Inkaar E Yaar By Hafiza Ayesha Novel20772 – Complete Forced Marriage Urdu Novel

 Forced Marriage | Rich Hero | Family Drama | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel

“شادی تو میں نے آپ کے کہنے پر کر لی ہے ڈیڈ! لیکن میں آپ کی اس کم پڑھی لکھی اور جاہل بھتیجی کو اپنی بیوی کا درجہ کبھی نہیں دوں گا۔ ” وہ غصے میں ٹیبل کو لات مار کر کہتا باہر نکل گیا۔ شادی سے پہلے یا شادی کے بعد اس نے اپنی بیوی کی شکل دیکھنا گوارا ہی نہیں کی تھی، ایک ماہ بعد وہ ایک ایوارڈ سرمنی میں پہنچا تو آل پاکستان بیسٹ بزنس وومن کا ایوارڈ لیتے ایک نازک حسینہ کو دیکھ کر دل ہار گیا اور فورا ہی اسے پروپوز کر دیا۔ ” میں پہلے سے ہی شادی شدہ ہوں، مسٹر اشنان خان! ” اس پری پیکر کی بات پر اشنان خان کے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا، لڑکی کے انکار پر اسکے سر پر جنون سوار ہو
گیا اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ ہر قیمیت پر اس حسینہ کو حاصل کر کے رہے گا پھر چاہے اسکے لئے اس لڑکی کے شوہر کو اسے۔۔۔۔
“شادی تو میں نے آپ کے کہنے پر کر لی ہے ڈیڈ ۔۔۔ لیکن آپ ایک بات اچھی طرح سن لیں… میں آپ کی اس کم پڑھی لکھی اور جاہل بھتیجی کو اپنی بیوی کا درجہ کبھی نہیں دوں گا” یہ الفاظ کسی دھماکے سے کم نہیں تھے۔ اشنان خان کی گرج دار آواز کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر گونج رہی تھی۔ اس کا چہرہ غصے سے سرخ تھا اور پیشانی پر نیلی رگیں ابھری ہوئی تھیں۔وہ کمرے کے وسط میں کھڑا تھا وہی کمرہ جسے گلاب اور موتیا کے پھولوں سے کسی نئی نویلی دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔
فضا میں پھولوں کی مہک تھی لیکن اشنان کو اس خوشبو میں بھی حبس محسوس ہو رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ یہ پھول نہیں بلکہ اس کی آزادی کی قبر پر ڈالی گئی چادریں ہیں۔۔۔ اس کے سامنے بیڈ کے بالکل کنارے پر وہ سمٹی ہوئی بیٹھی تھی۔ زیمل۔۔۔۔سر سے پاؤں تک سرخ بھاری عروسی جوڑے میں ملبوس اس کا چہرہ گھونگھٹ کی اوٹ میں چھپا ہو اتھا۔ وہ ایک بت کی طرح ساکت تھی لیکن اس کے وجود میں آنے والی ہلکی سی لرزش بتا رہی تھی کہ اشنان کا ہر لفظ اس کے دل پر کسی کوڑے کی طرح برس رہا ہے۔
اشنان نے اپنی شیروانی کے اوپر والے بٹن بے تابی سے کھولے۔ اس کا دم گھٹ رہا تھا۔ اس نے ایک نظر نفرت سے اس لڑکی کی طرف دیکھا جو اب اس کے نام سے منسوب ہو چکی تھی۔ ” تم سن رہی ہونا؟ “وہ دھاڑا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ وہ سن رہی ہے۔۔ وہ چلتا ہوا بیڈ کے قریب آیا لیکن رکا نہیں۔۔ اس کے قدموں میں بے چینی تھی۔ وہ کمرے میں ایک زخمی شیر کی طرح ٹہل رہا تھا۔ اس کے ذہن میں پچھلے چند ہفتوں کی فلم چل رہی تھی۔۔
” میرے باپ نے اپنی انا کی تسکین کے لیے میری زندگی کا سودا کر دیا۔” وہ خود کلامی کے انداز میں بولا لیکن آواز اتنی بلند تھی کہ زیمل تک واضح پہنچ رہی تھی۔ ” برسوں پہلے خود ہی اپنے بھائی کو گھر سے نکالا جائیداد سے عاق کیا اور اب جب وہ مرگیا تو اپنی پچھتاوے کی آگ ٹھنڈی کرنے کے لیے اس کی بیٹی کو میرے گلے میں ڈال دیا۔ واہ کیا انصاف ہے عرفان خان کا۔” اشنان کا لہجہ زہر میں بجھا ہوا تھا۔ وہ جاکر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے
کھڑا ہو گیا اور آئینے میں اپنے عکس کو گھورا۔
یہ وہ اشنان خان نہیں تھا جو تین ماہ پہلے چین سے اپنی ڈگری مکمل کر کے آنکھوں میں ہزاروں خواب لے کر واپس لوٹا تھا۔ یہ ایک ہارا ہوا شخص تھا جسے جذباتی بلیک میلنگ کے ذریعے شادی کے بندھن میں جکڑ دیا گیا تھا۔ وہ مڑا اور بیڈ کے قریب پڑی ہوئی چھوٹی کافی ٹیبل کو دیکھا جس پر دودھ کا گلاس اور کچھ مٹھائیاں سجی ہوئی تھیں۔ یہ روایتی لوازمات اسے مزید چڑانے لگے ۔۔ “مجھے نہیں معلوم تم کون ہو کیسی دکھتی ہو اور سچ کہوں تو مجھے جاننے میں کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے “اس نے انگلی اٹھا کر اس خاموش وجود کی طرف اشارہ کیا۔
“میرے لیے تم صرف ایک ذمہ داری ہو جو زبردستی میرے سر تھوپی گئی ہے۔ ایک ایسی لڑکی جس کا نہ کوئی معیار ہے نہ کوئی اسٹینڈرڈ۔۔۔ گاؤں کے کسی کونے میں پلنے بڑھنے والی دنیا کے طور طریقوں سے ناواقف ایک جاہل لڑکی۔۔۔ میرا اور تمہارا کوئی جوڑ نہیں ہے۔” لفظ جاہل زیمل کے کانوں میں سیسے کی طرح اترا۔ گھونگھٹ کے اندر اس کی آنکھوں سے دو گرم آنسو ٹوٹ کر اس کے مہندی لگے ہاتھوں پر گرے۔ وہ چیخ کر کہنا چاہتی تھی کہ وہ جاہل نہیں ہے اس کے بابا نے اسے بہت لاڈ اور محنت سے پڑھایا تھا لیکن اس وقت اس کی زبان جیسے تالو سے چپک گئی تھی۔۔۔
خوف اور توہین کے احساس نے اسے گنگ کر دیا تھا۔ اشنان کا غصہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا جار ہا تھا۔ اسے زیمل کی یہی خاموشی بھی ایک سازش لگ رہی تھی۔ “خاموش کیوں ہو ؟” وہ طنزیہ ہنسا۔ ” اوہ ہاں۔۔۔۔ تم تو شاید میری زبان بھی ٹھیک سے نہیں سمجھتی ہوگی اور میں۔۔۔۔ میں بیوقوف سوچ رہا تھا کہ میری لائف پارٹنر کوئی ایسی ہو گی جو میرے خیالات کو سمجھے جو میرے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکے۔ لیکن ڈیڈ نے میرے پلے کیا باندھا؟ ایک بے زبان اور دقیانوسی خیالات والی لڑکی۔ “غصے کی شدت میں اس نے پاس پڑی میز کو زور دار لات ماری۔۔۔۔ میز اپنی جگہ سے ہلی اور اس پر رکھا دودھ کا گلاس فرش پر جا گرا۔
کانچ ٹوٹنے کی آواز سے زیمل سہم کر مزید سمٹ گئی۔ اس کا دل چاہا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سا جائے۔” یہ تماشا اب ختم سمجھو” اشنان نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔ ” میں اس کمرے میں ایک پل بھی نہیں رہ سکتا۔ میرے لیے یہ شادی نہ حویلی یہ کمرہ … سب ایک قید خانہ ہے۔ ” وہ دروازے کی طرف بڑھا۔ اس کا ہاتھ ہینڈل پر تھا جب وہ ایک لمحے کے لیے رکا۔ اس نے مڑ کر نہیں دیکھا بس اس کی جانب پشت کیے کھڑے کھڑے آخری جملہ کہا۔ ” آج کے بعد تم اس حویلی میں رہو یا جہنم میں۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میرے لیے تم وجود نہیں رکھتیں۔ نہ میں نے تمہاری شکل دیکھی ہے اور نہ کبھی دیکھنے کی خواہش کروں گا۔ اس غلط فہمی میں مت رہنا کہ تم کبھی میری بیوی بن سکو گی۔ ” دروازہ زور سے کھلا اور اتنی ہی زور سے بند ہوا۔۔۔۔
دروازے کے بند ہونے کی آواز کے ساتھ ہی کمرے میں ایک بھاری اور جان لیوا خاموشی چھا گئی۔ وہ چلا گیا تھا۔ اپنی نئی نویلی دلہن کو چھوڑ کر جسے اس نے دیکھا تک نہیں تھا اپنی نفرت کا نشانہ بنا کر تنہا چھوڑ کر چلا گیا۔۔ زیمل کافی دیر تک اسی طرح ساکت بیٹھی رہی۔ اس کے کانوں میں اشنان کے کہے ہوئے الفاظ بار بار گونج رہے تھے۔ “جاہل”۔۔۔۔” کم پڑھی لکھی”۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد کے فائیواسٹار ہوٹل کا وسیع و عریض ہال روشنیوں سے جگمگار ہا تھا۔ یہ ” آل پاکستان بزنس ایکسی لینس ایوارڈز ” کی شاندار تقریب تھی۔ ملک بھر کے نامور صنعت کار بزنس ٹائیکونز اور میڈیا کی چکا چوند وہاں موجود تھی۔ اشنان خان سب سے اگلی نشستوں میں سے ایک پر براجمان تھا۔ سیاہ اطالوی سوٹ میں ملبوس کلائی پر رولیکس گھڑی اور چہرے پر وہی موروثی تکبر اوربے زاری۔۔۔۔ جواب اس کی شخصیت کا خاصہ بن چکی تھی۔ وہ کرسی پر نیم دراز سا بیٹھا تھا جیسے یہ ساری رونقیں اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔
ایک ہاتھ میں موبائل فون تھا جس پر وہ بیزاری سے اسکرولنگ کر رہا تھا اور دوسرے ہاتھ کی انگلیاں بےچینی سے کرسی کے ہتھی پہ حرکت کر رہی تھیں ۔ پچھلا ایک مہینہ اس کے لیے آزادی کا مہینہ رہا تھا۔ اس منحوس رات کے بعد جب وہ اپنی نئی نویلی دلہن کو اس کے حال پر چھوڑ کر حویلی سے نکلا تھا اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔ وہ سیدھا اسلام آباد اپنے فلیٹ میں آگیا تھا۔ اس دوران اس نے اپنا فون بند رکھا پھر نمبر بدل لیا۔ حویلی سے آنے والی ہر کال ہر پیغام کا راستہ اس نے مسدود کر دیا تھا۔
اسے نہیں معلوم تھا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ اس کے باپ کا رد عمل کیا تھا یا وہ ان پڑھ گاؤں کی لڑکی کس حال میں تھی۔ اور سچ تو یہ تھا کہ اسے پروا بھی نہیں تھی۔ وہ اپنی نام نہاد آزادی کا جشن منار ہا تھا حالانکہ دل کے کسی کونے میں ایک عجیب سی خلش اکثر اسے بے چین رکھتی تھی۔ ” لیڈیز اینڈ جنٹلمین۔۔” اسٹیج سیکرٹری کی پر جوش آواز نے اشنان کے خیالات کا تسلسل توڑ دیا۔ ” اب وقت ہے آج کی شام کے سب سے اہم ایوارڈ کا۔ وہ ایوارڈ جو اس سال کی سب سے ابھرتی ہوئی اور باصلاحیت کارو باری خاتون کے نام ہے۔ جنہوں نے بہت کم وقت میں ٹیکسٹائل ڈیزائننگ کی دنیا میں ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔”
اشنان نے ایک بیزارسی جمائی لی۔ اسے لگا کہ اب کوئی ادھیڑ عمر روایتی سی خاتون اسٹیج پر آئے گی اور بورنگ تقریر کرے گی۔ وہ اٹھنے ہی والا تھا کہ ہال تالیوں کی گرج سے گونج اٹھا۔ ” پلیز و یکم … دی موسٹ ٹیلنٹڈ … مس زیمل ” نام سنتے ہی اشنان چونکا۔ ” زیمل؟ یہ نام …” یہ تو وہی نام تھا جو اس کے نکاح نامے پر لکھا گیا تھا۔ اس کے ماتھے پر شکن نمودار ہوئی۔ لیکن پھر اس نے سر جھٹک دیا۔” یہ وہ نہیں ہو سکتی ” اس نے خود کو تسلی دی۔” وہ تو حویلی کی چار دیواری میں بند ایک ڈری سہمی لڑکی ہے وہ یہاں اسلام آباد کے فیشن ایبل ہجوم میں کہاں؟ دنیا میں ہزاروں زیمل ہوتی ہیں۔ ” اس نے نظر اٹھا کر اسٹیج کی طرف دیکھا اور پھر۔۔۔۔۔
پھر وقت جیسے وہیں تھم گیا۔اسٹیج کی سیڑھیاں چڑھتی ہوئی وہ لڑکی کوئی عام انسان نہیں لگ رہی تھی۔ اس نے گہرے نیلے رنگ کا انتہائی نفیس اور جدید کٹ والا لباس پہن رکھا تھا جو اس کے متناسب سراپے پر خوب بیچ رہا تھا۔ سر پر دوپٹہ انتہائی سلیقے سے نکا ہوا تھا جو اس کی مشرقی اقدار اور جدیدیت کا حسین امتزاج تھا۔ لیکن جس چیز نے اشنان کو اپنی سیٹ پر جمنے پر مجبور کیا وہ اس کا چہرہ تھا۔دو دھیار نگت ستواں ناک اور بڑی بڑی روشن آنکھیں جن میں بلا کا اعتماد تھا۔ وہ چل رہی تھی تو لگتا تھا کہ زمین اس کے قدموں کے لمس پر فخر کر رہی ہے۔
ہال کی تیز روشنیاں اس کے چہرے پر پڑرہی تھیں اور اشنان کو لگا کہ اس نے آج تک اپنی پوری زندگی میں اس سے زیادہ حسین اور باوقار لڑکی نہیں دیکھی۔ وہ جو حسن کا پرستار تھا جو چین اور یورپ گھوم چکا تھا آج ایک پاکستانی لڑکی کی سادگی اور وقار کے سامنے ہتھیار ڈال رہا تھا۔ لڑکی نے ایوارڈ وصول کیا اور مائیک کے سامنے کھڑی ہوئی۔ ” شکریہ ” اس کی آواز ہال میں گونجی۔ وہ آواز کسی میٹھی دھن کی طرح تھی نرم لیکن پر اعتماد۔۔۔ ” یہ ایوارڈ میری محنت کا صلہ ہے اور ان لوگوں کا جواب ہے جو سمجھتے ہیں کہ عورت صرف گھر
کی چار دیواری تک محدود رہنے کے لیے بنی ہے۔ ” اشنان کا دل ایک عجیب سی رفتار سے دھڑ کنے لگا۔
اس کے جملے میں ایک کاٹ تھی ایک چیلنج تھا۔ وہ پلک جھپکنا بھول گیا تھا۔ وہ مسلسل اس کے چہرے کو تک رہا تھا۔ یہ وہ لڑکی تھی جس کا وہ ہمیشہ سے خواب دیکھتا تھا پڑھی لکھی پر اعتماد کامیاب اور بے پناہ حسین۔۔۔۔ تقریب ختم ہوئی تو ڈنر کا آغاز ہوا۔ لوگ گروپس کی شکل میں کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ اشنان کی نظریں مسلسل اس لڑکی کا تعاقب کر رہی تھیں۔ وہ کچھ لوگوں میں گھر گئی تھی۔ وہ بہت شائستگی سے مسکراتے ہوئے سب سے مل رہی تھی۔
اشنان نے اپنے کوٹ کے بٹن بند کیے ٹائی درست کی اور ایک مضبوط عزم کے ساتھ اس کی طرف بڑھا۔ وہ اشنان خان تھا اسے جو چیز پسند آ جاتی تھی وہ اسے حاصل کر کے رہتا تھا۔ اور آج۔۔۔۔۔آج تو وہ دل ہارچکا تھا۔ جیسے ہی وہ اس کے قریب پہنچا ارد گر د کھڑے لوگ اشنان خان کو دیکھ کر احتراماً تھوڑا پیچھے ہو گئے۔ وہ لڑکی اب تنہا کھڑی تھی ہاتھ میں جوس کا گلاس تھامے وہ کسی گہری سوچ میں تھی۔ ” ایکسکیوز می ” اشنان نے اپنی مخصوص مخملی اور بھاری آواز میں اسے مخاطب کیا۔
لڑکی نے پلٹ کر دیکھا۔ ان دونوں کی نظریں ملیں۔ اشنان کو لگا جیسے کسی نے اس کے دل پر دستک دی ہو۔
لیکن لڑکی کی آنکھوں میں کوئی حیرت نہیں تھی بلکہ ایک عجیب سی سرد مہری اور پہچان کی ہلکی سی جھلک تھی جسے اشنان سمجھنے سے قاصر رہا۔ “مس … زیمل اگر میں غلط نہیں ہوں؟ ” اشنان نے مسکراتے ہوئے کہا اپنی پوری چارمنگ شخصیت کا سحر اس پر طاری کرنے کی کوشش کرتے ہوئے۔۔۔۔۔ تھوڑا سا جھک کر ۔۔۔۔” جی فرمائیے مسٹر اشنان خان ” اس نے بہت آرام سے جواب دیا۔ اشنان ایک لمحے کے لیے ٹھٹکا۔ ” آپ مجھے جانتی ہیں ؟” لڑکی کے لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔
“بزنس کمیونٹی میں کون اشنان خان کو نہیں جانتا؟ عرفان گروپ آف انڈسٹریز کے اکلوتے وارث۔ ” اشنان کا سینہ فخر سے چوڑا ہو گیا۔ ” اوہ تو میری شہریت مجھ سے پہلے پہنچ گئی ہے۔ ویسے آپ کی تقریر بہت متاثر
کن تھی۔ اور آپ کی کامیابی اس سے بھی زیادہ ۔۔” ” شکریہ ” اس نے مختصر جواب دیا اور جانے کے لیے مڑنے لگی۔ “ر کیے ” اشنان نے بے ساختہ کہا۔وہ اسے یوں جانے نہیں دے سکتا تھا۔
” دیکھیں میں باتیں گھما پھرا خر کرنے کا عادی نہیں ہوں۔ میں نے آج تک بہت سے لوگ دیکھے ہیں بہت خوبصورتی دیکھی ہے لیکن آج آپ کو دیکھ کر مجھے لگا کہ میری تلاش ختم ہو گئی ہے۔” لڑکی رک گئی۔ وہ پوری طرح اس کی طرف مڑی۔ اس کی آنکھوں میں اب غصے کی بجائے ایک عجیب سی چمک تھی۔ ” تلاش؟ کیسی تلاش مسٹر خان ؟” ایک پر فیکٹ جیون ساتھی کی تلاش۔۔۔۔” اشنان نے بنا کسی جھجھک کے کہہ دیا۔ وہ جانتا تھا یہ پاگل پن ہے وہ پہلی ملاقات میں اسے پروپوز کر رہا تھا لیکن وہ اپنے جذبات کے ہاتھوں مجبور تھا۔
” میں جانتا ہوں یہ بہت عجیب لگ رہا ہے لیکن میں آپ سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ میں آپ کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہتا ہوں۔” ہال کا شور جیسے مدہم پڑ گیا۔ اشنان کی سانسیں رکی ہوئی تھیں۔ وہ اس کے جواب کا منتظر تھا۔ لڑکی نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ ایسی نظر جس میں افسوس بھی تھا اور تضحیک بھی۔۔۔۔۔ پھر وہ بہت دھیرے سے مسکرائی۔ وہ مسکراہٹ اشنان کے وجود کو چیرتی ہوئی گزر گئی۔ ” آپ شاید بھول رہے ہیں مسٹر خان کہ ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی اور ہر خوبصورت چہرہ آپ کی ملکیت بننے کے لیے دستیاب نہیں ہوتا۔۔۔” اس کا لہجہ دھیما تھا لیکن الفاظ کسی نشتر سے کم نہ تھے۔
“میرے پاس دنیا کی ہر نعمت ہے میں آپ کو وہ زندگی دے سکتا ہوں جس کا لوگ صرف خواب دیکھتے ہیں ” اشنان نے جلدی سے کہا اسے لگا شاید وہ اس کی دولت سے متاثر نہیں ہوئی۔ ” میں شادی شدہ ہوں “سر پر پھٹا۔ آسمان ٹوٹ پڑا تھا۔ زمین پیروں تلے سے نکل گئی۔ “شادی … شادی شدہ ؟ اس کے منہ سے بمشکل نکلا۔ ” جی ہاں ” اس حسینہ نے بڑے اعتماد سے کہا۔ ” میرے شوہر … وہ ایک بہت بڑے آدمی ہیں۔ بڑے خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔۔۔۔ لیکن افسوس ان کی نظر کمزور ہے۔ وہ ہیرے اور پتھر میں فرق نہیں کر پاتے ” اس سے پہلے کہ اشنان کچھ اور پوچھتا وہ حسینہ اپنے لمبے لباس کو سنبھالتی ہوئی ایک ملکہ کی طرح وہاں سے رخصت ہو گئی۔ اشنان وہیں کھڑا رہ گیا بت بنا ہوا۔ اسے لگا جیسے کسی نے اس کا دل مٹھی میں لے کر مسل دیا ہو۔ وہ شادی شدہ تھی۔
وہ کسی اور کی تھی۔ وہاں سے نکلنا اور فلیٹ تک پہنچنا کیسے ہوا اشنان نہیں جانتا مگر وہ ختم ہوچکا تھا۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Story Summary

Inkaar E Yaar By Hafiza Ayesha is an emotional Urdu romantic novel that beautifully portrays forced marriage, pride, regret, obsession, and unconditional love.

Ashnan Khan is forced by his father to marry his cousin Zimal, but he refuses to accept her as his wife without even seeing her face. Considering her uneducated and beneath his standards, he abandons her on the very first night of their marriage.

A month later, fate brings Ashnan face to face with an elegant, successful businesswoman who wins his heart instantly. Mesmerized by her beauty, confidence, and intelligence, he proposes to her without hesitation. However, his world shatters when she calmly reveals that she is already married.

Unaware that the woman he desperately desires is the same wife he once rejected, Ashnan becomes obsessed with winning her at any cost. What follows is a powerful journey of regret, redemption, heartbreak, and destiny that keeps readers engaged until the very end.


Why You Should Read This Novel

  • Powerful Forced Marriage Story
  • Arrogant Billionaire Hero
  • Strong Businesswoman Heroine
  • Emotional Family Drama
  • Slow Burn Romance
  • Obsessive Love Story
  • Unexpected Plot Twists
  • Character Growth & Redemption
  • Heart-Touching Emotional Moments

Frequently Asked Questions

Is Inkaar E Yaar a complete novel?

Yes, Inkaar E Yaar is a complete Urdu romantic novel.

Who is the writer of Inkaar E Yaar?

The novel is written by Hafiza Ayesha.

What is the genre of Inkaar E Yaar?

It is a Forced Marriage Romance featuring family drama, emotional romance, and obsession.

Where can I read Inkaar E Yaar online?

You can read the complete novel online on Novelistan.

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *