Jiya Jaye Na Morey Piya Ry By CUM

Forced Marriage | Rude Hero | Romantic Urdu Novel | Complete Novel 

” یہ پریگنینٹ ہیں”۔ ڈاکٹر کے الفاظ پگھلے ہوئے سیسے کی مانند اُن کے کانوں میں اترے۔ “یہ کیا بکواس کر رہی ہیں آپ؟ میری بیٹی کنواری ہے”۔ نفیسہ بیگم نے غصے سے کانپتی آواز میں کہا۔ “میں جھوٹ کیوں بولوں گی؟ اِن کی علامات یہی بتا رہے ہیں، باقی آپ ٹیسٹ کروا لیجیے گا”۔ ڈاکٹر یہ کہہ کر خاموشی سے باہر چلی گئیں۔

” ہائے خدا اس بے حیا لڑکی نے تو ہمیں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ میں تو پہلے ہی کہتی تھی افتخار بھائی آپ نے اپنی بیٹی کی تربیت ہی اچھی نہیں کی۔ اتنی چھوٹ دی کہ آج اس نے پورے خاندان کی ناک کٹوا دی ہماری عزت کو سر بازار نیلام کر دیا”۔ زارون کی چچی فوزیہ بیگم نے نخوت سے کہا۔ افتخار صاحب صدمے میں گھر گئے تھے۔

“بولو حورین کس کے ساتھ منہ کالا کر کے آئی ہو؟ بتاؤ ہمیں”۔ نفیسہ بیگم نے آگے بڑھ کر اسے کندھوں سے جھنجھوڑا۔

وہ ویران، بہتی آنکھوں سے اپنے باپ کو دیکھ رہی تھی،جو ساکت کھڑے تھے۔” بتاؤ حورین کس کا بچہ ہے یہ ، تاکہ ہم آج ہی دو بول پڑھوا کر اس بدنامی کے داغ کو دھو سکیں ، جواب دو حورین اس سے پہلے کہ میرا کلیجہ پھٹ جائے”۔ ایک زوردار تھپڑ انھوں نے حورین کے گال پر دے مارا۔ مگر لبوں سے ایک حرف بھی نہ نکلا۔ وہ اس ستمگر کا نام بھی زبان پر نہیں لانا چاہتی تھی۔ “بھابھی خدا کے لیے بس کریں… کیا کر رہی ہیں آپ؟ اس کی حالت پہلے ہی خراب ہے، کیا اس کی جان لے کر دم لیں گی؟ آپ کو نظر نہیں آ رہا کہ وہ صدمے سے بولنے کے قابل بھی نہیں رہی؟”۔ شائستہ بیگم آگے بڑھیں اور حورین کو سینے سے لگا لیا۔ وہ سوکھے پتے کی مانند کانپ رہی تھی۔

“ارے آپ کیوں اسے بچا رہی ہیں؟ لعنت ہو ایسی اولاد پر”۔ فوزیہ بیگم تنفر بھری نظروں سے حورین کو دیکھ کر بولیں۔ “نام بتاؤ اُس لڑکے کا”۔ افتخار صاحب کا ضبط ٹوٹ گیا۔ غصے کے عالم میں انھوں نے اپنی الماری سے گن نکال کر حورین پر تان دی۔ حورین نے چکراتے سر کے ساتھ باپ کو بے یقینی سے دیکھا۔ یہ وہی باپ تھے، جن کی وہ سب سے زیادہ لاڈلی تھی۔”اگر اس نے نام نہیں بتایا، تو آج اس گھر سے دو جنازے نکلیں گے۔ ایک میرا اور دوسرا اس بدکار لڑکی کا”۔ وہ چلائے۔

” مجھے مار دیجیے بابا… مجھے مار دیجیے۔ میں یہی ڈیزرو کرتی ہوں۔ مجھے زندہ نہیں رہنا…”۔ وہ چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ ” ماموں رک جائیے”۔ زارون تیزی سے آگے بڑھا اور افتخار صاحب کے ہاتھ سے گن چھین لی۔” کیا ہو رہا ہے یہاں؟ اور آپ، ماموں… یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟”۔ وہ گھبرائے ہوئے لہجے میں بولا۔ “آ ؤ زارون بیٹے! تم بھی ملاحظہ فرماؤ اس کے کرتوت… دیکھو اس نے ہماری عزت کا کیسا جنازہ نکالا ہے ، یہ ماں بننے والی ہے، وہ بھی بغیر شادی کے… نہ جانے کس کا بچہ ہے “۔

فوزیہ بیگم پھر سے زہر خند لہجے میں بولیں۔ زارون نے چونک کر حورین کو دیکھا۔ حورین نے آہستہ سے سر اٹھایا، اس کی نم اور درد سے بھری نگاہیں زارون سے ٹکرائیں۔ ان نگاہوں میں ہزاروں شکوے تھے، ٹوٹے ہوئے مان کی کرچیاں تھیں۔ زارون کا دل ایکدم سے کسی نے مٹھی میں دبوچ لیا ہو جیسے۔ حورین نے فوراً نفرت سے نگاہیں پھیر لیں۔

زروان چند سانیے کچھ بول نہ سکا۔شائستہ بیگم نے ایک نظر حورین کو دیکھا، پھر اپنے بیٹے کی طرف دیکھا۔حورین کی آنکھوں سے چھلکتی نفرت دیکھ کر اُن کا دل کانپ اٹھا۔ “بس کریں چچی بہت تماشہ ہو گیا۔ افتخار ماموں آپ پریشان نہ ہوں، اس مسئلے کا حل میرے پاس ہے ، آپ نکاح کر دیں اس کا”۔ زارون نے لب بھینچے اور استہزائیہ لہجے میں گویا ہوا۔ حورین تلخی سے مسکرائی۔ جیسے دیکھ کر زارون کا دل سلگ اٹھا۔

“اور کون کرے گا اس لڑکی سے نکاح زارون؟ کون اپنا نام دے گا اس ناجائز بچہ کو؟”۔ شائستہ بیگم نے تیکھی نظروں سے زارون کو دیکھا اور ایک قدم آگے بڑھ کر پوچھا۔

” میں کروں گا… میں دوں گا اسے اپنا نام!”۔ اس کی نظریں حورین کے جھکے ہوئے سر پر تھیں۔ وہ چند لمحے توقف کے بعد بولا۔ اسکی بات پر سب ششدر رہ گئے۔ “ہرگز نہیں میں مر جاؤں گی… زہر کھا لوں گی، مگر آپ سے شادی کبھی نہیں کروں گی زارون شاه”۔ وہ تڑپ کر بیڈ سے اٹھی۔ اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر غرائی۔ زارون کی نگاہیں اس کے سرخ گال پر پڑی۔ جہاں تھپڑ کا نشان واضح تھا۔ غصے سے اُس نے اپنی مٹھی بھینچ لی۔ “شادی تو میں تم سے ہر حال میں کروں گا حورین تمہارے پاس اب کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے “۔ اسکی گرم سانسیں حورین کا چہرہ جھلسا رہی تھی۔

“حورین بیٹا، پلیز اس نکاح کے لیے مان جاؤ…”۔ شائستہ بیگم نے التماس سے کہا۔حورین نے نفرت بھری نظر زارون پر ڈالی اور دو قدم پیچھے ہٹی۔”میں کروں گی یہ نکاح…”۔ پتہ نہیں کتنے آنسو ٹوٹ کر عارض پر گرے تھے۔ اس کی آنکھوں تلے اندھیرا چھایا ہوا تھا، اور وہ زمین بوس ہونے لگی۔ مگر زارون نے اسے تھام لیا تھا۔ وہ اس کے مضبوط بازوؤں میں جھول گئی تھی۔

Download link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *