Tere Liye By RS Novel20778
Tere Liye By RS Novel20778
Forced Marriage Romance | Age Gap Romance | Billionaire Romance | Husband-Wife Romance | Arranged Marriage | Possessive Hero | Emotional Romance | Family Drama | Urdu Romantic Novel | Love After Marriage | Rich Hero Romance | Protective Hero | Desi Romance | Novelistan
” آپ کو مجھے طلاق دینی ہو گی غازان بھائی!!! ورنہ میں سب کو چیخ چیخ کے بتا دونگی کہ آپ نامرد ہیں مجھے سیٹیسفائی نہیں کر سکے۔۔۔۔” شانزے غازان سے دس سال چھوٹی تھی برات نہ آنے پر اسے غازان کے ساتھ باندھ دیا گیا۔۔ ” چھوٹی ہو اسی لیے لحاظ کر رہا تھا۔۔ چلو تمہیں سیٹیسفائی کروں۔۔۔۔۔” غازان قہر آلودہ نگاہوں سے اسے گھورتا اپنے شکنجے میں جکڑ چکا تھا۔۔۔۔۔
” مجھے طلاق چاہیے ابھی اسی وقت سنا آپ نے۔۔۔” وہ جو آج ہی اس کے نکاح میں آئی تھی سولی سنگھار کیے وہ اس کی سیج سجائے بیٹھی تھی منہ دکھائی میں وہ اس سے طلاق مانگ رہی تھی۔۔۔۔
” تمہیں لگتا ہے کہ تم آج کی رات مجھ سے طلاق مانگو گی اور میں تمہیں طلاق دے دوں گا؟؟ کیا سمجھ رکھا ہے تم نے مجھے؟؟؟ ” وہ اسے بازو سے تھامے پکڑتے جھنجھوڑ گیا جبکہ شانزے کا دل پسلیاں توڑ کے بری طرح باہر آنے کو مچل رہا تھا۔۔ ” میں آپ سے کہہ رہی ہوں مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ مجھے طلاق دیں غازان بھائی۔۔۔۔” بےدہانی میں وہ اسے بھائی کہہ گئی کہ اگلے ہی پل غازان اس کے لبوں پہ جھکتا اسے اس بات کی سخت سزا دے گیا وہ بے آب ماہی کی طرح تڑپی تھی بری طرح سٹپٹاتے ہوئے خود کو چھڑانے کی ناکام کوشش کرتے رہی۔۔۔۔۔
وہ ہچکیاں لے گئی۔۔۔ غازان اسے بھائی کا مطلب اچھے سے سمجھاتا اس کے لبوں پہ ہلکا سا کٹ دیے پیچھے ہٹا
” آئندہ اس زبان کو غازان تک محدود رکھنا ورنہ نو ماہ بعد اپنا بچہ تمہاری کوک سے پیدا کرتے ہوئے تمہیں اچھی طرح سمجھا دوں گا کہ میں تمہارا کیا لگتا ہوں؟؟ ” غازان نے اپنا کوٹ ایک طرف اچھالتے اپنی قمیض کے اوپر دو بٹن کھولے اس وقت اسے شدید گھٹن کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔۔
” نو ماہ؟؟ ” شانزے اپنے ہونٹوں کو رگڑتی اس کی جانب طنزیاں انداز میں دیکھنے لگی۔۔” یہاں نو دن کس نے دیکھے ہیں؟؟ آپ نو ماہ کی بات کر رہے؟ ” شانزے کا اپنے لبوں کو رگڑ کے اس کا دیا لمس مٹاتے دیکھ وہ انگاروں میں جلا تھا اور اگلے ہی پل پھر اس کے لبوں کو گرفت میں لیتا اس بار شدید سختی سے اس کی سسکیوں کا بھی گلا گھونٹ گیا۔۔۔۔
اس کی رختی سانسیں محسوس کرتے وہ ذرا سا پیچھے ہٹا ” آئندہ میرا دیا لمس مٹانے کی کوشش کی تو وہاں وہاں لمس چھوڑون گا کہ سمیٹ نہیں پاؤ گی۔۔۔” اسکے کان میں سرگوشی کیے وہ جھٹکے سے اس کی کلائی چھوڑ گیا۔۔۔ ” بہت برے ہیں آپ۔۔۔ ” اپنے ہونٹوں پر ہوتی جلن کو محسوس کرتی وہ اس کی جانب شکوہ کناہ انداز میں دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
جبکہ غازان نے سر جھٹکتے ہوئے باتھ روم کا رخ کیا اس کے جاتے ہی شانزے غصے سے لہنگا سنبھالتی بستر پہ ڈھ سی گئی اسے اپنے لبوں پر شدید جلن محسوس ہو رہی تھی ابھی تک یقین ہی نہیں کر پا رہی تھی غاذان نے اس کے لبوں کو اتنی بڑی طریوے سے کاٹا کہ اپنا نشانہ چھوڑ گیا خون کی لکیر کی صورت میں۔ وہ تو جب بھی سامنے آتا تھا بہت ڈیسنٹ طریقے سے بات کرتا تھا نرم لہجہ استعمال کرتا تھا بلکہ زندگی میں کبھی غازان نے اسے اونچی آواز میں بات تک نہیں کی تھی۔۔۔
اور آج جب وہ ایک حادثے کی وجہ سے اس کی زندگی میں داخل ہو گئی تو اپنی شرافت بلا کر بےباکی پر اتر آیا تھا لیکن شانزے بھی سوچ چکی تھی کہ اسے کیا کرنا ہے؟؟؟؟
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕