Aisi Teri Bekhudi By Dano Novels Novel20769

 Revenge Romance | Secret Marriage | Betrayal | Emotional Trauma | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel

” اٹھو کپڑے پہنو اور دروازہ بند کرو میں جا رہا ہوں۔” ارمان ملک کا سرد لہجہ بھانپتے وہ ٹھٹکی۔ ” کک کیا مطلب؟ میں اس ہوٹل میں کیسے رہوں گی۔” ” تو کس نے کہا ہے رہنے کو؟ جہاں سے آئی تھی وہیں واپس چلی جاؤ۔۔ یہ رکھو تمہاری ایک رات کی قیمت! ” وہ چند نوٹ اسکی طرف پھینکتے حقارت سے بولا تو آئزہ کا دل پھٹ گیا۔ “آپ ہوش میں تو ہیں نکاح کیا ہے آپ نے مجھ سے۔” “پور لٹل گرل! تمہیں کیا لگا میں تم جیسی معمولی لڑکی سے شادی کروں گا؟ انتقام تھی تم میرا۔ جاکر اپنے باپ کو میرا نام بتانا وہ تمہیں سب بتا دے گا۔۔۔” وہ اسے بلکتا چھوڑ چلا گیا۔ کچھ ماہ بعد ارمان اپنی ڈاکٹر دوست سے ملنے اسکے کلینک پہنچا۔ “مبارک ہو مس آئزہ الٹرا ساؤنڈ میں بیٹا ہے۔۔”
” یہ تمہارے کردار کی سزا ہے ایسی سزا جو تمہیں تب تک بھگتنی ہے جب تک کہ تم مر نہیں جاتی۔۔۔” دور سے کسی چنگھاڑتی ہوئی آواز نے گویا اس پر اپنا قبضہ جما لیا۔۔۔۔ آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں سرخ ہوتی جا رہی تھیں سختی سے ابھرتی ہوئی رگیں اس کےاندر پھیلی ہوئی نفرت کو مزید ابھار رہی تھیں۔ اس کے تاثرات مزید سخت ہوتے گئے تب تک جب تک کہ اس شاندار ہوٹل کے سامنے اس نے گاڑی نہیں روکی دروازہ کھول کر وہ باہر نکلا اور کچھ لمحے پہلے کے سارے تاثرات غائب ہو گئے ایک دلکش سیمت سکراہٹ کے ساتھ وہ اندر داخل ہوا۔۔۔۔
عملہ گویا اس کا منتظر تھا یہاں پہلے اس کا آنا جانا لگا رہتا تھا سو بڑی گرم جوشی سے اس کا استقبال ہوا وہ سیدھا وہیں آیا تھا جو کمرا اس نے بک کروایا تھا مینیجر اسے کمرے تک چھوڑ کر گیا اور یہ بھی تعظیم کا ایک طریقہ ہی تھا جو صرف ارمان ملک کے لیے مخصوص تھا۔ کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور بیڈ پر بیٹھے ہوئے بےتاب سے وجود نے گویا لبوں کو کچلتے ہوئے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔
ایک دلکش ترین مسکراہٹ سے وہ اسے دیکھتا رہ گیا خوبصورت لباس میں بیوٹیشن کے مہارت سے کیے گئے میک اپ میں وہ اتنی حسین لگ رہی تھی کہ ارمان ملک کا ٹھٹک جانا بنتا تھا کچھ ہی دیر پہلے بیوٹیشن اسے تیار کر کے چلی گئی اور تب سے وہ بڑی بے تابی سے ارمان ملک کا انتظار کر رہے تھی۔۔ اندر کی کشمکش بڑھتی جا رہی تھی حسین ترین آنکھیں خوف اور وسوسوں سے پھیلنے لگیں لیکن اس وقت اس خوبرو شخص کو اپنے سامنے دیکھ کر دل تھم سا گیا۔۔۔
لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ پھیل گئی اور بے تحاشہ سرخ چہرے کو جھکاتے ہوئے اس نے مبہم سے مسکراہٹ کو چھپا لیا۔ حالانکہ شام کے اندھیرے جس طرح پھیلنے لگے تھے اسے لگا تھا خوف کے مارے اس کا دل بند ہو جائے گا زندگی میں پہلی بار اس نے کسی مرد پر بھروسہ کیا اور اگر وہ اسے اس طرح بھی راستے میں چھوڑ جاتا تو۔۔؟؟ یقینا یہ بڑی بزدلی ہوتی لیکن اس کے بعد جو سزا اسے بھگتنی پڑتی وہ ناقابل برداشت تصور کی جاتی لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ اسے بیج راستے میں چھوڑنے کی بجائے وہ اب اس کے سامنے کھڑا نرمی سے اس کی ٹھوڑی کو اپنی انگلیوں سے چھوتے اس کے دلکش چہرے کا جائزہ لے رہا تھا
” مجھے اندازہ نہیں تھا تم اتنی حسین ہو ۔۔!!” خمار الود لہجے بھیگے ہوئے لفظوں نے عائزہ کے لبوں پر ایک خفیف سی مسکراہٹ پھیلا دی اور اس کی مسکراہٹ کو چمکتی ہوئی آنکھوں سے دیکھتا ہوا ارمان ملک اس کے سامنے بچھ جانے کو تیار کھڑا تھا اسے نرمی سے گھما کر اپنے ساتھ لگاتے ہوئے وہ اس کے لمبے بالوں کو بکھرنے کی اجازت دے رہا تھا ان سے اٹھتی ہوئی بھینی بھینی خوشبو ارمان ملک کو پاگل کر رہی تھی۔ اس کی حسین آنکھوں سے سرکتی ہوئی ارمان کی نظریں اس کے لبوں پر ٹک گئیں اور پھر لبوں کے بعد رخسار پر جمے ہوئے تل نے اسے اپنی جانب مائل کرنا چاہا ۔۔ اور اسے یوں خود کو دیکھتے پا کر وہ اچھا خاصا پزل ہو رہی تھی۔
دل بری طرح دھڑک رہا تھا اور دل کا دھڑکنا بھی بنتا تھا محبوب اس قدر بے باکی سے دیکھ رہا ہو تو بھلا کون سا دل ہے جو خود کو دھڑکنے سے روک پائے۔۔؟؟ سانسوں کا شور بے ہنگم ہوتا جا رہا تھا اور اس نے بے اختیار دو قدم پیچھے ہٹا لیے۔۔ ” مجھے ڈر لگ رہا ہے نکاح کب ہوگا ۔۔۔؟؟” اس کے سوال نے لمحے بھر کے لیے مقابل کو بد مزہ کیا لیکن پھر سر جھٹکتے ہوئے وہ نرمی سے مسکرایا۔ ” کچھ دیر کے بعد نکاح ہو جائے گا اور پھر مجھے تمہاری زبان سے یہ نہیں سننا پڑے گا کہ تمہیں ڈر لگ رہا ہے۔۔” دو انگلیوں سے اس کی گردن پر چپکے ہوئے بالوں کو ہٹا کر وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔
جبکہ اس کی بات کا مفہوم سمجھتے ہوئے عائزہ نے بھی بمشکل مسکرانے کی کوشش کی۔ ” نکاح کے بعد مجھے گھر پہنچا دیں گے نا؟؟۔۔۔۔” اس نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں کو یکسر کھول کر سوالیہ انداز اپنایا اور جیسے وہ اس کی بات کو فراموش کر گیا ” حالانکہ تمہیں یہ پوچھنا چاہیے کہ نکاح کے بعد تم میری شدتوں کو برداشت کر پاؤ گی ۔۔۔؟؟” وہ کافی دیر نہ سمجھی سے اسے دیکھتی رہی ۔۔ ارمان ملک نے اسے یہاں صرف اس شرط کے لیے بلایا تھا کہ وہ نکاح کے بعد اسے واپس گھر چھوڑ دے گا لیکن اس وقت اس کا یوں بے باک ہونا بار بار اس کے قریب آنا بے خودی ظاہر کرنا عائزہ کے اندیشوں کو بڑھا رہا تھا۔۔۔۔
محض اندیشے تھے یا اندھی محبت کا منہ بولتا ثبوت لیکن اس وقت یہ سوچنے کی فرصت نہیں تھی۔ کچھ ہی دیر کے بعد دروازے پر دستک ہوئی اور قاضی صاحب کے ساتھ دو تین مرد اندر داخل ہوئے ۔ سارے انتظامات اس کی طرف سے مکمل تھے وہ بھلا آسانی سے اپنے ارادوں کی بھنک لگنے دے سکتا تھا ۔۔۔؟؟ اس لیے سب کچھ اپنی مرضی کے مطابق سیٹ کرتے ہوئے یہاں بھی صرف اپنی مرضی چلا رہا تھا۔۔ ان سب کو اندر آتا ہوا دیکھ کر وہ جلدی سے دوپٹے کا کونہ کھینچتے ہوئے وہیں بیٹھ گئی۔۔۔
ارمان بھی اس کے پہلو میں بیٹھ گیا جب اس کے اشارے پر قاضی صاحب نے نکاح شروع کیا اور عائزہ کی آنکھیں بھیگنے لگیں ۔۔۔ ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے آج وہ اسے ایک رشتے کے لیے اپنے جانے کتنے رشتوں کو پیچھے چھوڑ کر آئی تھی۔۔ اس کے ساتھ اچھے تھے یا برے تھے لیکن بچپن سے اس کے ساتھ تھے انہیں دیکھ کر وہ جوان ہوئی اور آج اس موقع پر ان سب کا ہونا بنتا تھا۔ اس نے ایک ایسے شخص پر یقین کیا جو اس سے محبت کا دعویدار تھا جو لوگوں میں اپنی نیک نامی کی وجہ سے مشہور تھا اور اسے یقین تھا کہ اس کا باپ اس کا یہ فیصلہ بھی تسلیم کر لے گا۔۔۔۔
نکاح خواں نے اسے رضامندی طلب کی اور اس نے کپکپاتے ہوئے اپنا سر ہلا دیا کانپتے ہوئے ہاتھوں سے دستخط کرنے کے بعد اس نے اپنے تمام جملہ حقوق کو اس شخص کے نام منتقل کر دیے تھے جو کہ اب اس کی زندگی کا اکلوتا وارث بن چکا تھا۔ کچھ ہی دیر کے بعد سب لوگ ارمان ملک کو مبارکباد دیتے ہوئے کمرے سے نکل گئے اور وہ بے تاب ہو کر اس کی جانب بڑی۔۔۔ ” چلیں مجھے گھرچھوڑ آئیں اب ۔۔!! ” اس کی بے تابی کا عالم تھا کہ ابھی تک اس کے ہاتھ میں لرزش تھی اور مقابل نے کمر سے تھام کر اسے اپنے قریب کر لیا۔
” نکاح کی مبارکباد تو وصول کر لیں جان من گھر بھی چھوڑ آؤں گا۔۔۔” وہ اس کے بے تحاشہ قریب کھڑی تھی اتنا قریب کہ دونوں کی دھڑکنوں کا شور ایک دوسرے کے سینے میں گونج رہا تھا دونوں کی سانسوں کی مہک ایک دوسرے کو بہکا رہی تھی اور ارمان کے لب آہستہ آہستہ اس کے لبوں سے ٹکرا رہے تھے وہ مکمل طور پر سرخ ہوتے ہوئے اس کی لبوں کو دیکھتی رہ گئی۔ ارمان نے مخمور لہجے میں اس کی پکار کا جواب دیتے ہوئے نرمی سے اپنے لب اس کی ٹھوڑی پر جما دیے۔۔۔
” نکاح کے بعد سب سے لازم ہوتا ہے اپنا شوہر اور اپنے شوہر کا حق اسے دینا اب تمہارا بھی حق بنتا ہے۔۔” بے باکی سے آنکھیں دباتے ہوئے وہ اسے مزید مشکل میں ڈال رہا تھا۔۔ اس نے پلٹ کر اپنی یونیفارم کو دیکھا۔ ” میں کپڑے چینج کر لیتی ہوں پھر گھر بھی تو جانا ہے گھر میں سب پریشان ہوں گے۔۔۔” دونوں کے درمیان طے تو یہی ہوا تھا لیکن اب ارمان کے ارادے بدل رہے تھے ۔” ایسا نہیں ہو سکتا کہ آج رات میرے پاس رک جاؤ کل میں خود تمہیں لے کر جاؤں گا ویسے بھی تین دنوں کے لیے میں نے یہ کمرہ بک کروایا ہے تو یہاں اپنی بیگم کے ساتھ بیسٹ ٹائم تو سپینڈ کر ہی سکتا ہوں۔۔” اس نے اپنا ہاتھ مقابل کے سینے پر جما دیا تھا
” بابا کبھی بھی قبول نہیں کریں گے اس طرح آپ نہیں جانتے ہمارے ہاں کسی لڑکی کا رات بھر گھر سے باہر رہنا کتنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔” اور اس نے آگے بڑھتے ہوئے اس کے لبوں پر اپنی انگلی جما دی “میں یہ بھی جانتا ہوں کہ بغیر ماں باپ کی مرضی کے کسی لڑکی کا نکاح بھی معیوب ہے۔ وہ بھی تو کر لیا تم نے۔۔۔” اور وہ کتنی دیر اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی تھی۔ وہ طنز کر رہا تھا وہ سمجھ نہیں پائی لیکن کچھ تھا جس کا احساس بے حد عجیب تھا۔۔۔
اسے گردن سے دبوچ کر اپنے قریب کرتے ہوئے وہ اس کی سانسوں پر حملہ آور ہوگیا بغیر اس کی مرضی جانے بغیر اسے محبت سے سمیٹے اور اس کے جان لیوا لمس پر وہ سختی سے اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچ چکی تھی اپنے پیروں پر کھڑا ہونا اس وقت اس کے لیے مشکل ترین عمل تھا۔ اس سب کے لیے وہ ذہنی طور پر تیار نہیں تھی جو کہ اب اسے برداشت کرنا پڑ رہا تھا نرمی سے جھکتے ہوئے اسے اپنے بازوں میں بھر کر وہ بستر تک لے آیا جب کہ وہ حیران و پریشان اسے دیکھتی رہ گئی
” ارمان پلیز ۔۔۔۔” اس نے التجا کرنی چاہی لیکن اسے گھوری سے نوازتے ہوئے وہ اس کی گردن میں منہ چھپا گیا۔
آہستہ آہستہ اسے جیولری سے آزاد کرتے ہوئے وہ اپنے ارادوں کو تکمیل کا درجہ دے رہا تھا ” تم جانتی ہو میں نے اس وقت کا کتنا انتظار کیا ہے تمہیں اپنی دسترس میں لوں گا تم پر اپنی شدت نچھاور کروں گا اور مجھے یقین ہے اس کے بعد تم خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی تصور کر رہی ہو گی۔۔۔” اس کے لمس میں محبت نہیں تھی ایک جنون تھا ایک شدت تھی جو کہ جان لیوا تھی اور اس کا لمس مقابل کو بےتاب نہیں کر رہا تھا بلکہ سمٹ جانے پر مجبور کر رہا تھا وہ آہستہ آہستہ اس پر نچھاور ہوتے ہوئے اس کے لیے روتے ہوئے وہ بس اس سے پناہ مانگ رہی تھی ۔۔ ” ریلیکس اتنا تو ہر لڑکی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔۔۔” اسے گھوریوں سے نواز کر ڈراتے ہوئے اس پر نچھاور ہوتا چلا گیا۔۔۔
جبکہ اس کے بازوں میں بھی گر کر وہ بے بسی سے روتی رہی اس کی گردن پر بنے ہوئے سرخ نشانات حیوانگی کو ظاہر کر رہے تھے اس کے لبوں کا پھٹا ہوا کونہ دل کی دیواریں ہلنے لگیں اپنے پہلو میں سوئے ہوئے وجود پر ایک نظر ڈال کر اس نے اپنا سر اپنے گھٹنوں پر جما لیا۔ آنسو اس کی آنکھوں سے ٹوٹتے جا رہے تھے۔۔۔ یہ جنون ۔۔ یہ شدت محبت نہیں تھی کوئی غصہ تھا کوئی نفرت تھی جو اس کی نس نس میں انڈیل دیا گیا اپنے بکھرے ہوئے وجود کو سہلاتے ہوئے اس نے اپنی آنکھوں کو بند کرلیا۔۔۔
دل بکھر گیا ڈر گیا لیکن ابھی تو بہت کچھ باقی تھا ابھی تو اس دن کا آغاز ہونا تھا نہ جانے کتنی دیر تک رونے کے بعد اس نے اپنی آنکھوں کو بند کر لیا۔ ایک پرسکون سی نیند اس پر حملہ آور ہوئی اور وہ نیند میں ڈوبتی چلی گئی۔۔ سر جھٹک کر خود کو تسلی دیتے ہوئے وہ گویا خواب میں بھی اس کی محبت پر شک نہیں کر سکتی تھی جو شخص اسے پانے کے لیے نہ جانے کتنا تڑپا نہ جانے کتنے پاپڑ بیلے اور اب جب اسے پالیا تو پھر اسے گنوانا بے مقصد ہی ہو سکتا تھا ۔۔۔!!
اگلی صبح اسے جگانے کے لیے اس کے بازوں کو جھنجوڑا گیا اور اس نے پٹ سے اپنی آنکھوں کو کھول دیا۔ کچھ دیر وہ غائب دماغی سے سامنے کے منظر کو سجھتی رہی اور پھر اپنے سامنے جھکے ہوئے ارمان ملک کو دیکھ کر ایک ہلکی سی مسکراہٹ سے اپنی آنکھوں کو مکمل کھول دیا ۔۔ ” صبح بخیر جاناں جانتا ہوں رات حسین گزری ہے اتنا حسین نہیں کہ تم صبح کے آغاز کو بھول جاؤ۔” اس نے ایک بار پھر ہلکا سا مسکراتے ہوئے عجیب و غریب لہجہ اپنایا۔۔۔۔
وہ بڑی نفاست سے تیار ہوا کھڑا تھا کافی دیر وہ اس کے دلکش چہرے کو دیکھتی رہی اور پھر اٹھ کر بیٹھ گئی صبح بخیر وہ ہلکا سا منمنائی ۔ اور ارمان ملک نے اس کا ہاتھ دبوجتے ہوئے اسے بستر سے نیچے لا کر کھڑا کر دیا ” مجھے لگتا ہے حسین رات کا اختتام ہوچکا ہے اب اس کے خمار سے باہر آجاؤ۔۔۔” اور وہ حیرت سے آنکھیں کھولتے ہوئے اسے دیکھتی رہ گئی ” یہ کیا طریقہ ہے ارمان۔۔۔” اس بار اس کی آواز میں ہلکی سی سخت تھی جبکہ ارمان نے پلٹ کر اسے دیکھا اور پھر طنزیہ مسکرایا وہ خوشبو کہ جھونکوں میں لپٹا ہوا وجود اسے اس لمحے خوشگوار احساس دلا رہا تھا۔۔۔
” کیا مطلب ہے اب تم ارمان ملک سے پوچھو گی کہ اسے تمہارے ساتھ بات کرتے ہوئے کون سا لہجہ اور کون سا طریقہ اپنایا ہے۔۔؟؟۔۔۔ ” یہ وہی شخص تھا جو بات کرتا تو آنکھیں جگمگانے لگتی تھیں اور اب یہ وہی تھا جو بات کر رہا تھا اور اس کا دل لرز رہا تھا۔ ایک انجانا سا خدشہ اس کے وجود میں سرایت کرتا چلا گیا” ارمان پلیز آپ مجھے ڈرا رہے ہیں۔۔۔۔” اس بار اس کا لہجہ ڈگمگا گیا۔ آنکھیں بھیگنے لگی تھیں اور وہ دو قدم دور ہوگیا۔ ” اس لیے میں یہاں سے جا رہا ہوں کہ تمہیں ڈر نہ لگے تم بھی اپنا
راستہ ناپو اور جاؤ یہاں سے۔۔۔۔” اور وہ بےیقین کھڑی رہ گئی۔۔۔
” کیا مطلب ہے جاؤ یہاں سے؟؟؟ آپ میرے ساتھ جائیں گے میرے گھر والوں کو بتائیں گے ہمارے نکاح کے بارے میں۔۔؟؟۔۔۔” اس کے لہجے میں حیرت کے ساتھ ساتھ دکھ بھی تھا خوف بھی اور نہ جانے کیا کچھ جو اس وقت سمجھنے سے قاصر تھی ۔۔ ” تمہارے وجود پر اور تمہاری گردن پر بلکہ تمہاری روح پر بھی میں نے ایسے نشانات چھوڑ دیے ہیں کہ تمہارے بتائے بغیر بھی انہیں پتہ چل جائے گا کہ تمہارا نہ صرف کسی مرد کے ساتھ تعلق رہا ہے بلکہ تم رات بھر اس کی دسترس میں عیاشی کرتی رہی ہو۔۔” اس کا لہجہ زہر سے بھی زیادہ کڑوا ہو چکا تھا۔۔۔
وہ بات نہیں کر رہا تھا بلکہ زہر اگل رہا تھا جو کسی بھی وجود کو بھسم کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور اس نے دیوار کا سہارا لے کر گویا اپنے قدموں کو مضبوط رکھنا چاہا آنسو اس کی آنکھوں سے ٹوٹ کر بکھرنے لگے” آپ مذاق کر رہے ہیں میرے ساتھ۔۔۔” وہ ابھی بھی کسی خواب کی سی کیفیت میں کھڑی تھی جیسے وہ ابھی ہنس دے گا کہ پاگل اتنی بھولی ہو کہ مذاق بھی نہیں سمجھ پاتی لیکن وہ ہنس نہیں رہا تھا وہ اسے کمرے سے نکال رہا تھا ویسے ہی جیسے اپنی زندگی سے راتوں رات نکال دیا۔۔۔۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *