Dast E Betalab Mein Phool by Iffat Sehar Tahir Novel20804

Paper Marriage Based | Forced Marriage | Haveli Based | One Sided Love | Tribal Culture | Emotional Romance | Family Drama

Dast E Betalab Mein Phool Novel by Iffat Sehar Tahir Complete Urdu Novel

Aik kagzi rishta jo Shehar Gul ke liye us ki zindagi aur mohabbat ki sab se badi haqeeqat ban gaya۔

پھر تم گل سے شادی کر لو۔” وہ دفعتاً بولے تو وہ ششدر سا انہیں دیکھنے لگا۔ “میں جب سے یہاں آیا ہوں، چین سے سو نہیں پایا اویس! روحینہ کی مظلومیت اور بے بسی میرے سینے پر ہاتھ مارنے لگتی ہے۔ سب کو نہیں تو جس کی استطاعت ہے ہم اسے تو بچانے کی کوشش کر سکتے ہیں ناں۔” وہ حد درجہ مضمحل تھے۔ اویس بمشکل بول پایا: “آئی ایم سوری بابا جان! مگر میں یہ نہیں کر سکتا۔” “مگر تمہیں کرنا ہے اویس! میری خاطر نہیں بلکہ انسانیت کی خاطر۔” “زندگی کھیل نہیں ہوتی بابا جان! اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں کیا چاہتا ہوں؟” وہ ابھی تک بے یقینی کی زد میں تھا۔ “تم جو چاہتے ہو وہ بے شک کر لینا مگر میری بات کا بھی مان رکھ لو۔” ان کی بات پر وہ تاسف سے چند لمحوں تک انہیں دیکھتا رہا، پھر قدرے طنزیہ لہجے میں بولا: “آپ میں بھی خالص ‘شاہوں’ والا ہلکا سا ٹچ باقی ہے بابا جان! مگر میں دو دو شادیاں نہیں کر سکتا، یہ میری فطرت میں نہیں ہے۔” “اسے پروٹیکشن کی ضرورت ہے اویس! اور اس کا ایک یہی حل ہے۔” زرین نے کہا تو وہ تلخی سے بولا: “یہ میری زندگی ہے ماما! اور یہ انتہائی اہم فیصلہ ہے جو میں بہت پہلے کر کے آپ کو بتا چکا ہوں۔” “تم اسے پیپر میرج سمجھ لو اور بس۔” یکلخت ہی بہزاد شاہ نے کہا تو وہ استعجاب سے انہیں دیکھنے لگا۔ “یہ اسے یہاں سے نکالنے کی آڑ ہے، ایک واحد راستہ ہے۔ پھر ہم گل کی زندگی کا کوئی بہت اچھا فیصلہ کر دیں گے اس کی مرضی اور منشا کے مطابق۔” وہ بے حد آس سے اسے دیکھ رہے تھے۔ “اٹس امپاسیبل بابا جان! میں یہ نہیں کر سکتا۔” وہ اٹل انداز میں انکار کر رہا تھا۔ ان کے چہرے پر سرخی پھیلنے لگی۔ اسی شام اس نے واپسی کے لیے سامان باندھنا شروع کر دیا تھا جب بہت خائف سا حارث اس کے پاس چلا گیا۔ “بھائی جان! آپ کیوں جا رہے ہیں؟” “دل نہیں لگا یار! تمہیں کیا پریشانی ہے؟” وہ شرٹ تہہ کر کے رکھتے ہوئے ٹھٹکا۔ “یہ گل آپی مجھ سے تین چار سال بڑی تو ضرور ہوں گی، حمنہ آپی جتنی تو ہیں وہ، اور بابا جان کہہ رہے ہیں کہ ان کی شادی مجھ سے ہوگی۔” حارث روہانسا ہو رہا تھا۔ اویس کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ “کیا کہہ رہے ہو تم؟” “یقین کریں بھائی جان! پرسوں نکاح کر رہے ہیں میرا۔” وہ رو دینے کو تھا۔ ہاتھ میں پکڑی شرٹ پٹختا وہ سخت غصے سے دروازے کی طرف بڑھا۔ “میں خود بات کرتا ہوں ان سے۔” اور بابا جان کے سامنے جاتے ہی اسے اندازہ ہو گیا کہ وہ اپنے فیصلے سے ایک انچ بھی نہیں ہٹنے والے ہیں۔ “میں زبان دے چکا ہوں اویس! تم نے تو بڑی فرمانبرداری کا ثبوت دیا ہے، اب دوسرے بیٹے کو آزما لینے دو۔” “آپ بھی حویلی والوں سے ہٹ کے فیصلہ نہیں کر رہے ہیں۔” وہ سلگا۔ “اٹس نن آف یور بزنس اویس شاہ!” وہ بے حد لا تعلقی سے بولے، “کم از کم عمروں کا یہ تفاوت اتنا تو نہیں جتنا گلباز شاہ کے ہونے والے بیٹے اور شہر گل کی عمروں میں ہوگا۔” “مگر کیا یہ ضروری ہے کہ بیٹا ہی ہو، بیٹی بھی تو ہو سکتی ہے۔” وہ اس قدر “اٹل” پیش گوئی پر چڑ کر رہ گیا تھا۔ “ہاں!” وہ استہزائیہ انداز میں ہنسنے لگے۔ “بیٹی بھی ہو سکتی ہے مگر اس کے نتیجے میں ساری عمر شہر گل کو پاک بی بی بن کے گزارنا پڑے گی۔ ایک بار رشتہ طے ہو چکا تو پھر دوسری جگہ شادی کی بات کرنا گناہ ہے، عورت کے لیے…” “یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے بابا جان!” وہ دبے دبے الفاظ میں بولا تو وہ بھڑک اٹھے۔ “انتہا ہوتی ہے بے حسی کی اویس! انسان بغیر رشتے کے کسی دوسرے کے دکھ پر تڑپ اٹھتا ہے، وہ تو پھر میرا خون ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ شرم آ رہی ہے مجھے تمہارے خیالات پر۔ میں نے یہ تربیت تو نہیں دی تھی تمہیں؟ اور پھر اب تم اس معاملے میں انوالو نہیں ہو اس لیے جہاں جا رہے ہو جاؤ، میں اس مسئلے کا حل نکال چکا ہوں۔” “بابا جان! حارث بہت چھوٹا ہے، اس کی اسٹڈیز بلکہ وہ خود ڈسٹرب ہو کر رہ جائے گا۔” وہ زچ آ گیا تھا۔ “سب ٹھیک ہو جائے گا، میں خود اسے سمجھاؤں گا۔” وہ اطمینان سے کہہ رہے تھے۔ “آپ اتنے شقی القلب تو کبھی بھی نہیں تھے، ذرا بھی خیال نہیں ہے آپ کو ہمارے جذبات و احساسات کا؟” “تم ایک مرد ہو کر اپنے جذبات کی بات کر رہے ہو، ذرا شہر گل کے مسئلے کو ٹھنڈے دماغ سے سوچو اویس! کیا اس کا یہ قصور ہے کہ وہ اس حویلی میں پیدا ہوئی ہے؟ اس کا عورت ہونا اس کا جرم ہے؟” “مگر بابا جان! میں بہت مجبور ہوں، اگر میں کمیٹڈ نہ ہوتا تو شاید…” “اٹس اوکے۔ اب تو مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ تم جا سکتے ہو۔” وہ بے حد سرد انداز میں بولے تو وہ بے بسی سے انہیں دیکھ کر رہ گیا۔ حارث کی حالت بہت بری ہو رہی تھی۔ “میں خودکشی کر لوں گا اگر یہ سب ہوا تو…” وہ اویس کے گلے لگ کر رو دیا تھا۔ اویس ماما سے الجھنے لگا۔ مگر وہ بھی اس سلسلے میں بابا جان کی حامی تھیں۔ وہ منتشر ہوتے ذہن کے ساتھ کچھ سوچنے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر کوئی بھی حل دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ سوائے ہتھیار ڈال دینے کے۔ دیکھو شہر گل! تم جانتی ہو کہ ہمارے درمیان یہ رشتہ کن وجوہات کی بنا پر طے ہوا تھا۔ میری اپنی ایک لائف اور اپنی کمٹمنٹس تھیں۔ مگر میں نے محض بابا جان کی بات رکھی اور تمہیں پروٹیکشن دی، تمہیں اس ماحول اور گھٹیا رسومات کی سازش کا شکار ہونے سے بچایا۔ وہ اس وقت کا تقاضا تھا، مگر اب حالات بہتر ہیں، تمہاری لائف بھی سیٹل ہو چکی ہے تو میرا نہیں خیال کہ اس معاملے کو اب طول دینا چاہیے…“ شہر گل نے کانپتے دل کے ساتھ اس کی بات کاٹی تھی۔ ”آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟“ اسے اپنی آواز کسی گہرے کنویں سے آتی محسوس ہوئی۔ ”زندگی ایک جگہ تھم جانے کا نام نہیں ہے شہر گل! ہر پڑاؤ کو منزل سمجھ لینا بے وقوفی ہے۔ پڑاؤ اور منزل میں بہت فرق ہوتا ہے اور میں محض ایک پڑاؤ تھا تمہارے لیے۔“ وہ اس سے نظر ملائے بغیر کہہ رہا تھا۔ شہر گل اس کی ان توجیہات کو سمجھ نہیں پا رہی تھی، پھر بھی اس کی آنکھیں برس پڑیں۔ وہ اولیس شاہ کو مسلسل دیکھ رہی تھی جو اس سے نگاہ بھی نہیں ملا رہا تھا۔ ”زندگی میں بہت کچھ نہ چاہتے ہوئے بھی کرنا پڑتا ہے شہر گل! اور تم سے شادی کا فیصلہ بھی میرے لیے ایک ایسا ہی عمل تھا جو میں نے محض تمہاری بھلائی کے لیے کیا۔“ وہ محض اولیس شاہ کے ہلتے ہوئے ہونٹ دیکھ رہی تھی اور اس کی سماعتوں میں اس کی کچھ دیر پہلے روما سے فون پر کی جانے والی بات گونج رہی تھی۔ تو وہ روما کے لیے اسے رہائی کا اذن دینے کو ہے۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ ”پتہ نہیں آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ مجھے نیند آ رہی ہے۔“ وہ روتے ہوئے بولی تو اس کے ایک ایک لفظ میں استدعا تھی۔ ہر لفظ اولیس شاہ کے قدموں سے لپٹ رہا تھا کہ ایسے مت کرو، ایسا مت کہو۔ اولیس نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ اب کی بار جب وہ بولا، اس کے لب و لہجے میں تلخی بھی تھی۔ ”یہ سب تو اول روز سے طے تھا۔ پھر تم یوں کیوں ری ایکٹ کر رہی ہو…“ ”مقرر… میں آپ کی بیوی ہوں۔“ وہ زرد پڑ گئی تھی۔ ”مگر صرف پیپرز میں۔“ اس نے بہت سفاک حقیقت اس کے سامنے لا کھڑی کی تھی۔ شہر گل کو لگا اس کی ٹانگیں اس کے وجود کا بوجھ سہارنے سے انکاری ہوں۔ ”آپ کے اس طرح کہنے سے حقیقت بدل نہیں جائے گی۔ میں آپ کی منکوحہ ہوں۔ آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔“ اس کی آواز کپکپانے لگی تھی۔ ”تمہارے لیے تمہاری دوست ذوباریہ کے بھائی کا پروپوزل آیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اب تم اپنی زندگی کے متعلق سنجیدگی سے سوچو۔ عامر نے تو مجھے بہت اطمینان دلایا ہے، مگر میں چاہتا ہوں کہ پہلے تم اپنا مائنڈ میک اپ کر لو اور اپنی آئندہ زندگی…“ وہ کیا کہہ رہا تھا۔ شہر گل کو لگا ایک دھماکے سے کمرے کی چھت اس کے سر پر آ گری ہو۔ اب جانے آنسوؤں کی چادر تھی یا اس کی آنکھوں کے آگے سفید دھند پھیلی، گم ہوتے حواس کے ساتھ بے اختیار ہاتھ آگے بڑھا کر کسی شے کا سہارا تلاش کرنے کی کوشش میں ناکام ہوتی وہ لڑکھڑا کر نیچے گر گئی۔ ”شہر گل! اوہ گاڈ…“ حواس کھونے سے پہلے اس کی سماعتوں سے اولیس کی گھبرائی ہوئی آواز ٹکرائی تھی۔ .✰. اولیس کو مجبوراً ڈاکٹر کو گھر لانا پڑا تھا۔ وہ ہوش میں تو آ گئی تھی مگر اس قدر خاموش اور ساکت تھی کہ اولیس خود گھبرا گیا۔ ”یہ کسی صدمے یا ٹینشن کے زیر اثر ہیں۔ اور مسلسل ایسی کنڈیشن نروس بریک ڈاؤن کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ آپ انہیں ذہنی طور پر ٹینشن فری رکھیں، یہ آپ کی؟“ پروفیشنل لب و لہجے میں کہتے کہتے ڈاکٹر نے آخر میں اس سے ان دونوں کے مابین رشتے کی وضاحت چاہی تھی۔ ”بیوی ہیں…“ ایک نگاہ بے تاثر چہرہ لیے آنکھیں موندے شہر گل پر ڈالتے ہوئے وہ جیسے بادل ناخواستہ بولا۔ ”اوکے… ان کا خیال رکھیں۔ بے احتیاطی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔“ ڈاکٹر نے دواؤں کا پرچہ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے تنبیہی انداز میں کہا تو وہ محض سر ہلا کر رہ گیا۔ وہ ڈاکٹر کو رخصت کر کے لوٹا تو شہر گل کو روتے ہوئے پایا۔ ”تم اپنی پیکنگ کر لو۔ میں تمہیں ماما کے پاس چھوڑ آتا ہوں۔“ اولیس نے کسی نرمی کا مظاہرہ کیے بغیر سردمہری سے کہا تو وہ تڑپ اٹھی۔ ”میں کہیں نہیں جاؤں گی۔“ ”اپنی اور میری زندگی کو امتحان مت بناؤ۔ میں جتنا سہہ چکا ہوں، وہی میری برداشت سے بڑھ کے ہے۔“ وہ جیسے پھنکارا تھا۔ ”مں آپ سے کیا مانگتی ہوں؟ کچھ بھی تو نہیں۔ صرف آپ کا نام۔ اس نام کی چادر مت چھینیں مجھ سے۔ آپ مجھے اس گھر میں مت رکھیں، ماما کے پاس چھوڑ آئیں مگر خود سے جدا مت کریں۔“ اس عجیب و غریب صورت حال نے اولیس کے دل کی کیفیت کو بھی عجیب سا کر دیا۔ وہ بے بس اس کے سامنے بستر پر ٹک گیا۔ ”میری زندگی کو اور مت الجھاؤ شہر گل! میں سفاکی اور بربریت کا مظاہرہ نہیں کر سکتا۔ میری رگوں میں بے شک شاہوں کا خون ہے مگر شاہوں کی سی رعونت اور فرعونیت میرے مزاج کا حصہ نہیں۔ میں تم سے ریکویسٹ کرتا ہوں، پلیز اس باب کو یہیں خوش اسلوبی سے بند ہو جانے دو۔ میں روما سے محبت کرتا ہوں۔“ ”میں نے آپ کو کبھی بھی روما سے محبت کرنے سے منع نہیں کیا۔ میں کبھی پلٹ کر آپ کی زندگی میں نہیں آؤں گی۔ آپ روما سے شادی کر لیں۔ مجھے صرف اپنے نام سے منسلک رہنے دیں، اس سے زیادہ میں اور کچھ نہیں چاہتی۔“ اولیس لب بھینچے اسے دیکھتا رہا۔ ”میں کسی اور کے متعلق کبھی سوچ بھی نہیں سکتی۔ آپ میری زندگی میں آنے والے واحد مرد ہیں جس سے میں محبت کرتی ہوں اولیس! اپنا نام مجھ سے مت چھینیں ۔“ وہ رو رہی تھی۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Short Description

Dast E Betalab Mein Phool Iffat Sehar Tahir ka likha hua aik emotional romantic Urdu novel hai jo Shehar Gul aur Owais Shah ke majboori mein bandhe rishte, paper marriage, haveli ki sakht rasoomat aur aik tarfa mohabbat ki dard bhari kahani bayan karta hai.

Complete Summary

Dast E Betalab Mein Phool aik gehri, jazbati aur dil ko chhoo lene wali kahani hai jo haveli ke sakht mahol, purani rasoomat, aurat ki majboori aur mohabbat ke naam par diye jane wale imtehanat ko samne lati hai.

Shehar Gul aik aisi larki hai jis ki zindagi ka faisla us ki marzi ke baghair haveli ki riwayaton aur khandani mardon ke ikhtiyar ke zariye kiya ja raha hota hai. Use aik aise rishte mein bandhane ki tayyari hoti hai jo us ke liye sari zindagi ki qaid ban sakta tha. Behzad Shah apni rishtedaar Roheena ki bebasi aur Shehar Gul ke mustaqbil ko dekh kar use bachane ka faisla karte hain. Woh apne bete Owais Shah se kehte hain ke woh Shehar Gul se nikah kar le, lekin Owais pehle hi Roma se mohabbat aur apni zindagi ke hawale se aik faisla kar chuka hota hai.

Owais is shadi ko sirf aik paper marriage aur Shehar Gul ko haveli ki ghatiya rasoomat se nikalne ka zariya samajhta hai. Woh apne walid ke dabao aur apne chhote bhai Haris ki zindagi bachane ke liye Shehar Gul se nikah to kar leta hai, lekin apne dil mein is rishte ko kabhi mukammal taur par qabool nahi karta.

Waqt ke sath Shehar Gul ke liye yeh kagzi rishta us ki zindagi ki sab se badi haqeeqat ban jata hai. Woh Owais ko apna shohar samajhne lagti hai aur us se khamosh mohabbat kar baithti hai. Magar Owais jab Roma ke liye apni purani commitment poori karne ka faisla karta hai, to Shehar Gul ko batata hai ke woh us ki manzil nahi, sirf aik aarzi parrao tha.

Shehar Gul ke liye Owais ka naam sirf aik nikah nama nahi balki us ki izzat، pehchan aur zindagi ka sahara ban chuka hota hai. Woh us se kuch nahi mangti—na ghar, na mohabbat aur na hi biwi ke mukammal huqooq۔ Woh sirf us ka naam apne sath rehne dene ki bheek mangti hai۔ Owais ke liye yeh faisla Roma se mohabbat aur Shehar Gul ki bebasi ke darmiyan aik kathin imtehan ban jata hai۔

Yeh novel paper marriage, forced marriage, one-sided love, tribal traditions, family pressure, emotional sacrifice aur aurat ki khamosh mohabbat jaise mozuaat ko bohat khoobsurati se pesh karta hai۔

Genre

Romance, Emotional, Family Drama, Social Issues, Tribal Culture, Marriage Fiction

Dast E Betalab Mein Phool by Iffat Sehar Tahir, Iffat Sehar Tahir novels, complete Urdu novel, paper marriage Urdu novel, forced marriage novel, tribal culture Urdu novel, emotional romantic novel, family drama novel

FAQ

Dast E Betalab Mein Phool kis qisam ka novel hai?

Yeh aik emotional romantic Urdu novel hai jismein paper marriage, forced marriage, haveli culture, one-sided love aur family pressure ko markazi ahmiyat di gayi hai۔

Dast E Betalab Mein Phool ki writer kaun hain?

Is novel ki writer Iffat Sehar Tahir hain۔

Kya Dast E Betalab Mein Phool complete novel hai?

Ji haan، yeh aik complete Urdu novel hai jise Novelistan website par online parha ja sakta hai۔

Is novel ke main characters kaun hain?

Is kahani ke markazi kirdar Shehar Gul aur Owais Shah hain۔ Behzad Shah، Zareen، Haris aur Roma bhi kahani mein aham kirdar ada karte hain۔

Owais Shah Shehar Gul se shadi kyun karta hai?

Owais Shah apne walid ki baat rakhne، Haris ko majboori ke nikah se bachane aur Shehar Gul ko haveli ki sakht rasoomat se protection dene ke liye us se nikah karta hai۔

Kya Owais aur Shehar Gul ki shadi paper marriage hoti hai?

Owais is rishte ko shuru mein aik paper marriage aur temporary arrangement samajhta hai، lekin Shehar Gul ke liye yeh nikah us ki zindagi ki mukammal haqeeqat ban jata hai۔

Kya Dast E Betalab Mein Phool one-sided love novel hai?

Ji haan، kahani mein Shehar Gul ki Owais Shah ke liye khamosh aur aik tarfa mohabbat bohat aham kirdar ada karti hai۔

Dast E Betalab Mein Phool online kahan parh sakte hain?

Aap Novelistan par Dast E Betalab Mein Phool complete Urdu novel online parh sakte hain۔

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *