھر ادھر چکر لگاتی پروین بیگم نے پھٹی نگاہوں سے اپنے بیٹے کے ساتھ آتی لال جوڑے میں ملبوس اس لڑکی کو دیکھا تھا۔ انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا جبکہ بازل آندھی طوفان کی طرح ان کے سامنے سے گزرتا چلا گیا! اس نے اپنے کمرے میں جا کر زوردار انداز میں دروازہ بند کیا تھا۔ جب کہ پروین بیگم غصے سے اپنے شوہر سے کہہ رہی تھی ” یہ کیا آپ نے اتنی ایمر جنسی میں بازل کو فون کر کے کیوں بلوایا آخر کیا ہوگیا تھا شادی میں؟؟ اور اس لڑکی کو یہاں کیوں لے کر آئے ہیں!۔۔۔” جو بات انہیں سمجھ آرہی تھی وہ سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
تبھی فرقان صاحب رعب دار لہجے میں کہنے لگے! ” اس لڑکی کے باپ نے ایک بار مشکل وقت میں میرا بہت ساتھ دیا تھا یاد کرو تم پروین بیگم اور آج جب اس پر مشکل وقت تھا تو میں نے اس کا ساتھ دیا اس لیے مجھ سے زیادہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں اور اس بچی سے کھانے وغیرہ کا کچھ پوچھو اسے بازل کے کمرے میں چھوڑ آو یہ تمہاری بہو ہے۔۔۔” انہوں نے جیسے دھماکہ کیا تھا۔
پروین بیگم کا غصے سے برا حال ہو گیا ان کا چہرہ لال بھبوکا ہو گیا تھا۔ ” میری بہو۔۔۔۔۔ آپ ہوش میں تو ہیں آپ کیا کہہ رہے ہیں میرا اکلوتا بیٹا۔۔۔ جس کی شادی کے میرے دل میں کئی ارمان تھے دھوم دھام سے شادی کرنے کے میں نے اتنے سالوں سے خواب دیکھ رکھے تھے اور آپ اتنی چپ چاپ اس کا نکاح کر کے اس لڑکی کو میرے سر پر بٹھانے کے لیے لے آئے ہیں! ” ” میں نے کہا نا یہ سب ایمرجنسی میں ہوا ہے تمہیں زیادہ سوال جواب کرنے کی ضرورت نہیں پروین بیگم کونین کو تمہیں اپنی بہو کے روپ میں قبول کرنا ہی ہوگا اور اپنے بیٹے کو بھی سمجھاؤ جو آسمان پر چڑھ رہا ہے۔۔۔۔ اب یہی لڑکی اس کی بیوی ہے!۔۔ “غصے میں کہتے وہ اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔۔۔
جب کہ پروین بیگم نے کونین کا بازو زور سے پکڑا تھا۔ ” انچاہی بیوی اور بہو بن کر اس گھر میں آتو گئی ہو لیکن تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہوگی اتنا یاد رکھنا تمہارے باپ نے ضرور اپنے بچپن کے دوست کو بلیک میل کیا ہوگا میں تو پہلے ہی انہیں منع کرتی تھی کہ اپنے پرانے غریب دوستوں سے زیادہ میل جول بڑھانے کی ضرورت نہیں! لیکن انہوں نے میری ایک بات نہیں مانی اور تم آج اس گھر میں چلی آئی ہو! خیر بازل بھی میرا ہی بیٹا ہے دیکھنا وہ تمہیں بہت جلد اس گھر سے نکال دے گا طلاق کے تین لفظ بول کے!۔۔۔۔” وہ بڑی سفاکی سے کہہ رہیں تھی۔۔۔۔
کونین کی تو روح کانپ گئی وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ سامنے کھڑی عورت اس قدر سخت مزاج اور سنگ دل ہوگی کہ پہلے ہی دن اس کا اتنا برا استقبال ہوگا تبھی انہوں نے ملازمہ کو ایک زور دار آواز دی تو کونین کا دل اچھل کر حلق میں آگیا انہوں نے ملازمہ کو یہ حکم دیا کہ وہ اسے بازل کے کمرے میں چھوڑ دے! اب تو کونین کی اور بھی بری حالت ہوگئی تھی۔ کمرے میں آکر وہ شدید گھٹن محسوس کر رہی تھی۔ بازل بیڈ پر پڑا آنکھوں پر بازو رکھے نہ جانے کیا سوچ رہا تھا وہ شدید غصے میں تھا۔۔۔
تبھی اسے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا اس نے آنکھوں سے بازو ہٹایا تو نظر سیدھی دلہن بنی کھڑی کونین پر پڑی جو بہت زیادہ سہمی ہوئی لگ رہی تھی۔ وہ دل ہی دل میں اس لڑکی سے شدید نفرت اور غصہ محسوس کرتا اٹھ کھڑا ہوا! تبھی اچانک اس کے دل میں ایک لطیف سا جذبہ پیدا ہوا ۔۔۔۔۔۔ جب بیٹھے بٹھائے مال ہاتھ آئے تو اس سے فائدہ بھی اٹھانا چاہیے! یہی سوچ کر وہ اس کے بہت قریب آگیا تھا۔۔۔۔
” او ہو اتنا بناؤ سنگھار کیا۔؟۔۔۔۔۔نہ جانے کیسے کیسے اپنے بدن کو نکھارا ہوگا سہاگ رات منانے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔سنا ہے تمہاری منگیتر کے ساتھ تمہارے بڑے گہرے تعلقات تھے۔ وہاں پر تو عورتیں بھی بڑی بڑھ چڑھ کر ارمانوں سے کہہ رہی تھی کہ تم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ اس نے تو خوب فرمائشیں کر کے کہا ہوگا کہ کونین بی بی خود کو ایسے سجنا سنوارنا ایسے خوشبوئیں لگانا یہاں سے اپنے آپ کو نکھارنا تاکہ سہاگ رات کو وہ پوری طرح تم پر حاوی ہو کر اپنے جذبات لٹا سگے۔۔۔۔” بازل کو خود نہیں معلوم تھا کہ وہ کس قدر گہرائی میں الفاظ کا چناؤ کر رہا ہے۔۔۔۔
” بولو چپ کیوں ہو؟؟ اس کی خاطر خود کو اتنا سجایا سنوارا نہ اور نیچےجو پہن رکھا ہے یقیناً وہ بھی اسی کی پسند کا پہنا ہوگا۔” کونین کا جی چاہ رہا تھا کہ ابھی زمین پھٹے اور وہ اس میں دھنستی چلی جائے۔ ” پھر جب بارات نہیں آئی ہوگی تو بہت دکھ ہوا ہوگا ارمان جو ٹھنڈے ہو گئے ہوں گے تمہارے لیکن خیر تمہارے باپ نے پھر سے تمہارے ارمان۔۔۔۔ تازہ کر دیے میرا نکاح زبردستی کر کے! ایسے بھی بھلا شادی ہوتی ہے کیا؟؟ لیکن خیر اتنا بھولا بھالا اور سیدھا تو میں بھی نہیں ہوں! کہ اپنا حق چھوڑ دوں اس لیے جاؤں یہ چار گز کا تمبو اتار کر کوئی اچھی سی نائٹی پہن کر آؤ! تمہیں دلہن کے روپ میں دیکھ کر میرے بھی ارمان جاگ گئے ہیں۔۔۔۔” وہ اس کے قریب کھڑا نہایت بے باک انداز میں گفتگو کر رہا تھا۔
کونین کا چہرہ زرد پڑ گیا تھا وہ کچھ بولنے کے قابل نہیں رہی! ایسے ہی بت بن کر کھڑی اس کی بات سمجھنے کی کوشش کرتی رہی تبھی بازل نے غصے میں اسے ڈریسنگ روم کی طرف دھکیلا تھا۔۔۔ ” سمجھ نہیں آرہی کہ میں کیا کہہ رہا ہوں؟؟ جاؤ جلدی تیار ہو کر آؤ جو تمہیں کہا ہے وہی کرو کیونکہ وہاں پر جو تماشہ ہوا سب کے سامنے اپنے بابا کی عزت دو کوڑی کی نہیں کر سکتا تھا ایک ایسی لڑکی جو کسی دوسرے انسان کی چھوڑی ہوئی ہو زندگی کا ہمسفر بنالوں میں تو کسی کے جھوٹے گلاس میں پانی نہیں پیتا۔۔۔۔” آگ برستے لہجے میں وہ اسے جھلسا رہا تھا۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *