Fasley Kuch Aise Bhi By Dars Novels Novel20760

Forced Marriage | Emotional Base | Cousin Marriage | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel 

” تم جیسی گنوار کو کوئی دیکھنا بھی پسند نہ کرے۔۔کتنی بار کہا ہے میرے سامنے مت آیا کرو۔۔۔” شہیر نے نفرت سے اسے دیکھا تھا۔ دادا جان نے اپنے یتیم پوتی رومیسہ کا نکاح شہیر سے زبر دستی کروا دیا تھا۔ وہ اسے چھوڑ کر باہر ملک چلا گیا واپس آیا تو دوسری بیوی اور ایک سال کی بیٹی اس کے ساتھ تھی۔ اس کی دوسری بیوی سمن ہر رات پارٹی میں چلی جاتی تو شہیر عورت کی قربت کے لیے تڑپتا رہتا نا چارا جزبات میں آکر وہ رومیسہ پر اپنے مردانہ جذبات انڈیلتا کیونکہ وہ اس کی بچی کو بھی سنبھال رہی تھی۔ رومیسہ کو اس بے وفا مرد کے چھونے سے گھن آتی جب پہلی بار اس نے جھٹکا تو شہیر نے زبر دستی اپنی شدتوں سے اس کے نازک وجود کو ریزہ ریزہ کردیا۔۔۔۔۔۔
رومیسہ چین سے سارا کام نپٹانے کے بعد اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی کہ لائبہ بیگم نے اسے آواز دے کر روکا تو وہ مڑ کر انہیں دیکھنے لگی۔ ” رومی بیٹے میں جانتی ہوں کہ میں بہت غلط بات کرنے لگی ہوں لیکن تم سے ریکویسٹ ہے کل میرا شہیر تین سال کے بعد واپس آ رہا ہے تو میری خاطر اس کے سامنے زیادہ جانا نہیں تمہیں پتہ ہی ہے نا کہ وہ تم سے کتنی نفرت کرتا میں نہیں جانتی کہ وہ کیسا ری ایکٹ کرے گا کیسا نہیں اس بار لیکن وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی نہیں بدلا ہوگا اتنا میں جانتی ہوں لیکن کچھ دن کی بات ہے میں اسے سمجھا لوں گی اور جیسے ہی معاملہ ذرا ٹھنڈا ہو جائے گا پھر تم اطمینان سے اس کے سامنے بھی آسکتی ہو۔۔۔۔” لائبہ بیگم نے کہا تو اس نے افسردگی سے سراثبات میں ہلا دیا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔
” ویسے تمہیں قصہ ختم ہونے کی سمجھ اچھی طرح سے آ گئی ہوگی، بڑی مام نے تم سے طلاق کی ہے اور مجھے پتہ ہے وہ آتے ہی تمہیں طلاق دے گا۔۔۔” سمن نے اس کے پیچھے آتے ہوئے کہا تو اس نے سنجیدگی سے اسے دیکھا اور جھٹک کر بنا کچھ بولے آگے بڑھ گئی۔۔ کمرے میں آکر اس نے دو تین گہرے گہرے سانس بھرے اور اپنی آنکھوں میں آنے والی نمی کو اپنے دوپٹے سے صاف کرتے ہوئے بیڈ پر آکر لیٹ گئی اور ذہن جیسے تین سال پیچھے چلا گیا۔۔۔
جب اس کی ماں نے اپنے آخری وقت میں اس کے آخری رشتے یعنی اس کی پھوپھو لائبہ بیگم کو بلایا اور پھوپھو آئیں تو اس کی امی نے ہاتھ جوڑ کر اس کے لئے ان کے لائق فائق اکلوتے بیٹے کے لیے رشتہ مانگا لائبہ بیگم جو کہ پہلے ہی بیٹے کے لیے بہت حساس تھیں کہ کہیں ان کی دیورانی کی بیٹی سمن نہ لے اڑے اس بات کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مان کر نہ صرف اچھی نند بن گئیں بلکہ لوگوں نے بھی واہ واہ کی کہ اپنے غریب بھائی کی معمولی شکل و صورت کی بیٹی کو اپنا کر نیکی کا کام کیا۔۔۔۔۔
لیکن بیٹے نے تب دباؤ میں آکر شادی کرلی کہ مرتی ہوئی عورت کی بددعا نہ لگ جائے لیکن جب اسے رخصت کر کے گھر لائے تو اگلے دن ہی گھر چھوڑ کر چلا گیا اور اس بیچاری کی شامت آ گئی اس نے سب کی خدمتیں کر کے زبانیں بند کروا لی مگر دل سب کے ہی منافقت بھرے تھے صرف مفت کی نوکرانی ملی تھی اس لئے اسے برداشت کیاجاتا تھا، وہ ماضی کو سوچتی کب سوئی اسے پتا نہ چلا رات کو گرمی کی شدت سے آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا لائٹ گئی ہوئی تھی اور اس کے کمرے میں تو ان تین سالوں میں کسی نے یو پی ایس کی ایک تار تک لگانے کی زحمت نہیں کی تھی جب کہ پورے رانا ولا میں ہر ایک کے کمرے میں علیحدہ سے چلتا ہے مگر وہ واحد تھی جس کا ہلکا سا گھوں گھوں پنکھا چلتا تھا مگر سارا دن کاموں سے تھکی ہاتی آتی تو کب آنکھ لگتی پتا ہی نہیں چلتا تھا۔۔۔۔
وہ اپنے بالوں کو سمیٹتی اٹھی اور باہر لان میں آکر جھولے پہ لیٹ گئی باہر بھی حبس اور گرمی تھی لیکن بہر حال کمرے سے کافی بہتر تھا۔ پھر لائٹ آئی تو وہ اٹھ کر اندر کی جانب بڑھ گئی وہ اپنے کمرے کی طرف جا ہی رہی تھی کہ اسے لائبہ بیگم کے کمرے کسی بچی کے رونے کی آواز سنائی دی۔ ” کون سی بچی رو رہی ہے؟؟ ” وہ بڑبڑاتے ہوئے ان کے کمرے کی جانب بڑھی تو وہ بچی کو لئے بہلا رہی تھی، ” کیا ہوا پھوپھو کون ہے؟؟ ” اس نے پاس جا کر پوچھا تو لائبہ بیگم چونک کر مڑی۔۔
” شکر اللہ کا تم آگئی یہ پکڑو اس کو میری تو جان ہلکان ہو گئی ہے اسے چپ کروا کروا کے خود اس کا باپ جا کر سوگیا ” میں تھکا ہوا سفر سے آیا ہوں اس سنبھال لیں اب بندہ پوچھے لاکر ایک بچی پکڑادی نہ کچھ بتایا نا پوچھا کہ وہاں پر شادی کر کے ایک بچی پیدا کر چکا ہے۔۔ ” لائبہ بیگم جلے بھنے انداز میں بولی۔ “کس کی بات کر رہی ہیں آپ؟۔۔۔ ” اس نے دھڑکتے دل سے پوچھا تو پھپھو نے چونک کر دیکھا اور پھر اپنا ماتھا تھام کر رونے لگی۔ ” میرے شاہیر کو کسی انگریزنی نے وہاں پھنسا لیا تھا اور دیکھو ایک بچہ پیدا کر کے بچہ اسے دے کر خود چلی گئی کسی اور کے ساتھ۔۔۔ ” لائبہ بیگم کی بات سن کر اسے دھچکا سا لگا مگر اس نے ہمیشہ کی طرح اس غم کو بھی اپنے اندر چھپا لیا اور اس بچی کو اٹھا کر اپنے گلے لگاتے اسے بہلانے لگی۔۔۔۔
” اسے اپنے کمرے میں لے جا وہاں سلا لے، لائبہ بیگم نے اکتائے ہوئے انداز میں کہا ” لیکن پھوپھو آپ تو جانتی ہیں نا کہ میرے کمرے میں اے سی نہیں ہے اور اس کو گرمی لگی تو؟؟ آئی بھی لندن سے ہے نا تو وہاں کا موسم تو بڑا خوشگوار سا ہے گرمی میں رہنے کی عادی نہیں ہے۔۔۔ ” وہ ڈرے ڈرے لہجے میں بولی۔۔ ” یہ بھی ایک نئی مصیبت ہے ایک کام کرو گیسٹ روم میں چلی جاؤ اس کا دروازہ میں کھول دیتی ہوں تو وہاں جا کر اس کو لے کر سوجا لیکن نہیں وہاں رہنے دو وہاں میں نے ابھی کارپٹ وغیرہ سارا کچھ نیا ڈلوایا یہ نہ ہو کے خراب ہو جائے۔۔۔ تو ایسا کرو اسے لاؤنج میں لے کر وہیں پر بیٹھ جاؤ۔۔۔ ” لائبہ بیگم نے کہا
وہ چپ چاپ اسے اٹھائے ہوئے باہر آگئی اسے لے کر بیٹھی تو وہ اس کے ہاتھوں سے کھیلتے ہوئے ہلکا ہلکا ہنس رہی تھی اسے بے اختیار اس بچی پر ترس آیا جس کے لیے شاید یہاں پہ اسی کی طرح کوئی جگہ نہیں تھی وہ بچی اس کے ہاتھوں سے کھیلتے کھیلتے آنکھیں موندنے لگی تو اس نے صوفے کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اسے اپنے سینے پر لیٹا کر تھپکنا شروع کردیا۔۔۔ تو کچھ ہی دیر میں وہ سو گئی اے سی کی ٹھنڈک کی وجہ سے اس کی خود کی بھی آنکھیں خود بخود بند ہونے لگیں کچھ ہی دیر میں وہ بھی گہری نیند میں جا چکی تھی۔۔۔۔۔
شہیر اپنے کمرے سے نکل کر لائبہ کے روم کی طرف جا رہا تھا تاکہ اپنی بیٹی عنایہ کو ان سے لے سکے تو وہ جیسے ہی لاؤنج میں داخل ہوا تو وہاں رومیسہ کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا جو کہ اس کی بیٹی کو سینے پہ لٹائے مزے سے سو رہی تھی تھی اسے دیکھتے ہی اس کا ٹھیک
چہرہ بگڑتا چلا گیا وہ اس کے پاس آیا اور عنایہ کو اس سے کھینچا تو ہ ہڑبڑا کر اٹھی اور پھر جلدی سے ڈوپٹہ ٹھیک کرتی اٹھ کر کھڑی ہوئی۔ عنایہ کی نیند خراب ہو گئی تھی وہ رونا سٹارٹ ہو چکی تھی مگر وہ اسے کمرے میں لے آیا اسے بہلانے کی کوشش کرتا رہا مگر وہ تو چپ ہونے کا نام تک نہیں لے رہی تھی وہ اسے عادت سے مجبور ڈانٹتا جا رہا تھا۔۔۔ مگر آٹھ ماہ کی بچی کو اس کی ڈانٹ کا کیا؟؟ وہ تو بس رو کر ہی احتجاج کر سکتی تھی۔۔۔
پوری رات وہ اس کے ساتھ کھپ چکا تھا اور صبح جاکر وہ سوئی تو اس نے بھی تھوڑی دیر آرام کیا پھر اس کے اٹھنے کے بعد وہ اسے اٹھائے باہر لایا اور لائبہ بیگم کو پکڑاتے کہا ” پلیز ذرا اسے دیکھیں اس نے گند ڈالا ہے اس کے کپڑے وغیرہ چینج کروا دیجئے گا۔۔۔” اسی وقت اس کا فون آگیا جسے سننے کے لئے وہ باہر چلا گیا اور فون سن کر وہ اندر آیا تو لائبہ بیگم وہاں فون پہ لگیں تھیں اور عنایہ صوفے سے گرنے والی تھی وہ تیزی سے لپکا اور دوسری طرف سے رومیسہ بھاگتی ، آئی اور اس کے پہنچنے سے پہلے اسے بچا لیا عنایہ ڈر کر پھر سے رونے لگی تھی۔۔۔۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *