Reckless Love By Haya Fatima Novel20785

Cousin Based Marriage | Urdu Romantic Novel | Love After Marriage | Protective Hero | Romance | Novelistan

” آج ہم سالار بھائی کے کمرے میں اے سی چلا کر سوئیں گے۔۔ اور انہوں نے ہمارا لیپ ٹاپ چھینا تھا نہ؟ اب ان کے لیپ ٹاپ میں فلم دیکھیں گے رومانٹک والی ” اپنی کزن کا بازو کھینچتے وہ زبردستی اسے سالار شاہ کے کمرے میں لے گئی تھی کیونکہ انہیں معلوم نہیں تھا تیز بارش کی وجہ سے سالار کی فلائٹ کینسل ہو گئی ہے۔۔سالار کے کمرے میں فلم دیکھتے وہ اس کا کمفرٹر بانہوں میں دبوچتے کب سوئی اسے اندازہ نہ ہوا۔ اس کی کزن پانی لینے کمرے سے باہر نکلی تھی جب پیچھے سے دروازہ کھول کر سالار شاہ تھکا ہارا اندر داخل ہوا۔ فلائٹ کینسل ہونے پر کل ارجنٹ میٹنگ کی وجہ سے وہ بائی روڈ ڈرائیو کرتے آیا تھا پر اپنے بیڈ پر سوتی شمن کو دیکھ ماتھے پر بل پڑے۔ چہرہ شرم سے لال تب ہوا جب نگاہ اسکرین پر چلتے رومانٹک سین پر پڑی۔۔

سالار کے شاہانہ کنگ سائز بیڈ کے بالکل در میان دو لڑکیاں کمبل میں منہ چھپائے دبی دبی ہنسی کے ساتھ لیپ ٹاپ پر نظریں جمائے بیٹھی تھیں۔ لیپ ٹاپ کی نیلی روشنی ان کے چہروں پر پڑ رہی تھی جہاں خوف اور سسپنس کے ملے جلے تاثرات تھے۔۔۔” ثمن پلیز آواز اور کم کرو۔ اگر تائی اماں جاگ گئیں تو ہماری ہڈیاں توڑ کر عریشہ آپا کی شادی کے لڈوؤں میں ڈال دیں گی ” ہانیہ نے ڈرتے ڈرتے ثمن کی آستین کھینچی۔۔

ثمن نے لاپرواہی سے اپنے پاؤں کو ہوا میں ہلایا اور پاپ کارن کا ایک دانہ منہ میں ڈالتے ہوئے بولی ” او ہو ہانیہ تم کتنی ڈرپوک ہو۔ تائی اماں اس وقت گہری نیند میں ہیں اور ہٹلر لالہ یعنی تمہارے پیارے سالار بھائی اس وقت شہر سے دو سو کلو میٹر دور اپنی کسی کھڑوس بزنس میٹنگ میں مصروف ہیں۔ آج کی رات اس کمرے پر ہمارا راج ہے ” پر ثمن۔۔۔۔۔ مجھے یہ جگہ دیکھ کر ہی ہول اٹھ رہے ہیں۔ دیکھو یہ کمرہ کتنا خوفناک حد تک صاف ہے مجھے لگتا ہے سالار بھائی دور بیٹھ کر بھی ہمیں دیکھ رہے ہیں ” ہانیہ نے کمرے کے کونوں کو ایسے دیکھا جیسے وہاں خفیہ کیمرے لگے ہوں۔۔۔

” ڈرپوک انسان فلم کے کلائمکس پر دھیان دو۔ ہیروئن بس اب پکڑی جانے والی ہے ” ثمن نے لیپ ٹاپ کی اسکرین کے اور قریب ہوتے ہوئے کہا۔ گھڑی نے ڈھائی بجا دیے فلم آہستہ آہستہ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی ہانیہ کی ہمت بھی جواب دے رہی تھی۔ اس کی آنکھیں نیند سے بو جھل ہونے لگی تھیں۔ “ثمن۔۔۔۔اب مجھ سے مزید نہیں بیٹھا جارہا۔ میں اپنے کمرے میں جارہی ہوں۔ تم بھی چلو” ہانیہ نے جمائی لیتے ہوئے کہا اور کمبل سے باہر نکلنے لگی ثمن نے اصرار کیا۔۔۔

” ارے یار بس دس منٹ کی فلم رہ گئی ہے دیکھ کر جاؤ نا ” ” نہیں بابا اگر میں یہاں سو گئی اور صبح کسی نے دیکھ لیا تو میری شادی عریشہ آپا سے پہلے کر دی جائے گی۔ تم بھی بند کرو اور چلو” ہانیہ نے اپنے دوپٹے کو درست کیا اور دبے پاؤں کمرے سے نکل گئی۔ ” بزدل کہیں کی۔۔۔۔ ” ثمن بڑبڑائی۔ ” میں تو پوری دیکھ کر ہی اٹھوں گی۔” لیکن اکیلے بیٹھنے کا نقصان یہ ہوا کہ فلم کی سست رفتار اور بیڈ کی نرمی نے ثمن پر بھی جادو کرنا شروع کر دیا۔ پاپ کارن کا باؤل ایک طرف ہو گیا اور ثمن کا سر آہستہ آہستہ سالار کے مخصوص پر فیوم کی خوشبو سے مہکتے تکیے پر ٹک گیا۔

لیپ ٹاپ اس کے سینے پر کھلا رہا جہاں فلم ختم ہو چکی تھی اور صرف ایک ہلکی سی اسکرین روشن تھی ثمن گہری اور بے فکری کی نیند سو چکی تھی اس بات سے بالکل بے خبر کہ قسمت اس کے ساتھ کیا مذاق کرنے والی ہے۔ ٹھیک تین بجے گھر کے صدر دروازے کا تالا انتہائی خاموشی سے کھلا۔ سیاہ رنگ کے تھری پیس سوٹ میں ملبوس ہاتھ میں بریف کیس تھامے سالار جاوید گھر کے اندر داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر شدید تھکن تھی لیکن آنکھوں میں وہی روایتی چمک اور سنجیدگی قائم تھی۔ موسم کی خرابی اور فلائٹ کینسل ہونے کی وجہ سے اسے اپنی اہم ترین میٹنگ ملتوی کر کے اچانک واپس لوٹنا پڑا تھا۔

سارا راستہ وہ اسی سوچ میں تھا کہ گھر جاکر چند گھنٹے پر سکون نیند لے گا کیونکہ اس کا کمرہ ہی اس کی پناہ گاہ تھا۔ وہ دھیمے قدموں سے سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے کے سامنے پہنچا۔ ہینڈل گھمایا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔ جیسے ہی اس نے کمرے کی لائٹ آن کرنے کے لیے سوچ بورڈ کی طرف ہاتھ بڑھایا اسے بیڈ پر ایک عجیب سا سایہ نظر آیا۔ سالار کے ہاتھ وہیں رک گئے۔ اس نے لائٹ آن کرنے کے بجائے اپنے فون کی فلیش لائٹ جلائی اور بیڈ کی طرف قدم بڑھائے۔

جو منظر اس کے سامنے تھا اس نے سالار جاوید کو چند سیکنڈز کے لیے مٹی کا بت بنا دیا۔ اس کے بے حد صاف ستھرے بیڈ پر جس کی چادر پر ایک شکن بھی وہ برداشت نہیں کرتا تھا ثمن لال رنگ کے کڑھائی والے سوٹ میں چادر کو آدھا اوڑھے بالکل ملکہ کی طرح پھیل کر سو رہی تھی۔ اس کے سینے پر سالار کا قیمتی لیپ ٹاپ اوندھا پڑا تھا اور بیڈ کی دوسری سائیڈ پر پاپ کارن کے کچھ دانے گرے ہوئے تھے۔۔۔سالار کی بھنویں تن گئیں۔ غصے کی ایک تیز لہر اس کے اندر دوڑ گئی۔

” یہ لڑکی۔۔۔۔۔کبھی نہیں سدھر سکتی ” اس نے دانت پیس کر سوچا۔ وہ بیڈ کے بالکل قریب آیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ ثمن کو ابھی اور اسی وقت جھنجھوڑ کر اٹھائے گا اور اس گستاخی پر پورے گھر کے سامنے اس کی کلاس لے گا۔ وہ جھکا اور انتہائی سختی سے ثمن کے سینے پر
رکھا لیپ ٹاپ اپنے ہاتھوں میں لیا۔ جیسے ہی لیپ ٹاپ ہٹا ثمن کو ہوا کا جھونکا لگا۔ وہ نیند میں تھوڑی سی ہچکچائی۔ اس کی لمبی پلکیں لرزیں اور اس نے اپنے چہرے پر پڑنے والی روشنی سے بچنے کے لیے اپنا ہاتھ فضا میں لہرایا۔۔۔۔

سالار نے لیپ ٹاپ سائیڈ ٹیبل پر پٹخا اور دھیمی آواز میں بولا ” ثمن اٹھو۔ یہ کیا بد تمیزی ہے؟” ثمن نے موندھی ہوئی آنکھوں سے سامنے دیکھا۔ فون کی فلیش لائٹ کے ہالے میں اسے سالار کا لمبا قد اور غصے سے بھرا چہرہ ایک سائے کی طرح نظر آیا۔ وہ اتنی گہری نیند میں تھی کہ اس کا شعور کام نہیں کر رہا تھا۔ اس نے سمجھا کہ وہ ہمیشہ کی طرح کوئی برا خواب دیکھ رہی ہے جہاں سالار اسے ڈانٹ رہا ہے۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اپنے دونوں ہاتھ تکیے کے نیچے دبائے اور انتہائی معصومیت سے منہ بنا کر بڑبڑائی۔۔۔۔

” اف۔۔۔۔۔” خواب میں بھی یہ سالار لالہ کا غصہ اور ان کا ہٹلر جیسا چہرہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ بندہ خواب تو سکون کا دیکھ لے۔۔۔۔۔۔” یہ کہہ کر اس نے کروٹ بدلی کمبل کو دوبارہ اپنے چہرے تک کھینچا اور ایک بار پھر گہری نیند کے آغوش میں چلی گئی جیسے سامنے کھڑا شخص کوئی انسان نہیں بلکہ اس کے دماغ کا کوئی وہم ہو۔ سالار سکتنے کی حالت میں وہیں کھڑا رہ گیا۔ اس کے ہاتھ آہستہ آہستہ ڈھیلے پڑ گئے۔۔۔۔

“خواب۔۔۔۔۔؟ ہٹلر جیسا چہرہ۔۔۔۔۔؟” اسنے دہرایا۔ اس کے سخت چہرے کے تاثرات یکسر بدل گئے۔ غصے کی جگہ ایک بے ساختہ مسکراہٹ نے لے لی جسے وہ خود بھی روکنے میں ناکام رہا۔ وہ لڑکی جو جاگتے میں اس کے سامنے آتے ہی سہم جاتی تھی نیند میں اسے ہٹلر کہہ رہی تھی۔ سالار نے گہرا سانس لیا اور نفی میں سر ہلا دیا۔ اس لڑکی کی معصومیت اور بے باکی کا کوئی علاج نہیں تھا۔۔ اس نے جھک کر بیڈ پر گرے پاپ کارن کے دانوں کو ایک ٹشو پیپر سے صاف کیا۔ پھر سائیڈ ٹیبل سے اپنا فون اٹھایا اور ثمن کے چہرے پر پھیلی معصومیت کو ایک لمحے کے لیے دیکھا۔

چاند کی روشنی پردے کے جھروکے سے اندر آکر اس کے چہرے کو چھو رہی تھی۔ سالار کے دل میں ایک عجیب سی نرمی کا احساس جاگا جسے وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔ “اگر آج تمہیں اٹھا دیا تو صبح تک تمہاری جان نکلتی رہے گی ” اس نے دل میں سوچا۔ سالار نے اپنا کوٹ اتارا اسے صوفے کی پشت پر لٹکایا اور اپنی ٹائی ڈھیلی کی۔ اس نے بیڈ پر سونے کا ارادہ ترک کر دیا۔ وہ کمرے کے کونے میں رکھے آرام دہ صوفے کی طرف بڑھا وہاں بیٹھا اور ایک کمبل اپنے اوپر ڈال لیا۔ سونے سے پہلے اس نے ایک آخری نظر بیڈ پر سوئی ثمن پر ڈالی۔

“شیر کی کچھار میں آتو گئی۔۔۔۔ لیکن صبح جب آنکھ کھلے گی تو اس ہٹلر کا سامنا کیسے کرو گی؟” اس نے متبسم نظروں سے سوچا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔ شادی والے گھر کی صبح ہمیشہ ہی ایک خوبصورت افرا تفری سے بھر پور ہوتی ہے۔ پورے لاؤنج میں عریشہ کی شادی کے گیتوں کی ہلکی سی گونج تھی کہیں کپڑوں کی استری کی آوازیں تھیں تو کہیں ڈھولک کے تھاپ کی پریکٹس چل رہی تھی۔ لیکن سب سے زیادہ گہما گہمی ڈائننگ ٹیبل پر تھی جہاں پر خاندان کے تمام چھوٹے بڑے ناشتے کے لیے جمع ہو رہے تھے۔ گرم پراٹھوں انڈوں اور کڑک چائے کی خوشبو نے پورے ہال کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ اس رونق کے درمیان ثمن کی حالت ایسی تھی جیسے کوئی مجرم پھانسی کے پھندے کی طرف بڑھ رہا ہو۔ وہ سیڑ ھیوں سے ایسے اتر رہی تھی جیسے موت کی راہ پر قدم رکھ رہی ہو۔۔۔۔۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *