Tera Junoon Had Se Barh Gaya By Huma Qureshi

Forced Marriage | Rude Hero| Romantic Urdu Novel | Complete Novel 

” یہ منہوس لڑکی رات بھر شازل کے کمرے میں تھی۔ دونوں رات بھر رنگ رلیاں مناتے رہے ہیں۔تائی جان چیخ چیخ کے سارے گھر والوں کو بتا رہی تھی۔مرہا رات کو شازل کے کمرے میں صفائی کرنے گئی تھی تو پیچھے سے اسے بدنام کرنے کے لیے اقرا نے باہر سے دروازہ بند کر دیا تھا۔ اقرا شازل کو پسند کرتی تھی لیکن اسے مرہا سے خطرہ محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کہیں اس کا شازل نہ چھین لے وہ اسے گھر سے نکلوا دینا چاہتی تھی اسی لیے ماں بیٹی نے مل کر یہ سازش رچائی تھی لیکن کون جانتا تھا یہ سازش الٹا انہیں پہ آ جائے گی۔” اگر ایسا ہے کہ مرہا ایک رات میرے کمرے میں سو کر بدنام ہو گئی تو میں ساری زندگی کے لیے اس کو نام دینے کے لیے تیار ہوں۔میں مرہا سے نکاح کرنا چاہتا ہوں نکاح خواں کو بلائیں۔اور مرہا مجھے بالکل دلہن کے روپ میں چاہیے۔۔ تم مرہا کو میری دلہن بناؤں گی۔ ” وہ اقرا کو حکم دیتا وہاں سے جا چکا تھا۔۔۔۔۔
خاموشی میں ایک زور دار آواز گونجی جس نے کچن کی دیواروں کو بھی جیسے ہلا دیا۔ “کیا سارا دن اسی کچن میں گزارنے کا ارادہ ہے یا باہر کے کام کوئی اور آ کر کرے گا؟” یہ تائی شاہانہ کی کڑک دار آواز تھی جو سیدھا نشانے پر لگتی تھی۔ مرہا کے ہاتھ میں پکڑا چمچ ایک پل کے لیے رکا اس نے گہری سانس لی اور اپنے آنسوؤں کو پیچھے دھکیلا۔ صبح کے چھ بجے تھے اور وہ پچھلے ایک گھنٹے سے ناشتہ تیار کر رہی تھی۔ اس کے چہرے پر تھکاوٹ صاف ظاہر تھی لیکن اس گھر میں اس کی تھکاوٹ کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ “تائی جان بس پراٹھے بن گئے ہیں میں ابھی لے کر آتی ہوں” مرہا نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔ تائی شاہانہ اس کی بات سن کر منہ بناتی ہوئی ڈائننگ ٹیبل کی طرف چلی گئیں۔ مرہا کے والد کے انتقال کے بعد یہی گھر اس کی کل کائنات تھا مگر یہ دیواریں اسے صرف سرد مہری کا احساس دلاتی تھیں۔ وہ جانتی تھی کہ وہ یہاں ایک بوجھ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اچانک ایک نرم ہاتھ نے اس کے کندھے کو چھوا۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو بانو ماسی کھڑی تھی۔ ماسی نے اپنے دوپٹے کے پلو سے مرہا کے ماتھے سے پسینہ صاف کیا اور سرگوشی کی “صبر کر میری بچی اللہ سب دیکھ رہا ہے۔ تیرا بھی وقت بدلے گا۔”
​مرہا نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا اور ٹرے اٹھا کر باہر آ گئی۔ ڈائننگ ٹیبل پر تایا جان اپنے روزمرہ کے معمول کے مطابق اخبار کے پیچھے چہرہ چھپائے بیٹھے تھے۔ وہ گھر کے معاملات میں پڑنے سے گریز کرتے تھے تاکہ بیوی کی کڑوی باتوں سے بچ سکیں۔ مرہا نے خاموشی سے ان کے سامنے چائے کا کپ رکھا۔ انہوں نے اخبار کے کونے سے اسے دیکھا ان کی آنکھوں میں ایک بے بسی اور معذرت تھی مگر زبان خاموش تھی۔ دن اپنے معمول کے مطابق گزر گیا لیکن جیسے ہی شام کے سائے گہرے ہوئے گھر کا ماحول یکدم بدلنے لگا۔ باہر گاڑی کا ہارن بجا اور سب کے چہروں پر ایک الرٹ سا تاثر آ گیا۔ یہ شازل کے آنے کا وقت تھا۔ شازل جو اس گھر کا اصل ستون تھا اور جس کی رعب دار شخصیت کے سامنے تائی شاہانہ کی اونچی آواز بھی خود بخود نیچے آ جاتی تھی۔ مرہا ایک طرف کھڑی میز صاف کر رہی تھی۔ دروازہ کھلا اور شازل اندر داخل ہوا۔ اس کی تھکی ہوئی لیکن پرکشش شخصیت نے پورے لاؤنج میں ایک خاموش دباؤ پیدا کر دیا۔ اقرا جو شاہانہ کی بیٹی تھی فوراً اپنے بال سنوارتی ہوئی آگے بڑھی۔ اس نے جلدی سے پانی کا گلاس ٹرے میں رکھا اور شازل کے سامنے پیش کیا۔ “آج آپ کو آفس سے آنے میں بہت دیر ہو گئی شازل۔ آپ بہت تھک گئے ہوں گے” اقرا نے نہایت مٹھاس بھرے لہجے میں کہا۔
​شازل نے بنا کچھ کہے گلاس اٹھایا۔ اس کی نظریں اقرا پر نہیں بلکہ سیدھا سامنے کھڑی مرہا پر جا کر ٹھہر گئیں۔ مرہا کا اترا ہوا چہرہ الجھے بال اور آنکھوں کی اداسی جیسے بہت کچھ کہہ رہی تھی۔ شازل نے پانی کا گھونٹ بھرا اور خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف چل پڑا۔ اس نے اقرا کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ اقرا نے شازل کی اس گہری نظر کو محسوس کر لیا تھا۔ اس کے سینے میں حسد کی ایک آگ سی بھڑک اٹھی۔ اس نے غصے سے ٹرے میز پر پٹخی اور مرہا کو کچن میں جانے کا اشارہ کیا۔ اقرا کسی بھی صورت یہ برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ شازل اس کی بجائے اس یتیم لڑکی کو توجہ دے۔ رات کا کھانا شروع ہوا تو ماحول میں ایک عجیب سی کھنچاوٹ تھی۔ شازل خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا جبکہ تائی شاہانہ کی نظریں مرہا کو تلاش کر رہی تھیں تاکہ کسی بات پر غصہ نکالا جا سکے۔ “یہ سالن میں اتنا نمک کیوں ہے؟” تائی شاہانہ اچانک چلائیں۔ “تمہیں ہزار بار کہا ہے کہ کھانا دھیان سے بنایا کرو لیکن تمہارا دماغ تو کہیں اور ہی ہوتا ہے۔ مفت کی روٹیاں توڑنے کی عادت جو پڑ گئی ہے” مرہا نے سر جھکا لیا اور خاموشی سے برتن سمیٹنے لگی۔ وہ جانتی تھی کہ جواب دینے کا مطلب مزید باتیں سننا ہے۔ شازل نے چمچ پلیٹ میں رکھا۔ اس کے ماتھے پر سلوٹیں پڑ گئیں۔ اس نے تائی شاہانہ کی طرف دیکھا۔ اس کی بھنویں تن چکی تھیں اور چہرے پر ایک خطرناک سنجیدگی تھی۔ اس نے کچھ کہا نہیں بس اپنا ہاتھ روکا اور کرسی پیچھے دھکیل کر اٹھ گیا۔ اس کا اس طرح ادھورا کھانا چھوڑ کر اٹھنا تائی شاہانہ کے لیے کافی تھا۔ وہ فوراً خاموش ہو گئیں لیکن ان کا غصہ اب دگنا ہو چکا تھا۔
​کھانے کے بعد اقرا سیدھی اپنی ماں کے کمرے میں گئی۔ دروازہ بند کرتے ہی وہ پھٹ پڑی۔ “امی آپ نے دیکھا شازل نے آج کس طرح میری طرف دیکھنے کے بجائے اس مرہا کو نوٹس کیا؟ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں وہ اسے سر پر ہی نہ بٹھا لے۔” شاہانہ نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑا۔ “تم فکر مت کرو اقرا۔ میں اس لڑکی کو اس گھر میں زیادہ دن ٹکنے نہیں دوں گی۔ ہمیں آج رات ہی کچھ ایسا کرنا ہو گا کہ شازل خود اسے دھکے دے کر باہر نکالے۔” دونوں ماں بیٹی دبے لفظوں میں منصوبہ بنانے لگیں۔ وہ نہیں جانتی تھیں کہ دروازے کے باہر بانو ماسی کھڑی تھی۔ ماسی نے جب ان کی سرگوشیاں سنیں تو اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ پریشان ہو گئی کہ اب یہ دونوں اس بے سہارا بچی کے ساتھ کیا کرنے والی ہیں مگر وہ اپنی بے بسی کے ہاتھوں مجبور تھی۔ رات کافی گہری ہو چکی تھی۔ سارا گھر نیند کی آغوش میں تھا اور باہر مکمل سناٹا چھایا ہوا تھا۔ مرہا اپنے چھوٹے سے کمرے میں سو رہی تھی کہ اچانک دروازہ زور سے کھلا۔ تائی شاہانہ نے غصے سے اسے جھنجھوڑ کر جگایا۔ “اٹھو جلدی سے شازل کے کمرے کی صفائی ابھی تک کیوں نہیں کی تم نے؟ کل صبح اس کی ایک بہت اہم میٹنگ ہے اور وہ اپنے پیپرز ڈھونڈ رہا ہو گا۔ جاؤ ابھی جا کر اس کا کمرہ سیٹ کرو” شاہانہ نے سختی سے حکم دیا۔ مرہا گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔ “تائی جان اتنی رات گئے؟ شازل بھائی سو رہے ہوں گے ان کی نیند خراب ہو گی۔ میں صبح جلدی اٹھ کر کر دوں گی۔” “تمہیں جو کہا ہے وہ کرو اگر شازل کو کل صبح اس کا کمرہ بکھرا ہوا ملا تو وہ مجھ پر غصہ کرے گا۔ جاؤ جلدی” شاہانہ نے اسے دھکا دیتے ہوئے کہا۔
​مرہا کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ وہ ڈرتے ڈرتے شازل کے کمرے کی طرف بڑھی۔ اس کے قدم منوں بھاری ہو رہے تھے۔ شازل کا رعب ویسے ہی اس پر حاوی رہتا تھا اور اب اتنی رات گئے اس کے کمرے میں جانا اسے اندر تک خوفزدہ کر رہا تھا۔ اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا۔ کمرے میں ہلکی سی نائٹ بلب کی روشنی تھی۔ شازل بیڈ پر گہری نیند سو رہا تھا۔ اسے سر میں شدید درد تھا جس کی وجہ سے وہ دوا کھا کر سویا تھا اور اردگرد سے بالکل بے خبر تھا۔ مرہا نے دبے قدموں اندر داخل ہو کر صوفے پر پڑے کاغذات اور فائلیں سمیٹنا شروع کر دیں۔ اسی لمحے باہر سے کسی کے قدموں کی آہٹ ہوئی۔ اقرا جو اندھیرے میں چھپی کھڑی تھی دبے قدموں آگے بڑھی۔ اس کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ تھی۔ اس نے انتہائی خاموشی سے دروازے کی کنڈی پکڑی اور اسے باہر سے چڑھا دیا۔ کلک کی ایک ہلکی سی آواز آئی جسے سن کر اقرا وہاں سے فوراً کھسک گئی۔ اندر کھڑی مرہا کے کانوں میں جیسے ہی وہ آواز پڑی اس کے ہاتھ سے فائل چھوٹ کر نیچے گر گئی۔ اس نے جلدی سے پلٹ کر دروازے کی طرف دیکھا۔ اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اس نے آگے بڑھ کر دروازے کا ہینڈل دبایا لیکن وہ نہیں کھلا۔ دروازہ باہر سے لاک ہو چکا تھا۔ خوف کی ایک لہر اس کے پورے جسم میں دوڑ گئی۔ اس کا سانس اٹکنے لگا۔ اس نے آہستہ سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ “کوئی ہے باہر؟ تائی جان؟ اقرا؟” اس کی آواز اس کے اپنے گلے میں پھنس رہی تھی۔ وہ شازل کے جاگنے سے بھی ڈر رہی تھی کہ اگر وہ اٹھ گیا تو وہ کیا سوچے گا۔
​کمرے کی خاموشی میں اسے صرف اپنے دل کی دھڑکن سنائی دے رہی تھی۔ اس نے دوبارہ ہینڈل کو زور سے ہلایا مگر سب بے سود تھا۔ اسے اب سمجھ آ رہا تھا کہ یہ تائی جان اور اقرا کی کوئی سوچی سمجھی چال تھی۔ وہ جان بوجھ کر اسے اس وقت یہاں بھیجنا چاہتی تھیں تاکہ صبح کوئی بڑا تماشا کھڑا کیا جا سکے۔ مرہا کو محسوس ہوا جیسے اس پر آسمان گر پڑا ہو۔ آنسو اس کی آنکھوں سے چھلک پڑے اور تیزی سے رخساروں پر بہنے لگے۔ وہ وہیں دروازے کے پاس زمین پر بیٹھ گئی اور اپنے گھٹنوں میں سر دے لیا۔ اس کی سسکیاں نکلنے لگیں لیکن وہ انہیں دبا رہی تھی تاکہ شازل کی نیند خراب نہ ہو۔ شازل دوائی کے اثر کی وجہ سے گہری نیند میں تھا اور اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اس کے کمرے میں کیا طوفان برپا ہونے والا ہے۔ یہ رات مرہا کے لیے زندگی کی طویل ترین اور اذیت ناک رات بن چکی تھی۔ ہر گزرتا لمحہ اس کے دل میں ایک نیا خوف پیدا کر رہا تھا کہ صبح جب روشنی پھیلے گی تو اس کی عزت کی کیا قیمت لگائی جائے گی۔ وہ روتے روتے صوفے کے ایک کونے میں سمٹ کر بیٹھ گئی بس یہی دعا کر رہی تھی کہ کوئی معجزہ ہو جائے اور وہ اس بند کمرے سے نکل سکے۔ مگر اندھیرا گہرا تھا اور باہر کوئی نہیں تھا جو اس کی خاموش فریاد سنتا۔ اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو اس صوفے کے کشن میں جذب ہو رہے تھے اور وہ بے بسی کی تصویر بنی صبح ہونے کا انتظار کرنے لگی۔ وہ ایک یتیم لڑکی تھی جس کا اس دنیا میں کوئی سہارا نہیں تھا اور اب اس کی رہی سہی عزت بھی داؤ پر لگ چکی تھی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ چند گھنٹوں بعد روشنی ہوتے ہی اس گھر کی دیواریں اس پر کیا نیا الزام دھرنے والی ہیں۔ دوسری طرف تائی شاہانہ کے کمرے میں نیند کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ کمرے کی مدھم روشنی میں اقرا بے چینی سے ادھر ادھر ٹہل رہی تھی۔ وہ بار بار دیوار پر لگی گھڑی کی طرف دیکھتی جس کی سوئیاں بہت آہستہ چلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ “امی آپ کو یقین ہے نا کہ ہمارا یہ پلان کام کر جائے گا؟” اقرا نے اپنے ناخن چباتے ہوئے پوچھا اس کی آواز میں ہلکی سی گھبراہٹ تھی۔ “اگر رات کے بیچ شازل جاگ گیا اور اس نے خود دروازہ کھول دیا تو؟” تائی شاہانہ بیڈ پر بڑے سکون سے ٹیک لگائے بیٹھی تھیں۔ انہوں نے اقرا کو ہاتھ کے اشارے سے اپنے پاس بیٹھنے کو کہا۔ “بیوقوف مت بنو اقرا اور سکون سے یہاں بیٹھ جاؤ۔” شاہانہ نے ہلکی آواز میں اسے سمجھایا۔ “شازل اتنی جلدی نہیں جاگنے والا۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے اس نے سر درد کی تیز دوا کھائی ہے۔ وہ صبح سے پہلے آنکھ نہیں کھولے گا۔ اور جب صبح وہ اٹھے گا تو دروازے پر ہم کھڑے ہوں گے۔” اقرا بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی لیکن اس کی بے چینی کم نہیں ہوئی۔ “مجھے ڈر لگ رہا ہے امی۔ شازل کا غصہ آپ جانتی ہیں کتنا خطرناک ہے۔ اگر اسے ذرا سا بھی شک ہو گیا کہ دروازہ باہر سے ہم نے بند کیا تھا تو وہ گھر سر پر اٹھا لے گا۔” “وہ غصہ کرے گا لیکن ہم پر نہیں اس مرہا پر۔” شاہانہ کے چہرے پر ایک چالاک مسکراہٹ ابھری۔ “بس ایک بات کان کھول کر سن لو۔ کل صبح جب میں دروازہ پیٹوں گی تو تمہیں بس اتنا کرنا ہے کہ وہاں حیران ہونے کا ڈرامہ کرنا ہے۔ تمہارے چہرے پر ایسا تاثر ہونا چاہیے جیسے تمہیں تو کچھ معلوم ہی نہیں۔ رونا دھونا اور شور مچانا میرا کام ہے۔ میں پورے گھر کو وہاں اکٹھا کر لوں گی پھر دیکھنا کہ شازل کس طرح اس منحوس کو دھکے دے کر باہر نکالتا ہے۔” یہ سن کر اقرا کے چہرے پر چھائی گھبراہٹ کم ہو گئی اور اس کی جگہ ایک شیطانی خوشی نے لے لی۔ اسے اب اپنی جیت بالکل سامنے نظر آ رہی تھی۔ “بس جلدی سے صبح ہو جائے امی مجھ سے اب مزید انتظار نہیں ہو رہا” اقرا نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔ وہ دونوں ماں بیٹی اندھیرے میں بیٹھی بس کھڑکی سے باہر روشنی پھیلنے کا انتظار کرنے لگیں تاکہ وہ اپنے کھیل کا بڑا وار کر سکیں۔

Download link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *