Asmanon Par Likha By FJ

Forced Marriage | Wani Base | Rude Hero| Romantic Urdu Novel | Complete Novel  

اس چودہ سالہ معصوم لڑکی زرمین کی چینخیں پوری حویلی میں گونجی تھیں۔ وہ شادی کی پہلی رات خاندانی دشمنی کی بھینٹ چڑھی تھی۔ اسکے جسم پر اذیت کی داستان رقم کر کے میر افنان اگلی صبح ہی دوسرے ملک جا چکا تھا اور تین سال تک نہ لوٹا تھا۔ وہ معصوم لڑکی سالوں گزرنے کے بعد بھی میر افنان کے نام سے ڈرتی تھی۔ جب تین سال بعد وہ لوٹا تو گارڈن میں مسکراتی کھیلتی زرمین کو دیکھ مبہوت رہ گیا پر جونہی زرمین نے اس کو دیکھا وہ خوف سے روتی اندر بھاگ گئی میر افغانمیر افنان سے برداشت نہ ہو اور اسی رات خاموشی سے زرمین کے کمرے میں گیا۔۔۔۔۔۔۔
زرمین خاندانی دشمنی میں ونی ہوئی تھی وہ میر حویلی جانوروں کی طرح لائی گئی تھی میر افنان نے اس کی کلائی کو پکڑتے تیزی سے تقریبا بھاگتے پہلے گاڑی میں پھینکا اور پھر حویلی پہنچ کر یوں ہی گاڑی سے کھینچتے ہوئے اسے حویلی کے اندر داخل ہوا۔۔۔
سیڑیاں چڑھتے زرمین جو گھسیٹتی جا رہی تھی اسے لگ رہا تھا جیسے اس کی ٹانگیں ٹوٹ گئی ہوں ” تمہارے باپ کو لگتا ہے وہ تمہیں بھیج کر اس دشمنی کو ختم کر سکتا ہے تو اس کی غلط فہمی ہے۔۔۔۔ ” میر افنان نے غصے سے کہتے اسے بستر پر پھینکا تھا۔۔۔ ” پلیز خدا کے لیے۔۔۔۔” وہ نہیں جانتی تھی اس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ مگر وہ لڑکی تھی اپنی طرف اٹھی غلط نظر کو پہچان سکتی تھی۔۔
وہ رونے لگی اسکے سامنے ہاتھ جوڑنے لگی اسے یاد تھا جب اس کے بابا اس کو حویلی سے لے کر نکل رہے تھے تب اس کے خاندان کی عورتیں رو رہی تھیں چلا رہی تھیں وہ اس وقت نہیں سمجھی تھی وہ کیوں چلا رہیں تھیں کیوں رو رہی تھیں مگر اب وہ کچھ کچھ سمجھ رہی تھی۔۔۔۔
میر افنان حیوانوں کی طرح اس کی جانب لپکا تھا چودہ سالہ معصوم لڑکی زرمینے کی چیخیں پورے حویلی میں گونجی تھیں ساری حویلی کی عورتیں اپنے کان بند کرنے کی کوشش کر رہی تھیں مگر افسوس انہیں چیخیں ساری رات سننی تھیں انہیں اس معصوم پر ترس آرہا تھا جو کم عمری میں ہی نکاح جیسے بندھن میں بن کر رخصت ہو کر دشمن کے حویلی پہنچی تھی۔۔۔۔
جو شادی کی پہلی رات خاندانی دشمنی کی بھینٹ چڑھی تھی رات بھر اس کا چلانا سب سنتے رہے مگر کسی میں ہمت نہیں تھی میر افنان کے سامنے اٹھنے کی کوئی اس کے سامنے نظر نہیں اٹھا سکتا تھا اس کے خلاف آواز اٹھانا تو بہت دور کی بات تھی جب اس معصوم کا چلانا بند ہوا تو میر افنان نے اس کے بے جان ہوتے وجود کو دیکھا اور نفرت سے دور دھکیل کر اٹھا۔۔۔
اپنا سامان پیک کیا اور یوں اس کے جسم پر اذیت کی دستان رقم کر کے میر افنان اگلی صبح ہی دوسرے ملک جا چکا تھا صبح ہوتے ہی وہ نکل گیا تھا کسی نے اسے جاتے نہیں دیکھا تھا صبح نو بجے تک جب اس کے کمرے سے کوئی آواز نہ آئی تو ڈرتے ڈرتے میر قادر کی بیوی کلثوم بیگم اس کے کمرے تک گئیں اور دروازے پر دستک دی۔۔۔
کئی بار مگر جواب نہ آیا دروازے دھکیلا تو اندر داخل ہوئی سامنے اس چھوٹی سی لڑکی کے وجود پر نظر پڑتے اس کا دل حلق کو آگیا وہ بھاگ کر اس کے قریب گئی اور بیڈ شیٹ اٹھا کر اس کے وجود پر ڈالی اور ملازمہ کو پکارنے لگی۔۔۔۔ “ڈاکٹر زوبیہ کو بلاؤ ” انخے حکم پر ڈاکٹر زوبیہ کو بلایا گیا۔۔۔
باقی حویلی کی عورتیں بھی وہاں جمع ہو چکی تھیں میر قادر تو کل رات ہی کسی کام سے شہر جا چکے تھے اس حویلی میں اب دو ہی مرد تھے میر قادر اور میر افنان وہ دونوں ہی حویلی سے غائب تھے ” بھابھی اس کی حالت تو بہت خراب ہے۔۔۔” میر قادر کی بہن روبی نے کہا جو تین سال پہلے بیوہ ہو کر حویلی آگئی تھی ” پتہ نہیں زندہ بچے گی یا نہیں؟؟ ” دوسری طرف نوکرانی کی بات سن میر قادر کی بیوی نے اسے سختی سے ٹوکا تو وہ خاموش ہوگئی۔۔۔۔

Download link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *