Emotional Love Story
Mahveen By Haya Fatima Ahmad Novel20896
"شنزیل... ہم مہوین کے حقیقی والدین نہیں ہیں، اور یہ بات مہوین آج تک نہیں جانتی۔"
"ہم نے اسے خون کے رشتے سے نہیں، محبت کے رشتے سے پالا ہے۔"
"اگر وہ میری دوستی قبول کر لے، تو میں صرف اس کا ڈاکٹر نہیں، اس کی زندگی سنوارنے والا ساتھی بھی بننا چاہوں گا۔"
Wehshat E Meesam By Novel Girl Novel20894
"بس مجھے اکیلا چھوڑ دو، ونیزہ... مجھے تمہارے ترس یا فکر کی ضرورت نہیں۔"
"آپ کی وجہ سے کچھ نہیں ہوا... یہ سب ہونا ہی تھا۔ بہت سے چہروں کے نقاب آج اتر گئے۔"
ونیزہ خاموش کھڑی تھی، جبکہ میثم کی آنکھوں میں برسوں کے درد، ٹوٹے ہوئے یقین اور چھپے ہوئے جذبات ایک ساتھ جھلک رہے تھے۔
Saaz Phir Chir Gaye Zindagi Ke By Sajida Habib Novel20893
کملی نے احمد جلال کی دوسری شادی اپنی شکست سمجھ کر نہیں، اپنی سب سے بڑی امید سمجھ کر قبول کی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی گود شاید کبھی آباد نہ ہو، اسی لیے اس نے اپنے شوہر کی زندگی میں شاہ بانو کو جگہ دی۔ جب شاہ بانو کے ماں بننے کی خبر آئی تو سب سے زیادہ خوش کملی ہی تھی۔ اسے لگا، برسوں سے جس ننھی خوشی کا انتظار تھا، وہ اب اس کے آنگن میں اترنے والی ہے۔
مگر اس کی ساری خوشی ایک ہی جملے نے چھین لی۔
"پالنے کا حق بھی پیدا کرنے والی کا ہوتا ہے۔"
کملی نے زخمی نگاہوں سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا، جیسے وہ صرف ایک لفظ کہہ کر اس کا حق، اس کی محبت اور اس کی قربانی بچا لے گا۔ مگر احمد جلال کی خاموشی شاہ بانو کے لفظوں سے بھی زیادہ بےرحم ثابت ہوئی۔
اور پھر وہ جملہ آیا، جس نے کملی کے وجود میں برسوں سے جمی ہر امید توڑ دی۔
"تم کچھ نہیں سمجھو گی، کملی... کیونکہ تم ماں نہیں ہو۔"
جس عورت نے اپنے شوہر کی خوشی کے لیے اپنی محبت بانٹ دی، اسے ایک لمحے میں اس کی محرومی سے پہچان دیا گیا۔ وقت بدلا، رشتوں کے چہرے بدلے، اور ایک دن وہی احمد جلال کملی کے سامنے سوال بن کر کھڑا تھا۔
"تم اتنی ظالم کیسے ہو گئیں؟"
کملی نے اسے دیکھا اور دل میں گڑا ہوا وہی زخم لفظ بن کر لوٹ آیا۔
"کیونکہ میں ماں نہیں ہوں۔"
یہ صرف دوسری شادی کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسی عورت کی خاموش ٹوٹ پھوٹ ہے جس کی قربانی سب نے قبول کی، مگر اس کے دل کا حق کسی نے نہ سمجھا۔
𝐏𝐞𝐡𝐥𝐢 𝐞𝐢d by Rashida Riffat Novel20892
ایک ہی چہرہ... ایک ہی خون... مگر دلوں میں برسوں پرانی دشمنی۔ جڑواں بہنیں ہونے کے باوجود دونوں نے کبھی ایک دوسرے کو بہن مانا ہی نہیں۔ بچپن کی معمولی ضدیں وقت کے ساتھ ایسی نفرت میں بدل گئیں کہ شادی کے بعد بھی ایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہی ان کی زندگی کا مقصد بن گیا۔ قسمت نے ایسا پلٹا کھایا کہ انہی دونوں کی اولاد ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئی اور رشتہ بھی طے ہو گیا۔ سب نے سمجھا کہ شاید اب برسوں کی دوریاں ختم ہو جائیں گی... مگر اصل جنگ تو شادی کے بعد شروع ہوئی۔ پہلی عید آئی تو دونوں ماؤں کی انا پھر آمنے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ ایک بضد تھی کہ بہو پہلی عید سسرال میں منائے گی، دوسری نے قسم کھا لی کہ بیٹی پہلی عید میکے ہی آئے گی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک رسم نے ضد کی شکل اختیار کر لی، ضد نے انا کا روپ دھار لیا، اور انا نے دو محبت کرنے والوں کی نئی نئی ازدواجی زندگی کو داؤ پر لگا دیا۔ آخر جیت کس کی ہوگی... محبت کی یا برسوں پرانی دشمنی کی؟
Ab Sawal ye hai keh By Asia Razzaqi Novel20891
"کبھی کبھی قسمت ایک ہی لمحے میں زندگی کا رخ بدل دیتی ہے..."
سمن نے ماں کی وفات کے بعد ہمیشہ اپنوں کی بے رخی، سوتیلی ماں کے ظلم اور ادھورے خوابوں کا بوجھ اٹھایا۔ وہ اپنی تعلیم بھی مکمل نہ کر سکی، مگر اس کی پھوپھی نے ہار نہ مانی اور اسے دوبارہ کالج پہنچا دیا۔ دوسری طرف عادل کے لیے بھی قسمت ایک نیا امتحان لے کر آئی۔ جب ایک زبردستی کا رشتہ اس پر مسلط کرنے کی کوشش ہوئی اور انکار کی قیمت اس کی بہن کا بسا بسایا گھر بننے لگی، تو اس کی ماں نے لمحہ بھر میں ایسا فیصلہ کر دیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ ایک اچانک نکاح نے کئی زندگیاں بدل دیں... مگر کیا یہ رشتہ محبت میں ڈھلے گا، یا خاندانی رنجشیں، حسد اور مجبوریوں کے درمیان ٹوٹ کر بکھر جائے گا؟
Aroos e Atish By Sadz Hassan Novel20880
وہ اپنی بہن کی جگہ دلہن بنی تھی... مگر اسے خبر نہ تھی کہ جس مرد سے اس کا نکاح ہوا ہے، وہ اس کی قسمت ہی بدل دے گا۔
ایک مجبور لڑکی، ایک پراسرار شوہر، ایک ایسا راز جو پہلی رات ہی سب کچھ بدلنے والا تھا۔ نیسا کو لگا تھا کہ وہ ایک غریب آدمی کے گھر آئی ہے، لیکن ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اسے احساس ہونے لگا کہ اس شادی کے پیچھے صرف غربت نہیں... ایک خطرناک سچ بھی چھپا ہے۔ جب حقیقت سامنے آئے گی تو کیا محبت جیتے گی... یا ہر رشتہ آگ میں جل جائے گا؟
Betabiyan Novel by Hafsa Shakeel Novel20873
ہانیہ نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اپنے شوہر کے گھر میں قدم رکھتے ہی اس کے نصیبوں کا فیصلہ نفرت کے الفاظ سے ہوگا۔ شہیر نے ماں کی مجبوری پر اس سے نکاح تو کر لیا، مگر پہلی ہی رات اس نے ہانیہ کے کردار پر ایسے الزامات لگائے کہ اس کی روح تک زخمی ہو گئی۔ ہر لفظ زہر بن کر اس کے دل میں اترتا رہا اور وہ بے بسی سے اپنی صفائی دیتی رہ گئی۔ شہیر نے صاف کہہ دیا کہ یہ رشتہ اس کے لیے صرف ایک بوجھ ہے اور ہانیہ کو کبھی بیوی کا مقام نہیں ملے گا۔ جس لڑکی نے محبت، عزت اور ایک نئے آغاز کے خواب دیکھے تھے، اسے اپنی پہلی ہی رات احساس ہو گیا کہ اس کی زندگی ایک ایسے عذاب میں بدلنے جا رہی ہے جہاں ہر دن اس کے صبر کا امتحان ہوگا۔
Gulab Rastay Badal Liye Hain Novel By Rahat Jabeen Novel20905
شادی سے صرف ایک رات پہلے ارمغان خاموشی سے حنا کے کمرے میں آتا ہے اور نہایت سنجیدہ لہجے میں کہتا ہے کہ اگر وہ اپنی زندگی بچانا چاہتی ہے تو ابھی اسی وقت اس شادی سے انکار کر دے، کیونکہ وہ اسے کبھی خوش نہیں رکھ سکے گا۔ مگر حنا بتاتی ہے کہ وہ پہلے ہی انکار کر چکی تھی، لیکن بزرگوں نے اس کی ایک نہ سنی۔ اب دونوں ایک ایسے رشتے کی دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں خواہش کسی کی نہیں، فیصلہ کسی اور کا ہے۔
Dair Andher Novel by Asia Razzaqi Novel20867
عمر بھر شوخ، شرارتی اور بے فکر رہنے والی ہیروئن نے اپنا بچپن ہنسی مذاق اور اپنے کزنز کے ساتھ خوشیوں میں گزارا تھا۔ اسے کیا خبر تھی کہ ایک دن اس کی زندگی ایسا رخ اختیار کرے گی جہاں ہر مسکراہٹ چھن جائے گی۔
اس کی پھپھو، جو ہمیشہ سے اسے ناپسند کرتی تھی، اولاد نہ ہونے پر اپنی ازدواجی زندگی بچانے کے لیے اسے اپنے ہی شوہر کی دوسری بیوی بنا کر گھر لے آئی۔ مگر یہ قربانی دینے کے باوجود وہ کبھی اسے اپنی سوتن سے بڑھ کر نہ دیکھ سکی۔
شادی کے بعد ہیروئن کی زندگی ظلم اور اذیت کا دوسرا نام بن گئی۔ جب حالات ناقابلِ برداشت ہو گئے تو اس کا کزن اسے اس جہنم سے نکالنے کے لیے ہر خطرہ مول لینے کو تیار ہو گیا، اور یہی فیصلہ محبت، قربانی اور خاندانی رنجشوں سے بھرے ایک نئے سفر کی ابتدا بن گیا۔
Judai Hath Malti Hai Novel by Farhat Zafar Novel20865
وردہ نے بچپن ہی سے اپنے والد کے بغیر زندگی گزاری۔ اس کی دنیا صرف اپنی ماں تک محدود تھی، جبکہ اس کی خاموش محبت اپنے پھپھو زاد عفان گارویزی کے لیے وقت کے ساتھ ایک مضبوط رشتے میں بدل گئی۔
مگر عفان کے والد کی پرانی دشمنی نے دونوں کی محبت کو قبول نہ کیا۔ انہوں نے وردہ کے خاندان کا کاروبار ہتھیا لیا، اس کی کردار کشی کی اور حالات ایسے بنا دیے کہ وردہ اپنی ماں کے ساتھ پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہو گئی۔
برسوں بعد جب وردہ واپس لوٹتی ہے تو پرانی دشمنیاں، ادھورے رشتے اور چھپے ہوئے راز ایک بار پھر سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ اب یہ واپسی صرف ماضی سے ملاقات نہیں، بلکہ محبت، انتقام اور قسمت کے ایک نئے امتحان کی شروعات بن جاتی ہے۔