Meri Chahat Tu By AS Novel20775
Possessive Hero Romance | Forced Marriage | Protective Husband | Family Drama | Emotional Romance | Second Chance Love | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel

Read Meri Chahat Tu By AS Complete Urdu Romantic Novel Online on Novelistan.
ہاسپٹل آ کر اسے پتہ چلا تھا کہ جو چوٹ اسے نظر آرہی تھی وہ تو بہت کم تھی مہرین کے جسم پر تو بے تحاشہ زخموں کے نشان تھے اور یہ بات ڈاکٹر نے اسے بتائی تھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کے گھر والے اس قدر ظالم ہو سکتے ہیں اسے اندازہ نہیں تھا ڈاکٹر اس کی دوست تھی اسی لیے ہاسپٹل میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا ڈاکٹر کے بتانے کے مطابق ساری میڈیسن لے کر علی یار مہرین کو لے لیے ہاسپٹل سے باہر نکلا گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے پھر سے وہی سوال کیا تھا جب وہ گھر میں بھی اس سے پوچھ چکا تھا لیکن مہرین اس مرتبہ بھی جھوٹ بولنے کی کوشش کی تھی۔۔
” چپ ایک دم چپ اب اگر تم نے مجھ سے جھوٹ بولا تو تو اچھا نہیں ہوگا اسی لیے مجھے سچ سچ بتائیں کہ کیا ہوا تھا اس رات ورنہ ۔۔” علی یار اس قدر غصے میں تھا کہ مہرین پھر اسے دیکھ کر خوفزدہ ہو گئی تھی ڈرتے ڈرتے اس نے سچ بتا دیا تھا عمارہ تو ایسا کر سکتی تھی لیکن اسے اپنی ماں پر یقین نہیں ہو رہا تھا کہ وہ اتنی ظالم کیسے ہو سکتی ہیں گھر پہنچتے ہی اس نے غصے سے گاڑی کو بریک لگائی تھی دوسری طرف سے مہرین کو بنا کچھ بولنے کا موقع دیا اس نے دوبارہ سے اسے اپنے بازو میں اٹھایا تھا حال میں سب لوگ ان کے منتظر تھے علی یار نے اسے صوفے پر بٹھایا تھا اور خود چلتا ہوا عمارہ کے قریب آیا کہ انہیں دیکھ کر پہلے ہی اندر تک جل بھن گئی تھی۔۔
علی یار نے اس کے قریب جاتے ہی ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پر مارا تھا جب عمارہ منہ کی بل زمین پر گری ۔۔” تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی پر ہاتھ اٹھانے کی اگر تم ایک لڑکی نہ ہوتی تو تمہیں میں زندہ زمین میں گاڑ دیتا اس گھر میں جتنے بھی لوگ موجود ہیں سب لوگ کان کھول کر سن لیں اگر کسی نے بھی میری بیوی پر ہاتھ اٹھانا تو دور کی بات ہے اس پر انگلی بھی اٹھائی تو میں سب کچھ بھول جاؤں گا کہ کس سے میرا کیا رشتہ ہے ۔۔”علی یار نے اپنی ماں کے سامنے جاتے ہوئے انہیں بھی یہ بات جتا دی تھی کہ وہ سب کچھ جان چکا ہے اور اب اگر اگلی بار اس کی ماں نے ایسا کچھ کیا تو وہ ان کے رشتے کا بھی لحاظ نہیں کرے گا۔۔
“خبردار کوئی بھی اس کے قریب نہیں جائے گا اور اگر میں نے کسی کو اس کے اس پاس دیکھا تو اپنی موت کا ذمہ دار وہ خود ہوگا ۔۔۔” سب لوگ اپنی اپنی جگہ سن کھڑے رہ گئے تھے علی یار تو غصے میں شہریار سے بھی بہت آگے تھا اور اگر علی یار اس لڑکی کے سامنے کھڑا تھا تو پھر تو اسے نقصان پہنچا ناممکن سی بات تھی ۔۔”مہرین حیرت سے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو اس کے لیے سب سے لڑ رہا تھا اس کے لہجے میں ہر چیز میں اسے شہریار نظر آتا تھا وہ بھی تو اس کے لیے اسی طرح سے سب سے لڑ جایا کرتا تھا علی یار کی ہر چیز سے اسے شہریار کی موجودگی کا احساس ہوتا تھا
اس کے کمرے میں اس کی خوشبو اس کا تحفظ دینا اور اس کے لیے سب سے لڑنا وہ بالکل ویسا ہی تو تھا تو کیا اس کی دعا قبول ہو گئی تھی اللہ نے اس کا شہریار اسے وآپس کر دیا تھا لیکن وہ تو اسے چھوڑ کر بہت دور چلا گیا تھا۔۔”مہرین کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے علی یار نے اسے دیکھتے ہی سب کو نظر انداز کیا اور اسے اٹھائیں اپنے کمرے میں چلا گیا پیچھے سب لوگ حیران پریشان اسے دیکھ رہے تھے ایک ہی دن میں پوری بازی پلٹ گئی تھی کل تک جس لڑکی کو وہ بے سہارا سمجھ کر گھر سے نکالنا چاہتے تھے آج اسی لڑکی کے پاس ایک مضبوط سہارا تھا ایک ایسا سہارا جس کے ہوتے ہوئے اس گھر سے نکالنا تو بہت دور کی بات ہے کوئی اس کے قریب بھی نہیں جا سکتا تھا۔۔۔۔
ـــــــــــــ”مجھے دی میں لگا دیتا ہوں دوا ” نہیں میں خود کر لوں گی ۔۔”علی یار نے ڈاکٹر کی دی ہوئی ساری دوا مہرو کو دے دی تھی اب بس ٹیوب لگانے رہ گئی تھی جو اس کے زخموں پر لگانے کے لیے ڈاکٹر نے کہا تھا علی یار کب سے اسے کہہ رہا تھا کہ وہ لگا دے گا کیونکہ وہ جانتا تھا ٹیوب اپنے کمر پر خود نہیں لگا سکتی لیکن وہ بھی اس کو ہاتھ میں پکڑے کب سے بیٹھی تھی ۔۔آپ نے یہ بات مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی کہ اماں جان اور عمارہ نے یہ سب کچھ کیا ہے ۔۔
” جن کا کوئی نہیں ہوتا ان کے ساتھ سب یہی کرتے ہیں یہ کوئی بڑی بات نہیں۔” تو کیا میں اتنا بڑا انسان آپ کو دکھائی نہیں دیتا کیا میں مر گیا ہوں جو آپ خود کو لاوارث سمجھ رہی ہیں جس کا جو دل کرے گا وہ وہی کرے گا ۔۔”مہرین کی یہ بات سن کر علی یار کو دوبارہ سے غصہ آگیا تھا اس نے غصے سے مہرین سے وہ چھینی تھی جو وہ کتنی دیر سے ہاتھ میں لئےبیٹھی تھی کمرے کی ساری لائٹس بند کر کے اس نے مہرو کو بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کیا تھا علی یار کو اپنے اس قدر قریب محسوس کرتے ہی مہرو کو ایسے لگ رہا تھا جیسے اس کا دل باہر آ جائے گا اس کی شرٹ سے آنے والی خوشبو مہرو کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی وہ شخص آہستہ آہستہ اسے اپنا عادی بنا رہا تھا وہ اس کی خوشبو محسوس کرنے میں اس قدر کھو گئی تھی کہ اسے اندازہ ہی نہیں ہوا
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی
1st Link
2nd Link
3rd Link
4th Link
Sazish E Dill By Umme Hani is a captivating Urdu billionaire romance that blends revenge, family rivalry, emotional love, and unexpected twists into one unforgettable story. The novel follows Warda, an innocent young girl who grows up neglected and unloved in Khan Haveli because of her parents’ past. Hoping to escape a life of cruelty and humiliation, she runs away, only to fall into the hands of Zaran Shah, the greatest enemy of her family.
What begins as a kidnapping soon turns into a dangerous game of revenge, hidden secrets, and emotional conflicts. Instead of harming Warda, Zaran discovers the painful reality of her life and realizes she may become the key to settling old family scores. As emotions begin to replace hatred, both characters find themselves trapped between revenge, trust, and an unexpected bond that neither of them ever imagined.
Filled with suspense, family politics, emotional drama, a powerful billionaire hero, and an innocent heroine, Sazish E Dill keeps readers engaged with every chapter. If you enjoy Urdu novels featuring enemies to lovers, revenge, emotional romance, rich heroes, and gripping family drama, this novel is a perfect choice.
Read Sazish E Dill By Umme Hani online only on Novelistan and enjoy every episode of this emotional Urdu romantic novel.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain,
to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕