Rooh E Dill By Momina Ahtisham Novel20783

Revenge Base Novel | Forced Marriage Base | Wani Based Novel | Romantic Urdu  Novel | Complete Novel

” مجھے صرف آپکی ہیوہ بہو ایک ہفتے کے لیے اپنے فلیٹ پر چاہیے ہم یہ خون بہا معاف کر دیں گے ” داور شاہ نے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوئے دلاور خان سے کہا جرگے میں موجود سب لوگ حیران ہوئے کیونکہ شاہ خاندان کی بیوہ کی شادی صرف اسکے شوہر کے بھائی سے ہی ہوتی تھی مگر اس وقت اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے ایک رات کے لیے اسے داؤد شاہ کے فلیٹ پر پہنچا دیا گیا ہانیہ ڈری سہمی سی کم عمر لڑکی تھی جسکو دیکھ کر وہ حیران ہوا پورے وجود پر نیلے نشان تھے جیسے اس پر ظلم ہوتا ہو اسنے جیسے ہی پردے گرائے تو اسکے وجود پر تین مردوں کے۔۔۔۔۔
جرگے کے وسط میں داور شاہ کے ان الفاظ نے جیسے وقت کو تھما دیا تھا۔ دلاور خان کے ماتھے پر پسینہ چمکنے لگا اور اس کے بیٹوں کی مٹھیاں بھینچ گئیں، مگر داور کے چہرے پر ایک فاتحانہ اور سنگدلانہ اطمینان تھا۔ اس نے ایک نظر وہاں موجود معتبرین پر ڈالی اور پھر اپنی ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر کرسی کی پشت سے ٹیک لگالی۔ چاروں طرف پھیلی گہری خاموشی میں صرف دلاور خان کی تیز سانسوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ خون بہا کے بدلے بیوہ بہو کی مانگ کوئی معمولی بات نہ تھی، یہ شاہ خاندان کی غیرت اور روایات کے منہ پر زور دار طمانچہ تھا، جہاں بیوہ کی شادی صرف خاندان کے اندر ہی کی جاتی تھی۔
مگر داور شاہ کی آنکھوں میں موجود بدلے کی آگ دیکھ کر سب پر یہ واضح ہو گیا تھا کہ آج اصولوں پر جان بچانے کی مجبوری بھاری پڑنے والی ہے۔ دلاور خان نے جھکی نظروں سے اپنے اس بیٹے کی طرف دیکھا جس کی جان کی قیمت یہ سودا تھا اور پھر لرزتی آواز میں صرف اتنا کہہ سکا، ” ہمیں منظور ہے۔۔۔۔” ہانیہ اپنے کمرے کے اندھیرے کونے میں گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی جب باہر مچنے والے شور اور بھاری قدموں کی چاپ نے اس کے دل کی دھڑکنیں تیز کر دیں۔
اسے کسی نے کچھ بتایا نہیں تھا، مگر فضا میں پھیلی منحوس خاموشی اور عورتوں کی سرگوشیاں اسے بتارہی تھیں کہ آج کچھ بہت برا ہونے والاہے۔ اچانک کمرے کا دروازہ دھاڑ سے کھلا اور اس کی ساس نے اندر داخل ہو کر اسے بازو سے سختی سے دبوچ کر کھڑا کر دیا۔ ہانیہ کی آنکھوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی جب اس نے دیکھا کہ اس کے سسرال والوں کے چہروں پر ہمدردی کے بجائے ایک عجیب سی بے حسی اور نفرت تھی۔ اس کے پوچھنے سے پہلے ہی اسے بتایا گیا کہ اسے ” بیچا ” جا چکا ہے اور اب اس کی حیثیت صرف ایک مہرے کی ہے جو ان کے خاندان کے لڑکے کی جان بچائے گی۔۔۔
ہانیہ نے گڑ گڑا کر دہائی دی، اپنے مرے ہوئے شوہر کا واسطہ دیا، لیکن دلاور خان کے بیٹوں نے اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور باہر کھڑی گاڑی کی طرف لے جانے لگے۔ اسے احساس ہو گیا تھا کہ جس گھر کو وہ اپنا سمجھتی تھی، وہاں وہ ہمیشہ وہ سے ایک اجنبی اور بوجھ ہی تھی جسے اب ایک سنگدل سودے کی نظر کیا جارہا تھا دلاور خان نے اپنے بیٹوں کی جانب اشارہ کیا تو انہوں نے بے حسی سے ہانیہ کو زبردستی گاڑی کی پچھلی نشست پر دھکیل دیا۔
دلاور خان کے چہرے پر ندامت کا ایک عکس تک نہ تھا، وہ بس دور کھڑے داور شاہ کی گاڑی کو دیکھ رہا تھا جس کا انجن اسٹارٹ ہو چکا تھا۔ اسے اپنے بیٹے کی زندگی عزیز تھی، اور اس قیمت پر ہانیہ کی زندگی یا عزت کی اس کی نظر میں کوئی اہمیت نہ تھی۔ اس نے ایک سرد نظر اپنی بہو پر ڈالی جو گاڑی کے شیشہ سے لرزتی آنکھوں اور پھیلے ہوئے کاجل کے ساتھ اپنے سسرال کو آخری بار دیکھ رہی تھی، مگر وہاں موجود کسی بھی شخص نے اسے بچانے کے لیے قدم آگے نہیں بڑھایا۔
جیسے ہی گاڑی کی رفتار بڑھی، دلاور خان نے ایک گہرا سانس لیا، جیسے اس کے سر سے کوئی بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو، حالانکہ اس سودے نے ان کی خاندانی غیرت کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا تھا گاڑی کے ٹائروں کی چرچراہٹ کے ساتھ ہی ہانیہ کا دل ڈوبنے لگا۔ وہ خاموشی سے گاڑی کی کھڑکی سے باہر تیزی سے پیچھے کی طرف بھاگتے ہوئے مناظر کو دیکھ رہی تھی جو اس کے لئے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھے۔ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ایک قید خانے سے نکل کر دوسرے، اور شاید پہلے سے زیادہ خطر ناک عقوبت خانے کی طرف جا رہی ہے۔
گاڑی میں چھائی بوجھل خاموشی اس کے اعصاب پر سوار تھی، جبکہ سامنے کی نشست پر بیٹھے داور شاہ کی موجودگی کا احساس اسے سہمے رہنے پر مجبور کر رہا تھا۔ اس نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے چادر کو مزید مضبوطی سے تھام لیا، جیسے وہ خود کو اس بے رحم دنیا سے چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی ہو۔ اسے اپنے سسرال کی بے حسی پر یقین نہیں آرہا تھا کہ کیسے انہوں نے اسے ایک اجنبی کے حوالے کر دیا، لیکن اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا، ہر گزرتے لمحے کے ساتھ وہ اپنی قسمت اور داور شاہ کے رحم و کرم کی طرف بڑھ رہی تھی۔
گاڑی ایک عالیشان عمارت کے سامنے آکر رکی تو ہانیہ کا دم گٹھنے لگا۔ داور شاہ نے سرد مہری سے اسے باہر نکلنے کا اشارہ کیا اور خاموشی سے لفٹ کی جانب بڑھ گیا۔ فلیٹ کے دروازے پر پہنچ کر جب داور نے لاک کھولا تو ہانیہ کے قدم وہیں جم گئے، اسے لگ رہا تھا کہ اس چوکھٹ کے پار اس کی زندگی کی سب سے کالی رات اس کا انتظار کر رہی ہے۔ اندر داخل ہوتے ہی فلیٹ کی چکاچوند روشنیوں اور مہنگے فرنیچر نے اسے متاثر کرنے کے بجائے مزید خوفزدہ کر دیا کیونکہ یہاں وہ بالکل اکیلی تھی اور سامنے وہ شخص تھا جس نے اسے ایک ہفتے کے لیے “مانگا” تھا۔
داور نے پیچھے مڑکر اسے دیکھا، اس کی نظریں ہانیہ کے لرزتے وجود کا جائزہ لے رہی تھیں، جبکہ ہانیہ نے ڈر کے مارے اپنی نظریں فرش میں گاڑھدیں، یہ سوچے بغیر کے اگلے ہی لمحے اس کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ آنے والا ہے۔ ہانیہ صوفے کے کونے میں سمٹ کر بیٹھ گئی، اس کی سسکیاں اب ہچکیوں میں بدل چکی تھیں اور اسے یقین تھا کہ داور شاہ اب اپنی اصلیت دکھائے گا۔ لیکن کمرے میں ایک دم سے خاموشی چھاگئی کیونکہ داور شاہ اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں تھا، وہ بس دور کھڑا سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
ہانیہ کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب فلیٹ کے دروازے پر دستک ہوئی اور داور نے جاکر ایک معمر شخص اور دو مردوں کو اندر آنے کا راستہ دیا جن کے ہاتھ میں رجسٹر اور قلم تھے۔ داور شاہ نے ہانیہ کے قریب آکر بہت ہی ٹھہرے ہوئے لیکن مضبوط لہجے میں کہا، ” میں تمہیں یہاں گناہ کے لیے نہیں، نکاح کے لیے لایا ہوں تاکہ تمہیں ان درندوں سے ہمیشہ کے لیے چھین سگوں تمہیں تحفظ کا ایک نام دے سکوں”۔۔۔ ہانیہ نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا، اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ جس شخص کو وہ اپنی بربادی کا سبب سمجھ رہی تھی، وہ اسے محرم بنانے کی بات کر رہا ہے۔
نکاح خواں نے رجسٹر کھولا اور گواہوں کی موجودگی میں ہانیہ کا نام اور ولدیت پکاری تو اسے لگا جیسے وہ خواب دیکھ رہی ہو۔ داور شاہ کے اس اچانک فیصلے نے اسے سکتے میں ڈال دیا تھا، لیکن اس کے لہجے کی سچائی نے ہانیہ کے دل میں تھوڑی سی جگہ بنائی۔ جب نکاح خواں نے اس سے اجازت مانگی، تو ہانیہ کی زبان ساکت تھی، مگر پھر اس نے اپنے سسرال کے وہ ظالم چہرے یاد کیے جو اسے یہاں مرنے کے لئے چھوڑ گئے تھے۔
اس نے کانپتے ہوئے لبوں سے “قبول ہے ” کہا اور اپنی زندگی کی باگ ڈور اس شخص کے ہاتھ میں دے دی جو چند لمحے پہلے تک اس کا دشمن تھا۔ نکاح مکمل ہوتے ہی جب داور نے دستخط کیے، تو ہانیہ کو محسوس ہوا جیسے اس کے گرد ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دی گئی ہے، جس کے پار اب دلاور خان کا کوئی بھی ظلم نہیں پہنچ سکے گا۔ نکاح کے گواہ اور نکاح خواں رخصت ہوئے تو فلیٹ میں ایک عجیب سی پراسرار خاموشی چھا گئی۔ ہانیہ ابھی تک صوفے پر پتھر بنی بیٹھی تھی، اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔۔

 

 

 

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

 

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *