Mohabbat Ki Qaid By HS Novel20786 

Cousin Based Marriage | Urdu Romantic Novel | Love After Marriage | Protective Hero | Romance | Novelistan

” جا ، جا کر حاشر کو ناشتہ دے آ ، نیند سے جاگ گیا ہوگا۔” تائی امی نے اسے اپنی پیارے بھانجے کے لیے حکم دیا جو ساری رات آوارگی کر کے دن چڑھتے تک سویا رہتا تھا۔ وہ ان کی پیاری بہن کا بیٹا تھا جو اکثر یہی آ کر رہتا تھا اور تائی امی اس کی خدمات کے لیے ہمیشہ حبا کو پیش پیش رکھتی۔” کون ہے ذرا اے سی کو تو بند کر دو ۔” دروازے کی آہٹ پر حاشر نے سوتے ہوئے ہی کہا تھا۔ حبا نے بنا کچھ کہے اے سی کو بند کیا تو ریموٹ کی آواز پر حاشر نے سر اٹھا کر دیکھا تھا۔ حبا کو دیکھ کر اس کی باچھیں کھل گئیں۔” آج تو دن بڑا رنگین اور سہانا ہے۔ ” حاشر نے کوہنی پر سر ٹکا کر حبا کو دیکھ کر کہا جو اس کی نظروں میں چمکتی خباثت کو دیکھ کر گھبرا گئی۔ ” آپ کا ناشتہ تائی نے بھیجا تھا۔”اس نے تیزی سے کہتے ہوئے باہر کی جانب رخ کیا مگر حاشر نے یکدم اس کی کلائی پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو حبا کا پاؤں بیڈ کے پائے سے لگا وہ زور سے چلائی حاشر نے بے ساختہ اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔” کیا ہوا تجھے کیو چلا رہی ہے”.۔ حبا نے جھک کر دیکھا تو اس کے پاؤں کے انگوٹھے کا ناخن ٹوٹ چکا تھا جس سے خون بھی بہنے لگا تھا۔ ” ارے ! چچچچ۔۔۔ بہت برا ہوا۔” حاشر نے مصنوعی افسوس کیا وہ پھر بھی تیزی سے دوڑ کر کمرے سے نکل گئی اور بھاگتی ہوئی کچن کے اسٹور میں پہنچی جہاں کافی اندھیرا تھا۔ وہ اپنے ہاتھوں میں چہرے کو چھپا کر رونے لگی۔ ہر روز کی ذلت سہتے سہتے اب وہ اندر ہی اندر بوڑھی ہو رہی تھی۔ اس کے شوہر نے ایک بار بھی مڑ کر نہیں پوچھا کے وہ کیسی تھی کس حال میں تھی۔ “شاہ حویلی کے مرد بہت ظلم اور بے درد ہوتے ہیں”۔اس نے سسکیاں لیتے ہوئے سوچا۔”حبا ، حبا! جانے یہ لڑکی کہاں رہ گئی ہے ۔ میری تو جان اٹک گئی ہے اسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر۔” تائی امی نے اسے چیختے ہوئے کچن میں آ کر کہا وہ سن رہی تھی۔ مگر اپنی سسکیاں روک کر جیسے ان کے اندر نہ آنے کی دعا کی ۔ وہ باہر سے ہی لوٹ گئیں تو حبا کی ایک بار پھر ہچکی بند گئی۔
” آؤ حبا تم بھی ناشتہ کرو ۔”قاسم شاہ نے اسے دیکھ کر یکدم کہا جو عاصم کا چھوٹا بھائی تھا۔ وہ تھا تو حبا سے بڑا لیکن حبا کو بڑی بھابھی کی حیثیت سے عزت و احترام سے پیش آتا تھا حالانکہ اس کی یہ عادت باقی کسی کو پسند نہ تھی۔ ” چپ کر کے اپنا کھانا کھاؤ ، بڑا آیا حبا کا ہمدرد ، کھانا وہ کھا چکی ہے۔” تائی امی نے اسے غصے سے کہا تو قاسم نے سر جھکا لیا وہ اپنی ماں سے بہت ڈرتا تھا۔ اس لیے حبا سے بہت کم بات کرتا تھا حالانکہ وہ دل ہی دل میں حبا سے بڑی ہمدردی رکھتا تھا مگر اس کے بس میں کچھ نہیں تھا ۔ یہاں شاہ حویلی میں اب تائی امی کا راج تھا۔ وہ شام کو واپس لوٹا تو حبا پودوں کو پانی دے رہی تھی اسے دیکھ کر قاسم کو خیال آیا کہ…… “ہر وقت یہ کام کرتی ہے سوتی کب ہے۔”۔۔ ” سنو مجھے بینڈج باکس لا کر دو گی۔” قاسم نے آ کر التجائی لہجے میں کہا تو اس کے ہاتھ کو دیکھتے ہی بولی ۔” قاسم بھائی کیا ہوا آپ کے ہاتھ کو ؟۔”۔” ہاں بس وہ گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا تھا تو اسی میں کٹ گیا۔۔۔۔۔” حبا پوری بات سنے بنا ہی چلی گئی قاسم اسے حیرت سے دیکھنے لگا ۔ وہ اندر کچن کے ڈائننگ ٹیبل پر آ کر بیٹھ گیا تو حبا نے اسے بینڈیج باکس لا کر دیا۔ ” آپ کو تو بہت زیادہ چوٹ آئی ہے۔” وہ دھیمی آواز میں بولی۔ ” ہاں میں ابھی اسے مرہم لگا دونگا تو ٹھیک ہو جائے گا۔” اس نے اپنا بینڈیج کیا مگر آخر میں اسے باندھنے کے لیے ہاتھ آگے کیا۔ ” اسے باندھ دو گی پلیز ۔” وہ جیسے گزارش کرنے لگا۔ حبا نے ڈرتے ہوئے اس کی پٹی باندھی مگر عین وقت پر تائی امی آ گئیں۔” یہ کیا ہو رہا ہے ۔ تم نے اس کا ہاتھ کیوں پکڑا ہے۔ ” وہ غضب ناک ہوئیں ۔” تائی امی ۔۔۔وہ ۔۔۔ میں ۔” وہ ہیبت کے مارے کچھ بول نہیں پا رہی تھی۔” میرے ہاتھ میں چوٹ آئی ہے تو میں نے پٹی کو باندھنے کا کہا تھا ۔۔۔۔۔” تم چپ رہو اور جاؤ یہاں سے۔” قاسم کی بات انہوں نے ان سنی کر دی۔ وہ غصے سے چلا گیا۔ اور کر بھی کیا سکتا تھا۔ حبا کے لیے ان سے بحث تھوڑی کر سکتا تھا۔ ” تم یہاں میرے ایک بیٹے کے نکاح میں رہ کر دوسرے کو اپنے رنگ ڈھنگ سے پھنسانے کی کوشش کر رہی ہو۔” انہوں نے جلتے ہوئے چولہے پر کانٹا رکھا اور اس گرم کانٹے سے حبا کے ہاتھ جلائے وہ خود کو بچانے کے چکر میں تھی کہ اس کے گلے پر بھی کانٹے کے نشان پڑ گئے وہ چیختی رہی

 

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *