Bandhan By Falak Novel20669
Bandhan By Falak
Forced Marriage | Rude Hero| Second Marriage Base | Romantic Urdu Novel | Complete Novel
” اٹھو دودھ پلاؤ میرے بیٹے۔۔۔” کو بالاج خانزادہ بریرہ پر چیخ رہا تھا جو غلطی سے اس کے کمرے میں سو گئی تھی۔ وہ اٹھ کر وہیں اسے نیند میں دودھ پلانے لگی! اسکا بیٹا دودھ پیتے ہی سو گیا تو وہ بے خیالی میں ویسے ہی خود کو ڈھانپے بغیر سو گئی! بالاج نے اس کے سفید جسم کو دیکھا تو اسے اپنے قریب کر گیا۔ اس کی پہلی بیوی مر گئی تھی بریرہ سے اس نے مجبوری میں نکاح کیا تھا بیٹے کے خاطر! وہ خانزادہ ہاؤس کی ملازمہ کی بیٹی تھی۔ دو دن پہلے اس نے ایک مردہ بچے کو جنم دیا تھا پھر اس رات بلاج نے۔۔۔۔
” مسٹر بلاج آپ کے بیٹے کی زندگی خطرے میں ہے مدر فیڈ پر لانا ہوگا ورنہ ان کی جان کو خطرہ ہے کیونکہ ڈبے کا دودھ آپ کا بچہ ہضم نہیں کر پا رہا ہے!!! کم وزن ہونے کی وجہ سے اسکے جسم کے کئی اورگینز ابھی ویک ہیں۔۔۔۔۔” ڈاکٹر نائید کی باتوں نے بلاج کی جان نکال دی۔
” ڈاکٹر یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ کچھ بھی کریں میرے بیٹے کو بچائیں اسےکچھ نہیں ہونا چاہیے اگر میرے بچے کو کچھ ہو گیا تو میں اپنے آپ کو جان سے مار دوں گا خود کشی کر لوں گا۔۔۔” صدمہ ہی ایسا تھا وہ بہکی بہکی باتیں کر رہا تھا۔۔۔۔
بی جان نے آنسو بھری آنکھوں سے بلاج کو دیکھا بیوی کو کھو جانے کے بعد اب اسے بچے کے کھونے کا ڈر تھا جو صرف دو دن کا تھا بہت کمزور بہت ہی کم وزن۔ پری میچور ڈلیوری کی وجہ سے وہ چھوٹا ننھا بچہ زندگی و موت کی کشمکش میں تھا ڈاکٹر نائید کی باتیں سن کر بی جان نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ دیا تھا ایک اور صدمہ برداشت کرنے کی اب ان میں ہمت نہیں تھی۔۔۔
انہوں نے بلاج کے تاریک چہرے کی طرف دیکھا ” لیکن ڈاکٹر اماں کے دودھ کا انتظام بلاج کیسے کرے کیا ہسپتال میں سروس نہیں ہے؟؟؟ ” بی جان کی بات پر ڈاکٹر نے گہری سانس لی ” دیکھیں آپ کا کوئی جاننے والا ہو جس کا بچہ چھوٹا ہو؟؟ ایک سال کا؟؟ یا چھ مہینے کا؟؟ وہ آرام سے بچے کو مدر فیڈ کرا سکتے ہیں۔۔۔ میں آپ کی مجبوری سمجھ رہی ہوں بچہ اپنی ماں کو کھو چکا ہے کتنے مجبور ہیں آپ لوگ؟؟ مگر بچے کی جان بچانا بہت ضروری ہے آپ لوگ کوشش کریں یہ انتظام جلد سے جلد ہو جائے۔۔۔” انہوں نے سب کچھ کھول کر ان کے سامنے رکھ دیا تھا۔۔۔
بلاج کو لگا شانزے کو کھونے کے بعد اب اپنے بچے کو بھی کھونے والا ہے اس کے بعد شاید زندگی میں کچھ نہ بجے اس نے پریشانی سے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں جکڑا تھا۔۔۔ بی جان نے ایک دم ہی اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
” میرے بچے پریشان نہیں ہو میری نظر میں ایک لڑکی ہے وہ تمہارے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے میں ابھی بلواتی ہوں اسے۔۔۔۔” وہ دوڑی دوڑی باہر کھڑے ڈرائیور کے پاس گئی تھیں۔۔۔
” اماں سکینہ فورا اپنی بیٹی کو لے کر ہسپتال پہنچوں میں تمہیں لینے آیا ہوں بیگم صاحبہ کا فون آیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ آپ دونوں کو میں ہسپتال لے آؤں۔۔۔۔” اماں سکینہ ڈرائیور کی بات پر حیران رہ گئیں۔۔۔ دونوں ماں بیٹی جاگ رہی تھیں۔۔۔
بریرہ کھڑکی میں بیٹھی اداس چاند کو دیکھ رہی تھی اس کے اندر خالی پن تھا ابھی دو دن پہلے اس نے ایک سرکاری ہسپتال میں مردہ بچے کو جنم دیا تھا اس کی گود اور آنکھیں دونوں ہی خالی تھیں اماں نے اس کا کندھا ہلایا تھا۔ ” چل میری بچی بیگم صاحبہ نے ہسپتال میں بلوایا ہے ضرور کوئی بات ہوگی تبھی تو انہوں نے ہمیں ایمرجنسی میں آنے کا کہا ہے۔۔۔۔” وہ چادر پہن رہی تھیں بریرہ کو بھی اٹھنے کو کہا ” میں کہیں نہیں جا رہی اماں میں یہیں پر ہوں آپ جائو۔۔۔۔” وہ ذرا بھی نہ ہلی تھی۔۔۔
اماں سکینہ نے بڑے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا ” میری بچی مالکوں کا حکم ماننا پڑتا ہے دیکھ جلدی چل میرے ساتھ ڈرائیور کہہ رہا ہے بہت ایمرجنسی ہے بیگم صاحبہ نے فورا ہسپتال پہنچنے کو کہا ہے۔۔۔ “انہوں نے کالے رنگ کی چادر اسکے کندھوں پر ڈالی تھی آنسو بھری نظروں سے اس نے ماں کی طرف دیکھا تھا۔ ان آنکھوں میں کیا کچھ نہیں تھا؟؟؟ درد تکلیف،،، اذیت،،، بے چینی اماں سکینہ نے اس کے ہر جذبات کو نظر انداز کیا تھا۔۔
ان کا دل کوئی چیر کر دیکھتا وہ ایک ماں تھیں بیٹی کے ساتھ جو ہوا تھا ان کا بس نہیں چل رہا تھا اسکے مجرم کو اپنے ہاتھوں سے پھانسی پہ چڑھا دیں جس نے ان کی بیٹی کی زندگی برباد کردی۔ کالے رنگ کی چادر پہن کر بریرہ بھی ساتھ چلنے کو تیار تھی پھر دونوں مرسیڈیز کی پچھلی سیٹ پر بیٹھیں تقریبا بیس منٹ میں ہسپتال پہنچیں۔۔۔۔۔
” لو آگئی سکینہ کی بیٹی۔۔۔” بی جان نے اسے دیکھتے ہی خوشی کا اظہار کیا تھا ایسے لگ رہا تھا جیسے سامنے بریرہ نہیں بلکہ ان کے پوتے کی زندگی چلی آرہی ہے قریب آتے ہی انہوں نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا ” آؤ میری بچی ڈاکٹر کے پاس لے کر چلتی ہوں وہ تمہیں سب سمجھا دے گی۔۔۔” وہ فورا ہی انہیں لے کر ڈاکٹر نائیف کے پاس پہنچ گئی تھیں۔۔۔۔
ڈاکٹر نائید نے اس کم عمر خوبصورت لڑکی کو دیکھا تھا جس نے کالی چادر سے اپنا چہری ڈھکا ہوا تھا ” یہ لڑکی کیا میرڈ ہے؟؟ ” بی جان جلدی سے کہنے لگی۔۔۔” جی جی ڈاکٹر ابھی دو دن پہلے ہی اس نے اپنے بچے کو جنم دیا ہے لیکن بد قسمتی سے وہ مردہ پیدا ہوا تھا لیکن یہ میرے پوتے کو دودھ پلا سکتی ہے اگر یہ خوشی سے اسے دودھ پلانا چاہے میںرے پوتے کی زندگی کا سوال ہے۔۔۔ بریرا دیکھو بیٹا انکار نہ کرنا۔۔۔” بی جان نے اچانک اس کے سامنے ہاتھ جوڑدیے۔۔۔۔۔
بریرا پھٹی پھٹی نگاہوں سے انہیں دیکھ رہی تھی پھر ایک دم ہی ان کے دونوں ہاتھ پکڑے ہوئے کہا ” بی جان آپکا بہت بڑا احسان تھا آپ نے اس وقت پناہ دی جب ہم دونوں ماں بیٹی دربدر کی ٹھوکریں کھا رہی تھیں دو دن سے بھوکی پیاسی شہر کی سڑکوں پر گھوم رہی تھیں۔۔۔” انہوں نے اسے پناہ دی تھی سہارا دیا تھا ایسے وہ کیسے انکار کرتی تھی؟؟؟
” ڈاکٹر صاحبہ میں اپنی مرضی اور خوشی سے اس بچے کو فیڈ کراؤں گی آپ بس کسی طرح بی جان کے پوتے کی زندگی بچائیں۔۔” اس نے ڈاکٹر کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ دیے تھے ڈاکٹر نائید کی آنکھیں بھی خوشی سے چمکنے لگیں جنہیں اس کم عمر لڑکی کو دیکھ کر حیرت بھی ہو رہی تھی پھر وہ انہیں نرسری میں لے گئی تھی نرس نے اسے مکمل طور پر سمجھا دیا تھا کہ بچے کو ہر دو دو گھنٹے بعد فیڈ کروانا ہے۔۔۔
پچے کو اپنی آغوش میں لیتے ہی اس کے ہاتھ کپپانے لگے اپنے مردہ بچے کو دو دن پہلے ہی دفنایا تھا لیکن خدا نے جیسے ایک نئی آزمائش نہیں بلکے نئی زندگی اس کے ہاتھوں پر رکھ دی تھی۔۔۔
اس نے بسم اللہ پڑھ کے اس بچے کو اپنی چھاتی سے لگا لیا۔ وہ ننھا کمزور لیکن بے تحاشہ خوبصورت بچہ بڑی بڑی سنہری آنکھیں لیے بریرہ کے وجود میں اپنی ممتا تلاش کر رہا تھا اس کے سینے سے ماں کی خوشبو محسوس کرتا اس کی چھاتیوں کو اپنے منہ تک لے جانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔۔۔
بڑی آہستہ آہستہ نرمی سے وہ قطرہ قطرہ دودھ اپنے اندر اتاڑ رہا تھا نرس مسکرا کر کہنے لگی۔۔۔۔ ” شکر ہے بچے کے منہ کو دودھ لگ گیا ورنہ کچھ بچے انکار بھی کر دیتے ہیں۔۔۔ آپ بڑی خوش قسمت ہیں خدا آپ سے راضی ہو ہوگا کیونکہ آپ ایک نیکی کا کام کر رہی ہیں۔۔۔۔” بریرہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے خود بی جان بھی رو رہی تھیں جیسے ہی وہ نرسری سے باہر نکلیں باہر کھڑے بلاج نے انہیں دونوں کندھوں سے تھام لیا تھا۔۔۔
” کیا ہوا میرے بچے کی طبیعت ٹھیک تو ہے نا وہ ٹھیک تو ہو جائے گا نا؟؟؟ وہ عورت آگئی ہے جو مدر فیڈ کرائے گی؟؟۔۔۔۔” ” ہاں میرے بچے بریرہ اسے دودھ پلا رہی ہے وہ ٹھیک ہو جائے گا خدا پر یقین رکو۔۔۔۔” بی جانے نے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا اور وہ مرد پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اس کی ہستی کھیلتی زندگی لمحے میں برباد ہو گئی تھی ابھی ایک ہفتے پہلے ہی وہ کتنے خوش تھے کتنی بڑی پارٹی رکھی تھی اور اب؟؟ اسکے دونوں ہاتھ خالی تھے۔۔۔

Download link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕