Ada e Ishq hn – Episode 21 22 & 23 Season 02
#Novel_By_Malayeka_Rafi
#ادائے_عشق_ہوں
#ایپسوڈ_21
#Season_2
اس نے پین سے ایک لمبی لائن کھینچ دی تھی اس پیپر پہ اور زور سے پین کو دیوار پہ مارتی، وہ پیپر بھی پھاڑ چکی تھی اور اب گہرے سانس لیتی وہ بھیگی آنکھوں سے، فرش پہ پڑے ان کاغذ کے ٹکڑوں کو دیکھ رہی تھی۔
” میں نہیں کر سکتی، میں نہیں سہہ سکتی، میں محبت کرتی ہوں ازمائر سے، کیسے چھوڑ دوں اسے؟ کیسے ؟؟”
اس کی تیز آواز سن کے، سماہر تیزی سے اندر آئی تھی، وہ یہاں مائزہ سے ملنے آئی تھی اور اس کی یہ حالت دیکھ کے وہ گھبرا گئی تھی، تبھی بنا کچھ کہے اسے کے قریب آئی تھی اور اسے بانہوں میں بھر لیا تھا جبکہ بہن کا سہارا ملتے ہی، مائزہ کے رونے میں شدت آ گئی تھی۔
” مما سے کہو، مجھے نہیں چاہئے ڈائیورس، میں ازمائر سے محبت کرتی ہوں بہت زیادہ، اپنی سانسیں ختم کر دوں گی لیکن ازمائر، ازمائر سے محبت کرتی ہوں میں، پلیز سماہر کہو مما سے، مجھے یہ سب کرنے پہ مجبور نہ کریں، پلیز سماہر ”
سماہر اسے خود سے لگائے، اس کی پیٹھ سہلا رہی تھی جبکہ مائزہ ہچکیاں لیتی رو رہی تھی، بہت مہینوں بعد پھر سے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع مل گیا تھا اسے،
” ہشششششش میری جان، بس چپ، تمہاری طبیعت خراب ہو جائے گی۔ ”
مائزہ اس سے الگ ہو کے، بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
” ازمائر کو بھی ہونی چاہئے نا مجھ سے محبت، دیکھو تو میں کتنی محبت کرتی ہوں اس سے، اسے بھی تو ہونی چاہئے ”
سماہر کی آنکھیں نم ہوئی تھی، یوں مائزہ کو دیکھ کے۔
” اچھا چلو محبت بھی نہیں ہوتی اسے مجھ سے، مجھے تو ہے محبت اس سے، میں کیسے اس سے الگ ہو جاؤں؟ مانا کہ وہ بہت غلط کر چکا میرے ساتھ، لیکن یار میں نہیں الگ ہو سکتی اس سے، اسے سمجھ جانی چاہیے نا کہ شعور کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھتے ہی، جو دل کو بھا جائے، جو دل میں بس جائے، وہ عمر بھر کا روگ بن جاتی ہے یار، اسے تو سمجھنی چاہئے نا، ”
سماہر نے اس کے آنسو نرمی سے صاف کیے تھے، اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں بھر کے، وہ نرم نگاہوں سے مائزہ کو دیکھ رہی تھی۔
” وہ سمجھتا ہے مائزہ، تمہیں، تمہاری محبت کو اور وہ مکمل سمجھ بھی جائے گا، دیکھو تو وہ بدل رہا ہے، تمہارے لیے بدل رہا ہے وہ مائزہ، تم دیکھنے کی کوشش تو کرو، بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے مائزہ کہ ہم جو اپنے مقابل سے محسوس کرنا چاہتے ہیں، ویسا ہمیں کچھ مل نہیں پاتا لیکن مائزہ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہم مقابل کے لئے اہمیت نہیں رکھتے، اگر ہم اہم نہ ہو تو مقابل کیوں ہمیں خود سے باندھ کے رکھ رہا ہے یا کیوں اپنی زندگی میں شامل کیے ہوئے ہیں؟ وہ کیا ہے ناں کہ ہر انسان مختلف ہوتا ہے، بلکل ویسے ہی اپنے فیلنگز کو بتانے کا انداز بھی ڈفرنٹ ہوتا ہے اور پتہ کیا ہر انسان کو ایک بار موقع ضرور ملنا چاہئے، اگر وہ بدل رہا ہے یا بدلنا چاہتا ہے تو اس کے لئے راہ آسان بنانی چاہئے ہمیں، ایسے رونے سے، یا بند کمرے میں بیٹھ کے over thinking کرنے سے کچھ نہیں ملتا مائزہ، باہر آؤ، سورج کی روشنی کو محسوس کرو، ہلکی چلتی ہواؤں کو ان ہیل کرو، اپنے ارد گرد کی خوبصورتی کو اپنی ان خوبصورت آنکھوں سے دیکھو، خود کو قید مت کرو مائزہ، خود کو آزاد کرو اور پھرتم وہ دیکھ پاؤ گی جو تم دیکھ نہیں پا رہی، ”
مائزہ اسے دیکھ رہی تھی ۔
” کیا تھا میران کو بھی ایسے ہی باتیں کرتی ہو ؟؟ تبھی تو تمہارے آگے پیچھے ہوتا ہے ”
مائزہ کی شرارت پہ سماہر ہنس پڑی تھی، آنکھوں میں اچانک سے محبت کا جہاں بس گیا تھا۔
” میران بہت خوبصورت انسان ہے مائزہ، بےحد خوبصورت، اور میں خوش قسمت ہوں کہ میران میرا نصیب بنا”
مائزہ اسے دیکھے گئی اور پھر آگے بڑھ کے سماہر کو گلے لگایا تھا۔
” میری غلطیوں کو معاف کردو سماہر،میں بہت بری بن گئی تھی ”
” وہ تو تم ہو ”
سماہر نے ہنستے ہوئے کہا تھا جبکہ مائزہ اسے گھورنے لگی۔
” اچھا رونا بند کرو، چلو دونوں بہنیں باہر جا کے بیٹھتے ہیں اور زندگی کو جیتے ہیں ”
سماہر اٹھ کے اسے بھی اٹھنے میں مدد دینے لگی،مائزہ اب خود کو ہلکا محسوس کر رہی تھی سماہر کی باتوں سے۔ بہن کا ہونا بھی اللہ تعالٰی کی نعمت ہی تو ہے ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” سائیں آپ نے بلایا ”
منان نے کمرے میں قدم رکھتے پوچھا تھا جبکہ میران اپنے ایزی چئیر پہ بیٹھا اس کا منتظر ہی تھا۔
” آج کیا ہوا تھا ؟؟”
منان چونکا تھا لیکن پھر بھی سوال کرنا ضروری سمجھا تھا اس نے ۔
” کیا مطلب سائیں؟۔”
میران اسے خاموش نگاہوں سے دیکھنے لگا تو وہ نظریں چرا گیا ۔
” وہ سائیں۔۔۔ سائیں بی بی نے منع کیا ہے کہ۔۔۔ ”
کہتے کہتے منان پھر سے میران کو دیکھنے لگا جو بےحد سنجیدگی سے، اسے ہی دیکھنے میں مصروف تھا اور وہ ملازم ہی کیا جو اپنے مالک کا خاص آدمی ہو اور اپنے مالک کی آنکھوں کا مطلب نہ سمجھ سکے، منان بھی سمجھ گیا تھا۔
” سائیں بی بی جب شاپنگ کر کے بوتیک سے باہر آئی تو ماریہ نے وہاں سب کے بیچ، سائیں بی بی کے چہرے پی پانی کی بوتل چھڑکی تھی ”
میران نے سختی سے جبڑے بھینچ لیے تھے ۔
” اپ کہاں تھے؟”
” سائیں میں اور رضوان گاڑی کے پاس تھے، ہم بروقت پہنچے تھے وہاں،لیکن ۔۔۔ ”
اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی جب میران اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا میران سائیں کس قدر محبت کرتا ہے اپنی سماہر سے ۔
” دس منٹ کے اندر، وہ عورت فارم ہاؤس میں موجود ہو ”
یہ کہہ کے وہ لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے باہر نکلا تھا جبکہ منان احترام سے سر جھکائے اس کے پیچھے پیچھے ہی تھا کہ اسے جلد سے جلد حکم کی تعمیل کرنی تھی۔
اور دس منٹ کے اندر ہی ماریہ وہاں موجود تھی، جو مسکراتی آنکھوں سے میران کو دیکھ رہی تھی۔
” میری خوش نصیبی ہے یہ کہ میران ارتضی ملک نے مجھے اپنے فارم ہاؤس پہ بلایا ہے ”
میران صوفے پہ بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
” دل چاہ رہا ہے کہ ناچوں اور اتنا ناچوں کہ تم مجھے اپنی بانہوں میں بھر لو ”
ماریہ سے جیسے اس کی خوشی سنبھالی ہی نہیں جا رہی تھی۔ تبھی قدم رکھتی وہ میران کی طرف بڑھ رہی تھی جبکہ میران اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا، اپنے دونوں ہاتھ پیچھے باندھ چکا تھا۔
” یہ کتنی حسین رات ہوگی میری، تمہارے ساتھ اس فارم ہاؤس پہ، میں تمہاری اس رات کا لمحہ لمحہ یادگار بنا دوں گی میران ارتضی ملک، تمہاری طلب مجھے بےباک کر چکی ہے اور تم جیسے سیاستدان کو میری بےباکی ضرور پسند آئے گی میران، ”
وہ میران کے قریب آئی تھی اور اس سے پہلے کہ وہ میران کو چھوتی، میران نے اسے زور کا ایک تھپڑ مارا تھا جبکہ وہ حیران آنکھوں سے میران کو دیکھے گئی جو سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” تمہاری بےباکیاں میرے کام کی نہیں ہے ماریہ، ”
ساتھ ہی اس کی گردن دبوچی تھی۔
” سماہر میری بیوی ہے، سماہر میران ملک، ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کے ساتھ وہ گھٹیا حرکت کرنے کی ؟ ”
وہ دھاڑا تھا۔
” جرأت کیسے ہوئی کہ میری بیوی کے قریب بھی جاؤ اور وہ گھٹیا حرکت کرو تم ”
وہ چیخا تھا، ماریہ کی گردن پہ دباؤ بڑھا تھا اس کی گرفت کا، تو اس کی آنکھیں باہر آنے کو ہوئی تھی۔
” کتوں کے آگے ڈال دیتا ہوں میں اسے، جو میری بیوی کی طرف قدم بھی بڑھائے غلط نیت سے”
سانس لینے کی کوشش میں وہ بےحال ہو رہی تھی، ایسے لگ رہا تھا جیسے ابھی اس کے گردن کی ہڈیاں چٹخ جائے گی، میران نے اسے دھکا دیتے چھوڑ دیا تھا۔ وہ پیچھے لڑکھڑا کے کھانسنے لگی تھی جبکہ میران غضبناک نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” اپنا گندا وجود اٹھاؤ اور دفع ہو جاؤ یہاں سے، ورنہ پولیٹیکس کو تو تم مجھ سے بھی بہتر جانتی ہو، کسی ناپسندیدہ شخصیت کو کیسے اور کہاں غائب کرنا ہے کہ اس کی ایک بوٹی بھی نہ ملے کسی کو، یہ ہم سیاستدانوں کے لئے بہت آسان ہے ”
ماریہ اسے دیکھ رہی تھی اور پھر ہنسنے لگی تھی۔
” عشق کرتی ہوں میں میران ارتضی ملک سے،دیوانی ہوں میں میران ارتضی ملک کی ”
میران نے لب بھینچ لیے تھے۔
” ختم کر دوں گی سماہر کو، نیست و نابود کر دوں گی اسے، جلا دوں گی اس کا چہرہ ”
” شٹ اپ ”
وہ دھاڑ کے قریب آیا تھا ماریہ کے،
” میران۔۔۔ ”
دشاب ملک کی اواز پہ اس کے قدم رکے تھے اور لب بھینچے اس نے اپنے باپ کو دیکھا تھا۔ آنکھوں میں سرخ دوڑیں تھی۔
” آئیے آئیے مسٹر دشاب ملک، آپ کی کمی تھی بس اس پورے ڈرامے میں ”
میران نے طنزیہ انداز میں انہیں مخاطب کیا تھا جبکہ دشاب ملک قریب آئے تھے۔
” کیوں اس کے گندے خون سے، اپنے ہاتھ رنگنا چاہتے ہو تم میران ”
میران کو اچانک ان پہ ہنسی آئی تھی اور وہ زور زور سے ہنسنے لگا جبکہ دشاب لب بھینچے اسے دیکھ رہے تھے۔
” یہ سنہرے اقوال پڑھنا کب سے اسٹارٹ کیا ہے آپ نے دشاب ملک ”
” میران، ماضی کی غلطیوں کو بھول کے، اپنے باپ کع معاف نہیں کر سکتے ؟؟”
دشاب کو دکھ ہوا تھا جبکہ میران رک کے انہیں دیکھنے لگا کچھ دیر ۔
” کر سکتا ہوں، لیکن کروں گا نہیں ”
دشاب،ماریہ کو دیکھنے لگا۔
” اپنی مہارانی کو اپنے اقوال زریں سنائیے، میں چلتا ہوں ”
میران دونوں پہ نفرت بھری نظر ڈال کے، وہاں سے جانے لگا۔
” میران ،میران ”
دشاب نے اسے آواز دی تھی لیکن وہ ان سنی کرتا وہاں سے جا چکا تھا جب وہ ماریہ کو دیکھنے لگا جو مسکراتے ہوئے آنکھ ونک کر گئی جبکہ دشاب نے لب بھینچ لیے تھے۔
” بیٹا نہ سہی، باپ سہی ”
وہ قریب ہوئی تھی جب دشاب ملک نے اسے دھکا دے کے پیچھے کیا تھا۔
” دور رہو تم ”
وہ نیچے گری تھی اور لب بھینچے دشاب ملک کو دیکھنے لگی جبکہ انہوں نے باہر جا کے منان کو آواز دی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
رات کے گیارہ بج رہے تھے، وہ بےچین سی لان میں ٹہل رہی تھی، اسکی سوچوں کا مرکز عاھل تھا،
‘ وہ جا چکا ہوگا اب ‘
اس نے اداس نظروں سے اوپر اسمان کی طرف دیکھا تھا جہاں اس نے ایروپلین کو گزرتے دیکھا تھا اور اس کے لبوں پہ اداس مسکراہٹ آ ٹھہری تھی۔
‘ جب آئے ہی واپس جانے کے لئے تھے تو ۔۔۔ تو آئے ہی کیوں؟’
تلخی سے سوچتی وہ سامنے گیٹ کو دیکھنے لگی، جہاں اسے کوئی سایہ سا نظر آیا تھا، وہ حیرت سے دیکھنے کی کوشش کرنے لگی اور اس کے لب نیم وا ہوئے تھے حیرانی سے۔ وہ شخص عاھل خان تھا جو قدم قدم اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس نے حیرت سے اوپر دیکھا تھا اور پھر اسے دیکھنے لگی، جیسے کہنا چاہ رہی ہو جہاز تو گیا۔ لیکن وہ بنا کچھ کہے اس کے سامنے آ رکا تھا اور پریشے کی حیران آنکھوں میں مسکرا کے دیکھنے لگا۔
” میں شادی کرنا چاہتا ہوں تم سے پریشے”
پریشے اب بھی حیران نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی، جس کی آنکھوں میں امید کے جلتے بجھتے دیے تھے۔
” آ۔۔۔۔ آپ گئے نہیں؟؟”
جب کچھ نہ سوجھا تو بےوقوفوں کی طرح یہ سوال پوچھ بیٹھی جبکہ وہ ادھر ادھر دیکھتا کچھ سوچنے لگا۔
” میرے وہاں جانے کی وجہ یہاں رہ گئی تھی، سوچا اس وجہ کو بھی ساتھ ہی لیتا چلوں ”
عاھل زیر لب مسکراتا اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا۔ اپنے کوٹ کے پاکٹ سے، اس نے سرخ مخملی ڈبیہ باہر نکالی تھی اور کھول کے اسے دیکھنے لگا
” اردو میں سننی ہے یا پشتو یا انگلش؟؟”
وہ بےحد پراعتماد انداز میں بات کر رہا تھا جبکہ پریشے دھڑکتے دل کے ساتھ ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
” کوئی دیکھ بھی لیں تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں سب سے مانگ لوں گا تمہیں، ابھی میری طرف دیکھو پریشے ”
پریشے کی دھڑکنیں منتشر کر گیا تھا اپنا نام اس کی زبان سے سن کے۔
” مجھ سے شادی کریں گی پریشے خان ؟”
پریشے بنا کچھ کہے اسے دیکھ رہی تھی۔
” انکار مت کر دینا، دل ٹوٹ جائے گا میرا”
عاھل نے مزید کہا تھا جبکہ پریشے کے لبوں پہ ہلکی مسکراہٹ بکھری تھی۔
” بنا کچھ پوچھے اگر پھر سے غائب ہو گئے تو ؟؟ ”
” ایک چانس تو میرا حق بنتا ہی ہے ”
عاھل نے جواب دیا تھا۔
” میڈیکل کا انٹری ٹیسٹ تو نہیں ہے یہ ”
پریشے نے اسے ہلکی سی گھوری دی تھی جبکہ وہ ہنسنے لگا۔
” ڈاکٹرنی صاحبہ سے شادی کرنے جا رہا ہوں تو یہ انٹری ٹیسٹ چلتا ہی ہے اچھا بتاؤ ناں، وادا اوکہ مہ سرا ( مجھ سے شادی کر لو )”
پریشے کو اس کے انداز پہ ہنسی آئی تھی، تبھی مسکراتے لبوں کے ساتھ اس نے کندھے اچکائے تھے۔
” جو میرے آغا جان فیصلہ کریں ”
عاھل جھنجھلا کے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
” ایٹ لیسٹ تم تو کچھ بولو، تمہارے اغا جان خی رضامندی بھی لے لوں گا”
” اور اگر انکار ہوا ان کی طرف سے تو ؟؟”
پریشے کی سوالیہ نظریں اس پر تھی ۔
” تو میں اپنی رنگ واپس لے لوں گا ”
عاھل نے تیزی سے جواب دیا تھا جبکہ پریشے کی آنکھوں میں حیرانی اتر آئی تھی۔
” کیا مطلب ؟ اتنی جلدی ”
” اچھا ایک دن چھوڑ کے لے لوں گا رنگ ”
عاھل نے آنکھیں ونک کرتے کہا تھا جبکہ پریشے اسے گھورتی، آگے بڑھ گئی تھی۔
” کہاں جا رہی ہو ؟؟”
عاھل اس کے ساتھ ہی آگے بڑھا تھا۔
” سونے جا رہی ہوں ”
” چلو ٹھیک ہے میں بھی یونہی چلتے چلتے تمہارے آغا جان سے بات کر لیتا ہوں اور ساتھ ہی وہیں رنگ بھی پہنا دیتا ہوں ان کے سامنے ”
عاھل کے اطمینان بھرے انداز پہ وہ ٹھٹھکی تھی اور اسے بازو سے تھام کے پیچھے کھینچا تھا۔
” کیا کرنے جا رہے ہو تم ”
عاھل نے نثار ہوتی نظروں سے، اس کے اس انداز کو دیکھا تھا۔
” ہائے، آپ کا یوں کھینچنا تو میری جان لے گیا ”
پریشے نے تیزی سے اس کا بازو چھوڑ دیا تھا۔
” بہت برے ہو تم ”
وہ کہتی تیزی سے آگے بڑھی تھی جبکہ وہ پیچھے کھڑا مسکرانے لگا۔
” کل آؤں گا میں، تمہارے آغا جان سے ملنے ۔۔۔ انتظار کرنا میرا ”
پریشے دھڑکتے دل کے ساتھ رکی تھی، ایک نظر اسے دیکھا تھا اور پھر تیزی سے رخ موڑ کے اندر میں جا چکی تھی جبکہ عاھل خان وہیں کھڑا کچھ دیر زیر لب مسکراتا رہا اور پھر سر جھٹک کے وہ رخ موڑ کے جانے لگا، اب اسے کل کا انتظار تھا کہ کل صبح ہو اور وہ آ کے اپنے چچا جان سے بات کر کے، پریشے کو اپنے لئے مانگ لیں۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
لان میں موجود سفید رنگ کے ٹیبل پہ اس نے خوبصورت پھولوں کا بوکے دیکھا تو آنکھوں میں حیرانی در آئی تھی، ادھر ادھر نظریں دوڑاتی وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس ٹیبل تک آئی تھی اور پھولوں کو دیکھنے لگی۔
” ضرور میران لائے ہونگے سماہر کے لئے، صبح صبح اسے سرپرائز کرنے ”
وہ خود ہمکلامی کرتی مسکرا دی تھی۔
” روم میں رکھ دیتی ہوں ویسے بھی سماہر سو رہی ہے ”
وہ بوکے اٹھانے کا سوچ ہی رہی تھی جب ازمائر کی اواز پہ اس کے ہاتھ رکے تھے۔
” تمہارے خوبصورت چہرے پہ بکھری مسکراہٹ بتا رہی ہے کہ تمہیں پسند آیا ہے بوکے ”
اوہ، تو یہ ازمائر لایا ہے میرے لئے۔
وہ ازمائر کو دیکھنے لگی جو جوگنگ کے لئے جا رہا تھا شاید ۔ مائزہ نے تیزی سے ہاتھ پیچھے کیے تھے اور لب بھینچ کے وہ دوسری طرف دیکھنے لگی۔
” کیسی ہو ؟؟”
وہ پھر سے پوچھ رہا تھا۔
” ٹھیک ہوں ”
بنا اس کی طرف دیکھے مائزہ نے جواب دیا تھا جبکہ ازمائر بھی خاموشی سے درختوں پہ چہچہاتے پرندوں کو دیکھنے لگا۔ مائزہ نے کن انکھیوں سے اسے دیکھنے کی کوشش کی تھی۔
” تمہارا ہاتھ کیسا ہے اب ؟”
ازمائر اپنے ہاتھ کو دیکھنے لگا۔
” ٹھیک ہے ، تھینک یو ”
” ہمممم ”
وہ پھر سے دوسری طرف دیکھنے لگی تھی۔
” تم بیٹھ جاؤ، زیادہ مت کھڑی رہا کرو”
ازمائر کہہ رہا تھا جب مائزہ نے لب بھینچے اسے دیکھا تھا۔
” نہیں میرا مطلب ہے کہ میں کل پڑھ رہا تھا کہ پریگننسی کے first three months میں زیادہ ارام۔کرنا چاہئے ”
ازمائر نے جلدی سے بات بنائی تھی جبکہ مائزہ کا چہرہ سرخ ہوا تھا، اسے شرم سی آئی تھی ازمائر سے۔ تبھی گھر کی طرف جانے کے لئے مڑی تھی۔
” میں سوچ رہا تھا کہ تم اس دن اپنے بکس لے کے آئی تھی یہاں، تو کیوں نا پھر سے اسٹیڈیز continue کی جائے اور مجھ سے ہیلپ چاہئے ہو تو میں یہیں ہوں ”
مائزہ کے چہرے قدم رکے تھے، ازمائر اس کی پشت ہی دیکھ رہا تھا جب وہ مڑ کے ازمائر کو دیکھنے لگی۔
” پہلے کی طرح، جب مجھ سے ہیلپ لیا کرتی تھی تم ”
اس نے مسکرانے کی کوشش کرتے کہا تھا۔
” کیوں؟”
مائزہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جبکہ وہ کندھے اچکا گیا۔
” تم میری بیوی ہو اس لئے ”
ازمائر کی بات پہ ، مائزہ کے چہرے پہ تلخ مسکراہٹ ابھری تھی۔
” زبردستی کی بیوی ۔۔ ”
ازمائر نے لب بھینچ لیے تھے۔
” تم نے ہی کہا تھا کہ زبردستی کا رشتہ ہے ہمارا۔ ”
اسے دکھ ہوا تھا، یہ بات مائزہ سے کہنے والا وہ خود ہی تو تھا۔
” میں غلط تھا مائزہ ”
وہ خاموش ہی رہی۔ سر جھٹک کے پھر سے گھر کی طرف مڑی تھی۔ جب ازمائر نے پھر آواز دی تھی اسے۔
” یہاں بیٹھ کے باتیں کرتے ہیں ”
آنکھیں موند کے مائزہ نے گہرا سانس لیا تھا اور پھر اس کی طرف مڑی تھی
” کیوں کر رہے ہو یہ سب تم ازمائر؟؟”
ازمائر اسے دیکھنے لگا۔
” کیونکہ میں اپنی دوست کو مس کر رہا ہوں ”
مائزہ نے سر جھٹک کے آنکھیں پھیری تھی۔
” دوست ؟؟ ”
” کیا ہم پھر سے دوست نہیں ہو سکتے مائزہ ؟؟”
ازمائر آنکھوں میں امید لیے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ مائزہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
” ترس آ رہا ہے مجھ پہ؟؟ رحم کھا رہے ہو مجھ پہ ؟؟ ”
” خود پہ ترس آ رہا ہے مائزہ ”
ازمائر کہنے لگا
” میں رشتوں کے تقدس کو بھول گیا تھا اور اب جب سمجھنے لگا ہوں تو خود پہ ترس آ رہا ہے مجھے، تبھی تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں، معاف کر دو گی مجھے پلیز ؟”
مائزہ خاموش رہی ۔
” اچھا دیکھو مائزہ، پہلے جیسے دوست بنتے ہیں، میں تمہیں کچھ بھی فورس کرنے کی کوشش نہیں کروں گا، تم اس بیڈ روم میں نہیں جانا چاہتی تو میں فورس نہیں کروں گا، تمہیں اگر کچھ نہیں پسند تو میں تب بھی فورس نہیں کروں گا، پہلے جیسا بنتے ہیں، کزنز بیسڈ دوست”
ازمائر کو مائزہ حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
” سب پہلے جیسا ممکن نہیں ہوتا کھبی ازمائر”
” ہم ممکن تو بنا سکتے ہیں مائزہ ”
ازمائر بےساختہ اس کے قریب آیا تھا جبکہ مائزہ بوکھلا کے پیچھے ہوئی تھی ۔
” اچھا سوری یار ۔۔ ”
وہ پھر سے پیچھے ہوا تھا جبکہ مائزہ اپنی مسکراہٹ چھپانے لگی لیکن ازمائر کی تیز نظر دیکھ چکی تھی اس کی مسکراہٹ۔
” تو ٹھیک ہے نا، ہم دوست ہیں آج سے ؟؟ ہے ناں مائزہ ؟؟”
” سوچ کے بتاؤں گی۔ ”
مائزہ نے ادائے بےنیازی سے کہا تھا
” کیا مطلب ؟؟”
ازمائر چونکا تھا جبکہ مائزہ نے آہستگی سے پھولوں کا بوکے، ٹیبل پر سے اٹھایا تھا اور اسے دیکھنے لگی۔
” مجھے ابھی تو آرام کرنا ہے، زیادہ کھڑا رہنا میرے لئے ٹھیک نہیں ہے ”
سنجیدگی سے اپنی بات کہہ کے وہ مڑی تھی اور یونہی چلتے ہوئے گھر کی طرف جانے لگی جبکہ ازمائر وہیں کھڑا زیر لب مسکراتا اسے جاتا دیکھ رہا تھا، سچ ہی کہتے ہیں آنکھیں کھول کے اپنی خوش نصیبی کو خوش آمدید کہو گے تو ہی خوش نصیبی تمہارا مقدر بنے گی ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” جی ؟؟”
ماریہ سوالیہ نظروں سے اپنے فلیٹ کے دروازے پہ کھڑے یزدان کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پہ خفیف مسکراہٹ تھی۔
” مجھے یزدان ہمدانی کہتے ہیں ”
” ہاں دیکھا ہے آپ کو نیوز میں ”
ماریہ نے جواب دیا جبکہ وہ مسکرانے لگا۔
” خادم لوگ ہیں ہم، بس یہ نیوز والے کچھ زیادہ احترام دیتے ہیں ”
ماریہ ایک ابرو اچھا کے اسے دیکھ رہی تھی، وہ تھوڑا سا خم ہوا تھا ماریہ کی طرف ۔
” سنا ہے آپ میران ملک کی شیدائی ہے ”
ماریہ چونکی تھی جبکہ یزدان کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔
” اور میں سب سے بڑا دشمن میران ملک اور سماہر بی بی کا”
ماریہ پہلے اچھنبے سے اسے دیکھنے لگی اور پھر اس کی آنکھوں میں وہی چمک ابھری تھی جو یزدان کی آنکھوں میں تھی جبکہ یزدان سیدھا ہوا تھا۔
” آپ چاہے تو بہت کچھ ہو سکتا ہے، آپ کی خواہش بھی پوری ہوگی اور میرا بدلہ بھی ۔۔ ”
ماریہ پرسوچ نظروں سے اپنے سامنے کھڑے یزدان کو دیکھتی مسکرائی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
#Novel_By_Malayeka_Rafi
#ادائے_عشق_ہوں
#ایپسوڈ_22
#Season_2
وہ اچھنبے سے موبائل کی اسکرین کو دیکھ رہی تھی جہاں کچھ دیر پہلے اسے کال موصول ہوئی تھی کہ میران ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہے اور وہ سماہر کو دیکھنا چاہتا یے، اس لئے کسی کو نہ بتایا جائے گھر پہ، کہ سب پریشان ہو جائے گیں۔ اپنے ہاتھوں کی کپکپاہٹ کو کنٹرول کرتی، وہ کمرے سے نکلی تھی اور تیز تیز قدم اٹھاتی وہ سیڑھیاں اتر کے، باہر کی طرف جا رہی تھی اور اس وقت لاؤنج مکمل خالی تھا تبھی وہ باہر لان میں آئی تھی اور پورچ کی طرف بڑھی تھی جہاں ڈرائیور اور گارڈ کھڑا تھا۔ اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی اور پھر ان دونوں کو دیکھنے لگی۔
” منان کاکا کہاں ہیں؟”
” میم، منان تو میران سائیں کے ساتھ ہیں ”
ڈرائیور کے جواب پہ اس نے اپنے لب کاٹے تھے۔
” گاڑی نکالو، ”
اس نے ڈرائیور کو حکم دیا تھا اور وہ تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھول کے کھڑا تھا۔ سماہر جب گاڑی میں بیٹھ چکی تو ڈرائیور دروازہ بند کرتا، خود ڈرائیونگ سیٹ پہ آ کے بیٹھ گیا تھا اور گیٹ سے باہر نکلی تو سماہر نے اسے ہاسپٹل کا ایڈریس دیا تھا جہاں اس کا میران زخمی پڑا تھا اور یہاں کسی کو اس کی خبر نہ تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے، وہ بس میران کی صحت کے لیے دعا کر رہی تھی، تبھی سامنے کا منظر دھندلا سا گیا تھا، لیکن جب گاڑی جھٹکے سے رکی تھی اور سماہر چونک کے، ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنی آنکھیں صاف کرنے لگی۔
” کیا ہوا ہے ؟؟”
گولی چلنے کی آواز آئی اور اس نے دیکھا زخمی ڈرائیور لڑھک کے دوسری سیٹ پہ گرا تھا، ابھی وہ کچھ سمجھنے کے قابل ہوتی جب اس کی طرف کا دروازہ کھلا تھا اور بلیک ماسک میں چھپے شخص کی مسکراتی آنکھوں کو اس نے دیکھا، جس نے ریوالور کا رخ اس کی طرف کیا ہوا تھا۔
” خوش آمدید مائی ڈئیر ”
بھاری اواز پہ وہ بوکھلا کے پیچھے ہوئی تھی۔
” ک ۔۔۔ کون ہو تم ؟؟”
” آپ کا مخلص ، اب آپ عزت سے نیچے اتر کے اس گاڑی میں بیٹھے گی یا میں زبردستی کروں ”
وہ پھر سے بھاری اواز میں کہہ رہا تھا جبکہ سماہر نے حرکت نہیں کی۔
” کون ہو ت ۔۔۔ تم ۔۔ مجھے کہیں نہیں جانا”
” دیکھئیے ہمیں اجازت نہیں ہے آپ کے ساتھ زبردستی کرنے کی، کیونکہ میران ملک کی بیوی ہے اس لئے عزت سے بات کر رہا ہوں، زبردستی کرنے پہ مجبور نہ کریں مجھے ”
سماہر خوفزدہ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی اور پھر آگے ہو کے، وہ گاڑی سے نیچے اترنے لگی، جہاں ایک اور ماسک والا آدمی بھی موجود تھا، جو گاڑی کا دروازہ کھولے کھڑا تھا۔ سماہر پیچھے والے آدمی کو دیکھتی، پھر سے سامنے دیکھنے لگی اور لب کاٹتی گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ جا کے بیٹھ گئی تھی، دل خوف سے کانپ رہا تھا اور ہاتھوں کی کپکپاہٹ مزید بڑھ گئی تھی، میران بھی زخمی تھا اور یہ لوگ کون تھے ؟ وہ کچھ غلط کر بیٹھی ہے۔
” کام ہو گیا ”
اس نے فون پہ کسی کو کہا تھا جبکہ سماہر بھیگی آنکھوں میں خوف لیے ان دونوں کو دیکھا تھا ۔ گاڑی کا دروازہ ہے بند ہوا تھا اور سماہر کو ایسا لگا جیسے اس وجود سے جان نکل چکی ہو ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
پریس کانفرنس سے وہ منان کے ساتھ چلتا باہر نکلا تھا۔ جب رپورٹرز نے اس کے سامنے آئے تھے۔
” سر ابھی ابھی اطلاع ملی ہے ہمیں کہ آپ کی بیوی کو کڈنیپ کر لیا گیا ہے ”
میران نے جبڑے بھینچے اس رپورٹر کو دیکھا تھا افسوس کہ وہ ایک لڑکی تھی، اگر لڑکا ہوتا تو شاید میران اس کا منہ توڑ دیتا۔
” کیا بکواس کر رہی ہے آپ میری بیوی کے بارے میں؟”
اس کی آواز میں دھاڑ سی تھی جس پہ وہ لڑکی خوفزدہ ہو کے پیچھے ہوئی تھی جبکہ میران ملک لمبے ڈگ بھرتا آگے بڑھا تھا جبکہ منان اس کے ساتھ ساتھ ہی تھا، پھر سے کسی میں ہمت نہ ہوئی تھی کہ میران سے کوئی سوال کرتا۔ موبائل نکال کے وہ سماہر کو کال کرنے لگا ایک دو رنگز کے بعد ہی کال ریسیو ہوئی تھی
” سرپرائز ”
یہ شاید یزدان ہمدانی کی آواز تھی، اس کا دل جیسے پل بھر کے لئے رکا تھا، چلتے قدم بھی رک چکے تھے۔
” میری بیوی کہاں ہے ؟”
وہ پست آواز میں غرایا تھا۔ منان بھی پریشان نظروں سے اپنے سائیں کو دیکھ رہا تھا۔
” میرے پاس ”
” نہیں جھوٹ بول رہا ہے یہ، میرے پاس ہے
ساتھ ہی ماریہ کی اواز بھی گونجی تھی اور میران نے دانت پیسے تھے۔
” ماریہ، تمہاری اتنی جرات، میری بیوی کہاں ہے ؟”
وہ اب گاڑی میں بیٹھ چکا تھا اور منان بھی تیزی سے آ کے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا۔
” یزدان ہمدانی کی مہمان ہے کچھ دن کے لئے ”
ماریہ کی مسکراتی اواز، اس کے تن بدن میں آگ لگا چکی تھی۔
” کیا بکواس کر رہی ہو تم ”
گاڑی میں اس کی دھاڑ ابھری تھی جبکہ ماریہ ہنس رہی تھی۔
” بس ایک رات کی قیمت لگا رہی ہوں تمہاری بیوی کی، ایک رات میرے نام اور تمہاری بیوی تمہارے گھر پہ ”
میران نے دھاڑتے ہوئے موبائل کو ڈیش بورڈ پہ پھینکا تھا۔
” ذلیل عورت ۔ ”
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
پورے گھر میں سماہر کے اغوا ہونے کی خبر پھیل چکی تھی اور سب حیرت سے ایکدوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے کہ سماہر کیسے باہر گئی اور کون اغوا کر کے لے گیا اسے ؟
” تم لوگوں کو یہاں پہ رکھا کس لئے ہیں کہ میری بیٹی باہر گئی اور تم میں سے ایک بھی نہیں تھا یہاں؟”
وقاص ملک دھاڑ رہے تھے وہاں موجود گارڈز پہ ۔ جب ان کا ایک گارڈ آگے آیا تھا جس کا نام آصف تھا۔
” میم ڈرائیور کے ساتھ گئی تھی تو مجھے لگا کہ ”
” کیا لگا تھا ؟؟ ڈرائیور زخمی ہاسپٹل بیڈ پہ پڑا ہے، اگر مجھے اپنے گھر والوں کی حفاظت کے لئے ڈرائیور کی ضرورت ہوتی تو تمہیں کیوں رکھتا ؟؟ میرے لئے ڈرائیور کافی تھے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ حالات کیسے جا رہے ہیں ، یہ بےوقوفی کیسے سرزد ہوئی تم سے ”
وقاص ملک گرجے تھے جب ازمائر بھی ان کے قریب آیا تھا اور ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے، انہیں تسلی دینے کی کوشش کی ۔
” چچا جان ٹائم ویسٹ کر رہے ہیں ہم اپنا یہاں، ہم ڈھونڈ لیں گے سماہر کو صحیح سلامت، آپ چلیں ”
ازمائر انہیں اپنے ساتھ لیے گاڑی کی طرف بڑھا تھا اور پھر اب کو تنبیہ کی تھی۔
” یہاں سے بلکل بھی نہیں ہلنا، سب الرٹ رہیں ”
دشاب بھی پہنچ چکے تھے۔ ان کی گاڑی پورچ میں داخل ہوئی اور دشاب ملک گاڑی سے باہر نکلے تھے۔ ازمائر نے لب بھینچے انہیں دیکھا تھا۔
” وقاص یہ سب ”
وہ وقاص کو دیکھنے لگے جبکہ وقاص نے رخ پھیر لیا۔
” مجھے تو یہ سب تمہارا کیا دھرا لگتا ہے دشاب”
وہ حیرت سے اپنے بھائی اور بیٹے کو دیکھ رہے تھے۔
” کیا کہہ رہے ہو، میں اپنے خاندان کی بچی کے ساتھ ایسا کروں گا ؟”
” بیٹے کے ساتھ کر تو چکے ہیں ”
یہ کہہ کے، ازمائر ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا تھا جبکہ دشاب ملک حیرت کا بت بنے ان کی گاڑی کو گیٹ سے باہر نکلتا دیکھ رہے تھے۔ وہ ایک بار گر چکے تھے لیکن ان کی سزا اب بھی جاری تھی، باوجود معافی مانگنے کے بعد بھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” سماہر کہاں ہے ؟؟”
میران پاگل ہو رہا تھا جبکہ ماریہ ہنستے ہوئے اس کے قریب ہوئی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ میران اسی کے فلیٹ پہ آئے گا تبھی وہ میران کے پہنچنے سے پہلے ہی یہاں موجود تھی۔
” میرے پاس ہے، کڈنیپ کر چکی ہوں تمہاری بیوی کو میں، بس ایک رات کے بدلے میں، تمہاری بیوی تمہارے پاس ہوگی ”
اپنی شہادت کی انگلی اس کے چہرے پہ پھیرتی وہ کہنے لگی جب میران نے اس کی گردن دبوچ لی، غصے سے اس کے گردن کی رگیں تن گئی تھی اور آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔
” میران ارتضی ملک کی بیوی کو کڈنیپ کرنے کی ہمت کیسے ہوئی تمہاری، جانتی نہیں ہو کہ میران اپنی بیوی کے لئے کسی کی بھی جان لینے میں منٹ نہیں لگاتا ”
ماریہ کو سانس لینا دشوار لگا تھا تو ماریہ کو دھکا دے کے پیچھے دیوار سے لگایا تھا اور خود اس کے قریب جا کے، ایک ہاتھ دیوار پہ رکھ کے، اس کی آنکھوں میں خونخوار انداز سے دیکھنے لگا۔
” میری بیوی کہاں ہے ؟”
وہ اپنی گردن سہلاتے سر نفی میں ہلانے لگی ۔
” نہیں بتاؤں گی، کھبی نہیں بتاؤں گی۔”
وہ ٹھہر ٹھہر کے بولی جبکہ میران اس کے قریب دھاڑا تھا۔
” عورتوں پہ ہاتھ اٹھانا میں بےغیرتی سمجھتا ہوں، اس لیے مجھے مجبور مت کرو کہ میں بےغیرت بن جاؤں، اس لئے بتاؤ میری بیوی کہاں ہے ؟”
اس کی سرد آواز ماریہ کے وجود مہم سنسناہٹ سی دوڑا چکی تھی، اسے اندازہ نہیں رہا تھا کھبی میران کے اس قدر غصے کا۔ وہ سمجھی تھی کہ میران اس کی بات مان لے گا کیونکہ وہ اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے لیکن یہاں سے الٹ ہو رہا تھا ۔
” بتاؤ ”
وہ حلق کے بل چیخا تھا، اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کیسے اسے پر لگ جائے اور وہ اڑ کے سماہر کے پاس پہنچ جائے۔
” نہیں بتاؤں گی ”
باوجود خوف کے بھی، وہ میران کو کچھ بھی بتانے سے انکار کر گئی، جبکہ میران ریوالور نکال کے، اس کی کنپٹی پہ رکھ چکا تھا جبکہ ماریہ کی آنکھوں میں اب وہ خوف کو واضح دیکھ رہا تھا۔ ۔
” میری بیوی کہاں ہے ؟”
” دیکھو۔۔۔ م ۔۔۔یران، بس ایک رات کی تو بات ہے ، سماہر تمہارے پاس ہوگی، ابھی ۔۔۔ ابھی کرتے ہیں ناں ”
وہ کوئی پاگل عورت تھی شاید، اور اس وقت مکمل پاگل لگ رہی تھی۔ جب میران نے ریوالور سے اس کی کنپٹی پہ دباؤ ڈالا تھا۔
” وہ میری بیوی ہے، میران ارتضی ملک کی بیوی کہاں ہے ؟ ”
” وہ نہیں۔۔۔۔۔ ”
اس سے پہلے اس کی بات مکمل ہوتی، میران نے گولی چلائی تھی جو صوفے پہ جا لگی تھی، دوسری گولی اس کی ٹانگ کے قریب چلائی تھی، ماریہ چیختی وہاں سے دور ہوئی تھی، میران نے اب اس کا نشانہ لیا تھا۔
” میری بیوی کہاں ہے ؟؟”
آنکھیں سرد اور سفاک ہو چکی تھی میران ملک کی اس وقت ۔ وہ سماہر کے لئے کسی کی بھی جان لے سکتا ہے ، کسی کی بھی، ماریہ یہ بات سمجھ چکی تھی۔
” مجھے مت مارو پلیز، میں مرنا نہیں چاہتی ”
وہ خوفزدہ ہو کے چلائی تھی، میران جبڑے بھینچے اسے دیکھ رہا تھا ۔
” وہ ۔۔۔ تمہاری بیوی یزدان ہمدانی کے فارم ہاؤس میں ہے ”
اس نے جتنی تیزی سے کہا تھا، میران نے اسی تیزی سے گولی چلائی تھی جو دیوار پہ لگی تھی، ماریہ کی چیخ ابھری تھی، میران بمشکل خود پہ ضبط کر گیا تھا ورنہ دل چاہ رہا تھا کہ اس عورت کو ابھی ختم کر دے یہاں۔ منان تیزی سے اندر آیا تھا کیونکہ عمارت کے باہر پولیس کی گاڑیاں پہنچ گئی تھی،
” سائیں چلیں یہاں سے، پولیس باہر آئی ہے ، چلیں سائیں ”
منان اسے اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ میران ابھی بھی ریوالور ماریہ کی طرف کیے کھڑا تھا
” سائیں چلیں یہاں سے، اپ کو سائیں بی بی کی قسم ”
میران نے بمشکل ریوالور نیچے کی تھی اور منان کے ساتھ وہاں سے باہر نکلا تھا جو اسے اس عمارت کے خفیہ راستے سے باہر لے جا رہا تھا۔ جبکہ میران کو ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کا بھاری ہوتا وجود کھنچ رہا ہو ان راستوں سے۔ یزدان ہمدانی، اس کا سب سے بڑا دشمن، سیاست میں اس کا حریف اور اس کے خاندان کا دشمن، اور اس کی بیوی اسی یزدان ہمدانی کے فارم ہاؤس میں یے ، گاڑی تک پہنچ کے چیخ پڑا تھا جبکہ منان نے نم آنکھوں سے اپنے سائیں کو دیکھا تھا۔ ۔
” حوصلہ کریں، سائیں، ہم ڈھونڈ لیں گے سائیں بی بی کو”
میران نے لب بھینچ کے، آنکھوں میں آنے آنسوؤں کو بمشکل پیا تھا ۔
” یزدان ہمدانی ”
اس نے دانت پیسے تھے اور تیزی سے گاڑی میں بیٹھ گیا تھا، منان بھی بیٹھ چکا تھا اور گارڈز دوسری گاڑی میں بیٹھے تھے۔ شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور گاڑی تیز رفتاری سے سڑک پہ رواں تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” یہ کیا ہو گیا ہے ؟ یہ کیسی قیامت ہے ؟ م ۔۔۔ میری بیٹی کہاں ہے ؟”
تابعہ کب سے رو رہی تھی جبکہ عارفین انہیں گلے سے لگائے خود بھی خاموش آنسو بہا رہی تھی لیکن ساتھ ساتھ تابعہ کو تسلی دے رہی تھی۔
” تابعہ ایسے روؤ گی تو دیکھو مائزہ اور مشعل بھی روئے گیں، پلیز میری جان سماہر آ جائے گی، میران اسے ڈھونڈ نکالے گا، ایسے کیسے ممکن ہے کہ سماہر پہ انچ آنے دیں میران”
” مما پلیز مت روئیے ناں ”
مائزہ روتے ہوئے کہنے لگی جبکہ تابعہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے سر نفی میں ہلا رہی تھی۔
” اگر ۔۔۔ اگر میری بچی کو مار دیا ہو تو ؟؟ تو میں کیا کروں گی ، میں تو جیتے جی مر جاؤں گی ”
” تابعہ ۔۔ ”
امامہ کی آواز پہ تابعہ نے انہیں دیکھا تھا ۔
” امامہ میری بچی ۔۔۔ میری بچی نہیں ہے ”
تابعہ نے روتے ہوئے کہا اور امامہ نے آگے بڑھ کے انہیں گلے لگایا تھا جبکہ میرب اور آبگینے بھی مائزہ کے ساتھ بیٹھ گئی تھیں، مشعل جو مائزہ سے لگی بیٹھی رو رہی تھی،میرب کے گلے لگی تھی۔
” آپی نہیں ہے پھوپھو ”
وہ میرب کو ہمیشہ پھوپھو کہا کرتی تھی ۔۔
” ارے پھوپھو کی جان، آ جائے گی آپ کی اپی انشا اللہ ”
دل اس کا بھی رو رہا تھا لیکن مشعل کو گود میں لے کے، اسے تسلی دینے لگی ۔
” کون ہے یہ ماریہ ؟؟ کون ہے یہ منحوس عورت؟؟ میری بچی سے کیا دشمنی ہے ”
تابعہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی جبکہ میرب لب کاٹتی انہیں دیکھنے لگی کہ وہ ایک بار اس کا ذکر اپنے بابا اور چچا کی زبان سے سن چکی تھی جب وہ آپس میں بحث کر رہے تھے، وہ جانتی تھی کہ ماریہ نام کی عورت،میران ارتضی ملک کے پیچھے پڑی ہے۔ وہ نظریں پھیر کے مائزہ اور آبگینے کو دیکھنے لگی جبکہ مشعل کو خود سے لگایا ہوا تھا اس نے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” مہتاب ہمدانی وہیں رک جاؤ ”
یزدان ہمدانی چلایا تھا جبکہ وہ جو نشے میں غرق سماہر کی طرف بڑھ رہا تھا، مڑ کے اپنے بھائی کو دیکھنے لگا۔
” کیا ہے ؟؟”
یزدان لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا۔
“کہاں جا رہے ہو تم ؟؟ ”
” میران کتے کی بیوی کے درشن کرنے ہیں مجھے ”
وہ کمینگی سے ہنستا کہہ رہا تھا جبکہ سماہر دیوار سے جا لگی تھی، وہ نہ جانے کب لاؤنج میں آیا تھا اور سماہر کی طرف بڑھنا چاہ رہا تھا جب اچانک یزدان اندر آیا تھا۔
” وہ میرے فارم ہاؤس میں ہے تو تم یہاں کیا کرنے آئے ہو، جاؤ یہاں سے ”
یزدان ہمدانی تقریبا اسے دھکا دیتے ہوئے کہنے لگا جبکہ وہ لڑکھڑا کے پھر سے رکا تھا۔
” تو میں تمہارا بھائی ہوں، حق تو بنتا ہے میرا تم پہ اور تمہارے اس فارم ہاؤس پہ اور یہاں موجود اس حسینہ پہ ”
بتیسی نکالے وہ کہنے لگا پھر سے۔ جبکہ بےباک نظریں پھر سے سماہر کے گرد گھومنے لگی تھی اور سماہر نے خود کو اپنے کندھے پہ موجود ڈوپٹے میں چھپانے کی کوشش کرنے لگی۔
” میران کی بیوی ہے ، اسے بھنک بھی پڑی کہ تمہاری بری نظر ہے اس کی بیوی پہ، تمہیں زندہ گاڑ دے گا۔ ”
یزدان غرایا تھا ۔
” اس حسینہ کے لئے زندہ بھی درگور ہو جاؤں گا،پہلے اس کے مزے تو لوں ”
مہتاب پھر سےسماہر کی طرف بڑھنے لگا تھا، سماہر دیوار سے لگی خوفزدہ آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” میرے قریب بھی مت آنا، ”
اس کی آواز بھی کانپ رہی تھی جبکہ مہتاب ہنسنے لگا۔
” اس کی آواز کس قدر خوبصورت ہے بھائی، مزہ آئے گا ”
مہتاب آگے بڑھنے لگا جبکہ سماہر اپنی عزت بچانے کی خاطر سیڑھیوں کی طرف دوڑی تھی۔
” کہاں تک بھگاؤ گی چمک چلو ”
وہ کہتا اس کی طرف جانے لگا۔
” پورا علاقہ ہمارا ہی ہے ”
اس سے پہلے کہ وہ سماہر تک پہنچ کے، اپنے گندے مقاصد میں کامیاب ہوتا، اچانک سے لاؤنج میں میران کی دھاڑ گونجی تھی اور ساتھ ہی گولی چلی تھی جو مہتاب کی ٹانگ پہ لگی تھی اور وہ درد سے چیختا وہیں گرا تھا جبکہ سماہر کی چیخ بھی ساتھ ہی ابھری تھی، وہ بھیگی خوفزدہ آنکھوں سے میران کو دیکھ رہی تھی۔
” ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کو یہاں لانے کی، کیسے ہمت ہوئی”
وہ دھاڑتا،مہتاب کی طرف بڑھا تھا اور اس کی کمر پہ اپنی ٹانگ رسید کرتا، اس کے بال مٹھی میں بھر کے، اسے کھینچتا ہوا اس کا رخ اپنی طرف کر چکا تھا ۔
” بدذات، اوقات کیا ہے تمہاری، میران ارتضی ملک کی بیوی کو یہاں لانے کی جرات کیسے آئی تم میں ”
اس کی کنپٹی پہ ریوالور رکھ کے، اپنی سرخ انگارہ آنکھوں سے، مہتاب کی خوفزدہ آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جبکہ وہ ہڑبڑا گیا تھا۔
” م ۔۔۔ م ۔۔۔میں،ن۔۔۔ نہیں، وہ تو یز ۔۔۔۔ یزدان لایا ہے ”
میران نے جبڑے بھینچے یزدان کو دیکھا تھا جو بوکھلا کے ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔ جبکہ میران نے ریوالور سے اس کی کنپٹی پہ دباؤ ڈالا تھا۔
” دونوں کو کتوں سے بدتر موت دوں گا ۔۔ منان کاکا ”
” جی سائیں ”
وہ ریوالور یزدان کی کنپٹی پہ رکھ کے الرٹ ہوا تھا جبکہ سماہر کمزور ہوتے وجود کے ساتھ کچھ کہنے کے قابل بھی نہیں رہی تھی، وہ اپنے شل ہوتے اعصاب کو سنبھالتی وہیں دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھتی چلی گئی۔
” دیکھو میران، میران مقصد یہ تھا کہ ، میرا تمہاری بیوی سے کوئی کام یا دشمنی نہیں۔۔۔ دیکھو میران تم ”
یزدان کہنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
” شٹ اپ ”
میران بلند آواز میں چیخا تھا، وقاص ملک اور ازمائر بھی وہیں آ گئے تھے،۔
” سماہر ”
وقاص تیزی سے اپنی بیٹی کی طرف بڑھے تھے۔
” یہ ٹھیک نہیں ہے ، میران ہم مذاکرات ۔۔۔۔ ”
” بکواس بند کرو ”
میران مہتاب کو چھوڑ کے، اس کی طرف مڑا تھا اور ریوالور کا رخ بھی یزدان کی طرف کر چکا تھا جبکہ یزدان دو دو ریوالور کا رخ اپنی طرف دیکھ کے بوکھلا گیا تھا۔ کھبی منان کی طرف دیکھتا تو کھبی میران کی طرف۔
” وقاص چچا سماہر کو لے کے جائیے سے ”
یزدان کو خونخوار نظروں سے دیکھتا وہ بولا تھا۔ ازمائر کی نظر اچانک اوپر کی طرف گئی تھی جہاں وہ شخص کھڑا تھا جس کے ریوالور کا رخ میران کی طرف تھا، یہ وہی آفتاب خان تھا جس کی گولی کا نشانہ ایک بار پہلے بھی میران بن چکا تھا ازمائر کی غلطی کی وجہ سے اور اب وہ پھر سے یزدان یا آفتاب کو ان کے مقصد میں کامیاب ہونے نہیں دینا چاہتا تھا تبھی وہ تیزی سے میران کی طرف بڑھا تھا۔
“میران۔۔۔۔ ”
وہ چلایا تھا، اس کا مقصد میران کو اس کے نشانے سے دھکا دے کے نیچے گرانے کا تھا لیکن اچانک سے گولی چلی تھی جو میران تک پہنچنے سے پہلے ہی، ازمائر اپنی پشت پہ کھا چکا تھا، سب اپنی جگہ ساکت ہو گئے تھے جبکہ میران شاکڈ کیفیت میں ازمائر کی طرف بڑھا تھا، اس کا خون سے لتا وجود میران کے سامنے تھا، اس کا بھائی جس سے ہمیشہ نفرت ہی رہی تھی اسے، آج وہ اس کے سامنے خون میں لت پت گرا ہوا تھا، وہ وہیں گھٹنوں کے بل گرا تھا۔
” یہ کیا کر دیا تم نے ازمائر ؟”
کانپتے ہاتھوں سے اس کے خون سے لت پت ہوتے جسم کو، اپنی بانہوں میں بھر کے میران چلایا تھا، اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیسے اس کے زخموں سے نکلتے خون کو روکے، جبکہ ازمائر کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ تھی۔
” بڑا بھائی ہونے کا فرض نبھایا ہے میں نے ”
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
#Novel_By_Malayeka_Rafi
#ادائے_عشق_ہوں
#ایپسوڈ_23
#Season_2
” بڑوں کی غلطیاں ہوتی ہے جو چھوٹے بہک جاتے ہیں، میں بھی بہک گیا غم اور غصے میں، لیکن اب سنبھلا ہوں تو تم سے کھبی الگ نہیں ہونا چاہتا میں مائزہ ”
اس کی بانہوں میں مائزہ کے لئے کس قدر سکون تھا، اس کی انکھ سے آنسو اس کی گال پہ پھسلا تھا۔ لب آہستگی سے ہلے تھے۔
” ازمائر لوٹ آؤ پلیز ۔۔ ”
ہاسپٹل کوریڈور میں رکھے بنچ پہ، مائزہ، دشاب ملک، عارفین بیٹھے ہوئے تھے، تینوں ہی اپنی سوچوں میں گم تھے، مائزہ کی سوگوار آنکھیں آئی سی یو کے بند دروازے پہ ٹھہری ہوئی تھی جہاں ازمائر کے زندہ ہونے یا مردہ ہونے کی کوئی خبر ابھی نہیں آئی تھی جبکہ ان سے فاصلے پہ دیوار سے ٹیک لگائے فرش پہ بیٹھا میران، اپنے خون سے رنگے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا، جن پہ اس کے بھائی، ازمائر ارتضی ملک کا خون لگا ہوا تھا، وہ بھائی جو ہمیشہ ایکدوسرے سے نفرت کرتے رہے، اہکدوسرے کی ضد میں جنگ لڑتے رہیں اور اس قدر ایکدوسرے سے نفرت کرتے تھے کہ ایکدوسرے کی جان کے دشمن بن گئے تھے اور آج وہی بھائی، اپنے بھائی کے لیے جان کی بازی لگا گیا تھا۔ اس نے لب بھینچ لیے تھے، آنسو اس کی آنکھوں میں ٹھہر گئے تھے۔
” آج نفرت کی دیوار گرا دی ہے میں نے”
وہ نیم غنودگی میں کہہ رہا تھا جبکہ میران نے اسے بانہوں میں بھر ہوا تھا اور منان تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا، میران اسے نیم غنودگی میں جاتا دیکھ کے رونے لگا تھا۔
” آنکھیں بند مت کرنا ازمائر ”
” میرے مرنے کے بعد ، مجھ سے نفرت مت کرنا میران، م ۔۔۔ میری اولاد امانت ہے، اس سے نفرت مت کرنا ”
وہ پھر سے کہہ رہا تھا اور میران رو دیا تھا۔
اور اب ۔۔۔۔ وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا ۔
” ذلیل، بدذات، اوباش ”
عظمی چیختی ہوئی میران کے قریب آ رہی تھی، میران ایک نظر اس پہ ڈال کے، پھر سے اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگا
” کھا گئے میرے بیٹے، مار دیا میرے بچے کو”
اس سے پہلے وہ میران پہ جھپٹتی، دشاب ملک آگے آئے تھے اور میران کے سینے ڈھال بن گئے تھے جبکہ عظمی نے ان کے سینے پہ دونوں ہاتھ مارے تھے
” مل گیا سکون ؟؟ لے لی جان اپنے ہی بیٹے کی، اب سکون آ گیا تمہیں ”
وہ چیخ رہی تھی جب عارفین نے آگے بڑھ کے اسے تھامنا چاہا لیکن وہ نفرت سے انہیں دھکا دے چکی تھی۔
” ذلیل، منحوس عورت ، تیرا بیٹا کھا گیا میرے بیٹے کو، اب مناؤ رنگ رلیاں۔۔۔۔۔ ”
اس سے پہلے اس کی بات مکمل ہوتی، میران اس کے منہ پہ تھپڑ مار چکا تھا، وہ حیرت سے منہ پہ ہاتھ رکھے میران کو دیکھ رہی تھی جو خونخوار نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ عارفین نے دل پہ ہاتھ رکھ لیا تھا اپنے، وہ حیرت کا بت بنی اسے دیکھ رہی تھی۔
” کیا شور مچایا ہوا ہے، یہ ہاسپٹل ہے پلیز ”
نرس کی اواز پہ سب متوجہ ہوئے تھے جبکہ میران لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا تھا، مائزہ نے عارفین کا ہاتھ تھام کے انہیں بنچ پہ بٹھایا تھا، دشاب ملک بھی نفرت بھری نگاہ اس پہ ڈال کے وہیں بنچ پہ بیٹھ گئے تھے جبکہ عظمی شاک کی کیفیت میں ایک کونے میں کھڑی ہو کے دشاب کو دیکھ رہی تھی، آنکھوں میں خون اتر آیا تھا لیکن وہ صرف دشاب کو ہی دیکھے جا رہی تھی جیسے انہیں نگل جائے گی وہ۔
” کتنی قیمت لگائی تھی سماہر کی ؟؟”
عظمی کا لہجہ سرد تھا جبکہ وہ تینوں چونک کے اسے دیکھنے لگے۔
” جتنی میران کی لگائی تھی؟ اتنی ہی ؟؟ یا زیادہ ؟”
” کیا بکواس کر رہی ہو تم ؟”
دشاب ملک غرائے تھے اور اٹھ کے اس کے قریب جا کے، اسے بازو سے جکڑا تھا۔
” ہوش میں تو ہو”
آواز پست تھی لیکن آنکھوں میں غصہ اور لہجے میں غراہٹ تھی جبکہ عظمی مسکراتی آنکھوں میں نفرت لیے انہیں دیکھ رہی تھی۔ جب ڈاکٹر باہر آیا تھا تو وہ چاروں اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔
” خوش قسمتی سے، گولی ریڑھ کی ہڈی کے قریب سے، گزر کے گئی ہے، گولی تو ہم نکال چکے ہیں اب ان کے ہوش میں آنے کا انتظار ہے، ہوش آنے پہ یم کچھ کہہ سکے گیں، اگلے چوبیس گھنٹے مسٹر ازمائر کے لئے، فی الحال کریٹیکل ہے ”
وہ کہہ کے آگے بڑھا تھا جبکہ دشاب ملک جیسے ٹوٹ گئے تھے، مائزہ پھر سے رونے لگی تھی جبکہ عارفین اسے دلاسہ دیتی خود سے لگا گئی تھی۔ عظمی اب خاموشی سے سامنے دیوار کو دیکھ رہی تھی جیسے کچھ ڈھونڈ رہی ہو۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” میران ملک نے مجھ پہ دست درازی کی، یہاں آ کے، اور جب میں نے انکار کیا تو میرے بال کھینچے، میری گردن دبوچی اور مجھ پہ گولیاں چلائی، یہ دیکھ رہے ہیں آپ، وہاں دیوار پہ، صوفے پہ، وہ دیکھے کچن میں ”
ماریہ مگرمچھ کے آنسو بہا رہی تھی جبکہ انسپکٹر جمشید اس لب بھینچے دیکھ رہا تھا۔
” اب اس کی بیوی میرے پاس کیا کرے گی؟ میں خود ایک عورت ہوں اور مجھے دوسری عورت کی عزت کا خیال ہے اچھی طرح سے ، وہ تو یزدان ہمدانی کے فارم ہاؤس پہ ہے، وہ لے گیا تھا اسے کہ اپنا بدلہ لوں گا میران ملک سے، اس کی بیوی کے ساتھ رات گزار کے ”
انسپکٹر جمشید نے اپنے ہاتھ کی مٹھی بھینچ لی تھی، اس عورت کی باتیں اس کو پارہ ہائی کر رہی تھی لیکن وہ خاموش ہی رہا ۔
” سر سارا گھر چیک کر لیا، اب سب ٹھیک ہے ”
کانسٹیبل ہارون نے آ کے بتایا تو انسپکٹر جمشید سر اثبات میں ہلاتا اب گہری نگاہوں سے ماریہ کو دیکھ رہا تھا جبکہ وہ نظریں چرا کے ادھر ادھر دیکھنے لگی،
” تو مس ماریہ میں چلتا ہوں اب، آپ سیف ہے ڈونٹ ووری ”
” تھینک یو ”
ماریہ بھی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی اور مسکرانے کی کوشش کرنے لگی۔
” آپ اریسٹ وارنٹ جاری کرے گیں نا میران ملک کے ؟؟”
جمشید اسے اچھنبے سے دیکھنے لگا۔
” یہ سوال کس لئے ؟؟ آپ کو مجھ پہ یقین نہیں ہے ؟؟”
” ن ۔۔ نہیں، بس میران ملک اثر و رسوخ والا بندہ ہے تو مجھے لگا کہ شاید پولیس کچھ نہ کر پائے ”
ماریہ نے تیزی سے جواب دیا تھا جبکہ جمشید ہنکارا بھرتا، اس لئے فلیٹ سے باہر نکلا تھا۔
” ہمم رپورٹ بتاؤ ”
سیڑھیاں اترتے ہوئے جمشید پوچھنے لگا
” جیسا آپ نے کہا بلکل ویسا ہی کیا ہے ہم نے سر، ہر جگہ ہم ہیڈن کیمرے لگا چکے ہیں ”
ہارون نے تیزی سے جواب دیا تھا اور وہ اثبات میں سر ہلاتا میران کو کال ملانے لگا۔
” تم نے جیسا کہا تھا، ویسا ہی ہوا ہے ”
کال ریسیو ہوتے ہی جمشید نے اطلاع دی تھی جبکہ میران نے صرف ہنکارا بھرا تھا۔
” ازمائر کیسا ہے اب؟؟”
جمشید پھر سے پوچھنے لگا۔
” کوئی فرق نہیں آیا، ICU میں ہے ابھی ”
میران کی آواز بوجھل آواز بھاری تھی۔
” اللہ بہتر کرے گا ”
کال ڈسکنیکٹ کرتی جمشید نے لب بھینچے اپنی ٹیم کو دیکھا تھا۔
” ہاسپٹل کی سیکیورٹی بڑھاؤ اور دھیان رکھو ہر آنے جانے والے انسان پہ، سب کو شک کی نظر سے دیکھو، ازمائر جب تک ہاسپٹل میں ہے، اس کی سیکیورٹی مضبوط ہونی چاہئے”
” اوکے سر”
ان سب نے بہ یک زبان کہا تھا اور جمشید، ہارون کے ساتھ اپنی کار کی طرف بڑھا تھا جبکہ باقی دوسری گاڑی میں بیٹھ کے ہاسپٹل کی طرف بڑھ رہے تھے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
کمرے کو نیم تاریک کیے وہ دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی تھی، اس کی بھیگی آنکھوں میں، آنسوؤں کی تہہ سی جیسے جم گئی تھی۔ مکمل دو دن ہو چکے تھے اور میران اس کے پاس نہیں آیا تھا، نہ اس سے بات کی تھی، نہ اس سے ملنے کی کوشش کی تھی۔ ان سب کی ذمہ دار وہ خود کو ٹھہرا رہی تھی، ازمائر کی، مائزہ کی، میران کی گنہگار سمجھ رہی تھی وہ خود کو، وہ یقین کر چکی تھی کہ اب میران کھبی اس کے پاس نہیں آئے گا اور نہ اس سے کبھی محبت کرے گا وہ۔
” لیکن میں۔۔۔۔ ”
اس کے لب ہلے تھے اور آنسو پھر سے بہنے لگے تھے۔
” میں کیسے رہوں گی اتنے گناہوں کے بوجھ تلے؟؟ کیسے سہہ پاؤں گی میران کی نفرت کو؟؟ میں تو اس کے محبت کی عادی ہوں، اس کی نفرت سہنا میرے بس میں کہاں؟؟”
اپنے قریب موجود اس نے شیشے کے اس ٹکڑے کو دھندلائی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ کانپتے ہاتھ سے وہ شیشے کا ٹکڑا اٹھا کے، لرزتے دل کے ساتھ ، اس ٹکڑے کو دیکھے گئی۔
” میران ارتضی ملک، تمہاری بےانتہا محبت کی عادی ہوں میں، تمہاری بےانتہا نفرت دیکھنے سے پہلے، میں اپنی سانسیں ختم کر دوں گی ”
شیشے کے اس ٹکڑے کو اپنی کلائی پہ رکھ کے، وہ خود میں ہمت مجتمع کر رہی تھی، اپنی سانسیں خود ختم کرنا اتنا آسان کہاں تھا۔
” سماہر دروازہ کھولو ”
میران نے دروازے پہ دستک دی تھی اور اسے آواز دینے لگا، گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ ٹکڑا پھسل کے نیچے گرا تھا جبکہ بھیگی آنکھوں سے وہ دروازے کو دیکھنے لگی۔ وہ جواب نہیں دینا چاہتی تھی۔
” سماہر دروازہ کھولو، ”
پھر سے میران کی آواز آئی تھی۔ وہ ڈر رہی تھی کہ کوئی بری خبر ہونے والی ہے ، وہ کچھ نہیں سننا چاہتی کسی سے بھی ۔
” سماہر ؟؟”
میران کی آواز پھر سے آئی تھی اور اسے لگا کہ وہ مکمل کسی کھائی میں گرا دی گئی ہو، خوف سا طاری ہوا تھا اس پہ، کہ جیسے میران اس سے نفرت کا اظہار کرے گا، اسے دھتکار گا، تبھی بوکھلاہٹ میں وہ پھر سے شیشے کا ٹکڑا اٹھا چکی تھی، اور کانپتے ہاتھ سے اپنی کلائی پہ رکھتی وہ اپنے ہاتھ کی رگ کاٹنے کی کوشش کر رہی تھی، جبکہ دروازہ مسلسل بج رہا تھا اور بلکل ویسے ہی اس کے رونے اور خوف میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔
” Samaher open the damn door ”
وہ چلایا تھا اور ساتھ ہی دروازے کو زور سے دھکا دے کے، اسے کھولنے کی کوشش کرنے لگا اور ایک دو بار دھکا دینے کے بعد دروازہ کھل گیا تھا، میران اندر آیا تھا جبکہ سماہر کی چیخ ابھری تھی۔
” نہیں میران ، میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔ ”
جبکہ میران کی آنکھیں پہلے حیران ہوئی تھی اور پھر ان آنکھوں میں خوف ابھرا تھا۔
” سماہر ۔۔۔ ”
وہ جھٹ سے سماہر کے قریب پہنچ کے، جھٹکے سے شیشے کا ٹکڑا اس کے ہاتھ سے لے کے دور پھینک چکا تھا اور اسے بانہوں میں بھر کے خود میں بھینچا تھا، اس کی کلائی پہ ہلکے ہلکے خون کے نشان ابھرے تھے۔
” میران پلیز م ۔۔۔ مجھ سے ن۔۔۔ نفرت نہیں ک۔۔۔ کرو ۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا، م ۔۔۔ میں پاکدامن ہوں ”
وہ روتے ہوئے چلا چلا کے کہہ رہی تھی، اس کی آواز میں خوف تھا، درد پنہاں تھا، میران کی آنکھیں بھیگی تھی اور آنسو انکھ سے نکل کے، اس کے گال پہ پھسلا تھا۔ وہ سماہر کو خود سے الگ کر کے، اس کا آنسوؤں سے تر چہرہ ہاتھوں میں بھر کے، وہ اس کے چہرے پہ بار بار اپنے لب رکھ رہا تھا، اس کی آنکھوں پہ، اس کے گالوں پہ، اس کے لبوں پہ۔
” سماہر میری جان ۔ ”
سماہر کے رونے میں مزید شدت آ گئی تھی، میران کی آنکھوں ابھی بھی وہی محبت تھی، وہی التفات تھے اس کے ہر انداز میں۔
” جان میران، کیا مجھے ختم کرنے کا ارادہ تھا تمہارا سماہر ؟؟”
اس کے لہجے میں شکایت تھی۔
” میری سانسیں ختم کرنا چاہ رہی ہو تم سماہر ؟؟”
وہ پھر سے شکوہ نما سوال کر رہا تھا جبکہ سماہر روتے ہوئے سر نفی میں ہلا رہی تھی۔ ۔
” م ۔۔ مجھے لگا کہ تم مجھ سے نفرت کرتے ہو اب ”
کس قدر معصومیت تھی اس کے انداز میں۔
” میران کھبی اپنی سماہر سے نفرت کر سکتا ہے ؟؟”
” م ۔۔۔ مجھے لگا کہ ۔۔۔ کہ میں نہیں سہہ پاؤں گی تمہاری نفرت”
وہ روتے ہوئے میران کے سینے سے لگی تھی۔
” تم ۔۔۔ ت۔۔۔ تم آئے ہی نہیں میرے پاس، دیکھا ہی نہیں مجھے، میں منتظر رہی، تم نہیں آئے تو ۔۔۔ م ۔۔۔ مجھے لگا کہ تم مجھ سے اب محبت نہیں کرتے، ”
وہ روتے ہوئے ہچکیوں کے بیچ کہہ رہی تھی جبکہ میران نے اسے پھر سے خود میں بھینچ لیا تھا۔
” میں آ رہا تھا سماہر، مجھے آنا تھا تمہارے پاس ہی، میری محبت کسی چیز کی محتاج نہیں ہے سماہر، تم سے محبت کتاب میں لکھے لفظوں کی مانند ہے جن میں کوئی رد و بدل نہیں ہو سکتی، تم سے محبت وضو کی طرح ہے جس کی ایک سنت بھی قضا ہو تو وضو نامکمل ہی رہتی ہے، تم سے محبت فرض نماز کی طرح ہے، پڑھو تو سکون اور اگر ترک کر دو تو بےسکونی، ”
وہ اب سماہر کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر چکا تھا جبکہ سماہر رونا بھول کے اسے سن رہی تھی اب۔
” سجدوں میں گڑگڑا کے، اپنے رب سے مانگنے والی سماہر سے میں نفرت کیونکر کروں گا ؟؟ ”
وہ لبوں سے اس کے آنسو چننے لگا۔ سماہر کو اس کا لفظ لفظ معتبر کر گیا تھا۔ اس کے دونوں ہاتھ میران نے اپنے ہاتھوں میں لیے تھے، اس کے ہاتھ کی کلائی پہ خون کے کچھ قطرے تھے، اس کی کلائی پہ لب رکھے تھے میران نے اور پھر سے سماہر کو دیکھنے لگا۔
” تمہاری سانسیں میری امانت ہے سماہر، تم خیانت کرنے لگی تھی؟؟ ”
سماہر لب کاٹنے لگی۔
” مجھے لگا کہ میں تمہیں کھو چکی ہوں، پھر ان سانسوں کی کیا اہمیت میرے قریب ”
” مجھے معاف کر دو جان میران، تمہاری آنکھوں میں ان آنسوؤں کی وجہ بنا میں ۔ ”
میران نے ان لبوں کو ہاتھ کے انگوٹھے سے رب کرتے کہا تھا۔
” تم زخمی تھے ، مجھے لگا کہ ۔۔۔ میں کچھ سوچ ہی نہی پائی، میں کچھ سمجھ ہی نہیں پائی، مجھے سمجھ ہی نہیں آئی کہ میں کیسے وہاں پہنچی، کیسے یہ سب ۔ ”
” ہشششششش ”
میران نے اس کے لبوں پہ اپنے لب رکھے تھے۔
” کچھ مت کہو، ”
وہ خاموش ہو کے آنکھیں موند گئی تھی جبکہ میران نے اسے بانہوں میں بھرا تھا اور اسے بیڈ پہ لا کے، نرمی سے بٹھا کے خود اس کے پاس ہی بیٹھ گیا ۔
” فرسٹ ایڈ باکس کہاں ہے ؟؟”
وہ سوال کر رہا تھا جبکہ سماہر سائیڈ ٹیبل کے دراز کی طرف اشارہ کرنے لگی ۔ میران نے جھک کے دراز کھولی تھی اور وہ چھوٹا سا باکس نکالا تھا جس میں کچھ بیبڈجز تھے اور کچھ میڈیکل کا سامان تھا۔ میران نرمی سے اس کی کلائی سے خشک ہوئے خون کو صاف کرنے لگا جبکہ سماہر اسے دیکھے گئی، کشادہ ماتھے پہ بکھرے بال اسے کس قدر وجیہہ بنا رہے تھے کہ سماہر منتشر ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ اسے دیکھنے لگی۔ یہ وجیہہ مرد اس کا تھا، وہ مکمل سماہر کا تھا، وہ سماہر کا نصیب تھا، کتنی خوش نصیب تھی وہ۔ اس کے زخم پہ بینڈج باندھ کے، میران نے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا تھا اور زیر لب مسکرا دیا تھا۔
” اتنا دیکھو گی تو پھر سے عشق کر بیٹھو گی”
سماہر ہلکا سا مسکرائی تھی لیکن نظریں پل بھر کے لئے بھی اس شخص سے نہیں ہٹی تھی۔
” عشق دل کا سجدہ ہے اور میں یہ سجدہ روز کرتی ہوں اور میرے ہر دن کی ابتدا اور انتہا اسی عشق پہ قائم ہے جو مجھ سے کھبی قضا نہیں ہوتی میران ارتضی ملک ”
جذب کے عالم میں کہہ رہی تھی وہ، جبکہ میران کی آنکھوں میں، اس کی محبت کا خمار سا چڑھا تھا۔
” میں مغرور سا ہونے لگا ہوں ”
” اگر یہ غرور ہے میرے عشق کا، تو تم پہ یہ غرور جچتا ہے ”
سماہر کس قدر والہانہ انداز میں عشق کو بیان کرتی ہے، میران اسے دیکھتے، سوچے گیا۔ شاید سماہر کے لئے میران اور میران کے لئے سماہر بہترین لکھے جا چکے تھے، تبھی ایکدوسرے کا نصیب بنا تھے، میران جیسے ادھورے انسان کو مکمل ہی سماہر نے کیا تھا اور سماہر جیسی نرم مزاج انسان کو میران نے اپنے عشق سے مکمل کیا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
رات کے گیارہ بج رہے تھے، ماریہ اپنے بالوں کا جوڑا بناتی، خود کو ڈریسنگ ٹیبل کے مرر میں دیکھ رہی تھی، اس کی گردن پہ ابھی بھی میران کی انگلیوں کے نشانات تھے، اس کے لب ہلکا سا مسکرائے تھے اور نرمی سے ہاتھ کی ہتھیلی ان نشانات پہ پھیری تھی۔
” میران ارتضی ملک، تمہارا یہ درد بھی میٹھا سا لگ رہا ہے مجھے ”
لب دانتوں تلے دباتی وہ ہنسنے لگی جب دروازے پہ ہوتی بیل نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا، وہ اپنے بالوں کو جھٹکے سے، کندھے پہ پھیلاتی دروازے تک گئی تھی، دشاب ملک کو دیکھ کے اس نے، اپنی نائٹی کو ٹھیک کیا تھا جس سے، اس کے بدن کے نشیب و فراز نمایاں ہوئے تھے۔ دروازہ کھول کے وہ ادائے بےنیازی سے اسے دیکھنے لگی۔
” دشاب ملک ۔۔۔ مائی لو ”
دشاب ملک لب بھینچے داخل ہوئے تھے تو وہ بھی دروازہ بند کر کے، اس کے پیچھے ہی آئی تھی۔
” کیسے آنا ہوا سرکار ؟؟”
ان کے ہاتھوں میں موجود سیاہ گلوز کو دیکھتی وہ پوچھ رہی تھی جبکہ وہ کنپٹی سہلاتے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔
” بہت ضروری کام سے آیا ہوں”
” مجھ سے کیا ضروری کام پڑ گیا ہیں آپ کو ”
وہ مسکراتی،بالوں کو ایک کندھے سے دوسرے کندھے پہ ڈالتی پوچھنے لگی جبکہ دشاب ملک کے چہرے پہ خفیف مسکراہٹ ابھری تھی، اس کا ہاتھ تھام کے، اسے کھینچ کے اپنے قریب کر چکے تھے جبکہ ماریہ ان کے سینے پہ اپنی شہادت کی انگلی پھیرنے لگی۔
” دشاب ملک اس قدر شدت، آپ کی گرفت میں ”
جبکہ دشاب ملک نرمی سے اس کی گردن پہ ہاتھ پھیرنے لگے کہ ماریہ آنکھیں بند کر گئی تھی اور گہرا سانس لیتی وہ آنے والے حسین لمحوں کے لئے خود کو آمادہ کرنے لگی، دشاب ملک اسے دھکا دیتے صوفے پہ گرا چکا تھا، بند آنکھوں کے ساتھ ماریہ مسکرائی تھی، جب اچانک دشاب ملک نے اس کی گردن دبوچی تھی اور ماریہ آنکھیں کھول کے حیران آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی، جن کے چہرے پہ سرد مہری تھی اور آنکھیں سرخ ہو رہی تھی، وہ اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتی، دشاب کو خود پر سے اٹھانے کی کوشش کرنے لگی لیکن اس کی گردن پہ دشاب کی گرفت کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا یہاں تک کہ ماریہ کی آنکھیں باہر آنے کو ہوئی تھی۔
” مکار، ذلیل عورت، میرا گھر،میری زندگی برباد کر دی ہے تم نے، میرے بیٹے مجھ سے نفرت کرتے ہیں صرف تمہاری وجہ سے، تمہاری باتوں میں آ کے میں نے اپنا سب کھو دیا، تم وہ ناگن ہو جو صرف ڈسنا جانتی ہو لیکن میں تمہیں ختم کر دوں گا، نہیں رہنے دوں گا تمہیں زندہ ”
وہ کہہ رہے تھے جبکہ ماریہ کی سانسیں دم توڑنے لگی تھی، اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تھا ذہن تاریکیوں میں ڈوب رہا تھا، جوں جوں دباؤ اس کی گردن پہ بڑھ رہی تھی ویسے ہی اس کی سانسیں مدھم پڑ کے خاموش ہو گئی، اس کے دونوں ہاتھ جو خود کو نجات دلانے کی کوشش میں تھے اب وہ دونوں ہاتھ بےجان ہو کے اس کے پہلو میں گرے تھے، دشاب ملک نے اس کے گردن کی شہ رگ پہ انگلی رکھ کے چیک کی تھی، وہ مر چکی تھی، دشاب ملک پیچھے صوفے پہ جا گرے تھے اور ساکت نظروں سے، ماریہ کے بےجان وجود کو دیکھ رہے تھے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
Forced Marriage Novels
یہ رہی ایپسوڈ، ہمیشہ کی طرح شئیر کریں، لائک کریں اور کمنٹس کر کے اپنے بہترین ریسپانس سے نوازے اپنی رائٹر کو۔اور کچھ ریڈرز کو لگتا ہے کہ شاید رائٹر انسان نہیں ہے بلکہ روبوٹ ہے، وہ نہ بیمار ہوتی ہے نہ ان کو کوئی کام پیش آ سکتا ہے، تو ان سے یہی کہوں گی کہ اپنے لائکس کا احسان مند نہ بنائے مجھے، محنت کر کے ایپسوڈ لکھتی ہوں، پوسٹ کرتی ہوں تو احسان کر کے لائک نہ دیا کریں مجھے ، اگر آپ میری محنت کو دیکھتی ہے،پڑھتی ہے تو لائکس مجھے سراہنے کے لیے کریں، احسان کے طور پہ نہیں۔۔۔ 🙂🙂
باقی بہت سا پیار آپ سب کے لئے 🥰
خوش رہیں 🖤
سب سے پہلے شئیر کریں اور پھر ریڈ کریں، لائک کریں اور کمنٹس کر کے اپنا بہترین ریسپانس دیں 🥰🥰
آپ کی رائٹر منتظر ہیں آپ کے خوبصورت ریسپانس کا ❤😍
بہت سارا پیار ❤
خوش رہیں 😊🖤
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
One thought on “Ada e Ishq hn – Episode 21 22 & 23 Season 02”