Tum Bin Zeest Akeli Ho Gae Thi By Rubab Bukhari Novel20767

Digest Novel | Family Story | Social Romantic Novel | Complete Novel

وہ شک کی بنا پر اپنی بیوی کو جانوروں کی طرح مار رہا تھا۔ جو پہلے اسکی ماں کے ظلم برداشت کرتے ختم ہوچکی تھی۔ اسکا شوہر بچپن سے اسے پسند کرتا تھا اسکے لیے بےحد جنونی تھا۔ وہ لڑکی تھی بھی بے انتہا حسین جسے کھونے سے وہ ڈرتا تھا۔ اس لڑکی کی ماں کے مرنے کے بعد اسنے اپنی کزن سے نکاح کرلیا وہ اسے گھر لے آیا جو اسکی ماں برداشت نہ کرسگی۔۔۔۔ وہ اسکا تایا زاد تھا جب مار مار کر وہ خود تھک چکا تو اپنے پیروں سے اسکی گردن پر دبائو بڑھا دیا لیکن وہ آخر تک قسمیں کھاتی رہی وہ بدکردار نہیں ہے۔ یہ اسکی ماں کی سازشیں تھیں۔۔۔۔

” تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ وہ بھی گھبرا کر مڑی تھی، لفافہ ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھا، شاذل نے لیا نہیں تھا۔

” وہ… وہ آنٹی نے بل جمع کرانے کے لیے کہا تھا، وہی شاذل بھائی کو دینے آئی تھی۔” “دکھاؤ بل مجھے، میں کل خود جمع کرادوں گا”۔ “لیکن آج لاسٹ ڈیٹ ہے،” ” کوئی بات نہیں تم چلو اندر۔۔” وہ لفافہ لے کر اسے جھڑکتے ہوئے بولا۔ “آئندہ اگر تم اس طرف نظر آئیں تو زندہ دفن کر دوں گا۔

اُمی بھاگئی ہوئی کمرے میں آگئی تھی ، ثروت اپنی کامیابی پر جشن منارہی تھیں، اُمی اپنے پسینے ہورہی تھی، سارا جسم لرز رہا تھا، وہ بچپن سے ہی مار کھاتی آئی تھی، اس لیے فرمان سے ڈرتی تھی، وہ بھی اسی وقت کمرے میں آ گیا، اس نے اپنے کپڑے اٹھائے اور چینج کرنے چلا گیا ، جب وہ چینج کرنے کے بعد واپس مڑا تو وہ لفافہ نیچے گر پڑا تھا، اس نے اٹھا لیا اور کھول کر اسے دیکھنے لگا ، غصے سے چہرہ سرخ ہو گیا تھا، وہ ایک لو لیٹر تھا، انتہائی بےہودہ زبان یوز کی گئی تھی، وہ غصے سے گرجتا ہوا باہر نکل آیا۔۔۔۔۔۔۔

” یہ کیا ہے اُمی!۔۔۔ ” وہ بھی گھبرا کر کھڑی ہوگئی تھی، فرمان وہ لیٹر اس کے منہ پر مارتے ہوئے گرج کر پوچھ رہا تھا۔ “کیا کمی تھی مجھ میں، جو تم نے دوسرا راستہ تلاش کر لیا، میں نے سارے گھر سے تمہارے لیے ٹکرلی ہوئی ہے تم نے میری محبت کا یہ جواب دیا ہے، بتاؤ مجھے کیوں کیا تم نے ایسا؟“ وہ اسے دونوں کندھوں سے تھام کر جھٹکے دینے لگا، وہ خوف سے کچھ بول نہیں پارہی تھی، لب خشک ہو گئے تھے، آنکھیں وحشت سے باہر نکل آئی تھیں۔ وہ تھپڑ مارتا چلا گیا، پاؤں سے ٹھوکریں مارنے لگا، پھر خود تھک کر صوفے پر بیٹھ گیا، اپنے دونوں پاؤں اس کی گردن پر رکھ کر دباؤ بڑھانے لگا۔۔۔۔

” سچ سچ بتاؤ، یہ کھیل کب سے جاری ہے، ورنہ آج میں اس کمرے کو تمہارا مقبرہ بنادوں گا۔ پاؤں کے دباؤ سے اس کا سانس رک رہا تھا ، آواز نہیں نکل رہی تھی۔۔۔۔” میں نے کچھ نہیں کیا مانی؟۔۔۔۔” وہ رک رک کر بمشکل بول رہی تھی۔ ” میں نے کسی کسی کو خط نہیں لکھا۔۔۔” اس کی آنکھیں بند ہوگئی تھیں، اس نے اپنے پاؤں بٹا لیے، خود صوفے پر گر گیا، دھیرے دھیرے وقت گزرنے لگا، وہ آفس بھی نہیں گیا تھا، ثروت بار بار بیٹے کے کمرے کے چکر لگارہی تھیں، اندر سے کچھ سنے کی کوشش کر رہی تھیں، لیکن اندر خاموشی تھی، کئی بار سن لینے کے باوجود وہ کچھ معلوم نہ کر سکیں، مایوس ہوکر لوٹ گئیں۔۔۔۔

شام تک فرمان اپنے آپ کو نارمل کرتے ہوئے باہر آگیا،،،، ثروت بار بار بیٹے کے چہرے پر کچھ کھوج رہی تھیں لیکن وہ بھی ان کا ہی بیٹا تھا، اس کے چہرے پر کچھ تحریر نہ تھا، رات کا کھانا کھانے کے بعد وہ خاموشی سے واپس اپنے کمرے میں چلا آیا لیکن وہ اسی طرح پڑی ہوئی تھی، وہ بھی خاموشی سے لیٹ گیا، اسے خود دکھ ہورہا تھا، درد سے وہ خود بے حال تھا لیکن دماغ میں جھکڑ سے چل رہے تھے، ایک نیند کی گولی کھانے کے بعد وہ سوتا چلا گیا، اُمی دھیرے دھیرے اٹھ کر باہر آ گئی۔

جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا، آج تو سب کچھ ختم ہو گیا تھا۔

” پتہ نہیں کل کا سورج کون سی خبر لاتا ہے؟ گھر والے دھکے مار کر اس گھر سے مجھے نکالیں گے، تو پھر میں کہاں جاؤں گی، میرا تو کوئی ٹھکانہ بھی نہیں، کوئی اپنا بھی نہیں، جو مجھے پناہ دے سکے، یا اللہ! تو ہی مددفرما، مجھے غریب پر رحم فرما، تو جانتا ہے مولا! میں بے قصور ہوں۔” تڑپ کر فرمان اٹھ بھیٹا تھا، وہ پسینے سے شرابور ہورہا تھا، وہ کمرے میں موجود نہیں تھی، اس کی آواز پیچھے والے لان سے آرہی تھی، وہ دوڑتا ہوا باہر آگیا، وہ پاگلوں کی طرح لڑکھڑاتے قدموں سے لان میں گھوم رہی تھی ، فرمان نے اسے پکڑ لیا۔

“اُمی اُمی! پلیز آنکھیں کھولو۔۔۔میری طرف دیکھو۔۔” لیکن وہ اپنے آپ میں نہیں تھی، اس کی آنکھیں بند ہی رہیں،

اس نے اسے تھام لیا ، وہ اس کی بانہوں میں بے آب مچھلی کی طرح تڑپتی چلی گئی تھی۔ ” اُمی! پلیز رکو تو صحیح، ورنہ میں مرجاؤں گا، تمہاری آواز مجھے اندر سے چیر ڈالتی ہے، پلیز اُمی! مجھے مت مارو۔” وہ اسے لے کر گھاس پر گر پڑا تھا ۔ “دیکھو! میں تمہاری طرح ہمت والا نہیں ہوں، میں تم سے محبت کرتا ہوں بے حد بے حساب، میں نہیں دیکھ سکتا کہ تم کسی سے بات کرو، کوئی تم پر بری نظر ڈالے، شاذل اچھا لڑکا نہیں ہے، پلیز پلیز اُمی بس کرو، میرے لیے اتنی سزا کافی ہے۔۔” وہ اسے اٹھا کر اندر لے آیا تھا۔۔۔

گردن پر اسے جوتے سے زخم آئے تھے، خون رس رہا تھا، وہ زخموں پر مرہم رکھتا رہا اور روتا بھی رہا، وہ بھی ساری رات تڑپتی رہی تھی ، فرمان شروع سے ہی جنونی لڑکا تھا، یہ ماں کی تربیت تھی، اس نے اسے کبھی روکا نہیں، کبھی ٹوکا نہیں، وہ درندوں کی طرح مارتا تھا اُمی کو، ماں دیکھتی رہتی تھی ، بلکہ خوش ہوتی تھی، وہ ایک انتہا پسند لڑکا تھا، اگر اُمی سمجھدار ہوتی، میچور ہوتی تو بھی اسے سنبھال سکتی تھی لیکن وہ تو خود بچی تھی۔۔۔

“اُمی! میں جانتا ہوں کہ میں بہت برا ہوں، پر اُمی! میں تمہیں سسکتا نہیں دیکھ سکتا، مجھے نہیں معلوم تھا کہ محبت بھی ہوتی ہے اور کیسے کی جاتی ہے، مجھے تو کسی نے بتایا ہی نہیں تھا تمہیں دیکھ کر میرے دل نے دھڑکنا سیکھا تھا، اسے پتہ چلا کہ محبت بھی ہوتی ہے، یہ بہت خوبصورت جذبہ ہے، اس سے دل کی اندھیری گلیاں مہک اٹھتی ہیں، اُمی! مجھے بس اظہار کرنا نہیں آتا، میں اپنی ہی زندگی کو بار بار زخمی کرتا رہا ہوں، اُمی! خدا کی قسم زخم تمہیں لگتے ہیں تو درد مجھے ہوتا ہے، پلیز مجھے معاف کردو۔۔۔۔۔” صبح چار بجے وہ جا کے سوئی تھی لیکن فرمان کو کہیں سکون نہ تھا۔۔۔۔

وہ ایک بار پھر اس لیٹر کو پڑھنے لگا، اب اسےعبارت سمجھ میں آرہی تھی ، اور تحریر بھی، وہ اُمی کی تحریر نہیں تھی۔ ” اوہ مائی گاڈ یہ تو مما کی تحریر ہے لیکن کیوں مما ایسا کیوں کر رہی ہی؟ مائیں تو بیٹوں کی خوشی میں خوش رہتی ہیں، یہ کیسی ماں ہے جو میری خوشیاں برداشت نہیں کر سکتی؟ اب تو امی کی ماما بھی زندہ نہیں ہیں، اب مما کس سے انتقام لے رہی ہیں؟ یہ کیسا انتقام ہے جو مرے ہوئے کو بھی معاف کرنے پر تیار نہیں۔۔۔۔۔۔

اوہ میرے خدا! میری ماں کو سیدھا راستہ دکھا،،، ان کے دل کی سیاہی کو دھو دے، میرے مالک! انہیں ہدایت دے، اے میرے مالک! میں بہت برا اور گناہ گار بندہ ہوں مجھے پناہ دے میرے مالک! میں ماں کا گستاخ نہ کہلاؤں، اے میرے مالک ! تو سب دیکھ رہا ہے، یا اللہ ! میری مشکل آسان کر دے، یہ چھوٹی سی لڑکی مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ پیاری ہے، اے میرے مالک! اسے اپنی پناہ میں رکھنا میرے ہاتھوں اسے میرے شرسے بچائے رکھنا ۔ وہ سسک سسک کر روتا رہا اور خدا سے معافی بھی مانگتا رہا۔

 

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

 

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *