Mann Mayal By Dia Novels Novel20762
Office Romance | Boss & Employee | Emotional Romance | Workplace Romance | Slow Burn Love Story | Family Drama | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel

” باس کے نام پر دھبہ ہے یہ ہاشم خانزادہ تین چھٹیوں پر مجھے ایسے ذلیل کیا اس الو نے جیسے پوری کپنی میرے کندھوں پر چل رہی ہے اور تم کہہ رہی ہو کہ سر بہت ہینڈسم لگ رہے ہیں؟؟؟ ” نوال غصے میں سحر سے کہہ رہی تھی ۔ جو اسے پلٹنے کا اشارہ کر رہی تھی۔ ” اس کھڑوس کو تو۔۔۔۔ وہ پلٹی ہی تھی کے باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔ پیچھے کھڑا ہاشم خانزادہ نوال کو گھور رہا تھا۔ وہ لب کاٹتی چہرہ چھپا گئی تھی ۔ پر آفس پارٹی میں اس کے نوخیز حسن نے ہاشم کو چونکا دیا۔۔۔” آپ مجھ سے شادی کریں گی مس نوال؟ ” ہاشم کے پروپوزل پر اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔۔۔۔” سر آپ ہوش میں تو ہیں میریڈ ہو کے ایسی بات کر رہے ہیں؟؟ ” میریڈ ہوں پر میری بیوی کے اندر کچھ پیچیدگیاں ہیں میں اس قربت نہیں قائم کر سکتا۔” ہاشم کی اس کھلی بات پر نوال شرم سے سرخ ہو گئی پر پہلی رات ہی ہاشم نے اپنی ساری شدتیں اسکی ناز لڑکی میں انڈیلیں۔۔۔۔۔
” سر میں نے جو دس لاکھ کا لون لیا تھا میں اپنی سیلری میں سے ہر مہینے کٹ کرواتی رہوں گی۔” ہاشم اس کی طرف دیکھ کر دونوں بازوں سینے پر باندھ کر کہنے لگا ” مس نوال آپ کی سیلری ستر ہزار ہے اگر آپ مہینے کے بیس ہزار بھی کٹ کروائیں گی تو نہ جانے کتنے سال لگ جائیں گے۔بہر حال اگر آپ چاہیں تو میں آپ کی یہ رقم معاف بھی کر سکتا ہوں۔” اس کی یہ بات سن کر نوال نے سر اٹھایا تھا۔ کہنے لگی۔۔ ” کہ کیا مطلب ہے آپ کا صرف؟” ” مس نوال کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟۔۔۔۔ ” اتنے امیر بزنس ٹائیکون کے منہ سے یہ الفاظ سن کر وہ بھونچکا کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
سٹپٹا کر فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔ “سر۔۔۔۔۔سر یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟؟ ” ” ہوش و حواس میں ہوں اور آپ کو یہ بات بھی کلیئر کرنا چاہتا ہوں کہ میں پہلے سے شادی شدہ ہوں۔ میری ایک بیوی ہے جو کہ کچھ ایسی پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا ہے کہ مجھے میرا حق دے ہی نہیں سکتی نہ ہی میں بچے اس سے پیدا کروا سکتا ہوں اور میری امو جان بار بار مجھ پر دباؤ ڈالتی ہیں کہ میں انہیں خوشیاں حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی بستر پر ہی ہوتی ہیں اور اس وقت مجھے آپ سے زیادہ اچھی نیچر کی لڑکی کوئی اور ملی نہیں۔ کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟۔۔۔۔” نوال تو فوراً دو قدم پیچھے ہٹا چکی تھی۔
اس کی آنکھوں میں آنسو آچکے تھے۔ ” ہر گز نہیں میں نے کبھی آپ جیسے شخص سے شادی کرنے کا نہیں سوچا تھا جو پہلے سے شادی شدہ ہو۔ میں تو ابھی بالکل جوان جہان کنواری ہوں بھلا آپ جیسے شادی شدہ شخص سے شادی کیسے کر سکتی ہوں؟؟ ” ہاشم کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آئی تھی۔ اب وہ اس معصوم لڑکی کو کیا بتاتا کہ وہ خود بھی ابھی تک کنوارا ہی ہے شادی کو اتنے سال گزر چکے تھے لیکن وہ ابھی تک پریشے کے قریب گیا ہی نہیں تھا۔۔۔
” ٹھیک ہے مس نوال آپ کے پاس سوچنے کا وقت ہے اگر آپ مجھ سے شادی میں دلچسپی رکھتی ہیں تو مجھے بتا دیجیے گا۔ اب آپ جا سکتی ہیں۔۔۔” نوال واپس آگئی تھی۔ اس کی سہیلی بار بار اس سے پوچھ رہی تھی کہ اندر کیا بات ہوئی؟؟ آج تو باس کے آفس میں کچھ زیادہ ہی دیر لگ گئی تمہاری لیکن وہ کچھ بول ہی نہ پائی تھی۔ اس شام جب گھر گئی تو سامنے اس کی پھوپھو بیٹھی ہوئیں تھیں۔ اس کے باپ کی عیادت کو آئیں تھیں اور ساتھ باتوں ہی باتوں میں کہنے لگیں۔۔۔
” بھائی صاحب ایک ہی تو بیٹا ہے میرا اور آپ کی بھی صحت ٹھیک نہیں رہتی میں چاہتی ہوں کہ نوال بیٹی کا رشتہ اپنے جواد کے ساتھ طے کر دوں۔ گھر میں تو کوئی مرد ہے نہیں اور آپ بھی بستر پر ہو اس لیے میں سوچ رہی تھی کہ جواد کو آپ گھر داماد بنا کر ہی رکھ لو۔ ہمارے گھر اس کے بعد میں اور میرا شوہر ہی رہ جائیں گے ویسے بھی اس گھر پہ ہمارا بھی تو حق ہے اس لیے ہم بھی یہیں پر آجائیں گے۔ بھابھی کو بھی سہارا ہو جائے گا۔ مل جل کر سب ساتھ رہیں گے۔ آج کل کے حالات تو ویسے ہی نہیں ٹھیک جوان جہان بچیاں ہیں آپ کی اور آپ بستر پر۔ گھر میں مردوں کا ہونا تو ضروری ہے نا۔ آج کل اونچ نیچ ہو جائے تو کچھ پتہ نہیں چلتا۔” نوال کے قدم تو وہیں پر رک چکے تھے۔۔
اپنی چالاک پھوپھو کی باتیں سن کر اسے شدید غصہ آنے لگا تھا جو اپنے ان پڑھ نکٹو اور بےروزگار بیٹے کو یوں اس کے ساتھ باندھنے کی کوشش کر رہیں تھیں اور یہ گھر بھی کسی نہ کسی طرح اس کے نام کروانا چاہ رہیں تھیں۔ حسن صاحب تو اپنی بہن کی طرف سے یہ بات سن کر گویا ماننے ہی والے تھے آخر کو وہ بھی بھائی تھے بہن کی چالاکیوں سے کہاں ہی واقف تھے؟؟ ان کے جاتے ہی جب حسن صاحب نے اپنی بیٹی سے یہ بات کی کہ ” بیٹا میں تمہارا رشتہ جواد سے طے کرناچاہتا ہوں۔۔” تو وہ فوراً ہتھے سے اکھڑ چکی تھی۔
” ہر گز نہیں بابا میں اتنی پڑھی لکھی لڑکی ہوں کیا اس لیے میں نے پڑھائی کی اپنے قدموں پر کھڑی ہوئی تاکہ وقت آنے پر اس جیسے بے روزگار نکٹو سے شادی کر لوں اور بعد میں شادی کے بعد اس کو اور پھوپھو لوگوں کو بھی میں ہی کما کر سنبھالتی پھروں؟؟ ہر گز نہیں میں ایسے شخص سے کھی بھی شادی نہیں کرنے والی۔” حسن صاحب اپنی بیٹی کی یہ بات سن کر چپ ہو چکے تھے۔
ربیعہ بیگم فوراً سے کہنے لگی کہ ” بیٹا آج کل رشتے ملنا بہت مشکل ہو گئے ہیں۔۔۔۔ کیا ہو گیا تمہاری پھوپھو ہی تو ہیں اگر اس گھر میں آکر رہنا شروع ہو جائیں گی تو کیا ہے؟؟؟” وہ تو ان ماؤں میں سے تھی کہ بس جو پہلا رشتہ آئے بیٹی کو وقت سے پہلے ہی بیاہ دیا جائے کہ کہیں اس کی عمر ہی نہ گزر جائے لیکن نوال سر پکڑ کر رہ چکی تھی۔بار بار اس کے ماں باپ دباؤ ڈالنے لگے تھے لیکن وہ پھوپھو کو کبھی بھی اس گھر پر قابض نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔۔۔
اس کے ماں باپ جتنے سادہ طبیعت کے ہیں۔ اس کے پھوپھو، پھوپھا اور جواد اتنے ہی چال باز تھے۔ یہی سوچتے ہوئے اسے فوراً ہاشم کا خیال آیا تھا۔ ہاشم جس طرح اسے پرپوز کر رہا تھا یہ سوچ کر ہی وہ چپ ہوچکی تھی۔ دو دن لگے تھے اسے فیصلہ کرنے میں اور پھر جب وہ دوبارہ واپس گئی تھی تو ہاشم اپنے آفس میں ہی تھا۔ جیسے تیسے ہمت جمع کر کے وہ خود اس کے آفس میں گئی تھی۔ اسے ایسا کہتے ہوئے شدید شرم بھی محسوس ہو رہی تھی لیکن اس کے خاندان کے لڑکوں سے تو اچھا اسے ہاشم ہی لگ رہا تھا۔ اگر وہ اس سے شادی کر لیتی تو ایک سمجھوتہ ہی سہی لیکن کم از کم اس کے ماں باپ کی زندگی تو پر سکون ہوجاتی اور وہ جاب بھی کرتی رہتی اپنے گھر والوں کو سپورٹ کرنے کے لیے۔
ہاشم نے جب اسے اپنے آفس میں دیکھا تو فوراً چہرے پر ایک رونق لگا کے بیٹھ گیا۔ ” مس نوال آئیے۔” وہ اپنے آئی برو چڑھاتے ہوئے کہنے لگی کہ ” نہیں سر میں پیٹھنے نہیں آئی وہ مجھے آپ سے کہنا تھا کہ میں آپ کے ساتھ وہ سب کرنے کے لیے تیار ہوں۔۔۔” ” کیا وہ سب کرنے کو تیار ہو؟ وہ کچکچاتے ہوئے بولی۔ ” آپ نے مجھ سے کہا تھا نا کہ آپ مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں۔۔۔” یہ کہہ کر وہ فوراً وہاں سے باہر نکل آئی تھی۔ دل بڑے زوروں سے دھڑک رہا تھا اور ہاشم کے چہرے پر ایک معنی خیز سی مسکراہٹ آچکی تھی۔۔۔۔
اسی روز اس نے گھر جا کر امو جان کو بتایا تھا۔ امو جان تو خوشی سے نہال ہو رہی تھی۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے ان کے وجود میں جان آچکی ہو وہیں جب پریشے کو اس نے یہ بتایا کہ امو جان کی خوشی کی خاطر تمہاری ضد کی خاطر میں نے ایسا کرنے کا سوچا تو وہ بھی اپنے چہرے پر مسکراہٹ لاچکی تھی۔ اپنے کپکپاتے ہوئے ہاتھوں سے باشم کا چہرہ چھو کر کہنے لگی ” ہاشم تم شادی تو کر لو گے لیکن یہ بھول مت جانا کہ تمہاری پہلی بیوی میں ہی ہوں تم پر پہلا حق میرا ہی ہوگا۔۔۔” وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھر گیا تھا۔ اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے اور پھر امو جان کے ساتھ وہ رشتہ لے کر نوال کے گھر پہنچ چکے تھے۔ اتنے امیر کبیر گھرانے سے رشتہ دیکھ کر ان لوگوں کی خوشی کی تو کوئی انتہا نہیں رہی تھی۔ اگلے ہی جملے کو نکاح کی ڈیٹ فکس ہو چکی تھی۔ شادی کا سارا خرچہ ہاشم نے ہی اٹھایا تھا۔ اس کا عروسی لباس بے حد خوبصورت تھا ہاشم کا سوچ کر ہی اس کا دل دھڑک رہا تھا۔ وہ ایک بار ہی آفس گئی تھی اور سب اس کی قسمت پر حیران ہو رہے تھے۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی
1st Link
2nd Link
3rd Link
4th Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain,
to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕