Ada e Ishq hn – Episode 24 25 & 26 Season 02
#Novel_By_Malayeka_Rafi
#ادائے_عشق_ہوں
#ایپسوڈ_24
#Season_2
اسے ہوش آ چکا تھا، اسے ابھی زیادہ بیٹھنے کی اجازت نہیں تھی، تبھی وہ لیٹا ہوا تھا، لب کاٹتے نہ جانے وہ کن سوچوں میں گم تھا جبکہ اس کے بیڈ کے قریب میران کرسی پہ بیٹھا ہوا، اسے غور سے دیکھ رہا تھا، ایسا لگ رہا تھا جیسے آج پہلی بار وہ اس شخص کو دیکھ رہا ہے، وہ شاید آج تک یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ ازمائر کے ناک کے قریب، اس کے اوپری لب پہ ایک تل بھی موجود ہے بلکل ویسے ہی، جیسا میران کے اوپری لب پہ ایک تل موجود تھا، شاید آج پہلی بار وہ ان آنکھوں کا رنگ دیکھ رہا تھا، اس کے چہرے کے خدوخال دیکھ رہا تھا وہ بےحد غور سے، اس کی آنکھیں نم ہوئی تھی جب لب ہلکا سا مسکرائے تھے، بےساختہ ہاتھ بڑھا کے اس نے ازمائر کے کندھے پہ ہلکے سے ماری تھی۔
” ارے تمہارے upper lip پہ بھی ایک mole ہے، میں جانتا نہیں تھا آج پتہ چلا ”
بھرائی آواز میں اس نے ہنستے ہوئے کہا تھا جبکہ ازمائر بھی اسے دیکھنے لگا۔
” مجھے پہلے سے معلوم تھا کہ تم مجھ پہ گئے ہو ”
میران ادھر ادھر دیکھنے لگا شاید آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو پھر سے وہیں دفن کرنا چاہ رہا تھا۔
” کیوں کیا تم نے ؟؟”
ازمائر ہلکا سا ہنس دیا تھا جب میران نے اسے پھر سے دیکھنے لگا۔
” کیا کیا ہے میں نے ؟؟”
” مجھے لگنے والی گولی تم خود کھا کے، کرنا کیا چاہ رہے تھے؟؟ پروف کیا کرنا چاہ رہے تھے ؟؟”
میران کے سوال پہ وہ کچھ دیر میران کو دیکھے گیا۔
” بہت چھوٹے سے تھے تم میران، نیا نیا بولنا سیکھا تھا تم نے، اور تمہیں بار بار پاپا کہنا اچھا لگتا تھا، بار بار بھا کہنا اچھا لگتا، تم مجھے بھا کہہ کے پکارتے تھے میران، لیکن ہمیشہ تمہیں ایسے اگنور کیا جاتا جیسے ۔۔۔۔ جیسے تمہارا کوئی وجود ہی نہ ہو، بڑوں کو دیکھتا دیکھتا میں بھی وہی سب کرنے لگا، تمہیں دھتکارنے لگا اور تمہارے پہ جب وہ درد پھیلتا، تو مجھے خوشی محسوس ہوتی، اور تب تب میں اور ڈیڈ قریب آتے گئے اور تم جیسے کہیں پیچھے کسی تاریک منظر میں گم ہو گئے تھے، اور پھر یہ سب بہت بڑی نفرت میں بدل گیا، ضد، سرد جنگ سی چھڑ گئی، ہمارے بیچ انسانیت نہیں بلکہ حیوانیت آ گئی، بھائی نہیں رہے ہم بلکہ دشمن بن گئے لیکن میران ”
اس کی آواز بھرا گئی تھی جبکہ میران دھندلائی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا جو آج سب بتانے پہ تلا ہوا تھا۔
” میران تم نے بھائی ہونے کا فرض نبھایا تھا لیکن میں ہی حیوان بن گیا تھا، جب میران جب تمہیں پتہ چلا کہ میں زخمی ہوں، مجھے گولیاں لگی ہے، تم آئے تھے، سب کام چھوڑ کے تم آئے تھے میرے لئے،لیکن تم نہیں جانتے تھے کہ تمہارا اپنا بھائی وہاں تمہاری تاک میں بیٹھا ہے،تم پہ گولیاں چلانے کے لئے ”
” ہشششششش بس ”
میران سے سنا نہیں گیا تو سر نفی میں ہلاتا اسے روک گیا تھا،دل میں گھٹن بڑھ گئی تھی شاید، اس کی زندگی کے ماضی کا حصہ حصہ اس کی آنکھوں کے شاید کسی فلم کی طرح چلنے لگا تھا۔
“بولنے دو یار ”
ازمائر کہنے لگا ۔
” آج تو بولنے دو، نہیں چپ رہ سکتا میں، بہت رہ لیا چپ، بہت ہو گئی نفرت، اب تھک گیا ہوں، اپنوں کے ہی اصلی چہرے دیکھ دیکھ کے اب تھک گیا ہوں ”
” اتنی جلدی تھک گئے ”
میران نے کہا تھا، انداز ایسا تھا کہ جیسے کہہ رہا ہو میں تو سالوں سے دیکھ رہا ہوں اور جی رہا ہوں۔ ازمائر نے لب کاٹے تھے۔
“تم بہت مضبوط ہو شاید، لیکن اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ ساری غلطی بڑوں پہ نہیں ڈالی جا سکتی، انہیں ہی قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، ہماری تعلیم کہاں چلی جاتی ہے جب ہم اپنے ہی بھائی کے دشمن بننے لگتے ہیں تب کہاں چلی جاتی ہے عقل و شعور۔ میں بڑا تھا، مجھے تمہیں گلے لگا لینا چاہئے تھے، تمہارا ہاتھ تھام لینا چاہئے تھا تو شاید آج میں تمہارا بھا ہی ہوتا۔ ہے ناں میران ”
ازمائر کہتے کہتے رو پڑا تھا،میران بھی رونے لگا تھا اسے وہ چھوٹا معصوم بچہ یاد آیا تھا، جو محبت کے پیچھے بھاگتا بھاگتا اتنا زخمی ہو چکا تھا کہ وہ زخم اس کی روح تک کو اپنا اسیر کر چکے تھے، وہ مکمل گھائل ہو چکا تھا۔
” لیکن قسم سے یار،مجھے بالکل نہیں پتہ تھا کہ ۔۔۔ ڈیڈ نے تمہیں ایک بزنس ڈیل کے بدلے میں۔۔۔۔ ”
وہ چپ کر گیا۔ میران لب بھینچ گیا تھا۔ ۔
” اور جب معلوم ہوا تب رشتوں سے یقین اٹھ گیا ، ب ۔۔۔ بہت سوچا، اکیلے میں بیٹھ کے بہت سوچا، تمہارے بارے میں اور ہر بار میران ہر بار، قصوروار میں ہی نکلا،میں کتنا برا بھائی ہوں یار، میں کس قدر گھٹیا ہوں، میں کس قدر گرا ہوا۔۔۔۔۔ ”
” ہشششششش ”
میران نے اس کے ہونٹوں پہ اپنا ہاتھ رکھ کے، اسے خاموش کرایا تھا۔
” چپ ۔۔۔ بس چپ ”
ازمائر رونے لگا، اپنے ہونٹوں پہ رکھ کے میران کے ہاتھ کو دونوں ہاتھوں سے تھام کے، وہ اس کے ہاتھ کی ہتھیلی دیکھنے لگا۔
” بہت چھوٹا سا ہاتھ تھا،کتنا بڑا ہو گیا ہے یہ ہاتھ اب ”
اس نے میران کے ہاتھ کی ہتھیلی پہ بوسہ دیا تھا،
” مجھے معاف کر دو میران، میرے ہر گناہ کے لئے مجھے ایک بار، بس ایک بار معاف ۔۔۔۔ ”
وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا اور میران سے رہا نہ گیا تو آگے بڑھ کے، وہ ازمائر کے گلے لگ گیا، بہت دیر تک دونوں ایکدوسرے سے لگے روتے رہے، ایکدوسرے میں بھائی کی خوشبو کو محسوس کرنے لگے کہ ازمائر اپنی پیٹھ پہ لگے زخموں کے درد کو بھی بھول گیا تھا۔ کتنا خوبصورت تھا یہ لمحہ کہ اندر آتے دشاب ملک کی آنکھیں بھی بھیگ گئی تھی اور وہ الٹے قدموں باہر گئے تھے، ان کے دونوں بیٹے ایکدوسرے کے گلے لگے رو رہے تھے، اپنے گلے شکوے مٹا رہے تھے اور ایک باپ اس سرد کوریڈور میں، دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا، اپنے کہے ہوئے گناہوں کے بوجھ تلے دبا، اپنے بھائی ہوتے دل کو تھام گیا تھا۔ ان کے گناہ ناقابل معافی تھے لیکن یہ دونوں بھائی اپنے گلے شکوے ختم کر کے، اب ایکدوسرے کے گلے لگے تھے۔
ابھی مجھ میں کہیں
باقی تھوڑی سی ہے زندگی
جاگی دھڑکن نہیں۔۔
جاناں زندہ ہوں میں ابھی
کچھ ایسی لگن اس لمحے میں ہے
یہ لمحہ کہاں تھا میرا۔۔۔
اب ہے سامنے
اسے چھو لوں ذرا
مر جاؤں یا جی لوں ذرا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“تم کیوں آ گئی مائزہ ؟؟ ازمائر سے ملے بنا ہی ؟”
سماہر کے سوال پہ وہ خاموش ہی رہی اور اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھ کے، درخت پہ شور مچاتے پرندوں کو دیکھنے لگی۔
” مائزہ میری بہن ”
سماہر بھی اس کے سامنے ہی بیٹھ گئی تھی جب مائزہ بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
” دل نہیں مان رہا تھا اسے اس حالت میں کیسے دیکھوں؟؟ جب وہ حرکت ہی نہ کر پا رہا ہو، وہ تو ہمیشہ مجھ سے اونچا ہی رہا ہے، ہمیشہ اپنی بات منوانے والا رہا ہے، میں کیسے اسے دیکھ سکتی ہوں کہ وہ یوں بیڈ پہ پڑا ہو ”
وہ کہتے کہتے رو پڑی تھی جب سماہر نے اسے بانہوں میں بھر لیا۔
” تو تم اس کا سہارا نہیں بن سکتی مائزہ؟؟ کیا تم نہیں چاہتی کہ اس لمحے ازمائر کی طرف بڑھنے والے پہلے ہاتھ تمہارے ہو، اس کے ساتھ مل کے پہلا قدم اٹھانے والی تم ہو، کیا تم ایسا نہیں چاہتی مائزہ؟؟”
مائزہ اسے دیکھنے لگی جبکہ سماہر نے اس کے آنسو دونوں ہاتھوں سے صاف کیے تھے۔
” محبت کرتی ہو اس سے مائزہ، سب کے خلاف جا کے اس سے نکاح کیا تم نے، ماں بن رہی ہو تم، کتنا خوبصورت احساس ہے یہ مائزہ، تم ماں بن رہی ہو اور ان لمحوں میں تمہارے ہر ایکشن کا اثر اس ننھے وجود پہ پڑے گا، کیا تم یہ چاہتی ہو کہ وہ جب اس دنیا میں آئے تو اس کے ذہن میں اپنے باپ کی کوئی تصویر نہ ہو، وہ اپنے بابا کی خوشبو تک کو نہ پہچان سکے ؟؟ اس میں اپنے بابا کے لئے کوئی احساس نہیں ہو؟ کیونکہ اس کی مما ایسا نہیں چاہتی تھی کیوں مائزہ ؟؟ ہم سب سے غلطیاں ہوتی ہے اور ہوئی ہے،ہمارے بڑوں سے غلطیاں ہوئی ہے لیکن کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم ان کی غلطیوں سے سبق حاصل کریں اور خود کو وہ غلطیاں نہ کرنے دیں، بابا ، دشاب چچا، عارفین چچی اور مما، ان سب کی زندگیاں ہمارے سامنے ہیں مائزہ، میں کھبی نہیں چاہوں گی کہ مائزہ اور ازمائر، اس خاندان کے دوسرے وقاص ملک اور تابعہ بنے یا میں اور میران اس خاندان کے دوسرے دشاب ملک یا عارفین بنے،نہیں ”
وہ مائزہ کے ہاتھ تھام کے لبوں سے لگاتی اب اسے دیکھنے لگی۔
” کیوں نہ ، ہم تاریخ بدل دیں اس خاندان کی؟؟ تا کہ جب ہمارے بچے ہو تو وہ مائزہ، سماہر یا میران اور ازمائر نہ بنے یا پھر کوئی چھوٹی سی مشعل نہ بنے جو خوفزدہ آنکھوں سے سب کو دیکھے، بلکہ وہ کہے ہاں یہ میری مما ہے جنہوں نے میرے بابا کے برے وقت میں ان کا ساتھ نہیں چھوڑا، وہ فخر محسوس کرے کہ اس کی مما اور بابا نے ایکدوسرے کا ساتھ نبھایا اور میں نے بھی ان سے سیکھا ہے ”
مائزہ بےساختہ اس کے گلے لگی تھی۔
” تم کیا ہو سماہر،کیا ہو تم ؟؟ سراپا محبت، میران بہت لکی ہے ”
سماہر نے مسکراتے ہوئے اسے خود سے الگ کر کے اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔
” اور ازمائر بھی۔۔۔ کہ اسے مائزہ ملی ہے، وہ خوش نصیب ہے ”
مائزہ کے چہرے پہ دکھ کے سائے چھائے تھے۔
“کیا وہ بھی ایسا ہی سمجھتا ہے ”
“تم نے پوچھا اس سے ؟؟”
سماہر کے سوال پہ اس کی آنکھوں میں اداسیوں کا موسم ٹھہر گیا تھا۔
” اس نے کہا تھا کہ میں بدلہ ہوں ”
“اور پھر اسی نے دوستی کا ہاتھ بھی تو بڑھایا تھا، آگے بڑھ کے تھام لو وہ ہاتھ اور پھر جتنے گلے شکوے کرنے ہیں، اس کے کندھے پہ سر رکھ کے کر لو، وہ سن لے گا اور تمہیں بانہوں میں بھر کے تمہارے سارے زخم بھر دے گا ”
سماہر نے نرمی سے کہا تھا۔
” اگر اس نے کندھا ہی پیچھے کر لیا تو ؟”
مائزہ کے خدشے۔
” اتنا تو تم بھی جان چکی ہو اسے اب،کہ وہ ایسا کچھ نہیں کرے گا ”
سماہر کے جواب پہ، اس نے نظریں پھیر کے پھر سے پرندوں کے جنڈ کو دیکھا تھا، سماہر بھی باہر دیکھنے لگی۔
” اس خزاں رسیدہ سرد شام کے ڈھلتے ہی، تم اس کے لئے رات کی چاندنی بن کے جاؤ گی اس کے پاس،اور اپنی محبت سے، اس کے سرد پڑتے وجود کو حرارت پہنچاو گی مائزہ ”
مائزہ اسے دیکھنے لگی جبکہ سماہر مسکراتی آنکھوں میں یقین لیے اپنی بہن کو دیکھ رہی تھی۔ وہ ڈھارس تھی مائزہ کے خزاں رسیدہ دل کے لئے، لیکن وہ مائزہ کو سیکھا رہی تھی کہ وہ خود اپنے قدموں سے چل کے، حسین بہار کو اپنے وجود کا حصہ بنائے، جو مشکل تھا لیکن ناممکن نہیں تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
جب وہ کمرے میں آئی تو نیم تاریک کمرے میں وہ شخص آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا، شاید سو رہا تھا، اپنی مدھم پڑتی تو کھبی ابھرتی سانسوں کو ہموار کرنے کی کوشش کرتی وہ آگے آئی تھی، اس کمرے میں موجود کھڑکی سے، ہلکی ہلکی روشنی اندر آ رہی تھی، دیوار پہ لگی گھڑی رات کے دس بجا رہی تھی، پورے کمرے پہ گہری نظر ڈال کے، وہ اب بیڈ کے قریب آ کھڑی ہوئی تھی اور ہر خوف، ہر درد، ہر دکھ کو پس پشت ڈال کے، وہ نرم نگاہوں سے اس شخص کے وجود کو دیکھنے لگی تو اسے یہی محسوس ہونے لگا تھا کہ اس کا پورا وجود محبت سے بھر گیا ہے، ناراضگی کے بادل چھٹے تو وہ شخص نمایاں ہونے لگا تھا، اس سے محبت اجاگر ہونے لگی تھی، آہستگی سے اس نے ہاتھ اپنے پیٹ پہ رکھا تھا اور محسوس ہوا تھا جیسے سکون اس کے وجود کو اپنا اسیر کر رہا ہے، وہ ننھا وجود شکر گزار ہے اپنی ماں کا۔ آنکھ سے آنسو گال پہ پھسلا تھا۔ ہاتھ بڑھا کے اس نے ازمائر کے ماتھے پہ بکھرے بال سمیٹنے چاہے لیکن وہ رک گئی، لب کاٹتی وہ ازمائر کی بند آنکھوں کو دیکھے گئی اور پھر آہستگی سے ہاتھ پیچھے کر لیا۔
” میں دو دن سے منتظر رہا ہوں اور اب آ گئی ہو تو اجنبی بن کے مل رہی ہو ”
ازمائر کی بوجھل آواز پہ وہ گھبرا گئی تھی، دل پہ ہاتھ رکھ کے وہ حیران آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی جو آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہا تھا۔
” تھوڑا سا تو حق رکھتا ہوں گا شاید میں تم پہ، کچھ اور نہ سہی، وہ دوستی ہی سہی جو ہم میں پھر سے قائم ہوئی تھی۔”
وہ نظریں جھکا کے لب کاٹنے لگی جبکہ ازمائر نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا تھا۔ مائزہ نظریں اٹھا کے پھر سے اسے دیکھنے لگی اور اپنا کانپتا ہاتھ اس کے ہاتھ پہ رکھا تھا، جسے ازمائر نے نرمی سے اپنے ہاتھ کی مٹھی میں دبایا ۔
” یہاں بیٹھو ”
اس کے کہنے پہ، مائزہ اس کے قریب بیڈ پہ بیٹھ گئی تھی، ازمائر اس کا ہاتھ نرمی سے چھوڑ کے، ہاتھ بڑھا کے اس کے گال سہلانے لگا جبکہ مائزہ کی انکھ سے آنسو پھسل کے، ازمائر کے ہاتھ کی پشت پہ جذب ہوا تھا۔
” پلیز مائزہ مت روؤ، تمہارے رونے کی، ان آنسوؤں کا سبب میں بنا ہوں لیکن میں ٹھیک کر دینا چاہتا ہوں سب، پلیز یہ آنسو مجھے تکلیف دیتے ہیں ”
” میں اپنے لئے نہیں رو رہی ازمائر، میں تمہارے لئے رو رہی ہوں، اتنی ظالم نہیں ہوں میں، محبت کرتی ہوں تم سے، جانتے تو ہو تم ”
مائزہ نے بھرائی آواز میں کہا تھا۔
” جانتا ہوں، اسی دن جان گیا تھا جب میرے ساتھ کورٹ تک گئی تھی تم مجھ سے نکاح کرنے ”
ازمائر آہستگی سے کہتا، انگوٹھے سے اس کے لب سہلائے تھے۔ کس قدر سکون بخش تھا اس کا ہر لمس،مائزہ سوچے گئی۔
” سب جانتا ہوں مائزہ، کس طرح میں درد دیتا گیا اور تم سہتی گئی، لفظوں کی مار ماری، تو وہ بھی سہہ گئی تم، تم سے نفرت جتائی اور تم زہر کی مانند پی گئی، راتوں کو نشے میں دھت گھر آیا، سہارا دینے کوئی آگے نہیں بڑھا لیکن تم نے اپنا کندھا دیا، سہارا بنی، میری لاج رکھی، مجھے خود سے لگا کے رکھا تم نے، اور پھر وہ رات ۔۔۔۔ ”
وہ چپ کر گیا، آنکھوں میں عجیب وحشت اتر ائی، لب سختی سے بھینچ لیے تھے اس نے، مائزہ نے اس کے لبوں پہ اپنے ہاتھ رکھے تھے۔
” مجھے نہیں سننا، کچھ بھی تلخ نہیں، میں بس یہی چاہتی ہوں کہ میرے لئے وہ خوبصورت یادیں ہمیشہ تازہ رہے کہ جن میں ہمارے بیچ دوستی کے سوا کوئی تلخ لمحہ نہیں تھا کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ میرے وجود میں پلنے والا یہ ننھا سا وجود، ہماری دوستی اور محبت کے سائے میں، اس دنیا میں آئے”
ازمائر نے اپنے کانپتے ہاتھ بڑھا کے، مائزہ کے پیٹ پہ رکھے تھے، آنسو آنکھوں کے کنارے بھگو گیا۔
” کتنا برا باپ ہوں میں بھی ”
” ہشششششش ”
مائزہ نے اسے کچھ بھی کہنے سے روکا تھا، محبت بھری نگاہوں سے ازمائر کے چہرے کو دیکھتی، ہاتھ ہتھیلی سے اس کی آنکھوں کنارے صاف کرنے لگی۔
” ناراض ہو جائے گا وہ یہ سب سن کے ”
” کون ؟؟”
ازمائر ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا جبکہ مائزہ نے اس کا ہاتھ پھر سے اپنے پیٹ پہ رکھا تھا۔
” یہ ۔ ”
” نفرت تو کرتی اب مجھ سے تم مائزہ ”
ازمائر اسے نظر بھر کے دیکھتا پوچھ رہا تھا۔
” سوچ کے بتاؤں گی، پہلے والا ازمائر بن کے دکھاؤ پھر میں کچھ کہوں گی”
مائزہ لب چباتی کہتی ابرو اچکا گئی تھی جبکہ ازمائر زیر لب مسکرا دیا تھا۔
” قریب آؤ ”
” بلکل بھی نہیں ”
مائزہ سر نفی میں ہلاتی اس سے مزید دور ہوئی تھی۔
“یار کھا نہیں جاؤں گا، قریب آؤ ”
ازمائر نے محبت بھری جھنجھلاہٹ سے کہا جبکہ وہ بیڈ سے ہی اٹھ گئی۔
” بلکل بھی نہیں ”
” میں خود ہی اٹھتا ہوں ”
وہ اٹھنے لگا تھا جب مائزہ نے پھر سے قریب آ کے، اسے اٹھنے سے روکا تھا اور پھر بےحد قریب سے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” ابھی تم نے امتحان کی بہت سی منزلیں طے کرنی ہے، تب کہیں جا کے میں یہ ڈیسائیڈ کروں گی کہ مجھے تمہارے کتنے قریب انا ہے”
مائزہ کے انداز ہی دل موہ لینے والے تھے اج، آنکھوں میں حیرانی لیے ازمائر نے اسے دیکھا تھا۔
” اور پھر ساری منزلیں طے کر کے، رزلٹ ڈے میں اپنی مرضی سے مناؤں گا، قبول ہے ؟”
ازمائر نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا تھا۔ مائزہ پہلے مسکراتی چیلنجنگ آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی اور پھر اس کے چہرے پہ اپنی سانسیں چھوڑتی وہ پیچھے ہوئی تھی جبکہ ازمائر کی دھڑکنیں منتشر ہوئی اس کے سانسوں کی مہک سے، جبکہ مائزہ پرسکون سی اسے دیکھے گئی کہ سماہر کی باتوں نے اسے مکمل بدل دیا تھا، وہ اب دل کی بھی سننے لگی تھی ورنہ ایسا لگتا تھا جیسے عرصے سے اس کا دل سویا پڑا ہے ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” ماریہ مر چکی ہے لیکن ہمیں کوئی کلیو نہیں مل رہا ہے کہ اسے مارا کس نے ہے ؟”
انسپکٹر جمشید، میران کے پاس بیٹھا کہہ رہا تھا جبکہ میران لب بھینچے سپاٹ چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا۔
” اس کے فلیٹ میں لگے CCTv فوٹیج میں بھی سب بلینک ہے جیسے ان کو چھیڑا گیا ہو”
وہ پھر سے کہنے لگا۔
” ہمممم، فنگر پرنٹس سے کچھ سامنے نہیں آیا؟؟”
میران پوچھنے لگا۔
” نہیں، اس کے باڈی پہ کوئی فنگر پرنٹس کے نشان نہیں ہے، بس گردن پہ زیادہ دباؤ ڈالنے کے نشان ہیں اور گردن کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہے اور کچھ چٹخ دی گئی ہے ”
جمشید نے جواب دیا تھا جبکہ میران نے لب بھینچ لیے تھے۔
” میران اگر تمہارے پاس کوئی فوٹیج ہیں تو ؟؟”
” نہیں، میرے پاس تو ڈیوائس ہی ڈسکنیکٹ ہو چکا ہے، میں نے چیک کیا تھا ”
میران سکون سے جواب دیتا، صوفے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا، اسکے اندر جو طوفان برپا تھا اس کی بھنک بھی وہ جمشید کو نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا۔ کیونکہ اس رات وہ دیکھ چکا تھا اپنے موبائل میں، کہ جس طرح سے دشاب ملک نے ماریہ کو ختم کیا تھا اور پھر خود دیر تک دوسرے صوفے پہ بیٹھ کے ، ماریہ کے مردہ وجود کو دیکھتے رہے، یہاں تک کہ انہوں نے رونا شروع کر دیا تھا، اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپائے وہ رو دیے تھے اور پھر ان کے جانے کے بعد، میران وہاں گیا تھا، وہاں کی سی سی ٹی وی کیمرے کو ڈسکنیکٹ کرنے اور ان کا سسٹم خراب کر کے، وہ وہاں سے باہر نکلا تھا۔ وہ خاموش تھا لیکن اس خاموشی کے پیچھے بھی ایک طوفان سا برپا تھا جو اسے اندر ہی اندر اپنی گرفت میں کر رہا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
#Novel_By_Malayeka_Rafi
#ادائے_عشق_ہوں
#ایپسوڈ_25
#Season_2
تھپڑ بہت زور کا لگا تھا ان کے چہرے پہ، لیکن اس سے بھی زور کا جھٹکا لگا تھا انہیں۔ کیونکہ یہ تھپڑ عارفین کی طرف سے تھا اور جن گناہوں میں وہ برسوں سے سلگ رہے تھے، جس چہرے کو وہ عارفین سے چھپاتے آ رہے تھے، وہ چہرہ اب بےنقاب ہو کے عارفین کے سامنے آیا تھا۔
” ہمت کیسے ہوئی میرے بیٹے کی قیمت لگانے کی بھی ”
ان کا کالر ہاتھوں میں جکڑ کے وہ چیخی تھی جبکہ دشاب لب بھینچے نظریں جھکا گئے تھے۔
” میں سمجھتی رہی کہ میرا بچہ اس لئے آپ سے دور رہتا ہے کیونکہ آپ باپ نہ بن پائے اس کے لئے، لیکن اس کے ساتھ ناانصافی کا مرتکب ہوئے ہیں اپ، یہ مجھے نہیں معلوم تھی، میرا بچہ، میرا بیٹا اس آگ میں برسوں سے جل رہا ہے، برسوں سے اس سیاہی کو اپنے دل میں دفن کیے جی رہا ہے اور میں اس کی ماں ہو کے بھی کچھ نہ جان پائی، کیسے نیند آ گئی تھی مجھے، بےچینی تک نہ ہوئی مجھے اس رات، جب میرے بچے کی قیمت لگا آئے تھے آپ ”
وہ چیخ رہی تھی اور ساتھ ہی اس کے سینے اور گردن کو نوچ ڈالا تھا انہوں نے۔ دشاب انہیں روک نہیں رہے تھے بلکہ ان کی مار کھا رہے تھے۔
” عارفین پلیز ایسا کچھ ۔۔۔۔ ”
انہوں نے آخر کہنے کی کوشش کی تھی ۔
” بس ۔۔۔ ”
عارفین دھاڑی تھی ، دشاب دیکھ رہے تھے عارفین کی آنکھیں حد درجہ سرخ ہو رہی تھی جیسے خون چھلکا رہی ہو ۔
” اب نہیں سنوں گی میں آپ کے جھوٹے الفاظ، بہت بول چکے آپ، بہت کہہ چکے آپ، بہت سن لیا میں نے آپ کے وہ سب جھوٹے دعوے اور وہ دھوکے جو آپ محبت کے نام پہ دیتے رہے اب بس ۔۔۔ ”
دشاب کا دل کانپ گیا تھا لمحہ بھر کے لئے۔
” اپنے حق میں، میں نے سب سہہ لیا، خاموش رہی، چپ رہی لیکن میرے بچوں کے معاملے میں، میں زندگی بھر آپ کو معاف نہیں کروں گی، میرا بیٹا تو آپ کا ہی خون تھا، آپ کا بھی بیٹا تھا وہ، کیسے کر لیا اس کے ساتھ یہ سب؟؟ بیچ ائے؟؟ اپنے بچے کو بیچ آئے، لعنت ہو آپ پہ دشاب ملک ، میرا رب بھی آپ کو کھبی معاف نہیں کرے گا، میری بد دعا ہے کہ آپ پہ وہ وقت آئے جب پچھتاؤں کے دلدل میں ایسے پھنسے کہ کوئی ہاتھ بڑھا کے آپ کو باہر نکالنے والا نہ ہو، یہ ایک ماں کی بد دعا ہے ، ایک ماں کی ”
دشاب ملک حیرت سے انہیں دیکھتے لڑکھڑا کے پیچھے ہوئے تھے جبکہ عارفین نے روتے ہوئے اپنے دل پہ ہاتھ رکھا تھا، بہت درد ہوا تھا انہیں، بےپناہ درد ۔
” چچی ماں ”
سماہر ان کی آواز سنتی تیزی سے ان کے قریب آئی تھی اور انہیں کندھوں سے تھاما تھا جبکہ عارفین بھیگی آنکھوں سے سماہر کو دیکھے گئی جس نے ان کے بیٹے کو ایسے سنبھال لیا تھا کہ اس کے وجود کے بکھرے ٹکڑوں کو اپنے دامن میں سمیٹ کے، ان کے بیٹے کو مکمل کر دیا تھا اور پھر دشاب کو دیکھنے لگی۔
” قیامت کے دن اپنا کوئی حق نہیں مانگوں گی آپ سے دشاب، لیکن اپنے بچوں کا ایک ایک حساب مانگوں گی آپ سے، اس گھر کے دونوں بچوں کو تباہ کر دیا آپ نے، دو بھائیوں کے بیچ نفرت کا بیج بویا، اسے تناور درخت بنا دیا، دونوں کی اس سب بربادی کا حساب آپ سے لوں گی ۔ ”
” چچی ماں پلیز چلئیے یہاں سے ” ۔
ایک سرد نظر دشاب پہ ڈال کے، سماہر عارفین کو لیے ان کے کمرے میں آئی تھی، انہی بیڈ پہ بٹھا کے، ان کے لئے پانی کا گلاس لے کے ائی۔
” پانی پی لیں چچی ماں ”
عارفین نے اس کے ہاتھ سے گلاس لے کے، لبوں سے لگایا تھا لیکن وہ پھر سے رونے لگی سماہر کو دکھ ہو رہا تھا انہیں یوں دیکھ کے۔
” مت روئیے پلیز چچی ماں ”
گلاس ان کے ہاتھ سے لے کے، سائیڈ پہ رکھ کے سماہر نے انہیں گلے سے لگایا تھا جبکہ کندھا ملتے ہی، برسوں کا غبار جیسے خود ہی نکلنے لگا تھا آنسوؤں کی صورت اور سماہر نے بھی انہیں رونے دیا تھا کہ برسوں سے جو دکھ وہ دل پہ لیے اب تک جی رہی تھی صرف اپنے بچوں کی خاطر، اب ان دکھوں میں طوفان سا آیا تھا اور اس طوفان کو بہنا ہی چاہئے تھا اور سماہر ان کا کندھا بن گئی تھی، ان کے لئے غمگسار بنی تھی۔ عارفین اسے دیکھنے لگی۔
” میرا بچہ بہت خوش قسمت ہے کہ تم اس کی ہمسفر ہو، میرے بچے کے بکھرے وجود کو تم نے سمیٹا ہے سماہر، اسے مزید بکھرنے سے بچا لیا تم نے، بہت نیک بچی ہو تم سماہر، میرے بچے کو بچا لیا، میں نہ بچا پائی، میں۔۔۔ ”
سماہر نے ان کے دونوں ہاتھ تھام کے، ان پہ بوسہ دیا تھا اور پھر ان کی بھیگی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” آپ میرے لئے ہمیشہ محترم رہی ہے چچی ماں، میں نے ہمیشہ اپ کو کاپی کرنے کی کوشش کی ہے، آپ جیسا بننے کی کوشش کی ہے، جب میں آپ کو دیکھتی تھی، آپ کی محبت بھری شخصیت کو دیکھتی تھی تو مجھے یہی لگتا کہ کس مٹی سے بنی ہے چچی ماں،اتنی محبت، اس قدر صبر ان میں کہاں سے اور کیسے آیا ہے، آپ بہت اچھی ماں، بہت اچھی بیوی اور بہت اچھی ساس ہے اور سب سے بڑھ کے آپ ایک مضبوط عورت ہے، باکردار، مضبوط، ہمت والی عورت ”
” میں مضبوط ہوتی تو میں اس حال میں نہ ہوتی، میں نے اپنے حق میں ہر ناانصافی کو سہا، اپنے بٹے ہوئے شوہر کو، میرا شوہر بٹ گیا، وہ دوسری عورت کا ہو کے رہ گیا، میں انہیں بچہ نہ دے پائی تو بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ دوسری شادی ہر مسئلے کا حل ہے، دوسری عورت بچہ دے گی ہمیں، لیکن میں سوچتی ہوں کہ اگر مرد نہ چاہے تو کھبی کوئی دوسری عورت نہیں آتی، وہ اپنی بیوی کے لئے اسٹینڈ لے تو کھبی دوسری عورت نہیں اتی، مرد کو خود دوسری عورت کی چاہ ہو تو پہلی بیوی روئے گی بس، وہ اپنے مرد کو نہیں روک سکتی کھبی، لیکن میں نے ہمیشہ خود سے سوال کیا ہے کہ میں کیا ؟؟ میری خواہشیں کیا ؟ میرے سپنے کیا ؟ م ۔۔۔ میرے ”
آنسوؤں کا گولہ بن گیا تھا گلے میں، تبھی وہ رکی تھی جبکہ سماہر بھیگی آنکھوں سے ان کے درد سن رہی تھی۔
” میرا تو سب لٹ گیا تھا ناں، میرا شوہر بٹ گیا، وہ میرے پاس آتا تو مجھے لگتا جیسے میں اپنے شوہر کی بانہوں میں نہیں ہوں بلکہ میری نیلامی لگ چکی ہے، مجھے نیلام کیا جا رہا ہے اور میں اتنے سال نیلام ہی ہوتی رہی،لیکن میں پھر بھی خاموش رہی، چپ رہی، میران اور میرب آئے میری زندگی میں اور میں ان کے ساتھ مصروف ہوئی اور دشاب کو میں نے دیکھا کہ بہت آہستہ روی سے، لیکن مجھ سے دور ہوتے گئے اس قدر دور، کہ اپنے ہی بچے انہیں پرائے لگنے لگے تھے، میرے بچوں نے اپنے سگے باپ کی محبت میں دیکھی، سماہر کتنے بدقسمت بچے تھے میرے، اپنے سگے باپ کی محبت کے لئے ترستے رہے تھے،مجھے ازمائر سے کوئی شکایت نہیں ہے، وہ بھی میرا بچہ ہے،میں نے اسے میران سے کم نہیں سمجھا لیکن دشاب نے دونوں بھائیوں کو ایکدوسرے سے نفرت کرنا سکھایا لیکن میں کب جانتی تھی کہ میرے بچے کا اپنا سگا باپ، اس کی قیمت لگا چکا ہے، بیچ آیا ہے میرے بچے کو، میں کیوں نہ سمجھ پائی، میں کیوں نہ محسوس کر پائی اپنے بچے کے دکھ کو؟ اتنے سال میران میرے ساتھ اس گھر میں رہا، لیکن میں نہ جان پائی اس کے دل کا درد ، اس کا ہم سے گریز، ہم تینوں ہی ایکدوسرے کی محبت کے لئے ترستے رہے اور میں نہ جان پائی کہ میرا بچہ ،میرا میران کس درد سے گزر رہا ہے، میں نہ بچا پائی اپنے بچے کو ”
وہ پھر سے رو رہی تھی، سماہر نے بمشکل انہیں سنبھالا تھا۔
” ہشششششش، چچی ماں، ”
انہیں گلے سے لگائے وہ خاموش آنسو بہا رہی تھی، عارفین، میران اور میرب، محبت کے لئے کس قدر ترسے ہوئے تھے، کس قدر دکھ تھے ان کے،نارسائی کے دکھ، نفرت اور محبت کے بیچ پھنسے ہوئے معصوم بچے اور ان کی ماں نے کیا کچھ سہا ہوگا، کیا کچھ، سماہر کا دل کانپ کے رہ گیا تھا۔
” میران کی زندگی میں بہار بن کے آنے کے لئے شکریہ میری بچی، میرے بیٹے سے محبت کرنے کے لئے، اسے سمیٹنے کے لئے، اسے مکمل کرنے کے لئے ”
سماہر نے ان کے گال پہ پیار کیا تھا۔
” پہلی بار ایسی ساس دیکھ رہی ہوں جو اپنی بہو سے خوش یے ”
سماہر بھیگی آنکھوں سے انہیں دیکھتی کہنے لگی جبکہ اس حالت میں بھی عارفین کے لب مسکرائے تھے، دل کا بھاری پن ہلکا ہوا تو ہنس بھی پڑی تھی سماہر کی بات پہ اور سماہر انہیں دیکھے گئی۔
ماں، کیا ہے ماں؟ کیسی ہوتی ہے ماں؟؟ ایسی ؟؟ اتنی نرم دل، مہربان، اپنے بچے کے حق کے لئے رونے والی، ظالم کے سامنے تن کے کھڑی ہونے والی، اس گھر کے دو بزرگ مرد خوب کھیلے ہیں اس گھر کی دو عورتوں کے ساتھ، چاہے وہ تابعہ ہو یا پھر عارفین۔ دونوں ہی مظلوم ہیں اپنی جگہ، دونوں کے ساتھ دھوکا ہوا اور دونوں کو توڑ دیا گیا، گردن تان کے اکڑ کے چلنے والے یہ دو مرد ، کھبی نہیں محسوس کر سکتے اپنی بیویوں کے دل کا حال، اپنی جوانی وار دی انہوں نے اور پھر بھی ان کا نصیب بےوفا مرد ہی ٹھہرے، یہ درد کوئی نہیں محسوس کر سکتا جب تک کہ اس پہ بیتتی نہیں ہے، گہرا سانس لیتی وہ اپنے امڈتے آنسوؤں کو پی گئی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” ازمائر بیٹا ”
وہ جو آنکھیں موندے اپنے بیڈ پہ لیٹا ہوا تھا، اب وہ گھر شفٹ ہو چکا تھا اور اب پہلے سے بہتر تھے اس کے زخم۔ دشاب کی آواز پہ اس نے آنکھیں کھولی تھی اور سپاٹ آنکھوں سے ان کی طرف دیکھا تھا۔
” کیوں آئے ہیں آپ یہاں؟؟”
دشاب کی آنکھیں نم ہوئی تھی۔
” اپنے بیٹے سے کچھ باتیں کرنے آیا ہوں ”
” مجھے نہیں کرنی کوئی بات ”
ازمائر نے نظریں چرائی تھی مبادا اپنے باپ کے آنسوؤں کے آگے کمزور نہ پڑ جائے، وہ بیڈ پہ اٹھ کے بیٹھ چکا تھا جبکہ وہ لب کاٹتے کسی مجرم کی طرح، اس کے بیڈ کے قریب رکھے صوفے پہ بیٹھے تھے۔ دھندلی آنکھوں سے انہوں نے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا جو لب بھینچے سامنے دیوار کو دیکھ رہا تھا۔
” مجرم کو سزا سنائی جاتی یے بیٹا، رخ نہیں موڑا جاتا ”
ازمائر کوئی حرکت نہیں کی۔
” میں سماہر کو تمہارے لئے ہی مانگنے گیا تھا لیکن ۔۔۔”
” ڈیڈ پلیز جسٹ اسٹاپ اٹ ”
ازمائر نے تیزی سے ان کی بات کاٹی تھی۔
” میری بیوی مائزہ ہے، گڑھے مردے نہ اکھاڑے اب آپ ”
دشاب خاموش ہو گئے تھے، ازمائر بھی رخ موڑ گیا تھا ۔
” کیوں ناراض ہے میرا بیٹا مجھ سے ؟”
دشاب نے پھر سے سوال کیا تھا، ازمائر انہیں دیکھنے لگا۔
” آپ کو پتہ ہونا چاہئے ویسے تو ”
پھر سر جھٹکا تھا۔
” میں خود رشتوں کا مجرم ہوں، آپ سے کیا گلہ، لیکن ایک ہی شکایت رہے گی مجھے تا عمر، کہ اگر ایک باپ بن کے ہم سے رویہ کیا ہوتا تو آج کوئی بھی اپنے نصیب کو نہ رو رہا ہوتا، لیکن آپ ایک سیاستدان کی طرح گھر میں اپنی پولیٹیکس چلاتے رہے۔ ”
” جانتا ہوں میران کو اس عورت کے پاس ۔۔۔ ”
دشاب کہنا چاہ رہے تھے جب ازمائر نے ان کی بات کاٹی تھی۔
” بس کریں ڈیڈ، مجھے کوئی جھوٹی کہانی نہیں سننی، سن چکا ہوں سب میں۔
” لیکن میں آپ کی طرح نہیں ہوں، اپنے گناہ آپ پہ نہیں ڈال رہا، اپنے گناہ میں اپنے ہی گردن پہ لے رہا ہوں، ہاں میں غلط کر چکا ہوں، خود کے ساتھ، میران کے ساتھ، مائزہ کے ساتھ، میں حق نہیں رکھتا کہ کوئی مجھے معاف کرے، اتنا سب برا کر لینے کے بعد، میں اب اچھا بن کے سب سے اچھائی کی امید رکھوں، میری بیوقوفی ہی یہ، بھائی کا دشمن، اپنے ہی خاندان کی لڑکی کے عزت کا قاتل اور اپنی بیوی کے لئے بیوفا مرد، اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری عورت سے تعلق رکھنا،کیونکہ مجھے میری پسند نہیں ملی اور میں دوسری لڑکی سے انتقام لینے لگ گیا، میرے گناہوں میں آتا ہے لیکن مائزہ سب جانتے ہوئے بھی خاموش ہے، اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوں میں سب، پڑھ لیتا ہوں سب، میں وہ سب ٹھیک نہیں کر سکتا لیکن بارہا اپنے خدا سے بخشش کی دعا کرتا ہوں کہ مجھے معافی مل جائے، میرے گناہوں کے لئے مجھے معاف کر دیں میرا رب، آپ ڈیڈ؟ آپ نے کھبی کوشش کی اپنی بیوی کی آنکھوں میں دیکھنے کی ؟؟ کھبی کی کوشش اپنے بچوں کی آنکھوں میں دیکھنے کی؟؟ کھبی پڑھا؟؟ کچھ تو پڑھا ہوگا؟؟ لیکن پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی ہو تو کیا پڑھنا؟؟ میں برباد ہو چکا ہوں ڈیڈ، میری زندگی برباد ہو چکی ہے، میں نہیں کہہ رہا کہ آپ قصوروار ہے لیکن کچھ تو قصور ہے آپ کا بھی، جو آپ کا بیٹا برباد ہوا پڑا ہے، کچھ تو قصور ہے ”
دشاب ملک خاموشی سے نظریں جھکا گئے۔
” کاش ہمارے گھر میں پولیٹیکس کی جگہ، رشتوں کا تقدس سکھایا جاتا بچوں کو، تو شاید آج یہاں کوئی اپنے آپ میں بکھرا پڑا نہ ہوتا ”
ازمائر نے بس اتنا کہا اور دوبارہ سے بیڈ پہ لیٹ کے آنکھیں موند لیں، دشاب اس کی پیٹھ گھورتے رہے نم آنکھوں سے، جبکہ ازمائر خاموشی سے آنکھیں موندے، اپنے اندر چلتی جنگ سے لڑ رہا تھا، مائزہ نہیں آئی تھی یہاں، وہ ازمائر سے ملنے آئی تھی ہاسپٹل لیکن یہاں آنے کے لئے خود کو آمادہ نہ کر پائی تھی وہ۔ ازمائر نے بھی اپنے وعدے کے مطابق اسے فورس نہیں کیا تھا لیکن دل میں ہوک سی اٹھی تھی، مائزہ نے ابھی تک اسے معاف نہیں کیا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” ہم کہاں جا رہے ہیں؟ بتانا پسند کریں گی آپ بیگم ؟”
میران کے انداز پہ اسے ہنسی آئی تھی، ڈرائیور نہ جانے کن راستوں سے گزرتا جا رہا تھا جبکہ پچھلی سیٹ پہ بیٹھی سماہر کی خاموشی میران کو مشکوک کر رہی تھی لیکن آنکھوں میں پٹی بندھے ہونے کی وجہ سے وہ کچھ دیکھ نہیں پا رہا تھا۔
” صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے میران ارتضی ملک ”
” کچھ زیادہ ہی میٹھا لگ رہا ہے مجھے آج تو ”
سماہر کی طرف جھک کے، اس نے آہستہ آواز میں سرگوشی کی تھی جبکہ سماہر نے اسے پیار بھری گھوری دینے پہ ہی اکتفا کیا تھا، جسے میران نہیں دیکھ سکتا تھا۔
” سماہر، مجھے لگ رہا ہے میں اندھا ہو چکا ہوں ”
میران جھنجھلایا تھا جبکہ سماہر نے اپنی ہنسی روکی تھی اور اس کی طرف ہلکا سا جھکی تھی۔
” میری محبت میں ”
سرگوشی کرتی وہ لب دانتوں تلے دبا کے پیچھے ہوئی تھی جب گاڑی ” میران مینشن ” کے سامنے رکی تھی اور گاڑی کا دروازہ کھلا تھا ۔
” ویلکم میران سائیں اور سائیں بی بی ”
منان کاکا کی آواز میران کے کانوں سے ٹکرائی تو لب بھینچ لیے تھے۔
” یہ تم سب ملے ہوئے ہو آپس میں ؟”
” معاف کر دیں سائیں ”
منان نے جلدی سے کہا تھا جبکہ سماہر نے میران کو گاڑی سے اترنے میں مدد دی تھی۔
” اب تو ہٹا دو یہ ۔۔۔ سماہر یار ”
” نہیں۔۔ ”
اس کا بازو تھامے وہ میران کے ساتھ آہستہ روی سے چلتی،لان سے ہوتی اندر آئی تھی۔ اس پورے لاؤنج کی خوبصورتی کو اس نے بےحد محبت سے دیکھا تھا اور پھر وہاں موجود ان دو انسانوں کو بھی،جن کے لئے یہ سب تیاریاں کروائی گئی تھی۔
” سماہر ۔۔ ”
میران کی اواز پہ وہ چونکی تھی اور دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے میران کی آنکھوں پر سے وہ پٹی کھول کے ہٹا دی تھی اور میران نے خوشگوار حیرت کے ساتھ وہ سب دیکھا تھا۔ پورے لاؤنج کو خوبصورت پھولوں سجایا گیا تھا،
” Happy Family Day ”
” Happy Mother Day”
” Happy Siblings Day ”
” We Love you Meeran ”
اور عارفین تھی وہاں، اس کی چھوٹی بہن میرب تھی وہاں، اس کی آنکھیں پل بھر میں نم ہوئی تھی، اس نے حیرت سے سماہر کو دیکھا تھا، اس کی نم آنکھوں نے سماہر کا دل پگھلا دیا تھا لمحہ بھر میں۔
” آج تمہارا دن ہے میران، تم،میں، ماں اور میرب ”
اس کی آنکھیں متشکر ہوئی تھی، نظریں پھیر کے وہ پھر سب دیکھنے لگا ۔
” آگے بڑھو میران اور اپنی بانہوں میں سمیٹ لو ان خوبصورت رشتوں کو ”
سماہر نے سرگوشی کی تھی ۔ کتنی دوریاں تھی ان کے بیچ، کس قدر ہچکچاہٹ تھی ان کے بیچ، ماں اور بہن سے کتنا دور ہو گیا تھا وہ، کس قدر اجنبی سے بن گئے تھے یہ دو رشتے اس کے لئے، کس قدر گریز تھا ان سے اور آج، اس لمحے وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کیسے آگے بڑھے؟ کیسے انہیں سمیٹ لیں اپنی پناہوں، کیسے ان کا مان بڑھائے؟ وہ شرمندہ تھا اپنے رشتوں سے، اب کیسے وہ انہیں یہ کہے اس عورت سے کہ وہ ان کا بیٹا ہے یا کیسے کہے اس معصوم لڑکی سے کہ وہ اس کا بھائی ہے ۔ لیکن عارفین نے اسے سمیٹا تھا، اپنی بانہوں میں بھر کے، اپنے بچے کو سینے سے لگایا تو ٹھنڈک کا احساس ان کے وجود میں سرایت کر گیا تھا۔ ۔
” میرا بچہ، میرا میران ، اپنی ماں کے دل کا سکون، میرا بیٹا، کیوں اپنے دکھ مجھ سے چھپاتا رہا، کیوں مجھے نہ بتائے اپنے درد، کیوں اپنی ماں سے چھپایا سب، میرا بچہ ، میرا میران ”
” ہشششششش ”
میران خود پہ ضبط کرتا ان کی آنکھوں میں دیکھتا، انہیں رونے سے منع کر رہا تھا اور پھر خود سے لگا کے اس نے عارفین کے بالوں میں اپنے لب رکھے تھے، اس کی ماں، جنہوں نے اتنے دکھ سہے تھے وہ کیسے آپ ی دکھ بھی انہیں بتاتا، کیسے ؟ نظریں بھٹک کے میرب پہ گئی، اس کی چھوٹی سی بہن، جو بھیگی آنکھوں سے اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی، اس کی معصوم سی، نرم دل اور بہت اچھی بہن، جو اس کے دھتکارنے کے باوجود بھی، اس کے آگے پیچھے پھرتی، اپنے بھائی کی چوٹ پہ، آنسو بہاتی۔ میران کے دیکھنے پہ اس کے رونے میں شدت آئی تھی اور جیسے میران، عارفین سے الگ ہو کے اس کی طرف بڑھا، میرب اس کے سینے سے جا لگی تھی۔ کس قدر تڑپی تھی وہ اس لمحے کے لئے کہ وہ اپنے بھائی کے سینے سے جا لگے۔
” بھائی۔۔ ”
اس نے بس اتنا کہا تھا اور رو دی تھی جبکہ سماہر وہیں کھڑی اس مکمل ہوتی فیملی کو دیکھ رہی تھی۔ عارفین نے متشکر نظروں سے سماہر کو دیکھا تھا تو وہ مسکرا دی۔
” کتنی چاہ تھی کہ میں اپنے بھائی کے سینے سے لگ کے، اپنے سب آنسو بہاؤں، کتنی خواہش تھی میری ”
وہ کہتے کہتے ہنسنے لگی تھی،
” مما، دیکھئیے ناں، ”
عارفین نے مسکرا کے دونوں کو دیکھا تھا، جبکہ میران اسے خود سے لگائے سماہر کو دیکھنے لگا، کس قدر محبت تھی ان آنکھوں میں سماہر کے لئے، جبکہ سماہر مسکراتی آنکھوں سے اپنے میران کو دیکھ رہی تھی، اشارے سے اس نے سماہر کو اپنے پاس بلایا تھا اور سماہر مسکراتی ان تینوں کے قریب گئی تھی لیکن آنکھیں میران پہ ٹھہری ہوئی تھی۔
” تھینک یو سماہر ”
میرب کی اواز پہ وہ میران سے نظریں ہٹا کے، اسے دیکھنے لگی۔
” خوش رہو ہمیشہ ”
سماہر نے محبت بھرے انداز میں کہا تھا اسے۔
” دنیا جہاں کی خوشیاں میرے بچوں کا نصیب بنے”
عارفین نے ان تینوں کو اپنے بازوؤں کے گھیرے میں لیا تھا جبکہ میران نے سماہر کا ہاتھ تھام کے نرمی سے دبایا تھا۔
“تھینک یو ”
سرگوشی کرتا وہ محبت سے سماہر کو دیکھ رہا تھا اور پھر وہ دن ان کی زندگی کا بہترین دن تھا، انہوں نے ساتھ میں بیٹھ کے کھانا کھایا، دیر تک وہ باتیں کرتے رہے، میرب کے شکوے گلے تھے جبکہ میران کی مسکراہٹ تھی، عارفین کی ہنسی تھی جبکہ ان لمحوں کو سیلفی کی رٹ لگاتی سماہر کی کھلکھلاہٹ تھی اور ان لمحوں کو وہ کیمرے کی آنکھ میں قید کرتی گئی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
#Novel_By_Malayeka_Rafi
#ادائے_عشق_ہوں
#ایپسوڈ_26
#Second_last_episode
#Season_2
” دشاب ملک یو آڑ انڈر اریسٹ ”
انسپکٹر جمشید اکیلے ہی آیا تھا ان کے بنگلے پہ اور اب لاؤنج میں کھڑا وہ دشاب ملک سے اچانک یہی کہا تھا، ازمائر نے حیرت سے اسے دیکھا تھا جبکہ میران نے لب بھینچ لیے تھے، وہ جانتا تھا کہ جمشید یہاں کس لئے اور کیوں دشاب ملک کو گرفتار کرنے آیا ہے۔
” ایم سوری دشاب ملک، لیکن آپ کو ہمارے ساتھ جانا ہی ہوگا ”
” کیا کیا ہے انہوں نے اب ؟”
ازمائر سرد نظروں سے دشاب ملک کو دیکھتا پوچھنے لگا۔
” ماریہ کے مرڈر کیس میں ان کو اریسٹ کیا جا رہا ہے ”
جمشید نے جواب دیا تھا جبکہ ایک گہری نظر میران پہ بھی ڈالی تھی اور میران نے لب بھینچے نظریں پھیر لی تھی۔
” اوہ، ڈیڈ یہ کام بھی آپ نے انجام دیا ہے، گڈ ٹو نو ”
ازمائر کے لہجے میں طنز تھا، دشاب ملک اسے دیکھ کے رہ گئے۔
” باہر کوئی پولیس کی گاڑی نہیں آئی اور نہ کوئی کانسٹیبل آیا ہے، صرف میں آیا ہوں آپ کو اپنے ساتھ لے جانا، میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ نیوز اخبار کی سرخیاں بنے اور میران تمہیں کوئی پرابلم ہو اپنے پولیٹیکل کیرئیر میں ”
دشاب ملک سے بات کرتے کرتے اس نے آخر میں میران کی طرف دیکھا تھا۔
” دشاب ملک پلیز ۔۔۔ اپ کو جانا ہوگا میرے ساتھ ”
دشاب ملک نے اپنے دونوں بیٹوں کو ایک ایک نظر دیکھا تھا، میران لب بھینچے انہیں ہی دیکھ رہا تھا جبکہ ازمائر نے نظریں پھیری تھی، وہ گہری سانس بھر کے رہ گئے اور خاموشی سے جمشید کے ساتھ آگے بڑھ گئے جبکہ میران کی نظروں نے وہاں تک ان کا تعاقب کیا جہاں تک اس کی نظر جا سکتی تھی لیکن وقاص ملک کے وہاں پہنچنے پہ جمشید رک گیا تھا۔
” اسلام علیکم وقاص ملک ”
” وعلیکم السلام، کیا بات ہے ؟؟ انسپکٹر؟”
وقاص ملک اچھنبے سے اپنے بھائی کو دیکھتے پوچھنے لگے۔
” میرا باپ اپنی محبوبہ کو مارنے کے جرم میں جیل جا رہا ہے ”
ازمائر نے نفرت بھرے لہجے میں جواب دیا تھا۔
” ازمائر ”
وقاص ملک نے کڑی نظر سے اسے دیکھا تھا تو وہ کندھے اچکا کے میران کو دیکھنے لگا جو خاموش تھا مکمل۔
” انسپکٹر شاید آپ ہمیں جانتے نہیں ہے جو اس طرح سے میرے بھائی کو لے کے جا رہے ہیں ”
وقاص ملک کی بات پہ جمشید نے اپنی کنپٹی سہلائی تھی۔
” ہم انویسٹگیشن کے لئے، دشاب ملک کو لے کے جا رہے ہیں ، otherwise آپ کی فیملی ہمارے لئے قابل احترام ہے”
” یہ غلط ہے ویسے، ایک عزت دار شخص کو اپ ایک معمولی جرم کا الزام دے کے، اپنے ساتھ لے جائیں ”
وقاص ملک کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے۔
” وقاص پلیز،مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے، ان کو اپنا کام کرنے دو”
دشاب نے ان سے کہا تھا جبکہ وہ نفی میں سر ہلا گئے۔
” بلکل بھی نہیں، یہ غیر قابل تحمل بات ہے، میرے بھائی کو کوئی نہیں لے جا سکتا”
” سر آپ۔۔۔”
جمشید نے کچھ کہنا چاہا لیکن دشاب ملک نے اسے روک دیا اور پھر وقاص کو دیکھنے لگے۔
” میں آ جاؤں گا تمہیں پریشان مت ہو”
یہ کہہ کے، اس نے پھر سے ایک نظر اپنے دونوں بیٹوں پہ ڈالی تھی جو خاموشی سے انہیں ہی دیکھ رہے تھے اور وقاص ملک کی طرف،ہلکا سا مسکرا کے دیکھا تھا انہوں نے، جن کے چہرے پہ پریشانی تھی اپنے بھائی کے لئے اور پھر سر جھٹک کے باہر کی طرف بڑھ گئے تھے۔
گاڑی میں کب سے دشاب ملک بیٹھے ہوئے تھے، ساکت آنکھیں روڈ پہ تھی جبکہ وہ خود اپنی ہی سوچوں میں گم تھے۔ آنکھوں کے آگے سب دھندلا سا تھا اور دماغ مختلف سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ جوانی سے لے کے اب تک کی ساری زندگی، ان کی آنکھوں کے سامنے ایک فلم کی طرح چل رہی تھی۔
” کیوں؟؟ کیوں؟؟ یہی سب کیوں؟؟ اس قدر تنہا ہو کے رہ گیا ہوں، مکمل خالی ہاتھ ہو چکا ہوں، میرا کوئی نہیں ہے، نہ بیٹا، نہ بیوی، نہ بھائی نہ کوئی ہمدرد، اس قدر تنہا ہوں میں۔ نفرت کے قابل ہوں میں اس گھر کے فرد کے لئے، نفرت کرتے ہیں سب اور عارفین بھی نفرت کرتی ہے مجھ سے، اس قدر نفرت، عارفین کی نفرت نہیں سہہ سکتا میں، مجھے ۔۔۔ مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں ہے لیکن عارفین ، عارفین کی نفرت نہیں سہہ سکتی میں، کھبی بھی نہیں ”
وہ رونے لگے، زندگی میں ایک وقت ایسا بھی تو آتا ہے کہ سب ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، اپنے ہی کیے گناہوں کی سزا ایسے انداز میں ملتی ہے ہمیں کہ لمحہ بھر کے لئے تو ہم ساکت رہ جاتے ہیں کہ یہ تو ہم نے سوچا بھی نہیں تھا، یہ سب کیسے ہو گیا، ظالم بنتے وقت انسان کو کھبی یہ خیال تک چھو کے نہیں گزرتا کہ اگر کل کو میری پکڑ ہوگی تو کیا ہوگا ؟ کس کس کو کیا جواب دوں گا اور سب سے بڑھ کے اپنے رب کو کیا جواب دوں گا۔
جمشید کی گاڑی کا رخ پولیس اسٹیشن کی طرف تھا، جب اب سب منہ موڑ چکے تھے اور سب نے نفرت کا اظہار کر ہی دیا تھا ان سے تو بہترین عمل یہی تھا کہ اپنے گناہوں کو قبول کر لیں اور اپنی باقی ماندہ زندگی، جیل کی سلاخوں کے پیچھے، ایک کونے میں بیٹھ کے گزار دے ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” یہ غلط ہے میران، دشاب چچا بہت غلط کر چکے ہیں مانتی ہوں لیکن وہ اس فیملی کے بزرگ ہے، نہیں ہونا چاہئے تھا یہ سب ”
سماہر پریشان نظروں سے میران کو دیکھ رہی تھی جبکہ میران کی بےتاثر آنکھیں اس کی طرف اٹھی ہوئی تھی۔
” وہ ماریہ کا قاتل ہے ”
” تمہیں کیسے پتہ ؟؟ بنا ثبوت کے کیسے کہہ سکتے ہو ”
سماہر اس کے سامنے جا بیٹھی تھی۔
” میں نے خود دیکھا ہے سماہر، سی سی ٹی وی فوٹیج میں۔”
سماہر کی آنکھوں میں حیرت در آئی تھی جبکہ میران کچھ سوچنے لگا۔
” تم نے بتایا پولیس کو ؟؟”
سماہر کے سوال پہ اس نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
” میں نہیں بتا پایا، میں نے ساری پروف مٹا دیے تھے ، نہیں پتہ کہ جمشید کو کیسے پتہ چلا ”
سماہر نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے تھے اور ان پہ باری باری اپنے لب رکھے تھے۔
” مجھے برا لگ رہا ہے ان کے لئے میران ”
” مجھے بھی ”
وہ سماہر کو دیکھنے سے گریز کر رہا تھا جبکہ سماہر اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
” میران ۔۔۔ ”
میران اسے دیکھنے لگا۔
” سب ٹھیک ہو جائے گا، تم پریشان مت ہو پلیز ”
” میرا اس شخص سے کوئی رشتہ نہیں ہے سماہر، اس سے ہر رشتے کو میں قبول نہیں کرتا لیکن ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا”
میران آہستگی سے بوجھل آواز میں کہہ رہا تھا جبکہ سماہر نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھر تھا۔
” جانتی ہوں میں میران، لیکن مجھے یقین ہے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ”
میران نے جھک کے، اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے۔
” انشاءاللہ ”
اس کے موبائل پہ کال آئی تھی اور اس نے اچھنبے سے موبائل کی طرف دیکھا تھا جہاں کوئی انجکشن نمبر چمک رہا تھا۔
” ہیلو ۔ ”
اس نے موبائل کو کان سے لگاتے کہا تھا جبکہ دوسری طرف کوئی اجنبی آواز ابھری تھی
” سماہر کے ہزبینڈ میران ارتضی ملک ؟؟”
میران کی نظر بےساختہ سماہر پہ گئی تھی جبکہ سماہر نظریں جھکائے اس کے ہاتھ میں موجود اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔
” جی ؟”
” مجھے ضروری بات کرنی ہے ، مجھ سے ملنا ہوگا تمہیں آج؟”
” آپ کون ؟؟”
میران نے اچھنبے سے پوچھا تھا۔
” میرے اور تمہارے بیوی کے متعلق ہے”
اس نے تیزی سے کہا تھا ۔
” کیا بکواس ہے ؟”
میران نے لب بھینچ لیے تھے ۔
” میں تمہارے واٹس ایپ پہ لوکیشن سینڈ کر رہا ہوں، ملنے آ جانا ”
یہ کہہ کے اس نے کال بند کر دی جبکہ میران نے سوالیہ نظروں سے موبائل کو دیکھ کے سائیڈ پہ رکھا تھا۔ ۔
” کس کی کال تھی میران ؟”
سماہر اس سے پوچھنے لگی جبکہ وہ کندھے اچکا گیا۔
” نہیں پتہ، کوئی ملنا چاہ رہا ہے مجھ سے ”
” کون ؟؟”
سماہر پوچھنے لگی۔
” نہیں جانتا ”
اس نے نفی میں سر ہلایا تھا۔ سماہر نے ہنکارا بھرتے اسے دیکھا تھا۔
” پھر کسی دشمن کی چال نہ ہو، تمہارا ہر دشمن تمہیں نقصان پہنچانا چاہتا ہے ”
سماہر کے لہجے میں اب کے پریشانی کی جھلک تھی جبکہ میران نے اس کے لبوں پہ نرمی سے اپنے لب رکھے تھے۔
” تمہاری دعائیں کہاں مجھے کچھ ہونے دیتی ہے”
سماہر کی آنکھوں میں اب بھی پریشانی کی جھلک تھی۔
“پھر بھی میران، تم اکیلے نہیں جاؤ گیں وہاں ”
” اوکے ڈونٹ ووری، میں منان کاکا کے ساتھ جاؤں گا ”
میران اسے تسلی دیتا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا جبکہ سماہر نے اس کا ہاتھ تھام کے اسے روکا تھا۔
” گارڈز بھی جائیں گے تمہارے ساتھ میران، صرف منان کاکا نہیں ”
میران نے اثبات میں سر ہلاتے، اس کے گال پہ اپنے لب رکھے تھے۔
” جیسے آپ کا حکم میری جان ”
میران جانے لگا جب سماہر پھر سے اسے روک کے کھڑی ہوئی تھی، میران مڑ کے اس کی ناراض آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” ایسے جاؤ گیں؟؟”
میران اس کے قریب آیا تھا، اس کے گال اپنے ہاتھ کی پشت سے سہلائے تھے۔
” مطلب یہ ہے کہ مجھے تم نے جانے دینا ہی نہیں ہے آج ”
” ڈر لگ رہا ہے میران، بہت ڈر لگ رہا ہے”
میران ہلکا سا مسکرا دیا تھا۔
” میں کسی جنگ پہ تو نہیں جا رہا جان میران، واپس آ جاؤں گا جلدی سے ”
” پرامس ؟؟”
سماہر آنکھوں میں ڈھیر سارا خوف لیے اسے دیکھ رہی تھی۔ میران نے اس کی گردن، ہاتھ سے سہلائی تھی اور اس کے لبوں پہ جھک کے، اس نے ان لبوں پہ اپنی محبت کی مہر نرمی سے ثبت کی تھی، اور پھر گہرا سانس لیتا وہ پیچھے ہونے لگا تھا لیکن سماہر اسے روک گئی تھی اور اسے خود سے الگ نہ ہونے دیا، لبوں کے ملاپ کے اس عمل میں، وہ میران کا ساتھ دینے لگی اور ان لمحوں میں میران سب بھول کے، سماہر کی سانسوں میں اپنی سانسیں الجھاتا، اپنی سانسیں مہکانے لگا جبکہ سماہر کو اپنا خوف اس کی قربت میں زائل ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ تبھی وہ سیکنڈ کے لئے بھی میران کو خود سے دور نہ کر پا رہی تھی، اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ میران کو روکے رہے، اسے خود سے دور نہ جانے دیں، تبھی میران اس کی قربت میں بہکتا، اس کی گردن پہ اپنے سلگتے لب رکھتا، اسے اپنی محبت سے مہکانے لگا۔
” جانے کیوں نہیں دے رہی ہو جان میران ؟”
میران کے سوال پہ، اس کے دونوں ہاتھ میران کے کالر پہ سختی سے جم گئے۔
” کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ تم مجھ سے دور ہو”
” اتنی خوفزدہ کیوں ہو سماہر ؟؟”
وہ پوچھ رہا تھا جبکہ سماہر کی سرخی مائل ہوتی آنکھوں میں خوف پنہاں تھا۔
” پتہ نہیں میران ”
کال پھر سے آئی تھی وہ اٹھانے کا سوچ رہا تھا جب سماہر نے اسے روک دیا۔
” مت جاؤ میران، پتہ نہیں کون ہے ؟ کیا کہنا ہے اسے ؟”
میران رکا تھا،ہلکا سا مسکرا دیا تھا ۔
” جلدی آ جاؤں گا تم اپنی بلیک کلر کی ساڑھی پہن کے میران انتظار کرنا، تمہارے لئے سرپرائز ہے میرے پاس ”
سماہر کے دل میں خوف پنپ رہا تھا اور میران نے اس کے دونوں ہاتھ نرمی سے چھوڑ دیے تھے اور پھر وہ آگے بڑھ کے، کمرے سے باہر نکل چکا تھا جبکہ سماہر اپنے کانپتے دل لو تھپکی دیتی بند دروازے کو دیکھتی رہی، ایسے لگ رہا تھا اسے کہ جیسے کچھ ہونے والا ہے،عجیب گھبراہٹ سی تھی جو اس پہ حاوی ہو رہی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
مائزہ لب بھینچے پورے کمرے کو دیکھ کے، اب ازمائر کو دیکھنے لگی جو کمرے کا دروازہ بند کر کے، اس کی طرف مڑا تھا۔
” بولو کیا کہنا تھا تم نے ؟ جو یہاں لے آئے ہو مجھے ”
مائزہ نے حتی الامکان اپنے لہجے کو سپاٹ ہی رکھا۔
” بات کرنی تھی تم سے، اس لئے ”
ازمائر لاپرواہ انداز میں کہتا اس کی طرف بڑھنے لگا جبکہ مائزہ خود کو تسلی دیتی، یونہی کھڑی رہی۔
” یہاں کیوں لائے ہو تم مجھے ”
مائزہ سپاٹ آنکھوں سے، اسے دیکھتی تیز لہجے میں بولی تھی جبکہ ازمائر بےساختہ اس کے قریب ہو کے، اس کے سرخ ہوتے چہرے پہ جھکا تھا، بوجھل آنکھوں میں بےپناہ محبت لیے وہ مائزہ کو دیکھ رہا تھا۔
” اس کمرے سے ہر بری یاد کو مٹا کے، یہاں تمہارے ساتھ نئی یادیں بنانا چاہتا ہوں، ”
مبہم سا لمس اس کی گردن پہ چھوڑتا وہ اب مائزہ کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جبکہ اس ایک لمس سے مائزہ کی دھڑکنیں پل بھر کے لئے تھم سی گئی تھی لیکن اپنے حواس سنبھالتی وہ ازمائر کو دھکا دے کے پیچھے ہوئی تھی۔
” اس کمرے سے کسی بھی بری یاد کو تم مٹا نہیں سکتے ازمائر، اس لئے ایسی کسی کوشش کا سوچو بھی مت ”
بیڈ کی طرف نظر گئی تو گھٹن کا احساس بڑھنے لگا تبھی اس نے قدم آگے بڑھائے تھے۔
” مجھے یہاں سے جانا ہے، یہاں نہیں رہ سکتی میں ”
” مائزہ پلیز ”
ازمائر نے اسے بازو سے تھام کے روکا تھا۔ مائزہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” ہوس نہیں ہے مائزہ، میں بس چاہتا ہوں کہ ہن دونوں سے ریلیٹیڈ خوبصورت یادیں بناؤں یہاں، تا کہ ہر بری یاد کو سایہ مٹ جائے یہاں سے ”
مائزہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی اور پھر سر جھٹک گئی۔
” ایسی کوئی خوبصورت یاد نہیں ٹھہر سکتی ازمائر، ہم صرف اچھے دوست رہ سکتے ہیں لیکن ازمائر میں تم سے کوئی رشتہ نہیں بنا سکتی ”
” کیوں مائزہ ؟؟ جب تم مجھے معاف کر چکی ہو اور ہم۔دوست بن چکے ہیں تو ایسا کیوں؟؟”
ازمائر نے لب بھینچ لیے تھے مائزہ کیوں ایسا کر رہی تھی اس کی سمجھ سے باہر تھا۔
” کیونکہ ازمائر، ”
وہ لب کاٹ گئی تھی۔
” بولو مائزہ پلیز ”
ازمائر کے لہجے میں بےچینی تھی۔
” میں مانتی ہوں کہ ہم دوستی کر چکے ہیں لیکن ازمائر، ”
مائزہ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیسے بات کریں۔
” کہ میں پاکدامن نہیں ہوں؟؟”
ازمائر نے جیسے اس کی مشکل آسان کر دی تھی، مائزہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی جبکہ ازمائر کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ ابھری تھی۔
” یہی بات ہے ناں مائزہ ، میں تمہاری آنکھیں پڑھ چکا تھا بہت پہلے ہی، کہ تم مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہو، تم نہیں چاہتی مجھے، کوئی مسئلہ نہیں ہے، میں اپنے ہر گناہ کے لئے اپنے رب کے آگے سجدہ ریز ہو کے بخشش مانگ چکا ہوں، لیکن شاید تمہارے لئے مجھے معاف کر دینا مشکل امر ہے، میں تمہیں آج بھی فورس نہیں کر رہا مائزہ، کسی بھی بات کے لئے، تم نہیں چاہتی تو تمہاری چاہ میرے لئے زیادہ امپورٹنٹ ہے، مجھ سے ڈائیورس چاہتی ہوگی تم، لیکن تم کہہ نہیں پا رہی، تو میں بتا رہا ہوں کہ تمہیں پوری اجازت ہے ، کسی بھی فیصلے کے لئے تم آزاد ہو مائزہ۔ ”
ازمائر اس کے قدموں میں بیٹھ گیا تھا جبکہ مائزہ بوکھلا کے پیچھے ہوئی تھی۔
” ازمائر کیا کر رہے ہو تم ”
” کرنے دو مجھے، معافی مانگنے دو مجھے تم سے، میں جانتا ہوں کہ وہ کئی راتیں جب میں نشے میں دھت گھر آتا تھا تو جس طرح سے تم مجھے سنبھال کے روم میں لے کے جاتی اور جس طرح سے تم میری کئیر کرتی، مائزہ ان سب کے لئے تھینک یو، جو غلط حرکت کی ہے میں نے تم سے، جس طرح سے تمہارے غرور کو توڑا ہے میں نے، ان سب کے لئے مجھے معاف کر دو پلیز ”
ازمائر کی اواز میں شرمندگی تھی، پچھتاوا تھا،
” اٹھو ازمائر پلیز ”
مائزہ کی بھرائی آواز ابھری تھی اور ازمائر کھڑا ہوا تھا اور مائزہ کا ہاتھ تھامے اسے صوفے پہ بٹھایا تھا اور خود بھی اس کے قریب بیٹھ کے، اس کے آنسو ہاتھ کی پشت سے صاف کیے تھے۔
” ایم سوری مائزہ ، ایم سو سوری، تمہیں جتنی دفعہ کہو گی، میں اتنی دفعہ معافی مانگ لوں گا لیکن پلیز مائزہ، اتنی سزا کافی ہے، میں وعدہ کرتا ہوں تم سے، خود سے کہ تمہیں کھبی ہرٹ نہیں ہونے دوں گا، یار میں بہک گیا تھا مائزہ، کیا تم نہیں جانتی مجھے ؟؟ کیا میں نیا ہوں تمہارے لئے؟؟ بچپن سے تو جانتی ہو مجھے ، تمہیں محبت اس لئے ہوئی مجھ سے، کیونکہ مجھ میں اچھائی نظر آئی ہوگی تمہیں، میں برا نہیں ہوں مائزہ، میں بس بہک گیا تھا اور بہت بڑی طرح بہکا تھا،کیونکہ میں ہرٹ تھا، مانتا ہوں کہ مجھے تم سے وہ سب نہیں کہنا چاہئے تھا، لیکن مائزہ معاف کر دو، پلیز ”
” بس بھی کرو ازمائر ”
مائزہ نے اس کے لبوں پہ اپنے ہاتھ رکھ کے، اسے مزید بولنے سے روک دیا تھا جبکہ ازمائر اسے خاموشی سے دیکھنے لگا اب۔
” کتنا بولو گے تم، میں نے محبت کی ہے تم سے اور تم جتنا بھی برا بن جاؤ،میری محبت تم سے کم نہیں ہو سکتی، میں ہرٹ ہوئی تھی ازمائر، بہت زیادہ ہرٹ، ہوتا ہے نا، کہ جس سے محبت ہو، اس سے محبت کی امید رکھے بنا بھی، ہم ہرٹ ہو جاتے ہیں، اگر ہم اس سے محبت نہ بھی مانگے تو بھی ہم ہرٹ ہو جاتے ہیں کیونکہ دل کے کسی کونے میں یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ ہم جس سے محبت کرے، وہ بھی ہم سے محبت کرے، ہے نا ازمائر؟ بس مجھے بھی تو یہ خواہش”
ازمائر اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر کے، اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” تمہاری ہر خواہش کا احترام کرتا ہوں میں مائزہ، میں دعوی نہیں کرتا کہ مجھے تم سے ہمیشہ سے محبت تھی لیکن اتنا سمجھ چکا ہوں کہ دوستی سے بڑھ کے کوئی محبت نہیں ہوتی، اور ہماری دوستی ہی ہماری محبت ہے، اپنے آج کو ہم محبت سے بھر دے گیں، اس قدر محبت کرے گیں ایکدوسرے سے کہ ماضی کی تلخ یادیں دھندلی ہو کے، ختم ہو جائے، مجھے اگر محبت نہیں تھی لیکن تمہاری محبت سے مجھے محبت ہونے لگی ہے اور میں جانتا ہوں وقت کے ساتھ ساتھ، یہ محبت مزید گہری ہوگی، ساتھ دو گی میرا مائزہ ؟؟”
مائزہ بھیگی آنکھوں سمیت، سر اثبات میں ہلانے لگی جبکہ ازمائر نے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے۔
” مجھے پھر سے بہترین مرد بنانے کے لئے شکریہ مائزہ ”
مائزہ کے چہرے پہ ہلکی مسکراہٹ پھیلی تھی اور ازمائر نے جھک کے اس کے لب سرگوشی کی تھی۔
” مجھے اپنی محبت کے قابل سمجھنے کے لئے شکریہ مائزہ ”
اور مائزہ اسے معاف کر چکی تھی، اسے معاف کرنا ہی تھا، غلطیاں انسان سے ہو، وہ بہک جائے اور سچے دل سے توبہ کر لیں تو اللہ کی پاک ذات بھی اس انسان کو معاف کر دیتی ہے تو ہم انسان کیوں نہیں؟؟ ازمائر بڑا نہیں تھا، وقت اور حالات نے اسے برا بنا دیا تھا لیکن وہ سنبھل بھی تو گیا تھا،اس کے لئے اتنی سزا کافی تھی اور مائزہ اسے معاف کر چکی تھی بہت پہلے ہی، وہ کوئی اجنبی نہی تھا مائزہ کے لئے، ازمائر وہ شخص تھا جس سے اس نے محبت کی تھی جب شعور کی منزل پہ اس نے پہلا قدم رکھا تھا اور ازمائر کو محسوس ہو چکا تھا کہ ہمیشہ جیت اپنی محبت کو پا لینے میں نہیں ہوتی، کھبی کھبی جیت اس انسان کو پا لینے میں بھی ہوتی ہے جو آپ سے بےانتہا محبت کرتا ہو اور ازمائر آج بھی فاتح ٹھہرا تھا، مائزہ کی بےلوث محبت جیت کے ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” میرے اور سماہر کے تعلقات بہت آگے تک جا چکے ہوتے اگر تم ہمارے بیچ نہ آتے ”
میران نے اپنے مقابل کھڑے اس شخص کو لب بھینچے، سرد نظروں سے دیکھا تھا جو اس کی پاکدامن بیوی کے بارے میں غلط الفاظ کا استعمال کر رہا تھا،
” اے ۔۔۔ ”
منان اونچی آواز میں اسے تنبیہ کرتا آگے بڑھا تھا لیکن میران نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا تھا جبکہ سرد آنکھیں اس شخص پہ گاڑی ہوئی تھی جس کا نام دانیال تھا۔
” میں سچ کہہ رہا ہوں، وہ میری یونیورسٹی فیلو تھی اور ہمارے بیچ بہت گہرے۔۔۔۔ ”
میران دو قدم آگے بڑھا تھا اس کی طرف، تو اسے خاموش ہو جانا پڑا۔
” کتے کو دیکھا ہے کھبی ؟؟ وہی جو سڑک پہ گزرنے والے ہر انسان کو دیکھ کے بھونکتا ہے، میری بیوی کا راستہ کاٹنے والے وہی کتے ہو تم، میران ارتضی ملک کی بیوی کی زندگی میں، اس بھونکنے والے کتے سے زیادہ اوقات نہیں ہے تمہاری، تو اس لئے اپنی اوقات سے اونچی اڑان مت اڑو۔۔۔ مجھے اپنی بیوی کی پاکدامنی پہ نہ کوئی سوال اٹھانا ہے اور نہ کوئی جواب سننا ہے، وہ میران ارتضی ملک کی بیوی ہے، اور اپنی بیوی کی پاکدامنی پہ اٹھنے والی ہر انگلی کو کاٹ کے رکھ دیتا ہوں میں ۔۔۔ ”
” میران سائیں۔۔۔۔ ”
منان چلایا تھا اور ساتھ میران کو دھکا دے کے، نیچے گراتا، خود بھی اس پہ گر کے، ڈھال بن گیا تھا اس کے لئے جبکہ وہاں موجود باقی گارڈز الرٹ ہو چکے تھے کیونکہ یزدان ہمدانی اور اس کے بھائی مہتاب خان کو وہ دیکھ چکا تھا جو میران کا نشانہ لے رہا تھا، گولیوں کا شور برپا ہو چکا تھا ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
Forced Marriage Novels
کیسی لگی ایپسوڈ؟؟ آج کی ؟؟ ضرور بتائیے گا، شئیر کیجئیے، لائکس دیجئیے اور کمنٹس میں اپنا ریسپانس دیں، بہترین ریسپانس ❤🥰
اور یاد رہے twists آنے باقی ہے ابھی 😉😉 تو ایکٹیو رہیں ہمیشہ کی طرح اور بہت سارا ریسپانس دیں ایپسوڈ پہ😍
میں بہت زیادہ بزی تھی اس لئے ایپسوڈ لیٹ ہوئی 😊اس بار، یہ سیکنڈ لاسٹ ایپسوڈ اور نیکسٹ ایپسوڈ انشا اللہ لاسٹ ہوگی 😍تو میرے پیارے ریڈرز میرا ساتھ دیں، ❤پوسٹ کو شئیر کریں، لائک کریں اور کمنٹس میں اپنا بہترین ریسپانس دیں، یار میرے پیج کی reach مت کم ہونے دیں میرے پیاروں 🥰👀🥺 ایپسود پہ تبصرہ ضرور کریں یارا 🙄 کہ کیسی لگی آج کی یہ قسط ؟؟
بہت سارا پیار 💚💙💛🧡💗
بس میرے پیج کی reach کم نہ ہونے دیں 👀
خوش رہیں 🖤
بہت سارا پیار آپ سب کے لئے 🥰❤
خوش رہیں 🖤
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕