Tera Sitamgar By Rania Mujahid 

Forced Marriage Base | Rude Hero Base | Emotional Drama |  Romantic Urdu Novel | Complete Novel 

” از میر بیٹا اٹھو وہ ملازمہ کی ڈلیوری کا وقت کے اسے ہسپتال لے جاؤ بیٹا ثواب ملے گا۔۔۔۔ ” انوشے کے کواٹر سے آوازیں سن کر بی جان کو اندازہ ہوا اسکا آخری وقت آگیا ہے ازمیر جو کئی ماہ بعد لندن سے واپس آیا تھا بی جان کی ضد پر جیسے ہی کواٹر میں پہنچا درد سے تڑپتی ملازمہ کو دیکھ کر جلدی سے بانہوں میں اٹھاتا ہسپتال لے گیا انوشے اتنے ماہ بعد اس ستمگر کو دیکھ کر موت کی آرزو کرنے لگی ” دیکھیں از میر صاحب ماں یا بچے میں سے کسی ایک کی جان ہی بیچ سکتی ہے ” ایک طرف اسکی محبوبہ دوسری طرف اسلا وارث وہ ڈاکٹر کو دھکا دیتا اندر گیا سب کو روم سے باہر نکال کر خود ہی اسکا بچہ۔۔

حویلی پر رات کا سیاہ لبادہ تنی ہوئی خاموشی کے ساتھ چھایا ہوا تھا اور بادلوں کی گرج چمک کسی آنے والے طوفان کا پتہ دے رہی تھی۔ از میر خان، جو لندن سے واپسی کے بعد ابھی تک اپنی حویلی کے ماحول میں خود کو ڈھال نہیں پایا تھا، لان کے اندھیرے گوشے میں اکیلا بیٹھا سگریٹ کے مرغولے اڑا رہا تھا کہ اچانک حویلی کے عقبی حصے میں بنے ملازموں کے کوارٹرز سے ایک ایسی دلخراش چیخ ابھری جس نے رات کا سکون غارت کر دیا۔

بی جان، جو اپنی تسبیح مکمل کر کے اٹھنے ہی والی تھیں، ہانپتی کانپتی دالان میں آئیں اور ازمیر کو پکارنے لگیں، ان کے چہرے پر خوف کی زردی پھیلی ہوئی تھی۔ “ازمیر! او ازمیر بیٹا! جلدی کر، انوشے کے کوارٹر سے آوازیں آ رہی ہیں، اللہ خیر کرے لگتا ہے اس کی ڈلیوری کا وقت آگیا ہے، شہر کے سارے مرد تو میٹنگ کے لیے نکل چکے ہیں اور ڈرائیور بھی شہر گیا ہوا ہے، ایسے میں اس بے بس لڑکی کو ہسپتال کون لے جائے گا؟ بیٹا یہ ثواب کا کام ہے، انسانیت کے ناطے ہی سہی اسے ہسپتال لے جا، اس کا کوئی سہارا نہیں ہے” بی جان نے لرزتے ہاتھوں سے ازمیر کا کندھا ہلایا۔۔۔

ازمیر نے ایک سرد آہ بھری، اس کے ذہن میں انوشے کا وہ چہرہ گھوم گیا جس کی وجہ سے وہ سالوں خود ساختہ جلاوطنی کاٹ کر آیا تھا، اس کے دل میں نفرت اور غصے کا ایک لاوا تڑپا مگر بی جان کی منت بھری نظروں نے اسے مجبور کر دیا۔ وہ بو جھل قدموں سے کوارٹر کی طرف بڑھا جہاں اندھیرے اور بدبو دار ماحول میں انوشے درد سے تڑپ رہی تھی، اس کا چہرہ آنسوؤں اور پسینے سے تر تھا اور وہ فرش پر پڑی اپنی زندگی کی آخری جنگ لڑ رہی تھی۔۔۔

از میر نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا، انوشے نے دھندلی نظروں سے اس ” ستمگر ” کو دیکھا اور اس کے تن بدن میں ایک جھرجھری دوڑ گئی، وہ ان تلخ یادوں کے بوجھ تلے دبنے لگی جو از میر نے اسے تحفے میں دی تھیں۔ “آپ۔۔۔ آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟ کیا میری موت کا تماشا دیکھنے آئے ہیں؟ اللہ کے لیے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں، مجھے آپ کا احسان نہیں ” انوشے نے ٹوٹتی آواز میں کہا مگر ازمیر کے چہرے پر پتھر جیسی سختی تھی۔ اس نے بغیر کچھ کہے جھک کر اسے اپنی مضبوط بانہوں میں اٹھایا، انوشے نے کمزور ہاتھوں سے اسے پیچھے دھکیلنا چاہا لیکن از میر کی گرفت فولادی تھی، وہ اسے اٹھائے تیزی سے گاڑی کی طرف بڑھا اور اسے پچھلی نشست پر منتقل کر کے ہسپتال کی طرف ہوا کے گھوڑے دوڑا دیے۔

بارش کی بوندیں اب گاڑی کے شیشوں پر ماتم کر رہی تھیں اور اندر انوشے کی سسکیاں ازمیر کے اعصاب پر ہتھوڑے برسا رہی تھیں۔ ہسپتال پہنچتے ہی صور تحال مزید گمبھیر ہوگئی، ڈاکٹر نے معائنے کے بعد باہر آکر ایک ایسا فیصلہ سنایا جس نے از میر کے پیروں تلے سے زمین نکال دی۔ ” دیکھیں ازمیر صاحب! کیس انتہائی پیچیدہ ہے، انوشے کی نبض ڈوب رہی ہے اور اس وقت ماں یا بچے میں سے کسی ایک کی جان ہی بچائی جاسکتی ہے، ہمیں فورا بتائیں کہ ہم کسے ترجیح دیں؟” ڈاکٹر کے سوال نے ازمیر کے اندر ایک جنگ چھیڑ دی، ایک طرف وہ انوشے تھی جس سے وہ محبت بھی کرتا تھا اور نفرت بھی، اور دوسری طرف اس کا وہ وارث جو اس کی نسل کا چراغ بننے والا تھا۔ از میر کی آنکھوں میں خون اتر آیا، اس نے ڈاکٹر کو گریبان سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ دے مارا۔۔

” میرا وارث اور وہ لڑکی دونوں زندہ بچنے چائیں، اگر کسی ایک کو بھی کچھ ہوا تو میں یہ شہر قبرستان بنا دوں گا! ” اس کا غصہ آسمان چھو رہا تھا، وہ نرسوں اور وارڈ بوائز کو دھکا دیتا ہوا زبردستی لیبر روم کے اندر داخل ہو گیا اور اندر سے دروازہ لاک کر دیا۔ وہاں موجود عملہ خوف سے پیچھے ہٹ گیا کیونکہ از میر خان کے ہاتھ میں اس وقت پستول چمک رہا تھا۔ “سب باہر نکلیں! مجھے یہاں کسی کی ضرورت نہیں، میں خود دیکھوں گا کہ میرا بچہ کیسے اس دنیا میں نہیں آتا؟؟”

اس نے گرج کر سب کو نکالا اور انوشے کے قریب جا بیٹھا جو زندگی اور موت کے دھاگے سے لٹکی ہوئی تھی۔ اس نے انوشے کا ٹھنڈا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اس کے کان میں سرگوشی کی، ” تمہیں مرنے کا حق بھی میں نے نہیں دیا انوشے،، تمہیں اور میرے بچے کو آج زندہ رہنا ہوگا یہ کہتے وہ خود ہی۔۔۔۔

 

1st Link  ↓

Download Link

2nd Link  ↓

Download Link

3rd Link  ↓

Download Link

4th Link  ↓

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *