Saray E Muhabbat Novelistan

Romantic  Urdu Novel | Emotional Story  | Forced Marriage Base | Urdu Complete Novel 

” خاندان کی عزت کا جنازہ نکال کر شرم نہیں آئی تمہیں۔۔۔۔” لڑکی کی چچی چیخ رہی تھیں۔۔۔ شادی والا گھر تھا جبکہ زینب سہمی ہوئی کھڑی روئے جا رہی تھی۔ وہ مہندی میں آئی تھی مگر کپڑے خراب ہو جانے پر اوپر والے کمرے میں انہیں صاف کرنے چلی گئی اور جیسے ہی واش روم سے باہر نکلی تو سامنے کھڑے اجنبی مرد کو دیکھ کر گھبرا گئی جو دلہن کا بھائی کمشنر وجدان سکندر تھا۔۔۔” سوری۔۔۔” کہتے ہوئے وہ تیزی سے کمرے سے نکلی تو باہر کھڑی چچی نے تماشہ کھڑا کر دیا اس کی تو رو رو کر حالت خراب ہوگئی تھی اور وجدان غصھ کی انتہا کو چھو رہا تھا۔۔۔” اگر سب نے بکواس کر لی ہو تو قاضی کو بلائو میں ابھی اس وقت اس لڑکی سے نکاح کروں گا۔۔۔۔۔” وجدان کے اس جملے سے زینب کی سانس حلق میں اٹک گئی۔۔۔۔

شادی کی ایک تقریب کے دوران زینب غلطی سے مردانہ حصے کی طرف بنے کمرے میں چلی گئی جہاں اسے زویا کا کوئی سامان لینے بھیجا گیا تھا۔۔۔وہ جیسے ہی کمرے سے باہر نکلنے لگی سامنے وجدان کھڑا تھا وہ ابھی نہا کر نکلا تھا اور اس نے شرٹ نہیں پہن رکھی تھی زینب نے جیسے ہی اسے دیکھا اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور وہ فوراً مُر گئے وجدان بھی ہکا بکا رہ گیا اس نے جلدی سے اپنی شرٹ پہنی اور سخت لہجے پوچھا۔۔۔۔
” تم یہاں کیا کر رہی ہو تمہیں پتہ نہیں یہ مردانہ حصہ ہے۔۔۔” زینب کی زبان کنگ تھی وہ معذرت کرنا چاہتی تھی مگر الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے اس نے جھکی نظروں کے ساتھ وہاں سے بھاگنا چاہا لیکن جیسے ہی وجدان نے کمرے کا دروازہ کھولا کہ وہ باہر جا سکے سامنے محلے کی چند عورتیں اور زویا کی بڑی بہن کھڑی تھی۔۔۔۔

عورتوں کی نظر ان دونوں پر پڑی تو جیسے آگ لگ گئی۔ ” یہ کیا دیکھ رہے ہیں ہم؟؟ زویا کی سہیلی اور وجدان ایک ساتھ اس کمرے میں؟؟؟ ” ایک عورت نے ن طنزیہ آواز بلند کی زینب کا چہرہ سفید پڑ گیا۔۔ ” نہیں آپ غلط سمجھ رہی ہیں میں تو بس۔۔۔” وہ اپنی صفائی دینا چاہتی تھی مگر الزام تراشیوں کا شور اتنا زیادہ تھا کہ اس کی آواز دب کر رہ گئی وجدان نے سب کو سمجھانے کی بہت کوشش کی۔۔۔

” خدا کا خوف کریں محض ایک اتفاق تھا میں کمرے میں تھا اور یہ غلطی۔۔۔۔غلطی سے اندر آگئی۔۔۔۔۔۔” مگر لوگ کہاں سنتے ہیں زویا کی بڑی بہن جس کا اپنا رشتہ و جدان سے ہونے کی باتیں چل رہی تھی اس نے معاملے کو اور زیادہ اچھالا زینب یہ سب برداشت نہ کر سکی اسے اپنے کردار پر لگنے والے داغ کا بوجھ اتنا بھاری لگا کہ اس کے سر میں درد کی لہر اٹھی۔۔ چکر آنے لگا اور وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑی۔۔ وجدان نے اسے گرتے دیکھا تو اس سے ایک عجیب سی تکلیف کا احساس ہوا۔۔۔۔۔۔

اسے یاد آیا کہ کیسے اس لڑکی نے دوبار اس کی جان بچائی تھی اسے یاد آیا وہ منظر جب وہ ندی کے کنارے اس کی سانسیں واپس لانے کے لیے لڑ رہی تھی اور وہ منظر جب اس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر اسے زہریلا کھانا کھانے سے روکا تھا۔۔۔ وجدان نے گہرا سانس لیا اور مجمعے کی طرف دیکھ کر بلند آواز میں کہا۔۔۔” بند کرو یہ سب اگر تم لوگ کو لگتا ہے کہ ہم نے کوئی گناہ کیا ہے تو میں اس کا ازالہ کرنے کے لیے تیار ہوں میں زینب سے نکاح کروں گا۔۔۔” یہ سنتے ہی وہاں سناٹا چھا گیا زویا کی ماں اور دیگر رشتہ دار حیرت سے اسے دیکھنے لگے وجدان کا یہ فیصلہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ زینب کو پہلی ملاقات سے پسند کرنے لگا تھا اس کی بہادری اور سادگی اس کے دل میں گھر کر چکی تھی۔۔۔

نکاح کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جب یہ خبر زینب کے گاؤں پہنچی تو وہاں قیامت ٹوٹ پڑی چچی فرقنہ فون پر گرجیں ” اپنی اوقات دکھا دی اب اس کالی زبان والی کو یہاں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ جس نے ہمارے خاندان کی ناک کٹوا دی وہ اب وہیں مرے یا جئے میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔۔۔” زینب کو جب ہوش آیا تو اسے پتہ چلا کہ وہ وجدان کی منکوح بن چکی ہے اس کی آنکھوں سے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے وہ اپنی سہیلی کی شادی میں آئی تھی اور اپنی ہی بربادی کا سامان کر بیٹھی تھی۔۔۔۔

عورتیں اب بھی سرگوشیاں کر رہیں تھیں بارات والے دن جب ہر طرف خوشی کا سماع تھا زینب اپنے کمرے میں اکیلی بیٹھی رو رہی تھی اسے لگ رہا تھا کہ اس کی زندگی ختم ہو گئی ہے۔۔۔ اسی وقت وجدان کمرے میں داخل ہوا اس نے زینب کو روتے ہوئے دیکھا تو اس کے دل میں ٹھس سی اٹھی۔۔۔۔

” تمہارے چچا کل تمہیں لینے آرہے ہیں۔۔۔۔” وجدان نے دھیمی آواز میں کہا زینب نے سر اٹھا کر اسے غصے سے دیکھا۔۔۔ ” آپ نے نکاح کے لیے ہاں کیونکہ کیا؟؟ آپ منع کر دیتے تو شاید میری زندگی اتنی مشکل نہ ہوتی۔۔” وجدان اس کے قریب آیا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔۔” میں نکاح نہ کرتا تو وہ لوگ تمہارے کردار کی دھجیاں اڑا دیتے زینب۔۔ میں وہ نہیں ہونے دے سکتا تھا میں بہت جلد تمہیں پوری دھوم دھام سے اپنے گھر لے کر جاؤں گا بس میرا انتظار کرنا۔۔۔” زینب کچھ کہنا چاہتی تھی مگر اس کے الفاظ حلق میں پھنس گئے وجدان کی آنکھوں میں سے ایک سچائی نظر آئی جس نے اسے خاموش کر دیا وہ وہاں سے اٹھ کر چلی گئی کیونکہ اسے پتہ تھا کہ اس کی سہیلی زویا بھی اس واقعے کے بعد اس سے ناراض ہو گئی تھی۔۔۔۔

اگلے دن چچا اسے لینے پہنچے تو ان کا چہرہ غصے سے تمتما رہا تھا۔۔۔ ” وجدان اسے ابھی طلاق دو ہمیں ایسی لڑکی کی ضرورت نہیں جس نے ہماری غیرت کا سودا کیا ہو۔۔۔ ” چچا نے چلا کر وجدان سے کہا۔وجدان نے سرد لہجے میں جواب دیا۔۔” زینب میری بیوی ہے میں اسے طلاق نہیں دوں گا۔۔” چچا نے زینب کی طرف دیکھا۔ ” تم بولو طلاق مانگو اس سے اور میرے ساتھ واپس چلو ورنہ بھول جاؤ کہ تمہارا کوئی گھر بھی ہے۔۔” زینب نے تڑپ کر وجدان کی طرف دیکھا وجدان نے خاموشی سے سر نفی میں ہلایا جیسے ہمت دے رہا ہو زینب نے اپنا سر جھکا لیا اور دھیمے مگر مضبوط آواز میں کہا۔۔۔ ” میں نہیں جاؤں گی چچا جان۔۔۔” چچا نے غصے میں اسے وہیں چھوڑا ہمیشہ کے لیے ناتا توڑ کر چلے گئے زینب اب تنہا تھی ایک ایسے گھر میں جہاں زویا کہ ماں اسے نفرت کی نظر سے دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *