Sukoon E Fajar By Haniya Meow Part 1-2 Novel20750
Sukoon E Fajar By Haniya Meow Part 1-2
Haveli Base | Love Story | Family Story | Islamic Base | Social Romantic Novel | Ongoing Novel
یہ سب کر کے تم کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہو۔۔؟”
غازیان نے سورج کی وجہ سے بلیک گلاس لگائی ہوئی تھی۔ کبیر کے چہرے کو دیکھتے ہوئے وہ شکوہ کر رہا تھا۔
” وہی جو تم مجھے سمجھتے ہو۔۔۔ ”
کبیر نے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور غازیان کی طرف آیا۔
” تمہیں کیا لگتا ہے ۔۔۔؟ اتنا سب کر کے تم مجھ سے بچ جاؤ گئے غازی۔۔۔؟ میں نے تمہیں ہمیشہ اپنا
بھائی سمجھا تھا۔ اور تم نے میرے ہی پیٹھ میں خنجر گھونپنا ۔۔۔” نے پیٹھ میں
کبیر کی آواز غصے سے کو نجی۔۔۔ وہ اس کے بلکل سامنے کھڑ ابول رہا تھا۔
غازیان اس کا یہ روایہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔۔۔ کبیر کا روپ ایک دم سے بدل گیا تھا۔ کبیر نے اس سے پہلے کبھی اس طرح بات نہیں کی تھی۔ وہ اس معاملے میں انا کولا کر سنگین بنارہا تھا۔
” کبیر میں نے تمہیں کبھی دھو کہ نہیں دیا۔۔ تم صرف ایک غلطی فہمی کی وجہ سے شروع اس لڑائی کو
کورٹ تک لیے آئے ہو۔ تم نفرت کو پال رہے ہو۔۔ جو تمہیں اندھا کر رہی ہے۔ ”
غازیان نے پرانی دوستی کے بھرم میں اس سے کہا تھا۔ لیکن دوسری طرف سے سارے بھرم ، مان ، کب کے ختم ہو چکے تھے۔
” جیسے تم عینی کے مصوم چہرے کو دیکھ کر اندھے ہوئے تھے۔۔۔”
کبیر نے زہر آلود لہجے میں کھاٹ دار الفاظ بولے، غازیان کے پاس اسکا جواب نہیں تھا۔
” عینی نے کہا کبیر گھٹیا ہے اور تم نے مان لیا۔۔۔ تو اب جب میں گھٹیا پن رہا ہو تکلیف کیوں ہو رہی ہے۔
“؟
“میری غلطی ہے، تم پر یقین نہیں کیا۔۔ غازیان نرم پڑا۔
اپنے جھوٹوں کو کسی اور کے لئے بچاؤں، مجھ پر اثر نہیں کرنے والے یہ۔۔۔ اور میں اس وقت تک
آرام سے نہیں بیٹھو گا جب تک تمہیں ذلیل نہ کر لو۔۔ ”
کبیر نے اپنی شہادت کی انگلی سے غازیان کے سینے پر دستک دیتے دھمکی دی۔
انتقام لیے کر تمہیں سکون مل جائے گا۔ “؟
غازیان نے عام سے انداز میں کہا۔
ان سب باتوں کیلئے بہت دیر ہو گئی ہے غازی … تم نے اپنا انتخاب کیا، اب نتائج کا سامنا کروں۔۔۔” کبیر پر اس کے نرم پڑنے کا ایک لمحے کو اثر ہوا۔ غازیاں اس کا بہترین دوست کے روپ میں بھائی تھا۔
مگر عینی نے دونوں میں نفرت کی ایسی آگ لگائی تھی۔ جس میں وہ خود بھی ساتھ برابر کی جھلسی تھی۔
” میں نہیں جانتا تمہیں یہ سب کر کے کیا مل رہا ہے۔ لیکن میں تمہیں ہماری دوستی اور میرے خاندان
کو نقصان نہیں پہنچانے دوں گا۔”
مد مقابل بھی غازیان تھا۔ جب جنگ شروع ہوئی گئی تھی تو پیچھے ہٹنے والا نہیں تھا۔
کونسی دوستی ۔۔۔۔؟ کبیر نے شیطانی قہقہ لگایا۔
اور تمہارے قیمتی خاندان کو تو میں بخشنے والا نہیں۔ جہاں تمہیں سب سے زیادہ تکلیف ہو گئی میں تمہیں وہاں مارو گا۔ بہت ہو گیا تمہار گیم ، اب بس۔۔”
کبیر ایک ہاتھ سے کوٹ کا بٹن بند کرتے غازیان کی آنکھوں میں نفرت سے دیکھا۔
1st Link ↓
Download Link
2nd Link ↓
Download Link
3rd Link ↓
Download Link
4th Link ↓
Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕