Dill Diya Tujhe By Haniya Novel20784
Dill Diya Tujhe By Haniya Novel20784
Forced Marriage Base | Revenge Based | Urdu Romantic Novel | Love After Marriage | Rich Hero Romance | Protective Hero | Romance | Novelistan
یا اللہ اس نماز کے صدقے میری دعا قبول کر۔ اس ہٹلر کو چار چار بیویاں دے۔ چاروں کے چھ چھ بچے ہوں۔ یا اللہ پر وفیسر منیر بخاری کے بچے اتنی پوٹیاں کریں کہ وہ صاف کرتا رہ جائے۔ اسے یونی آنے کی فرست نہ ملے۔ اسکو چرسیوں جیسی نیند آئے اور مہرو کی دعا ادھوری تھی کہ تین سینیئرز لڑکیاں اندر داخل ہوئیں۔۔۔۔ “یہ کیا بدتمیزی ہے مہرو؟؟؟ سر منیر تمھیں آفس میں بلا رہے ہیں۔۔۔۔ ” “ک۔۔۔۔ کیا مطلب؟۔۔۔۔” وہ خوف سے زرد پڑی۔ ” بھولی مت بنو پرئیر روم کا سپیکر آن تھا پوری یونی نے تمہاری بکواس سنی ہے۔” انکے انکشاف پر وہ خوف سے لرزتی منیر بخاری کے آفس پہنچی۔۔۔۔
دروازے کے باہر کھڑی وہ خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ” یہ کیا ہو گیا مجھ سے؟؟؟ اب کیا ہوگا میرا؟ کیا مجھے یونیورسٹی سے نکال دیا جائے گا؟ اور اگر یونیورسٹی سے نکال دیا تو میں اماں کو کیا جواب دوں گی؟؟ کہ مجھے یونیورسٹی سے کیوں نکالا گیا ہے۔۔ کتنی بدنامی ہوگی میری یہ سپیکر کو بھی آج ہی کھلا رہنا تھا؟؟ ” وہ اپنی آنکھوں میں آئے آنسو صاف کرتی اجازت ملنے پر کمرے میں گئی تھی۔۔۔۔
منیر بخاری اسے بڑی گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا مہرو نے تھوک نگلا تھا مہرو منیر کی خاموشی سے خوفزدہ ہونے لگی تھی۔ “کیا یہ اپنی خاموشی سے سے ہی میری جان لے لیں گے؟؟؟ ” وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی “س۔۔۔۔سوری سر میرا وہ مطلب نہیں تھا۔” وہ سر جھکائے کھڑی تھی کہ منیر بخاری نے اٹھ کر دروازہ لاک کیا۔۔۔ ” آج تو مہرو کی خیر نہیں بڑا مزہ آنے والا ہے بڑا تماشا لگے گا یونیورسٹی میں۔” ” تم کتنی بے حس ہو عائشہ لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے کے علاوہ تمہارے پاس کام ہی کیا ہے؟۔۔۔۔ ” یہ مہرو کی سہیلی تھی اس کی بیسٹ فرینڈ جو اس کے ہر دکھ میں اس کے ساتھ تھی۔۔۔۔
آدھے گھنٹے کے بعد دروازہ کھلا تھا ربیعہ کی نگاہیں مہرو پر اٹکی ہوئی تھی اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا نہ جانے سر منیر نے مہرو کو کیا کہا ہوگا؟؟؟ اس نے کمرے سے باہر نکلتے ہی کسی کی طرف دیکھنا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا اس کے منہ پر جیسے فقل لگ گیا تھا۔ ” مہرو تم ٹھیک تو ہو نا؟ کوئی جواب تو دو کیا ہوا ہے؟۔۔۔۔” لیکن مہرو کچھ بھی جواب دیے بغیر یونیورسٹی سے نکلتی چلی گئی تھی۔۔۔۔۔
وہ گھر پہنچی تو نسرین بیگم میز پر کھانا لگا رہی تھی۔ ” ارے آج میری بیٹی اتنی جلدی آگئی؟؟” مہرو کو دیکھتے ہی وہ بولی۔ ” آجاؤ کھانا تیار ہے سب بیٹھ کے کھانا کھاتے ہیں آج۔” لیکن وہ کسی کو بھی جواب دیے بغیر کمرے میں چلی گئی۔” اس کو کیا ہوا آج سب خیر تو ہے؟؟ آج سے پہلے تو یہ اتنی خاموشی سے نہ تو گھر آئی ہے اور نہ ہی کسی سے بات کیے بغیر کبھی کمرے میں گئی ہے۔” نسرین بیگم نے بلال صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔
بلال صاحب بھی کافی پریشان ہوئے تھے تبھی وہ خاموشی سے اٹھے اور مہرو کے کمرے کی طرف گئے۔ جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوئے سامنے ہی مہرو اوندھے منہ بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔ “مہرو کیا ہوا ہے؟ میرا بیٹا ٹھیک ہے؟۔۔۔” لیکن مہرو نے کوئی جواب نہیں دیا بلال صاحب ایک دم پریشان ہوئے تھے۔۔۔ ” یونیورسٹی میں کسی نے کچھ کہا ہے مجھے بتاؤ میں جا کر خبر لوں اس کی۔۔۔” ” نہیں بابا کچھ نہیں ہوا آپ فکر نہیں کریں۔” وہ اب مزید خاموش رہ کر اپنے گھر والوں کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
” بس کچھ تھک گئی ہوں اسی لیے ایسے لیٹ گئی اور اب تو امتحانات بھی سر پر ہیں نا تو ان کی فکر ہورہی ہے۔۔” یہ معجزہ کیسے ہوا میری بہن اور امتحانات کی فکر؟ بابا سورج کہاں سے نکلا ہے؟؟؟؟ ” سارم کمرے میں آیا تو ماحول کو خوشگوار بنانے کے لیے اس نے مہرو کو چھیڑا تھا لیکن مہرو تو مسکرا بھی نہ سکی تھی۔۔۔ ” میری بیٹی میری خاطر بھی کھانا نہیں کھائے گی کیا؟ اگر تم کھانا نہیں کھاؤ گی تو میں بھی کھانا نہیں کھاؤں گا۔۔۔” بلال صاحب نے مہرو کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ” چلو اٹھو شاباش کھانا کھاتے ہیں۔۔۔” اس نے گہرا سانس لیا اور پھر اٹھ کر کھانے کی میز پر آگئی۔ وہ کسی سے بھی بات کیے بغیر کھانا کھا رہی تھی نسرین بیگم بلال صاحب کی طرف اور بلال صاحب سارم کی طرف دیکھ کر حیران ہو رہے تھے۔۔۔۔۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕