Mehromi By CUM Novel20779
Mehromi By CUM Novel20779
Billionaire Romance | Mafia Romance | Enemy To Lovers | Kidnapping Romance | Forced Proximity | Revenge Romance | Possessive Hero | Hidden Identity | Romantic Urdu Novels | Complete Urdu Novels

Mehromi By CUM – A Dark Mafia Romance Urdu Novel
بھوک سے بے حال وہ آدھی رات اس انجان گھر میں کودی تھی ۔اسے بھاگتے ہوئے اور مبین عالم کے بندوں سے چھپتے دو دن ہوچکے تھے۔ زخمی پیروں سے کچن کی کھڑکی سے وہ اندر داخل ہوئی۔۔ عالیشان کچن خالی تھا ۔اس نے فریج کھولا تو دو دن بعد کھانا دیکھتے آنکھیں چمکنے لگیں۔ سامنے فرائڈ کباب رکھے ۔وہ جلدی سے نکال کر ٹھنڈے کھانے لگی جب اپنے پیچھے آہٹ محسوس کرتے پلٹی اور سانس روک گئی۔ “کھالو۔۔ کیونکہ جب میں پوچھ گچھ کروں گا تو جسم میں طاقت تو ہونی چاہیے” اس کے پیچھے کسرتی جسم لیے شرٹ لیس کھڑا نوجوان کوئی اور نہیں مبین عالم ہی تھا۔ پر دونوں ایک دوسرے کی پہچان سے لاعلم تھے۔”میں چور۔۔نہیں ہوں بس بھوک لگ رہی تھی۔۔میں مرنے والی تھی” وہ روتی اپنی صفائی میں کہتی خوف بھلائے پھر کباب کھانے لگی جب کہ مبین کے سفاک چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔۔۔۔
“پکڑو اس لڑکی کو اگر وہ ہاتھ نا لگی تو سر ہمیں چھوڑیں گے نہیں ۔” کالی گھنی سیاہ رات کی سنسان سڑک جہاں پر صرف کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آ رہی تھیں ۔چار ہٹے کٹے مبین عالم کے بندے بندوق تانے ایک لڑکی کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ “وہ رہی ۔۔۔”ایک آدمی زور سے چلایا اور اس کے اشارہ کرنے پر سب اس لڑکی کے پیچھے بھاگے ۔ “آہ ۔۔۔”پچھلے آدھے گھنٹے سے مسلسل وہ بھاگ رہی تھی۔ سانس بری طرح پھولا ہوا تھا۔
رات کا وقت تھا ۔ وہ اپنی دوست کے گھر سے نکلی تھی کہ نا جانے کہاں سے مبین عالم کے لوگ اس کے پیچھے پڑ گۓ۔ اچانک ایک ٹرک کی ہیڈ لائٹس کی روشنی پڑنے پر میرب کی آنکھیں چندھیا گئیں ۔
میرب نے فورا اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھا ۔ جیسے ہی وہ ٹرک مبین عالم کے آدمیوں اور میرب کے بیچ میں پہنچا میرب اس کا فائدہ اٹھاتی ایک گلی میں مڑ گئ ۔” کہاں گئ وہ ۔۔۔ “ان میں سے ایک آدمی غصے سے چلایا ۔ “فکر مت کرو وہ کافی دیر سے بھاگ رہی ہے ۔ تھک گئ ہو گی ۔ زیادہ دور نہیں گئ ہو گی چلو ڈھونڈتے ہیں اسے۔” یہ کہ کر وہ لوگ آگے کی طرف بھاگے جبکہ میرب ایک ڈرم سے لگی اپنی سانس بحال کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ اسے رہ رہ کر خود پر غصہ آ رہا تھا۔ اس کے بابا نے اسے مبین عالم سے خبردار رہنے کو کہا تھا جو کہ ان کا دشمن تھا مگر اس نے اپنے بابا کی بات کو سنجیدہ نا لے کر بہت بڑی غلطی کر دی تھی ۔” اب میں یہاں سے کیسے نکلوں؟ ” میرب پریشانی سے ادھر ادھر دیکھتے گھبراۓ ہوۓ لہجے میں بڑبڑایئ۔ اس کی آواز اس قدر دھیمی تھی کہ شاید اسے خود بھی سنائ نا دی ہو۔ “بابا پلیز مجھے بچا لیں ۔” کئ آنسو ٹوٹ کر اس کے چہرے پر گر پڑے ۔ ابھی وہ آہستہ سے وہاں سے نکلنے ہی لگی تھی کہ اس کے پیچھے موجود کوڑے کا ڈرم جس کا وہ سہارا لے کر کھڑی تھی وزن رکھنے کی وجہ سے لڑھک گیا۔ ڈرم کے گرنے کی آواز اس قدر زور سے گونجی کہ مبین عالم کے آدمی فورا سے اس طرف بھاگے۔ “اس گلی میں ہے وہ لڑکی ۔” میرب کو ان کے قدموں کی چاپ تیزی سے اپنے قریب آتی سنائ دے رہی تھی ۔ وہ اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹنے لگی ۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے اچانک اس کی نظر دیوار پر پڑی ۔ یقینا وہ ایک گھر کی پچھلی سائیڈ پر تھی ۔ان آدمیوں کے قدموں کی آواز قریب تر ہوتی جا رہی تھی ، ساتھ ہی اس کے دل کی دھڑکن بھی خوف کے مارے لرز رہی تھی ۔ اگلے ہی لمحے اس کے دماغ میں ایک خیال آیا جس پر وہ عمل درآمد کرتی اسی کوڑے کے ڈرم کو سیدھا کر کے اس پر چڑھتی مبین عالم کے لوگوں سے بچنے کے لیے دیوار پھلانگ کر ایک انجان گھر میں کود گئ۔
“آہ ۔۔۔کہاں گئ وہ ؟ اب ہم کیا جواب دیں گے سر کو ؟” وہ چاروں آدمی پریشانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے ۔” ہو سکتا ہے وہ مین روڈ کی طرف گئ ہو ۔ چل کر دیکھتے ہیں ۔” ان کے ایک ساتھی کی تجویز پر وہ سب مین روڈ کی طرف بھاگے کیونکہ اس کے علاؤہ ان کے پاس کوئ دوسرا آپشن نہیں تھا ۔
میرب جو دیوار پھلانگ کر کودی تھی ، ایک لان میں گھٹنوں کے بل گری رات کی تاریکی میں گہرے گہرے سانس لے رہی تھی ۔ اتنی دیر سے بھاگتے بھاگتے اسے بری طرح پیاس لگی ہوئ تھی ۔ وہ دبے قدموں لان سے ہوتی گھر کے اندر داخل ہوئی ۔ ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔ یقینا اس گھر کے مکین نیند کی وادیوں میں گم تھے ۔ میرب آہستہ آہستہ بغیر آواز پیدا کیے دیواروں کو ٹٹول کر سوئچ بورڈ ڈھونڈ رہی تھی جب اچانک اسے ایک جگہ پر بہت سارے بٹن محسوس ہوۓ ۔ یقینا وہ سوئچ بورڈ تھا ۔ اس نے ایک بٹن دبایا جس سے پورا لاؤنج روشن ہو گیا ۔ “میرب تو بھی نا ایک نمبر کی گدھی ہے ۔” میرب ہڑبڑا کر بٹن واپس سے بند کرتی ہاتھوں کے ذریعے چیزوں کو محسوس کرتی آگے بڑھ رہی تھی کہ اسے ایک جگہ سے ہلکی سی روشنی محسوس ہوئ ۔ میرب نے اس روشنی کا پیچھا کیا ۔ وہ کچن کی کھڑکی تھی جہاں باہر سے ہلکی سی روشنی آ رہی تھی ۔ میرب فورا کچن میں داخل ہوئ اور جیسے ہی پانی پینے کے لیے فریج کھولا سامنے چکن روسٹ دیکھ کر اس کی بھوک چمک اٹھی تھی ۔ وہ بھول گئ تھی کہ وہ کہاں کھڑی ہے اور کس قدر مشکل میں ہے ۔ کھانے کو دیکھ کر میرب کے دماغ کی بتی بند ہو جاتی تھی ۔ “اللہ جی مجھے بھوک لگی ہے بس تھوڑا سا کھاؤں گی یہ چوری تھوڑی نا ہوئ ۔ ” میرب خود کو یقین دلاتی بڑا سا لیگ پیس اٹھاۓ مزے سے کھانے لگی۔” کولڈ رنک چاہیے ؟ ” اچانک کچن میں ایک گھمبیر آواز گونجی ۔” ارے ہاں کولڈرنک کے بنا کیا مزہ ۔ ” میرب اپنی دھن میں بولتی جھٹکے سے پیچھے مڑی ۔کسرتی جسم پر شرٹ ندارد بلیک رنگ کا ٹراؤزر پہنے بھوری آنکھوں میں غصیلے تاثرات لیے سامنے ایک خوبصورت نوجوان کھڑا تھا جو اس وقت میرب کو خوبصورت نہیں بلکہ خوفصورت لگ رہا تھا ۔” آپ کک؟؟ کون ؟” میرب خوف سے بری طرح ہکلائ ۔” یہ سوال تو میرا ہونا چاہیے ۔ کون ہو تم ؟” مقابل نے سیاہ رنگ کے سادہ سے سوٹ میں کھڑی لڑکی کو گھورتے ہوۓ غصے سے پوچھا۔ “مم میں؟ ” میرب نے اپنی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوۓ پوچھا۔ “وہ کچھ لوگ میرے پیچھے پڑے تھے ان سے بچنے کے لیے میں آپ کے گھر میں گھسی ہوں ورنہ وہ مجھے اسی جہنم میں واپس پھینک دیتے جہاں میں جانا نہیں چاہتی۔ ” میرب نے فورا سے اپنے دماغ میں کہانی بنی جو اس نے ابھی ہال ہی میں مشہور ڈرامے میں دیکھی تھی۔” کون لوگ ؟ ” مقابل نے مشکوک نظروں سے اس سیاہ آنکھوں والی لڑکی کو دیکھ کر پوچھا۔ “میری چچی نے مجھے کوٹھے پر بیچ دیا تھا بہت مشکل سے میں تمنا بائ کے کوٹھے سے بھاگ نکلی مگر اس کے آدمی میرے پیچھے پڑے ہوئے تھے اور میں دوبارہ اس گندگی میں جانے سے بچنے کے لیے آپ کے گھر میں کود گئ ۔ پلیز میری مدد کیجیے ۔ میں رات کے اس پہر کہاں جاؤں گی۔ ” میرب بلک بلک کر روتی اپنی کہانی اسے سنانے لگی۔ اگر وہ مبین عالم کے بندوں کا نام لیتی تو یقینا وہ اس کی مدد نا کرتا کیونکہ مبین عالم کے نام سے پورا شہر خوف کھاتا تھا اسی لیے اس نے جھوٹی کہانی گڑھی۔ “نام کیا ہے تمہارا؟” ایک اور سوال پوچھا گیا۔ “مم۔۔مریم ۔”
“ٹھیک ہے تم یہاں رہ سکتی ہو مگر تمہاری کہانی اگر جھوٹ نکلی تو تمہارا انجام بہت برا ہوگا ۔” مقابل کی غصے سے سرخ آنکھوں کو دیکھتے میرب کو خوف سا محسوس ہوا ۔” اوپر لیفٹ سائڈ پر گیسٹ روم ہے وہاں چلی جاؤ۔” وہ کہ کر جانے لگا کہ میرب کی آواز پر رک گیا۔ “آپ کو میرے گھر میں گھسنے کا کیسے پتہ چلا۔ “میرب نے پٹپٹاتی آنکھوں سے پوچھا۔ “جب چور پورے لاؤنج کو روشن کردے تو گھر والوں کو کیا محلے والوں کو بھی پتا چل جاۓ۔ اب کمرے میں جاؤ اور کوئ الٹی حرکت مت کرنا ۔ ” اس کی بات پر میرب سر ہلاتی کمرے کی طرف بڑھ گئ۔
مبین عالم تازی ہوا کھانے لان میں آیا جب اچانک اس کے چاروں آدمی سر جھکاۓ گھر میں داخل ہوۓ۔ “کیا خبر ہے اسلم اس کمینے کی بیٹی ملی یا نہیں ؟” مبین عالم نے سرد لہجے میں ان میں سے ایک سے پوچھا۔” سر ہم نے اسے پکڑنے کی بہت کوشش کی مگر وہ چکمہ دے کر بھاگ گئ۔” اسلم نے سر جھکائے جواب دیا۔” تم لوگوں سے ایک کام ڈھنگ کا نہیں ہوتا ۔ مجھے وہ لڑکی ہر حال میں چاہیے سمجھے تم؟” مبین عالم نے اسلم کا گریبان پکڑتے غصے سے غراتے ہوۓ کہا۔ “جج جی سر ہم پوری کوشش کریں گے اسے ڈھونڈنے کی ۔” اسلم نے گھبراتے ہوئے کہا ۔ “کوشش نہیں مجھے وہ لڑکی ہر حال میں چاہیے۔ اب دفع ہو جاؤ اور جب تک وہ لڑکی نا ملے میرے سامنے مت آنا ۔”مبین عالم کی دھاڑ پر وہ چاروں سر جھکاۓ وہاں سے نکل گۓ۔ میرب نہیں جانتی تھی کہ جس سے بچنے کے لیے وہ بھاگی تھی قسمت نے اسے اسی شخص کے گھر میں پناہ دی تھی۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕