Sazish E Dill By Umme Hani Novel20780
Sazish E Dill By Umme Hani Novel20780
Billionaire Romance | Enemies to Lovers | Family Drama | Revenge Romance | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel

Read Sazish E Dill By Umme Hani Complete Urdu Novel Online on Novelistan.
” تم لوگ اتنی لا پروائی کیسے کر سکتے ہو؟؟ ” ” مالک صاحب ایک معصوم اور چھوٹی لڑکی ہے ۔۔ اس لیے بس ۔۔” ” لعنت ہو ۔۔” وہ غصے سے بولا۔” دیکھتے ہیں اب ۔۔ ہے کون ۔۔ اور ہمارے کس کام آسکتی ہے ۔۔” وہ کہتے ہوئے اندر کی طرف بڑھا اس کے قدم اسی کمرے کی جانے بڑھتے گئے جہاں پر وہ قید تھی۔ دروازہ کھلا تو وہ جھٹکا کھا کر سیدھی ہوئی اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھا۔ کیا یہی وہ شخص ہے جس کے لیے اسے اغوا کیا گیا ہے لیکن کیوں ؟؟ پیسے کے لیے؟ اس کے لیے تو حویلی والے چاونی بھی نہیں دیں گے۔۔۔
” مجھے یہاں کیوں لایا گیا ہے ؟” وہاس کی طرف دیکھتی سوال کر رہی تھی۔ ” میں زاران شاہ ہوں۔۔ “اس نے اپنا تعارف کروایا کہ شاید نام تو سنا ہی ہو گا ۔ کہ وہ ان کا خاندانی اور بہت پرانا دشمن ہے۔ لیکن وہ یوں ہی معصومیت اور سادگی سے اسے دیکھے گئی۔ “تمہارا نام ؟” ” میرا نام ۔۔ وردہ ہے ۔۔ ” وہ ڈرتے ڈرتے بولی۔ ” وردہ؟” اس کا مقصد اس کے باپ کا نام جاننا تھا۔ ” وردہ علی یار خان ۔۔” اس نے بتایا تو وہ ایک ابرو اچکائے طنزیہ انداز میں مسکرایا اس کے اندر پر وردہ کا دل مزید ڈوبا۔ “اچھا تو تم علی یار کی بیٹی ہو ؟” وہ ہنس دیا۔ ” آپ لوگ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں ۔۔” “ہم تمہیں یہاں اس لیے لائے ہیں کیوں کہ ہمارے بہت حساب نکلتے ہیں تمہاری طرف۔۔۔” وہ قدم قدم چلتا اس کے عین سامنے رکا اور دونوں ہاتھ اپنی پیٹھ پر باندھتا اس کی طرف جھکا تو وہ پیچھے کھسکی۔ وہ یک دم بری طرح ڈری تھی۔ ” میرے پاس پانچ ہزار روپے ہیں۔۔ میں سارے پیسے تمہیں دے دوں گی مجھے جانے دو۔۔” وہ سسکیاں لیتے بولی تو زاران شاہ پتھر ہوتا اسے دیکھنے لگا۔ پھر آنکھیں سکیڑیں۔” پانچ ہزار؟ ” ” جی ۔۔۔ پلیز مجھے جانے دیں میں اتنی مشکل سے جان بچا کر وہاں سے بھاگی اور آپ کے آدمیوں نے مجھے پکڑ لیا۔۔” وہ بہت غورسے اسکی بات سنتا سر ہلاتا رہا پھر اس کو چپ کرنے کا اشارہ کرتے سیدھا ہوا۔ ” اتنے سارے پیسے ۔۔ کہاں سے آئے” اس کی معصومیت کو دیکھتے زاران نے دلچپسی سے پوچھا۔ ” پلیز مجھے جانے دیں۔۔” وہ آنسو بھری آنکھوں سے اسے دیکھتی منت آمیز لہجے میں بولی۔ “شیر بانو کون ہے؟ ” ” حویلی کی ملازمہ ہے۔۔ ” اس نے کہا تو زاران نا سمجھی سے اسے دیکھے گیا۔ ” تو اس نے تمہیں اتنے سارے پیسے کیوں دیے۔۔” اسے یک دم اس لڑکی میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ ” اور یہ تھپڑ کا نشان کیسا ہے؟؟ کیا حویلی والے تم سے اچھا سلوک نہیں کرتے؟ ” وہ یک دم تجسس سے پوچھنے لگا یک دم ہی اس کا ذہن تیزی سے چلنے لگا تھا۔ ” نہیں ۔۔ کوئی بھی مجھ سے پیار نہیں کرتا ۔۔ نفرت کرتے ہیں مجھ سے ۔۔۔اس لیے شیر بانو نے کہا میں اپنے لیے کچھ کروں ۔۔ اور آدھے راستے میں ہی آپ لوگوں نے مجھے پکڑ لیا۔۔ میرے لیے تو وہ لوگ آپ لوگوں کو ایک روپیہ بھی نہیں دیں گے ۔۔ ” اس نے آخر میں اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا تو وہ چمکتی آنکھوں سے سامنے بیٹھے اپنے مہرے کو دیکھتا رہا۔ اس نے فوراً اپنا فون نکالا اور اس کے چہرے کی تصویر لی اس نے یہ اتنی ہو شیاری سے کیا کہ وردہ کچھ سمجھ ہی نہ سکی۔ ” یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟؟؟ ” ” میں وکیل ہوں۔۔۔۔ تم چاہو تو مجھے ہائیر کر سکتی ہو ۔۔ میں تمہیں حویلی والوں سے تمہارا حق دلاؤں گا اور تمہارے ساتھ ہوئی ساری نا انصافیوں کا بدلہ دلاؤں گا۔۔” ” لیکن کیسے؟۔۔۔ ” وہ بے یقینی سے پوچھ رہی تھی۔ ” کیوں کہ معصوم لڑکی! میں ایک وکیل بھی ہوں۔۔” اس نے وردہ کی معلومات میں اضافہ کیا تھا۔ ” اور آپ کی فیس ؟” وہ بھی میں لوں گا ۔۔ ” مسکرا کر اطلاع دی ” آرام کرواب! میں کل واپس آؤں گا۔۔ ” کہتے ہوئے وہ وہاں سے نکلا تو چہرہ متوقع فتح کی خوشی سے چمک رہا تھا۔ جبکہ وہ الجھی ہوئی بیٹھی تھی۔ اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا تھا۔ ” اس کا خیال رکھو۔۔۔۔ میں صبح اسے اسلام آباد شفٹ کر رہا ہوں۔۔۔ ” وہ کہہ رہا تھا اور اس کے آدمی حیرت میں گھرے اسے دیکھ رہے تھے۔ ” ک۔۔ کیوں مالک صاحب۔۔” ان میں سے ایک بولا ۔ “کیا مطلب کیوں شاید مالک کو لڑکی پسند آگئی ہے ۔۔ ” ایک نے دوسرے کے کانوں میں سرگوشی کی جس پر زاران نے اسے سخت گھوری سے نوازا تو وہ فور سہم کر ایک دوسرے آدمی کے پیچھے ہوا۔ ” جو کہا ہے وہ کرو ۔۔۔ زیادہ فضول باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ ” اس نے سختی سے انھیں جھڑکا اور باہر کی طرف بڑھنے لگا۔ وہ سب اسے الجھن بھری نظروں سے جاتے ہوئے دیکھتے رہے ” میں تو صحیح کہہ رہا ہوں مالک کو پسند آگئی ہے ۔۔ ” ” حالت دیکھی ہے اس کی تم نے؟ پسند کرنے لائق کچھ ہے مالک صاحب کے ۔۔ کہاں ایسی دبلی پتلی پرانے کپڑے پہنے ہوئی لڑکی اور کہاں ہمارے مالک صاحب ۔۔” ” بات تو ٹھیک ہے۔۔” وہ کہہ رہا تھا اور اندر وہ ٹکٹکی باندھے چھت پر گھومتے پنکھے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Sazish E Dill By Umme Hani is a captivating Urdu billionaire romance that blends revenge, family rivalry, emotional love, and unexpected twists into one unforgettable story. The novel follows Warda, an innocent young girl who grows up neglected and unloved in Khan Haveli because of her parents’ past. Hoping to escape a life of cruelty and humiliation, she runs away, only to fall into the hands of Zaran Shah, the greatest enemy of her family.
What begins as a kidnapping soon turns into a dangerous game of revenge, hidden secrets, and emotional conflicts. Instead of harming Warda, Zaran discovers the painful reality of her life and realizes she may become the key to settling old family scores. As emotions begin to replace hatred, both characters find themselves trapped between revenge, trust, and an unexpected bond that neither of them ever imagined.
Filled with suspense, family politics, emotional drama, a powerful billionaire hero, and an innocent heroine, Sazish E Dill keeps readers engaged with every chapter. If you enjoy Urdu novels featuring enemies to lovers, revenge, emotional romance, rich heroes, and gripping family drama, this novel is a perfect choice.
Read Sazish E Dill By Umme Hani online only on Novelistan and enjoy every episode of this emotional Urdu romantic novel.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕