Monthly Archives: July 2026
Ishq E Roman Shah By Hayat Irtaza Novel20900
"سزا مجھے تم سے محبت کرنے کی مل رہی ہے، مگر میرا عشق آج بھی تمہیں واپس بلاتا ہے۔"
"اگر بات رومان شاہ کی انا پر آ گئی، تو کوئی دیوار تمہیں مجھ سے دور نہیں رکھ سکے گی۔"
"کسی کو مٹانے کے لیے طاقت نہیں، عشق کا جنون چاہیے... اور میرے پاس دونوں ہیں۔"
"تمہاری محبت میں کسی کی شراکت مجھے برداشت نہیں، چاہے وہ تمہارا اپنا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔"
"تم میری جانِ شاہ تھیں، ہو... اور ہمیشہ رہو گی۔"
"بہت تڑپ لیا تمہارے بغیر، اب انتظار ختم ہونے والا ہے۔"
"میرے عشق کی حد صرف محبت نہیں، جنون ہے... اور جنون ہر رکاوٹ مٹا دیتا ہے۔"
"میں دھمکی نہیں دیتا، اپنے وعدے پورے کرتا ہوں۔"
Kalam E Dil By Alishba Waheed Novel20899
"اسے پڑھنے کا پورا حق ہے، اگر وہ یونہی گھر بیٹھی رہی تو دنیا سے بہت پیچھے رہ جائے گی۔ مگر فرقان کا فیصلہ اٹل تھا، 'اگر وہ اسکول گئی تو میں اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا۔' روبینہ ہر حال میں اس کے مستقبل کے لیے کھڑی رہی، لیکن دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے مداخلت کی تو بچی کو ہمیشہ کے لیے اس سے دور لے جایا جائے گا۔"
Dil Ki Girah By Fatima Malik Novel20898
"تم آج تک شائستہ کو سگی بیوی کا درجہ نہیں دے سکے۔ بیوی صرف نام کی نہیں، احساس اور حق کی بھی ہوتی ہے۔ کمرہ اور بستر شیئر کرنے سے نہ روحیں قریب آتی ہیں، نہ دل۔ شائستہ نے سب کو محبت دی مگر کبھی سگی بیوی یا سگی ماں کا مقام نہ پا سکی، پھر بھی اس نے کبھی کسی سے شکوہ نہیں کیا۔
Junoon E Ishq By Rooh E Man Novel20897
"دعا کے بابا نے دعا سے پوچھے بغیر رشتے کے لیے ہاں کر دی۔"
"آپ تو مجھ سے محبت نہیں کرتے نا، تو یہ سب کیوں کر رہے ہو؟"
"بالکل نہیں کرتا۔"
"پھر یہ نکاح کیوں؟"
"اور تم؟ تم نہیں کرتی نا مجھ سے محبت؟"
"جھوٹ مت بولو، میں سب جانتا ہوں۔"
"یہ نکاح صرف ایک دکھاوا ہوگا۔"
"میں شادی سے بچ جاؤں گا۔"
"آپ کو شرم نہیں آ رہی؟ ایک مقدس تعلق کا مذاق بناتے ہوئے؟"
"ٹھیک ہے، میں تیار ہوں۔"
"دعا ہر حال میں اپنے خواب کی تعبیر چاہتی تھی۔"
"یہ بات صرف آپ کے اور میرے درمیان رہے گی۔"
Chalo Wafa Ke Dais Chaltye Hain By Fareeha Mirza Novel20906
"قاضی انکل، میری کچھ شرطیں ہیں، اگر منظور ہیں تو ہی میں ہاں کہوں گی۔"
"میری پہلی شرط، مجھے گھر کے کام کرنے کو نہیں کہیں گے۔"
"دوسری شرط، کھانا یہی بنائیں گے اور برتن بھی یہی دھوئیں گے۔"
"میری چوتھی شرط، یہ میری امی کو میری شکایت نہیں لگائیں گے۔"
"مجھے اس کی سب شرطیں منظور ہیں۔"
"سولہ سال پہلے کیا گیا وعدہ آج بھی میرے لیے اتنا ہی اہم ہے۔"
"مجھے اپنے فیصلے پر کبھی پچھتاوا نہیں ہوگا۔"
"قبول ہے۔"
"وہ ساری عمر وفا کا یہ عہد نبھانے کے لیے تیار تھی۔"
"اور وہ دنیا و آخرت میں صرف اسی کی رفاقت کا عہد نبھائے گی۔"
"مبارک ہو... عقد اب قبولیت کے مراحل طے کر چکا تھا۔"
Mahveen By Haya Fatima Ahmad Novel20896
"شنزیل... ہم مہوین کے حقیقی والدین نہیں ہیں، اور یہ بات مہوین آج تک نہیں جانتی۔"
"ہم نے اسے خون کے رشتے سے نہیں، محبت کے رشتے سے پالا ہے۔"
"اگر وہ میری دوستی قبول کر لے، تو میں صرف اس کا ڈاکٹر نہیں، اس کی زندگی سنوارنے والا ساتھی بھی بننا چاہوں گا۔"
Raaz E Wafa By Hayat Irtaza Novel20895
Raaz E Wafa By Hayat Irtaza Novel20895
Feudal System | Family Rivalry | Political Drama | Revenge | Emotional Romance | Character...
Wehshat E Meesam By Novel Girl Novel20894
"بس مجھے اکیلا چھوڑ دو، ونیزہ... مجھے تمہارے ترس یا فکر کی ضرورت نہیں۔"
"آپ کی وجہ سے کچھ نہیں ہوا... یہ سب ہونا ہی تھا۔ بہت سے چہروں کے نقاب آج اتر گئے۔"
ونیزہ خاموش کھڑی تھی، جبکہ میثم کی آنکھوں میں برسوں کے درد، ٹوٹے ہوئے یقین اور چھپے ہوئے جذبات ایک ساتھ جھلک رہے تھے۔
Saaz Phir Chir Gaye Zindagi Ke By Sajida Habib Novel20893
کملی نے احمد جلال کی دوسری شادی اپنی شکست سمجھ کر نہیں، اپنی سب سے بڑی امید سمجھ کر قبول کی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی گود شاید کبھی آباد نہ ہو، اسی لیے اس نے اپنے شوہر کی زندگی میں شاہ بانو کو جگہ دی۔ جب شاہ بانو کے ماں بننے کی خبر آئی تو سب سے زیادہ خوش کملی ہی تھی۔ اسے لگا، برسوں سے جس ننھی خوشی کا انتظار تھا، وہ اب اس کے آنگن میں اترنے والی ہے۔
مگر اس کی ساری خوشی ایک ہی جملے نے چھین لی۔
"پالنے کا حق بھی پیدا کرنے والی کا ہوتا ہے۔"
کملی نے زخمی نگاہوں سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا، جیسے وہ صرف ایک لفظ کہہ کر اس کا حق، اس کی محبت اور اس کی قربانی بچا لے گا۔ مگر احمد جلال کی خاموشی شاہ بانو کے لفظوں سے بھی زیادہ بےرحم ثابت ہوئی۔
اور پھر وہ جملہ آیا، جس نے کملی کے وجود میں برسوں سے جمی ہر امید توڑ دی۔
"تم کچھ نہیں سمجھو گی، کملی... کیونکہ تم ماں نہیں ہو۔"
جس عورت نے اپنے شوہر کی خوشی کے لیے اپنی محبت بانٹ دی، اسے ایک لمحے میں اس کی محرومی سے پہچان دیا گیا۔ وقت بدلا، رشتوں کے چہرے بدلے، اور ایک دن وہی احمد جلال کملی کے سامنے سوال بن کر کھڑا تھا۔
"تم اتنی ظالم کیسے ہو گئیں؟"
کملی نے اسے دیکھا اور دل میں گڑا ہوا وہی زخم لفظ بن کر لوٹ آیا۔
"کیونکہ میں ماں نہیں ہوں۔"
یہ صرف دوسری شادی کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسی عورت کی خاموش ٹوٹ پھوٹ ہے جس کی قربانی سب نے قبول کی، مگر اس کے دل کا حق کسی نے نہ سمجھا۔
𝐏𝐞𝐡𝐥𝐢 𝐞𝐢d by Rashida Riffat Novel20892
ایک ہی چہرہ... ایک ہی خون... مگر دلوں میں برسوں پرانی دشمنی۔ جڑواں بہنیں ہونے کے باوجود دونوں نے کبھی ایک دوسرے کو بہن مانا ہی نہیں۔ بچپن کی معمولی ضدیں وقت کے ساتھ ایسی نفرت میں بدل گئیں کہ شادی کے بعد بھی ایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہی ان کی زندگی کا مقصد بن گیا۔ قسمت نے ایسا پلٹا کھایا کہ انہی دونوں کی اولاد ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئی اور رشتہ بھی طے ہو گیا۔ سب نے سمجھا کہ شاید اب برسوں کی دوریاں ختم ہو جائیں گی... مگر اصل جنگ تو شادی کے بعد شروع ہوئی۔ پہلی عید آئی تو دونوں ماؤں کی انا پھر آمنے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ ایک بضد تھی کہ بہو پہلی عید سسرال میں منائے گی، دوسری نے قسم کھا لی کہ بیٹی پہلی عید میکے ہی آئے گی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک رسم نے ضد کی شکل اختیار کر لی، ضد نے انا کا روپ دھار لیا، اور انا نے دو محبت کرنے والوں کی نئی نئی ازدواجی زندگی کو داؤ پر لگا دیا۔ آخر جیت کس کی ہوگی... محبت کی یا برسوں پرانی دشمنی کی؟