#Novel_By_Malayeka_Rafi

#ادائے_عشق_ہوں

#ایپسوڈ_18
#Season_2

” یہ لیں سائیں بی بی ۔۔ جیسا آپ نے کہا انتظام ہو گیا”
وہ جو کب سے کھڑی ” میران مینشن ” کے پچھلی طرف کے لان کے اس گوشے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی تھی کہ بلکل ویسا ہی بنا ہے، جیسا میران بنانا چاہ رہا تھا جب منان کاکا کی آواز پہ وہ چونک کے مڑی تھی، صبح میران کے آفس جاتے ہی، اس نے منان کاکا کو کال ملائی تھی کیونکہ وہ رات کو سن رہی تھی میران کو، جب بےحد دلگرفتہ سا وہ منان سے بات کر رہا تھا اور تب وہ یہاں ائی تھی پھر سے میران کو سرپرائز کرنے۔
” ان پھولوں کو کہاں رکھنا ہے سائیں بی بی ”
عمر میں وہ بڑے تھے سماہر سے، پھر بھی بےحد عزت دیتے تھے وہ اسے، چھوٹی سی عمر سے وہ منان کو دیکھتی آ رہی تھی لیکن سماہر ان کے لئے بہت قابل احترام تھی۔
” مجھے دے دیں منان کاکا ، میں رکھ دیتی ہوں ”
” ارے نہیں سائیں بی بی، آپ بتائیے میں رکھ دیتا ہوں”
منان نے سر نفی میں ہلاتے کہا تھا تو سماہر نے اشارے سے ٹیبل کی سائیڈ پہ رکھنے کو کہا تھا ۔
” وہاں رکھ دیں منان کاکا”
” یہ لیں۔۔۔ بےحد خوبصورت لگ رہا ہے ”
منان نے پسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔
” سچ میں ویسا ہی لگ رہا ہے ناں کاکا، جیسا میران چاہتا تھا ”
سماہر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔
” سائیں بی بی، میران سائیں کے لئے آپ کی محبت بےحد انوکھی ہے، اللہ سائیں آپ دونوں کی جوڑی کو سلامت رکھیں، میران سائیں نے بےحد محبت سے تیار کیا تھا سب ، بس اللہ سائیں غارت کریں اس عورت کو، جو سب خراب کر گئی ”
سماہر نے لب بھینچ لیے تھے ماریہ کے ذکر پہ، اور پھر سر جھٹک گئی تھی۔
” کوئی بات نہیں کاکا، اب بھی سرپرائز ہی ہے سب، آپ بس شام ہوتے ہی میران کو کال کر دیں، ”
” جو حکم سائیں بی بی ”
منان سر اثبات میں ہلاتا وہاں سے جا چکا تھا جبکہ سماہر ایک بار پھر سے ساری تیاری دیکھنے لگی اور پھر لب دانتوں تلے دبا گئی ۔
” پرفیکٹ ”
وہ مسکراتی وہاں سے اندر کی جانب بڑھنے لگی کہ اس کا ارادہ ابھی کچھ دیر آرام کرنے کا تھا اور پھر اٹھ کے تیار ہونا تھا اسے، اپنے میران کے لئے سجنا تھا اسے سر تا پیر۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” ماریہ کیا کر رہی ہے پاکستان میں؟؟”
وقاص ملک کی اواز پہ، ٹائی کی ناٹ بناتے دشاب ملک کے ہاتھ رکے تھے اور ابرو اچکا کے اپنے بھائی کو دیکھا تھا۔
” کیا مطلب ؟ ماریہ کیا کر رہی ہے پاکستان میں؟”
” تم اچھی طرح سے جانتے ہو کہ میری بات کا مطلب کیا ہے ؟”
وقاص ملک نے سرد لہجے میں کہا تھا جبکہ دشاب سر جھٹک کے اپنا کوٹ پہننے لگے ۔
” کل رات وہاں میران اور سماہر کے سامنے جو بھی ہوا، اگر ذرا سی بھنک بھی میڈیا کو پڑ جاتی اور اگر میران یا سماہر کو کچھ بھی ہو جاتا تو دشاب سمجھ لو کہ اس وقت تم اپنے پیروں پہ کھڑے نہ ہوتے ”
وقاص ملک غرایا تھا جبکہ دشاب ملک کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے۔
” تم مجھے دھمکی دے رہے ہو ، ہوش میں تو ہو تم ”
دشاب ملک نے دانت پیسے تھے ۔
” تم جو کچھ کر چکے ہو میران کے ساتھ ماضی میں اور جس طرح سے اپنی سیاست کی کرسی سنبھالنے کے لئے میران کو اس عورت کے ہاتھ بیچا تھا، تم شاید بھول گئے ہو لیکن مجھے ابھی تک یاد ہے ، میران کو میں نے اس سے نجات دلوائی ہے، اس بچے کو میں نے بچایا تھا اس عورت کی شر سے، میران میری اولاد ہے، تم باپ ہوتے ہوئے بھی، اسے یتیم ہی ٹھہرا چکے تھے، اسے میں نے پالا ہے، اگر اب ایسا کچھ بھی ہوا میران کے ساتھ، ماریہ نے کچھ بھی غلط کرنے کی کوشش کی اس کے ساتھ تو جان لو کہ تمہارے مقابل میں کھڑا ہونگا اور میرے ہاتھ تمہارے گریبان پہ ہونگے۔۔۔ ”
دشاب ملک لب بھینچے انہیں دیکھ رہے تھے جبکہ وقاص ملک نے شہادت کی انگلی ان کی طرف اٹھائی تھی۔
” میران سترہ سال کا بچہ نہیں ہے کہ اسے ماریہ کے آگے بچھا دو یا اس کی قیمت لگاؤ، میران کو چوٹ بھی پہنچی تو اپنے مقابل مجھے پاؤ گے۔ اپنی گندگی میران کے دامن پہ نہیں مل سکتے تم دشاب”
” تم خود کیا چیز ہو جو مجھے گندگی کا ڈھیر کہہ رہے ہو، ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری بیوی کے پیچھے لگے ہوئے تھے۔ ”
دشاب چلایا تھا۔
” میں نے شادی کی تھی، تمہاری طرح دوسری عورت کے منہ میں اپنی اولاد نہیں پھینک آیا تھا”
وقاص ملک نے طنزیہ لہجے میں کہا تھا جب دشاب کی نظر پیچھے کھڑے ازمائر پہ پڑی تھی جو حیران آنکھوں سے انہیں دیکھ رہا تھا ۔ وقاص بھی پیچھے مڑے تھے ۔
” ازمائر ۔۔۔۔ ”
دشاب ملک کے لب ہلے تھے۔
” تم کب آئے بیٹا؟”
دشاب نے مسکرانے کی کوشش کی تھی جبکہ ازمائر لب بھینچے سنجیدگی سے انہیں دیکھ رہا تھا۔
” ہاں دیکھنے آیا تھا کہ ایک باپ کس حد تک گر سکتا ہے ”
دشاب نے لب بھینچے تیز نظروں سے وقاص ملک کو دیکھا تھا۔
” میں میران سے نفرت کرتا ہوں کیونکہ وہ میرا اسٹیپ براڈر ہے، اس سے نفرت کرتا ہوں کیونکہ ہمارے بیچ بہت اختلافات ہیں اور ہم نفرت کی آخری حد تک آ پہنچے ہیں لیکن آپ کا تو سگا بیٹا ہے، آپ کی سگی اولاد، اپنی اولاد کی قیمت لگائی ہے ”
ازمائر سرد لہجے میں کہہ رہا تھا جبکہ دشاب گڑبڑائے تھے۔
” ازمائر بیٹا میں تو ۔۔۔۔ یہ سب جھوٹ ہے ، الزام ہے، میں تو بس وہ سب ایک بزنس فائل پہ سائن۔۔۔۔ ”
” کیسے باپ ہے اپ؟ ”
ازمائر نے ان کی بات کاٹی تھی۔
” اپنے بیٹے کی قیمت لگا چکے تھے آپ؟؟ اپنے ہی بیٹے کو بیچ دیا تھا ”
ازمائر اچانک ڈھارا تھا جبکہ دشاب ملک سن ہو گئے تھے۔
” زندگیاں برباد کر چکے ہیں آپ اپنے اس سو کالڈ سیاست کی وجہ سے ۔ اپ کی سگی اولاد برباد ہو کے رہ گئی ہے، چاہے وہ میران ہو یا پھر میں، ہم سب برباد ہو چکے ہیں آپ کی سو کالڈ سیاست نے سب ختم کر دیا ہے ”
” ہو گئی تسلی وقاص ؟؟ کر دیا میرے بیٹے کو میرے خلاف۔۔ خوش ہو اب ؟”
دشاب، وقاص کو دیکھ کے بولے تھے جبکہ ازمائر ہنس پڑا تھا۔
” میں آپ کے خلاف ؟؟؟ میں آپ کے ساتھ تھا ہی کب ؟؟ آپ صرف اپنے مفاد کے لئے اولاد کو استعمال کرتے ہیں، یہ جو کرسی ہے ناں، اس کے لئے آپ اپنی اولاد کی قربانی دینے کو تیار ہے۔۔ افسوس ہے مجھے آپ پہ، بےحد افسوس ”
ازمائر نے اپنی بات کے اختتام پہ، سر سے پاؤں تک انہیں دیکھا تھا اور پھر نظریں پھیر کے کمرے سے باہر نکلا تھا، وقاص بھی تاسف سے سر ہلاتے کمرے سے نکلے تھے جبکہ دشاب ملک لب بھینچے ساکت نظروں سے اس کھلے دروازے کو دیکھ رہے تھے، نظریں ساکت تھی لیکن دل ڈوب رہا تھا۔ جیسے تپتے صحرا میں وہ خالی ہاتھ رہ گئے ہو۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

لان میں آتے ہی اس کی نظر گاڑی کی طرف اٹھی جس میں مائزہ ڈرائیور کے ساتھ کہیں جا رہی تھی، ازمائر بھی اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تھا اور تیزی سے بیٹھ کے وہ بھی گاڑی آگے بڑھا لے گیا، وہ مائزہ کی گاڑی کا پیچھا کر رہا تھا، مائزہ کی گاڑی ایک کلینک کے سامنے رکی تھی اور وہ نیچے اتر کے کلینک میں جا چکی تھی جبکہ ازمائر بھی گاڑی سے اتر اس کے پیچھے ہی کلینک آیا تھا۔ کوریڈور سے گزر کے اس نے جیسے ہی ڈاکٹر زینب کے کمرے کا دروازہ کھولا ہی تھا جب بات کرتے دونوں نے چونک کے اسے دیکھا تھا، مائزہ کی آنکھوں میں حیرت در آئی تھی جبکہ ڈاکٹر زینب مسکرا کے اسے دیکھنے لگی۔
” ارے مسٹر ازمائر، آپ بھی آئے ہیں ”
ازمائر ہلکا سا مسکرایا تھا، نظریں مائزہ پہ گئی تھی جبکہ اس نے نظریں پھیر لی تھی ۔
” آئیے مسٹر ازمائر ، آپ بھی دیکھئیے اپنے بےبی کو ”
ڈاکٹر زینب کی آواز پہ وہ چونکا تھا جبکہ مائزہ اس کے سامنے کترانے لگی لیکن زینب کے سامنے وہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی، تبھی نظریں چراتی وہ بیڈ پہ لیٹنے لگی جبکہ ڈاکٹر زینب اس کی شرٹ ہلکا سا اوپر کر چکی تھی ۔
” یہ دیکھ رہے ہیں آپ مسٹر ازمائر، بےبی نظر آ رہا ہے آپ کو ؟؟ ”
ازمائر اب اسکرین کو غور سے دیکھنے کی کوشش کرنے لگا لیکن اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی، تب ڈاکٹر زینب نے اسکرین پہ اپنی شہادت کی انگلی رکھ کے اشارہ کیا تھا۔
” یہ دیکھئیے ، he is moving Mashallah
یہ اس کا ہارٹ ہے اور یہ ننھا سا بےبی”
ازمائر کی آنکھیں دھندلانے لگی، آنسو جیسے خود ہی جمع ہونا شروع ہوئے تھے اس کی آنکھوں میں، اس نے ہاتھ سے اپنی آنکھوں کو رگڑا تھا تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے جمع ہوتے آنسوؤں کو صاف کر سکے، مائزہ جو اس سے نظریں چرا رہی تھی، اب وہ اسے دیکھنے لگی۔ اسے حیرت ہوئی تھی ازمائر کو یوں روتا دیکھ کے۔ اس کا دل بھی اس لمحے نرم پڑا تھا اور وہ لب کاٹتی اسے دیکھنے لگی۔ اس لمحے وہ بےحد نرم دل ازمائر لگا تھا اسے، وہی پرانا ازمائر جو ہمیشہ اسے دوست کا درجہ دیتا تھا۔
” اب یہ آپ کا کام ہے مسٹر ازمائر کہ مائزہ کا بہت سارا خیال رکھے کیونکہ اس ٹائم پیریڈ میں ایک عورت کو اپنے ہزبینڈ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ”
زینب اٹھ کے اپنی سیٹ کی طرف آئی تھی جبکہ ازمائر ، مائزہ کو نیچے اترنے میں مدد دینے لگا، مائزہ نے اپنا ہاتھ کھینچنا چاہا لیکن ازمائر نے اپنی گرفت اس کے ہاتھ پہ مضبوط کی تھی اور وہ لب بھینچے نیچے اتری تھی۔
” یہ کچھ میڈیسن لکھی ہے میں نے، یہ سب وٹامنز اور کیلشیم ہیں جو آپ کی وائف اور بےبی کی ہیلتھ کے لئے بیسٹ ہے ۔ مسٹر ازمائر میں کہہ رہی ہوں کہ اپنی وائف کا بہت خیال رکھنا ہے ”
زینب مسکرا کے ازمائر سے بات کر رہی تھی جبکہ مائزہ لب بھینچے کھڑی تھی، دل کر رہا تھا کہ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھینچ کے، اسے دھکا ہی دے دیں، لیکن خاموش ہی رہی۔ مگر وہاں سے نکل کے، مائزہ نے زور سے ہاتھ کھینچ کے، خود کو اس سے الگ کیا تھا جبکہ ازمائر لب بھینچے اسے دیکھنے لگا ۔
” کیا مسئلہ ہے مائزہ ”
” زیادہ چپکنے کی ضرورت نہیں ہے ”
مائزہ کے انداز پہ، اس نے بھرپور گھوری دی تھی مائزہ کو۔
” سنا نہیں تھا کہ ڈاکٹر کیا کہہ رہی تھی کہ اپنی وائف کا خیال رکھو۔ ”
” ڈاکٹر کو کیا معلوم کہ وہ ایک درندے کے حوالے کر رہی ہے مجھے ”
مائزہ سپاٹ لہجے میں کہتی آگے بڑھی تھی جبکہ ازمائر نے لب بھینچے اس کی پشت گھوری تھی اور پھر لمبے ڈگ بھرتا اس کے قریب پہنچا تھا، اس کا بازو پکڑ کے، اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا۔
” کیا کہا تم نے، کہ میں درندہ ہوں ”
مائزہ نے سر سے پاؤں تک اسے دیکھا تھا۔
” دیکھ تو رہی ہوں میں ”
ازمائر نے گہرا سانس لے کے، اس کا بازو چھوڑا تھا۔
” ایم سوری ۔۔ ”
” تم کھبی نہیں سدھر سکتے ”
سر جھٹک کے، وہ آگے بڑھی تھی جبکہ ازمائر بھی اس کے پیچھے ہی آیا تھا، اس کا بازو نرمی سے تھام کے، اسے اپنی گاڑی کی طرف لے جانے لگا ۔
” مجھے تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانا ۔ ”
وہ ناگواری سے کہتی اپنا ہاتھ چھڑا کے گاڑی کی طرف بڑھی تھی جبکہ ازمائر بھی اس کے پیچھے ہی آیا تھا، مائزہ جیسے ہی گاڑی کے فرنٹ سیٹ پہ بیٹھی تھی، جب ازمائر ڈرائیور کو اشارہ کرتا، گاڑی کے ڈرائیونگ سیٹ پہ آ بیٹھا تھا جبکہ ڈرائیور ازمائر کی گاڑی کی طرف بڑھا تھا۔
” یہ کیا بدتمیزی ہے ”
مائزہ غصے سے کہتی گاڑی کا دروازہ کھولنے لگی لیکن اس سے پہلے ہی ازمائر گاڑی کو لاک کر چکا تھا۔
” کیا کرنا چاہ رہے ہو تم ازمائر ”
مائزہ چلائی تھی جبکہ ازمائر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔
” کیوں کر رہے ہو میرے ساتھ ایسا ”
وہ پھر سے چلائی تھی اور ساتھ ہی اس کے بازو پہ اپنے ناخن گاڑے تھے۔
” آؤچ، مائزہ کیا کر رہی ہو تم یار ”
گاڑی چلاتے ازمائر نے اسے ایک نظر دیکھا تھا اور پھر سے نظریں روڈ پہ کی تھی۔
” بدتمیز، گاڑی روکو، مجھے تمہارے ساتھ نہیں جانا کہیں ”
مائزہ کی تیز آواز پھر سے گونجی تھی ۔
” مجھے درندہ کہنے والی، خود کو بھی دیکھ لو اب ”
ازمائر نے جتلانے والے انداز میں کہا تھا جبکہ مائزہ نے دونوں ہاتھوں کا زور لگا کے، اسے دھکا دیا تھا جبکہ وہ گاڑی کو ایکسیڈنٹ سے بچانے کی کوشش کرتا سنبھلا تھا۔
” کیا کر رہی ہو تم مائزہ، ایکسیڈنٹ کروانا ہے کیا ”
ازمائر جھنجھلایا تھا جبکہ مائزہ اسے گھورنے لگی۔
” ہو جائے ایکسیڈنٹ، مر ہی جاؤں تو بہتر ہے، تمہارے ساتھ یہاں رہنے سے بہتر ہے کہ میں مر جاؤں ”
گاڑی سائیڈ پہ روک کے، ازمائر نے اس کے لبوں کو اپنے لبوں سے چند لمحوں کے لئے قید کیا تھا اور پھر اس سے الگ ہوتا وہ مائزہ کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھنے لگا۔
” اب مرنے کی بات کر کے دکھاؤ تم ”
مائزہ آنکھوں میں حیرت اور نفرت لیے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ ازمائر پھر سے گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا، مائزہ کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو گئی تھی۔
” تم بہت برے ہو ازمائر، بہت زیادہ برے ہو ”
مائزہ بھرائی آواز میں کہتی، پھر سے سامنے دیکھنے لگی جبکہ ازمائر یونہی گاڑی چلاتا رہا، مائزہ کی بھرائی آواز نے اس کے دل کو جیسے اپنی گرفت میں کر لیا تھا لیکن وہ یونہی گاڑی چلاتا رہا۔ وہ پشیماں تھا، پھر سے سب ٹھیک کرنا چاہتا تھا، لیکن مائزہ اس سے نفرت کا اظہار کرتی تھی ہمیشہ اور وہ خاموش ہو جاتا۔
مائزہ خاموش ہو گئی تھی لیکن خاموش آنسو اس کی گالوں پہ بہہ رہے تھے۔ وہ اس قدر اپنی سوچوں میں گم تھی کہ وہ یہ تک نہ دیکھ سکی کہ گاڑی کسی دوسرے راستے سے ہو کے جا رہی ہے ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

وہ جیسے ہی ” میران مینشن ” میں داخل ہوا تھا تو اس کے قدموں میں، قالین کے مانند بکھرے پھولوں نے اس کا استقبال کیا تھا، وہ حیران سا چاروں طرف دیکھنے لگا، لاؤنج میں جگہ جگہ موم بتیاں جلائی گئی تھی، جن کی مسحور کن خوشبو چار سوں بکھر رہی تھی۔ اس کے لبوں پہ مبہم مسکراہٹ بکھری تھی، جہاں جہاں پھول بکھرے ہوئے تھے، میران وہیں سے قدم آگے بڑھا رہا تھا جب بڑے سے گلاس ڈور کے سامنے رک کے، اس نے باہر دیکھا تھا، لان کے اس گوشے کو پھر سے بےحد رومینٹک انداز میں سجایا گیا تھا جس طرح سے اس نے سجایا تھا اور ایک لمحے میں سب خاک بھی ہو چکا تھا۔ اس کی متلاشی نظروں نے سماہر کو ڈھونڈ رہی تھی لیکن وہ میران خو نظر نہ آئی تو قدم آگے بڑھا کے وہ باہر آیا تھا لیکن سماہر اسے پھر بھی نظر نہ آئی۔ وہ بےچین سا ہر طرف سماہر کو ڈھونڈنے لگا۔ وہ رکا تھا جب اچانک اس کے چہرے پہ خوشبوؤں میں بسا آنچل لہرایا تھا، آنکھیں موند کے اس نے خوشبو کو اپنی سانسوں میں بسایا تھا۔ اس آنچل میں سماہر کی بھینی خوشبو بسی تھی۔
” سماہر ”
وہ مڑا تھا لیکن سماہر کھلکھلاتی اپنا آنچل لہراتی، پیچھے قدم رکھنے لگی۔ سفید رنگ کی ساڑھی میں، وہ جنت سے اتری کوئی حور ہی لگ رہی تھی، جس کے بےپناہ حسن سے میران کی آنکھیں خیرہ ہو رہی تھی، وہ آگے بڑھا تھا اسے تھامنے کے لئے، لیکن سماہر کھلکھلا کے ہنستی، اس سے دور ہوئی تھی۔
” سماہر کیا یار ۔ ”
وہ بےچین سا ہو کے اس کے پیچھے چلنے لگا۔
” کیا کیا میران ؟”
وہ کھلکھلائی تھی جبکہ میران زیر لب مسکرانے لگا۔
” ایسے کیوں تنگ کر رہی ہو مجھے ”
” کیونکہ مجھے اچھا لگ رہا ہے تمہیں تنگ کرنا ”
سماہر پھر سے کھلکھلائی تھی۔
” مجھے ایسے تڑپانا تمہیں اچھا لگتا ہے ؟”
میران اس کے پیچھے پیچھے ہی چل رہا تھا۔
” بلکل ۔۔۔ ”
اپنا سفید آنچل لہرا کے، وہ گھومی تھی۔
” لیکن میں تمہیں بانہوں میں بھرنا چاہتا ہوں ”
میران کی آواز میں چھپی خواہشیں تھی وہ مسکرانے لگی ۔
” تو آ کے بھر لو مجھے بانہوں میں ”
میران کے چہرے پہ بارش کی نمی محسوس ہوئی تھی، بارش کی چند بوندیں سماہر کے چہرے پہ گری تو وہ سر اٹھا کے آسمان کو دیکھنے لگی۔
” مجھے بارش ہمیشہ سے پسند رہی ہے میران ”
” اور مجھے تم ”
وہ رکی تھی اور اچانک سے میران نے آگے بڑھ کے، اسے کمر سے تھام کے اپنے قریب کیا تھا جبکہ سماہر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” مجھے تنگ کرنا اچھا لگتا ہے تمہیں؟”
میران نے اس کے دلکش چہرے پہ، بارش کی چند بوندوں کو اپنے ہاتھ کی پشت سے چھوا تھا۔
” تمہاری بےچینیاں مجھے اچھی لگتی ہے ”
سماہر گنگنائی تھی۔ میران نے جھک کے، اس کے ڈیپ گلے سے نظر آتے کندھے پہ اپنے لب رکھے تھے۔ سماہر نے آنکھیں موند کے اس لمس کو خود میں جذب کیا تھا۔ وہ پھر سے سماہر کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں یہ سب پلان کر چکا تھا۔؟”
” وہ سماہر ہی کیا، جو اپنے میران کو نہ جانتی ہو ”
سماہر کے محبت بھرے انداز پہ، اس نے ایک ابرو اچکا کے اسے دیکھا تھا۔
” ناٹ بیڈ ”
” آہہہ۔۔ ”
سماہر نے بھی ایک ابرو اچکا کے اسے دیکھا تھا۔
” بارش ہو رہی ہے میران ”
وہ آسمان کو دیکھتی کہنے لگی جہاں بارش کی بوندیں تھوڑی تیز ہوئی تھی جبکہ میران گھمبیر نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا، اس کی گردن پہ بارش کی بوندیں پھسل رہی تھی جو سر اوپر اٹھانے پہ زیادہ واضح دکھائی دے رہے تھے۔
” تمہیں کچھ محسوس ہو رہا ہے میران ؟”
وہ اب میران کو دیکھ رہی تھی جبکہ میران اس کے لبوں پہ خم ہوا تھا، اپنی محبت کی مہر ثبت کر کے، وہ سماہر کی آنکھوں میں دیکھنے لگا جہاں حیا اور محبت کے حسین رنگ بکھرے ہوئے تھے۔
” میرے احساسات کو تم خود سے پڑھ لو سماہر”
اس کے گردن پہ بکھری بارش کی بوندوں کو اس نے ہلکا سا ہاتھ سے چھوا تھا جبکہ سماہر کسمسائی تھی۔
” اچھا چلو دیکھتے ہیں کیا کیا تیاریاں کی ہیں میری بیگم نے ”
میران اس کی نازک کمر کے گرد بازو حائل کر کے، قدم آگے بڑھا دیے تھے جبکہ اس نے مسکرا کے اسے روکا تھا، میران سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
” بارش میں بھیگتے ہیں۔ ”
میران نے اس کے لبوں پہ اپنے ہاتھ کا انگوٹھا پھیرا تھا جبکہ سماہر نے اس کے سینے پہ دونوں ہاتھ رکھ کے، اسے دھکا دیا تھا اور اس سے دو قدم پیچھے ہو کے، کھلکھلاتی ڈوری تھی جبکہ میران نے تو پہلے نہیں سمجھا اور پھر ہنستا اس کے پیچھے ڈور لگا دی تھی ۔
” رکو تم ۔۔۔۔ ”
لان کے اس گوشے میں، وہ دونوں وجود بارش میں بھیگتے ایکدوسرے کے پیچھے ڈور رہے تھے، ہنس رہے تھے جبکہ ان کی کھلکھلاہٹ سے اس لان کا گوشہ گوشہ کھل رہا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

#Novel_By_Malayeka_Rafi

#ادائے_عشق_ہوں
#ایپسوڈ_19
#Season_2

” یہ راستہ گھر کو نہیں جا رہا ”
اس سوچ کے آتے ہی وہ اچھلی تھی اور ازمائر کو دیکھنے لگی۔
” یہ کون سا راستہ ہے؟”
” تو تم ابھی تک سو رہی تھی جو ابھی خیال آیا راستے کا ”
ازمائر نے دوبدو جواب دیا تھا جبکہ مائزہ نے لب بھینچ لیے تھے۔
” میرا بلکل بھی موڈ نہیں تم سے بحث کا، مجھے گھر جانا ہے ”
شام کے سائے بھی پھیل چکے تھے اور بارش بھی دھیرے دھیرے تیز ہو رہی تھی۔
” یہ گاڑی بلکل بھی گھر نہیں جا رہی اور نہ ہم گھر جا رہے ہیں ”
ازمائر کا انداز پرسکون تھا جبکہ مائزہ چونکی تھی۔
” کیا مطلب ؟”
” مطلب یہ کہ ہم کہیں اور جا رہے ہیں ”
ازمائر نے کندھے اچکا کے جواب دیا تھا۔
” تم پاگل ہو، دماغی مریض ہو، مجھے گھر جانا ہے ”
وہ چلائی تھی، ایک تو آج کل اسے غصہ بھی بہت زیادہ آتا تھا آج کل، خود پہ، اپنے حالت پہ اور اس شخص پہ ۔
” چلاتی کیوں ہو تم اتنا ، گلا پھاڑنا ہے اپنا کیا تم نے ”
ازمائر نے ایک نظر اسے دیکھ کے، پھر سے سامنے روڈ پہ کی تھی، جو بلکل سنسان سڑک سے جا رہی تھی، سڑک کے دونوں طرف گھنے جنگل تھے جبکہ گاڑیوں کی گزر وہاں سے کم ہی تھی۔
” انتہائی بدتمیز انسان ہو، اپنی بیوی کو کڈنیپ کر رہے ہو تم ”
مائزہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ گاڑی سے نیچے کود جائے۔
” بیوی کو خوش ہونا چاہئے ویسے، کہ اس کا اتنا گڈ لکنگ ہزبینڈ اسے کڈنیپ کر رہا ہے ”
ازمائر نے شرارت سے آنکھ ونک کی تھی۔
” مجھے تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانا ازمائر، تمہارے ساتھ کہیں بھی جانے سے بہتر ہے کہ یہیں موت کو گلے لگا لوں، اس لئے گاڑی گھر کی طرف کر دو، مجھے گھر جانا ہے تمہارے ساتھ مجھے ۔۔۔۔۔ ”
اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی جب اچانک گاڑی کا انجن بند ہوا تھا اور گاڑی رک گئی تھی جو بار بار ازمائر کی کوشش کی باوجود بھی اسٹارٹ نہیں ہوا تھا۔ مائزہ نے صدمے سے گنگ، شکی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی، ازمائر نے اسے گھوری سے نوازا تھا۔
” تم یہ تو نہیں سوچ رہی کہ میں نے بند کیا ہے انجن؟”
” شیطان سے اچھی امید رکھی بھی تو نہیں جا سکتی ”
مائزہ نے اسے سر سے پاؤں تک گھور کے جواب دیا تھا جبکہ وہ تاسف سے سر ہلانے لگا اور پھر سے گاڑی اسٹارٹ کرنے کی کوشش کرنے لگا لیکن بےسود ہی رہا ۔ گاڑی اسٹارٹ ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا، مائزہ جو اسے ہی دیکھ رہی تھی اچانک نفی میں سر ہلانے لگی ۔
” ن ۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ بلکل بھی نہیں۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ”
ازمائر نے رک کے اس کے سہمے ہوئے چہرے کو دیکھا تھا اور پھر تھوڑا نرم ہوا تھا۔
” مائزہ پلیز ریلیکس ۔۔ میں ہوں نا ”
” اسی بات کا تو افسوس ہے کہ تم کیوں ہو ازمائر ”
مائزہ سپاٹ آنکھوں سے اسے دیکھتی بولی تھی، ازمائر نے لمحہ بھر کے لئے لب بھینچ لیے تھے ۔
” اور پلیز مجھ سے دور رہو ۔ اس ویران جگہ کا فائدہ اٹھانے نہیں دوں گی میں تمہیں ”
وہ کار ڈور سے لگ کے اسے دیکھنے لگی جبکہ ازمائر کے چہرے پہ سایہ سا لہرایا تھا۔
” میں اتنا گرا ہوا نظر آتا ہوں تمہیں مائزہ ؟؟”
اس کی آواز میں بےحد دکھ تھا ۔
” تم گرے ہوئے ہو ازمائر ”
مائزہ سخت لہجے میں کہتی رخ موڑ گئی تھی جبکہ ازمائر کچھ دیر اسے دکھ بھرے انداز میں دیکھتا رہا، جب وہ سب ٹھیک کرنے جا رہا ہے تو پھر بھی وہ یہ باتیں سن رہا یے، پھر بھی اس پہ مائزہ کو یقین نہیں ہے ۔ وہ بری طرح ہرٹ ہوا تھا لیکن سچ بھی تو یہی تھا کوئی اچھا امیج تو بنایا نہیں تھا اس نے اپنا مائزہ کے سامنے، کہ اسے تمغہ امتیاز پہناتی مائزہ۔ سر جھٹک کے وہ گاڑی سے نیچے اترا اور گاڑی کو چیک کرنے لگا جبکہ مائزہ خاموشی سے گاڑی میں بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی، جو بارش میں بھیگتا کھبی اپنی شرٹ جھاڑتا تو کھبی گاڑی کو چیک کرتا، نظر مائزہ پہ گئی تو وہی ٹھہر گئی اور مائزہ نے نظریں پھیر کے، لب بھینچے تھے کہ کچھ بھی ہو اسے اس شخص پہ بلکل یقین نہیں تھا۔ وہ واپس گاڑی میں آ کے بیٹھا تھا، مائزہ اس کے بیٹھتے ہی بےساختہ کار ڈور سے لگی تھی جسے ازمائر نے بھی نوٹ کیا تھا لیکن خاموش رہا اور موبائل پہ نمبر ملانے لگا لیکن سگنلز نہ ہونے کی وجہ سے کال نہیں مل رہی تھی۔
” شٹ ”
موبائل پھر سے ڈیش بورڈ پہ رکھتا وہ نیچے اترنے لگا ۔
” مجھے گھر جانا ہے ابھی کے ابھی، ”
ازمائر نے پلٹ کے اسے دیکھا جو منہ ہی پھیر گئی اور پھر خاموشی سے نیچے اتر کے وہ پھر سے گاڑی کا جائزہ لینے لگا لیکن اچانک اس کا ہاتھ جلا تھا اور ” سی” کر کے وہ اپنے ہاتھ، دوسرے ہاتھ سے پکڑتا پیچھے ہوا تھا، مائزہ جو اسے ہی دیکھ رہی تھی، اس کے چہرے پہ درد کے آثار دیکھ کے، وہ تیزی سے باہر نکل کے اس کے قریب آئی تھی۔
” کیا ہوا ؟”
اس کا جلا ہوا ہاتھ، دونوں ہاتھوں میں لے کے جائزہ لینے لگی، اس کے ہاتھ کی جلد سرخ پڑ گئی تھی۔
” کچھ ٹھیک کرنا بھی آتا ہے تمہیں یا بس خود کو نقصان ہی پہنچانا ہے ”
اس کے تیز لہجے پہ، ازمائر کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ آ ٹھہری تھی۔
” ہمیشہ غلط ہی کرتا ہوں اور اپنا نقصان کر دیتا ہوں ”
اس کے بوجھل آواز پہ، مائزہ نے چونک کے اسے دیکھا تھا، اس کی آنکھوں میں بےحد اداسی تھی، پچھتاوے کی پرچھائیاں تھی۔ وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، بارش میں بھیگ رہے تھے، شام کے گہرے ہوتے سائے سے بےخبر، جب اچانک بجلی چمکی تھی اور مائزہ بوکھلا کے اس کے سینے سے جا لگی تھی، وہ ڈر گئی تھی شاید، تبھی ازمائر نے اس کے کانپتے وجود کے گرد، اپنے بازوؤں کا گھیرا بنایا تھا۔
” م ۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔ ”
اس کی کانپتی آواز ابھری تھی اور ازمائر نے بےساختہ اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے۔
” ہشششششش میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا، ریلیکس رہو”
وہ مائزہ کو لے کے گاڑی میں بٹھا چکا تھا جبکہ اچانک مائزہ نے اس کا ہاتھ تھام کے اسے روکا تھا۔
” کہیں مت جاؤ ”
ازمائر نے نرم نگاہوں سے اسے دیکھا تھا، اسے افسوس ہوا تھا کہ وہ کیوں ایسے مائزہ کو یہاں لے آیا اگر اسے یا اس کے بچے کو کچھ ہو گیا، اگر اس کی حالت بگڑی اور ڈاکٹر بتا بھی چکا تھا اسے، کہ مائزہ کا خاص خیال رکھنا ہے کہ اس کی کنڈیشن کریٹیکل بھی ہو سکتی ہے اور یہ خیال رکھنا ہے اس کا، سر جھٹک کے اپنے ہاتھ پہ رکھے اس کے ہاتھ کو نرمی سے سہلایا تھا اس نے،
” میں بھی دوسری سائیڈ سے آ کے بیٹھ رہا ہوں” ۔
مائزہ کا ہاتھ، اس کی گود میں رکھ کے، وہ اس کی طرف کا دروازہ بند کر کے، دوسری طرف سے آ کے خود ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا تھا۔ بےحد سنجیدگی سے اس نے مائزہ کے چہرے کو دیکھا تھا، وہ خوفزدہ تھی، وہ ڈر رہی تھی، ازمائر نے آگے بڑھ کے اسے بانہوں میں بھر لیا تھا۔
” ایم سوری مائزہ، ایم سو سوری فار ایوری تھنگ ”
مائزہ اس کے سینے سے لگی آنکھیں موند گئی تھی۔
” پلیز معاف کر دو مائزہ، میں تمہیں کھبی نقصان نہیں پہنچایا چاہتا تھا، کھبی تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن نہ جانے مجھے کیا ہو گیا تھا کہ میں اچھے برے کی پہچان بھول گیا تھا۔ سنبھلنے میں بہت وقت لگا مجھے مائزہ لیکن اب سنبھلا ہوں تو تمہیں کھونا نہیں چاہتا ”
مائزہ کو اس کے الفاظ سکون بخش رہے تھے، اس کا مضبوط وجود مائزہ کو تحفظ کا احساس دلا رہا تھا اس وقت۔
” میں اپنے ہر کیے گناہ اور ہر کی ہوئی غلطی کی تلافی کرنے چاہتا ہوں، میں بہت گرا ہوا ہوں، بہت گری ہوئی حرکت کی ہے تم سے، ہمارے بیچ موجود اس پاک بندھن کو میں نے گندگی سے بھر دیا، ہمارے بیچ موجود دوستی کا بھی پاس نہ رکھ پایا میں، بہک گیا تھا، برا بن گیا تھا لیکن پلیز مائزہ معاف کر دو پلیز ”
وہ خاموش ہوا تھا جبکہ مائزہ بھی خاموش ہی تھی، جب ازمائر کو اپنی گردن پہ، گرم سانسوں کا لمس محسوس ہوا تھا، وہ دیکھنے لگا، مائزہ کی آنکھیں بند تھی، وہ شاید سو چکی تھی، اس کے گرد اچھی طرح سے، اپنے بازو کا گھیرا بنا کے، وہ باہر دیکھنے لگا، رات ہو چکی تھی اور بارش بھی متواتر ہو رہی تھی، پیچھے سے اپنی جیکٹ لے کے، اس نے مائزہ کے کندھے پہ اوڑھائی تھی، کھانے کے لئے بھی کچھ نہیں تھا گاڑی میں، ازمائر کو ایک بار پھر سے افسوس ہونے لگا، کہ اس کی ایک غلطی کی وجہ سے، مائزہ بھوکی ہے، اور ان دونوں کو یہاں صبح تک رہنا ہے یونہی بھوکے پیٹ۔
‘ اگر مائزہ کو کچھ ہو گیا ؟’
یہ خیال اسے بےچین کر گیا اور وہ پھر سے مائزہ کے سوئے چہرے کو دیکھنے لگا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

ڈنر تیار تھا، پریشے اپنے سارے بال کیچر میں بند کر کے کمرے سے باہر نکلی تھی، سیڑھیاں اتر کے وہ لاؤنج سے ہوتی ڈائیننگ روم میں آئی تھی لیکن اس کے قدم وہیں جم گئے تھے، حیران آنکھوں سے وہ سامنے کا منظر دیکھ رہی تھی جہاں سب کے بیچ عاھل خان موجود تھا، جو ہلکا سا مسکرا کے اسے ہی دیکھ رہا تھا، اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا وہ ۔
” اسلام علیکم ۔۔ ”
وہ چونکی تھی اور گڑبڑا کے نظریں چراتی ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔
” وعلیکم السلام ۔ ”
ان کے بیچ ارتسام نہیں تھا،
” آو بیٹا ”
امامہ کی آواز پہ وہ چھوٹے قدم اٹھاتی ، آبگینے کے پاس ہی جا کے بیٹھ گئی تھی ۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یون سب کے بیچ وہ کس ردعمل کا اظہار کرے۔ تبھی نظریں جھکائے وہ تھوڑے سے چاول اپنے پلیٹ میں لے کے، ادھر ادھر دیکھنے سے گریز کر رہی تھی، آبگینے بھی سنجیدگی سے بیٹھی کھانا کھا رہی تھی جبکہ شاہ نواز خان ہی بات کر رہے تھے، عاھل سے سوال کر رہے تھے اور وہ جواب دے رہا تھا۔ امامہ بھی مسکرا رہی تھی۔ جب ارتسام اور میرب گھر میں داخل ہوئے تھے اور مسکراتے ہوئے وہیں آئے تھے، لیکن عاھل پہ نظر پڑتے ہی، ارتسام کی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی،لب بھینچے وہ عاھل پہ نظر ڈال کے، شاہ نواز خان کو دیکھنے لگا ۔
” یہ یہاں کیا کر رہا ہے ؟”
عاھل جو اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ارتسام سے ملنے کے لئے، اس کی سخت آواز پہ وہ وہیں رک چکا تھا جبکہ شاہ نواز خان اپنے بیٹے کو دیکھنے لگے ۔
” بیٹا مہمان ہے عاھل خان ہمارے ”
” نہیں ہے مہمان، دشمن ہیں ہمارے ”
ارتسام کی گرج دار آواز پہ، پریشے بھی سہم کے ارتسام کو دیکھنے لگی۔ اس نے کھبی ارتسام کو اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا۔
” ارتسام بیٹا ”
امامہ نے کہنے کی کوشش کی لیکن ہاتھ اٹھا وہ انہیں کچھ بھی کہنے سے روک چکا تھا ۔
” ماں آپ خاموش رہیئے ۔۔ ”
میرب بھی خاموش کھڑی تھی ، ارتسام کا یہ غصہ وہ بھی پہلی بار ہی دیکھ رہی تھی
” نکلو تم یہاں سے ”
ارتسام اب عاھل سے کہہ رہا تھا۔
” ارتسام میں۔۔۔۔۔ ”
عاھل نے کہنے کی کوشش کی تھی لیکن ارتسام تقریبا غرایا تھا۔
” نکلو یہاں سے تم ۔۔۔ ابھی کے ابھی ”
پریشے بھیگی آنکھوں سے عاھل کو دیکھنے لگی جو شرمندہ سا، نظریں چراتا وہاں سے جا رہا تھا، جبکہ ارتسام اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا ۔
” کون سی ریاست دینے آیا تھا وہ یہاں ، جو اسے ڈائننگ ٹیبل کی زینت بنائے بیٹھے ہیں ”
” ارتسام ۔۔۔ تم حد سے بڑھ رہے ہو ”
شاہ نواز خان بھی غصے میں گرجے تھے جبکہ ارتسام کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ ابھری تھی۔
” پہلے اس گھر کی حدیں تعین کر لیں اپ، پھر مجھے میری حدیں بتائیے آپ ”
غصے سے کہہ کے تن فن کرتا وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھا تھا، پریشے کی بھیگی آنکھوں نے اس کا پیچھا کیا جب تک کہ وہ سیڑھیاں چڑھ گیا ۔
” کیا ہو گیا ہے اسے ”
امامہ بڑبڑائی تھی۔
” تمیز بھول گیا ہے برخوردار ”
شاہنواز خان غصے سے کہہ کے، اپنی کرسی پہ بیٹھ چکا تھے، میرب، پریشے کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پہ، اس کی اندرونی کیفیت لکھی نظر آ رہی تھی، پریشے نے ادھر ادھر دیکھا تھا اور پھر آہستگی سے وہ بھی سیڑھیوں کی طرف بڑھی تھی کپ اسے یقین ہو چکا تھا کپ اب اس کی زندگی میں ماسوائے رنجشوں کے کچھ بچا ہی نہیں ہے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

صبح کی روشنی پھیلتے ہی، اس نے ڈرائیور کو کال کی تھی اور ساتھ لوکیشن سینڈ کی تھی اور تبھی وہ گاڑی اور کھانے پینے کی لوازمات کے ساتھ وہاں موجود تھا، ازمائر نے اسے گاڑی میں بیٹھنے میں مدد دی تھی، بھوک اور کمزوری سے وہ نڈھال ہو رہی تھی، ازمائر کو اپنی اس حرکت پہ بےحد افسوس ہوا تھا کہ اسے اس حالت میں بھی مائزہ کی صحت کا خیال نہیں رہا تھا۔
” مائزہ اب کیسا فیل کر رہی ہو ؟؟”
اسے جوس پلا کے، ازمائر فکرمندی سے پوچھ رہا تھا جبکہ وہ سر اثبات میں ہلا گئی ۔
” یہ کچھ کھا لو پلیز ۔ ”
وہ مائزہ کے سامنے سینڈوچ رکھتا کہنے لگا جسے مائزہ نے اٹھا کے کھانا شروع کیا تھا اور ازمائر گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا کہ مائزہ کو رات سے یہاں بٹھا کے رکھا تھا اس نے اور وہ بےحد تھکن محسوس کر رہی تھی۔
” تم نہیں کھا رہے ؟؟”
مائزہ نے سینڈوچ اس کی طرف بڑھایا تھا اور ازمائر نے اس کے ہاتھ میں موجود سینڈوچ سے بائٹ لی تھی جبکہ مائزہ جھینپ سی گئی تھی لیکن خاموش ہی رہی ۔
” شہر پہنچ کے ڈاکٹر کے پاس چلیں ”
” نہیں میں ٹھیک ہوں، ”
آہستگی سے جواب دے کے وہ باہر دیکھنے لگی ۔ ازمائر نے ایک گہری نظر اس پہ ڈالی تھی۔
” ایم سوری مائزہ ”
اس کے لہجے میں شرمندگی تھی، مائزہ خاموش ہی رہی، کس کس بات کے لئے وہ معافی مانگے گا، وہ بس سوچ کے رہ گئی۔ کچھ ہی دیر میں وہ اسلام آباد شہر میں داخل ہوئے تھے، وہ مطمئن سی اپنے شہر کو دیکھنے لگی، بارش ہلکی ہو چکی تھی لیکن موسم میں ہلکی ہلکی خنکی کا احساس موجود تھا جو اس وقت مائزہ کو بہت اچھا لگ رہا تھا، لیکن روح کی تھکن اتر رہی ہو اس ہلکی چلتی ہوا سے۔ وہ بےساختہ ہاتھ بڑھا کے بارش کی ان ننھی بوندوں کو اپنے ہتھیلی پہ محسوس کرنے لگی، اس کے چہرے پہ ہلکی مسکراہٹ تھی، ازمائر نے گاڑی چلاتے ہوئے اسے دیکھا تھا، اس کی آنکھیں کھوئی کھوئی سی تھی لیکن لب مسکرا رہے تھے۔دل میں اچانک سے انوکھے جذبوں نے سر اٹھایا تھا کہ اس کے مسکراتے لبوں کی مسکراہٹ وہ اپنے لبوں سے چن لیں، لیکن وہ لب بھینچے خاموش ہی رہا کہ وہ صرف مائزہ کی نفرت کا مرتکب ہے، اسے مائزہ کی محبت کھبی نہیں مل سکتی، وہ گنہگار ہے مائزہ کا۔ گاڑی گیٹ سے داخل ہو کے پورچ میں جا کے رکی تھی، وہاں موجود ڈرائیور نے تیزی سے آگے بڑھ کے گاڑی کا دروازہ ہے کھولا تھا مائزہ کے لئے، ازمائر بھی اتر کے اس کی طرف آیا تھا اور اس کا ہاتھ تھام کے، اسے اترنے میں مدد دینے لگا ۔
” گاڑی سے سامان اتار کے کچن میں لے کے جاؤ ”
ڈرائیور کو حکم دے کے، وہ مائزہ کی کمر پہ ہاتھ رکھ کے، اسے چلنے میں مدد دینے لگا۔ جب مائزہ نے اپنا رخ، اپنے پورشن کی طرف کرنا چاہا لیکن ازمائر نے اسے روکا تھا۔ مائزہ اسے دیکھنے لگی ۔
” ہمارے روم میں جاتے ہیں پلیز ”
مائزہ اسے دیکھے گئی، کس قدر منت تھی اس کے لہجے میں، اچانک اس رات کا لمحہ اس کی آنکھوں کے سامنے ابھرا تھا،جب وہ رو رہی تھی، درد سے سسک رہی تھی لیکن ازمائر کو اس پہ رحم نہ آیا تھا، اپنی من مانی کرتا گیا، رشتوں کی لاج بھی نہ رکھی تھی اس نے، وہ ہاتھ چھڑا گئی اس کے ہاتھ سے اور اس سے نظریں پھیر کے فاصلہ اختیار کر گئی۔
” مجھے وہاں نہیں جانا کھبی بھی ”
” کیوں؟؟”
ازمائر کے لہجے میں تھکن تھی، مائزہ نے پھر سے اسے دیکھا تھا۔
” میں کوشش کر رہی ہوں لیکن میں کچھ بھول نہیں پا رہی ازمائر، رشتوں کا تقدس تم نے جس طرح سے، اس رات کے لمحے لمحے میں دفن کیا ہے، اسے بھولنا یا اس پہ فاتحہ پڑھ لینا میرے لئے ناممکن ہے ۔ ”
اپنی بات کہہ کے وہ رخ موڑ گئی تھی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ لان سے ہوتی اپنے پورشن کی طرف جانے لگی جبکہ ازمائر لب بھینچے وہیں کھڑا اسے پل پل خود سے دور ہوتا دیکھ رہا تھا۔ وہ گنہگار تھا مائزہ کا اور مائزہ اسے معاف کرنے کے لئے بلکل تیار نہ تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” کب تک شاپنگ ہوگی تمہاری ؟”
میران کے سوال پہ وہ مسکرائی تھی اور ساتھ ساتھ وہ زینی بوتیک میں موجود اپنے لیے ڈریسز دیکھ رہی تھی۔
” ابھی تو اسٹارٹ ہوئی ہے ”
جبکہ آفس میں بیٹھا میران موبائل کان سے لگائے مسکرانے لگا۔
” آہہمم ۔۔۔ ایم مسنگ یو ”
” افس آ جاؤں تمہارے ؟”
سماہر شرارتی انداز میں لب دانتوں تلے دبا گئی جبکہ وہ ہنسنے لگا ۔
” سوچ لو، جنگ کا میدان بن جائے گا یہ آفس ”
سماہر بھی ہنس پڑی تھی۔
” شام کو جلدی آنا گھر ۔ ”
” جو حکم آپ کا ”
میران نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا۔ کال ڈسکنیکٹ کر کے، سماہر نے اپنی پسند کی ہوئی چیزیں سیلز گرل کو پکڑائی تھی اور وہ ریسیپشن پہ چیزیں رکھ کے، سماہر کو دیکھنے لگی۔
” آپ ویٹ کیجئے گا میم ”
سماہر نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا تھا اور گلاس وال سے باہر دیکھنے لگی، اپنی خریدی ہوئی چیزوں کی پےمنٹ کر کے، وہ اپنے پیکٹس لیے وہاں سے باہر نکلی تھی، اس کے قریب گارڈ تیزی سے آیا تھا اور اس کے ہاتھ سے شاپنگ بیگز لے کے وہ گاڑی کی طرف بڑھا تھا جب اچانک سماہر کے سامنے ماریہ تھی، سماہت کو رکنا پڑا تھا جبکہ وہ مسکراتی آنکھوں سے سماہر کو دیکھنے لگی۔
” کیسی ہو سماہر ؟”
سر جھٹک کے سماہر نے اس کے سائیڈ سے ہو کے گزرنے کے لئے قدم رکھے تھے لیکن وہ پھر سے سماہر کے سامنے کھڑی ہوئی تھی۔
” کیا مسئلہ ہے ؟”
سماہر نے سپاٹ لہجے میں سوال کرتے اسے دیکھا تھا جبکہ اس نے ہاتھ میں موجود بوتل کو اس کی آنکھوں کے سامنے کیا تھا جو آدھا بھرا ہوا تھا۔
” تم میرا مسئلہ ہو سماہر ”
اور ساتھ ہی ہاتھ میں موجود بوتل کو جھٹکے سے اس کے چہرے پہ چھڑکا وہ سماہر سے دو قدم پیچھے ہوئی تھی جبکہ سماہر کی چیخ ابھری تھی اور اس نے تیزی سے دونوں ہاتھ چہرے پہ رکھے تھے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

#Novel_By_Malayeka_Rafi

#ادائے_عشق_ہوں
#ایپسوڈ_20
#Season_2

” سائیں بی بی ”
سماہر کی چیخ پہ، گاڑی کے پاس کھڑا منان اس کی طرف دوڑا تھا جبکہ گارڈ بھی تیزی سے اسی طرف آیا تھا، سماہر کے حفاظت کی ذمہ داری ان دونوں کی تھی اور ان کے سامنے ہی سماہر کے ساتھ یہ حادثہ ہوا تھا، وہ دونوں اب میران کو کیا جواب دیتے۔
ماریہ ہنس رہی تھی۔
” ڈر گئی تم لوگوں کی سائیں بی بی ”
وہ قہقہہ مار کے ہنستی وہاں سے بھاگی تھی جبکہ سماہر گہرا سانس لیتی اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے چھونے لگی۔ اسے کچھ نہیں ہوا تھا۔
” آپ ٹھیک ہے سائیں بی بی ”
سر اثبات میں ہلاتی وہ اپنے کندھے پہ موجود ڈوپٹے سے اپنا تر چہرہ صاف کرنے لگی، وہ کوئی ایسڈ نہیں تھا بلکہ عام پانی تھا جسے ماریہ نے اس کے چہرے پہ پھینکا تھا، صرف اسے ڈرانے کے لئے تھا۔ گارڈ اس کے لئے ٹشو پیپر لے کے آیا تھا تا کہ سماہر اپنا چہرہ صاف کر سکے ۔
” میران سائیں کو کال کرتا ہوں میں، اپ گاڑی میں بیٹھئے سائیں بی بی ”
منان موبائل جیب سے نکالتا کہنے لگا جب سماہر نے اسے منع کیا تھا۔
” نہیں منان کاکا، میران کو اس بات کی بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے۔ اسے اپ بلکل نہیں بتائیے گیں اس حادثے کا ”
” لیکن کیوں سائیں بی بی، کل کو وہ عورت پھر سے کچھ کر دے گی ”
منان حیرانی سے کہنے لگا ۔ ۔
” یہ میرا اور اس کا معاملہ ہے اب، آپ پلیز میران کو کچھ مت بتائیے گا، میں نہیں چاہتی کہ میران کچھ غلط کر بیٹھے، پلیز منان کاکا ”
سماہر اسے سختی سے منع کرتی گاڑی کی طرف بڑھی تھی جبکہ منان، گارڈ کی طرف دیکھتا آگے بڑھا تھا۔
” سائیں بی بی کے ساتھ رہو سائے کی طرح ”
” جو حکم ”
گارڈ تیزی سے آگے بڑھا تھا جبکہ منان اس راستے کو دیکھنے لگا جہاں سے ماریہ بھاگتی ہوئی گئی تھی اور پھر سر جھٹک کے وہ بھی گاڑی کی طرف بڑھا تھا۔ میران سے وہ جھوٹ بھی نہیں بول سکتا تھا لیکن سماہر کی بات بھی وہ ٹال نہیں سکتا تھا۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

وہ صبح سے ہاسپٹل میں اسے دیکھ رہا تھا جو منہ بنا کے اسے نظرانداز کر رہی تھی، اگر وہ کچھ پوچھ بھی لیتا تو وہ اپنی چھوٹی سی ناک چڑھائے آگے بڑھ جاتی یا میڈیسن دیکھنے میں مصروف ہو جاتی، ارتسام پریشان نظروں سے اسے دیکھتا رہ جاتا، ابھی بھی وہ اپنے مریض کو دیکھ کے، کوریڈور میں جا رہی تھی جب ارتسام اس کے سامنے آیا تھا، میرب آنکھیں پھیر کے وہیں رک گئی۔
” بھوک لگی ہے مجھے، لنچ کے لئے چلیں؟”
ارتسام کے سوال پہ، میرب نے سر سے پاؤں تک اسے گھورا تھا۔
” تو جاؤ ”
اس کے پہلو سے ہو کے وہ گزرنا چاہ رہی تھی جب ارتسام اس کے سامنے آیا تھا
” ساتھ میں کرتے ہیں ہم ہمیشہ لنچ، تو ابھی بھی تمہارے ساتھ کرنا ہے ”
میرب نے لب بھینچے اسے دیکھا تھا۔
” مجھے تمہارے ساتھ بیٹھ کے کچھ نہیں کھانا ”
” کیوں؟؟ کیا ہوا ہے تمہیں؟؟ جو صبح سے منہ بنا ہوا ہے ”
ارتسام اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
” انتہائی بدتمیز اور بدلحاظ ہو تم ۔۔۔ اس لئے ”
میرب کے لفظ لفظ چبا کے کہنے پہ، ارتسام نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔
” میں نے کیا بدتمیزی کی ہے تم سے ؟”
وہ ایسے ردعمل ظاہر کر رہا تھا جیسے اس نے کچھ کیا ہی نہیں ہے، یا اسے کچھ یاد ہی نہیں ہے ۔
” گھر آئے مہمان کے ساتھ تو کی ہے بدتمیزی ”
ارتسام نے لب بھینچ لیے تھے۔
” وہ مہمان نہیں تھا، دشمن ہے وہ ہمارا،میری بہن کی خوشیوں کا قاتل ”
” اوہ کم آن ارتسام، کس دنیا میں رہتے ہو تم ، پرانی باتیں بھول جاتے ہیں لوگ، آگے بڑھتے ہیں، لیکن ڈاکٹر ہو کے بھی، تم اسی دقیانوسی دنیا میں رہتے ہو”
میرب نے آنکھیں گھما کے کہا تھا جبکہ ارتسام اسے گھورنے لگا۔
” تمہیں کوئی مطلب نہیں ہونا چاہئے ”
میرب نے غصے سے اسے ہاتھ سے پرے کیا تھا۔
” ہٹو سامنے سے ”
وہ آگے بڑھی تھی جبکہ ارتسام نے اس کی پشت گھوری تھی۔
” یہ کیا بدتمیزی ہے اب میرب ، میں ہزبینڈ ہوں تمہارا ” ۔
” بیوی سے تمیز سے بات کرنا سیکھو پہلے ”
میرب نے یونہی چلتے ہوئے کہا تھا جب ارتسام بھی آگے بڑھ کے اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا
” میں نے کیا بدتمیزی کر دی اب میرب ”
” چپ ہی رہو تم پاگل پٹھان ”
” وہاٹ، میرب عزت دو مجھے، میں تمہارا ہزبینڈ ہوں”
ارتسام کو غصہ آیا تھا ۔
” اچھا ۔۔ ”
میرب نے بات ہی ختم کر دی ۔
” میرے پیچھے آنے کی ضرورت نہیں ہے، مجھے نہ بھوک ہے اور نہ تمہارے ساتھ بیٹھنا ہے مجھے ”
یہ کہہ کے اس نے تیزی سے قدم آگے بڑھا دیے تھے جبکہ ارتسام وہیں کھڑا رہا، اسے بھی میرب پہ اب غصہ آنے لگا تھا جو فضول میں اس کے ساتھ بحث کر رہی تھی، سر جھٹک کے وہ بھی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا کہ اب بھوک بھی مٹ چکی تھی میرب سے بحث کے بعد۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

پریشے اپنے مریض کو دیکھ کے، اپنے کمرے میں آئی تھی جب اس کی نظر عاھل خان پہ پڑی جو اسے دیکھ کے، کرسی سے اٹھ رہا تھا۔
” مجھے امید ہے کہ میں نے ڈسٹرب نہ کیا ہو تمہیں ”
وہ ہلکا سا مسکرا کے کہنے لگا جبکہ پریشے سر جھٹک کے آگے بڑھی تھی۔
“کیوں آئے ہیں آپ یہاں؟”
اسے دیکھے بنا ہی، وہ سوال کرتی اپنی چیزیں ٹیبل پہ رکھ کے، اپنی سیٹ پہ بیٹھ گئی جبکہ عاھل بھی اسے دیکھتا کرسی پہ بیٹھ چکا تھا۔
” ایم سوری،کل رات میری وجہ سے گھر میں اتنی بدمزگی ہوئی ۔”
پریشے نے اسے دیکھا تھا، وہ شرمندہ سا نظر آ رہا تھا، اسے دکھ ہوا تھا، شرمندہ تو اسے ہونا چاہئے کہ وہ مہمان تھا ان کے گھر اور وہ سب ہوا۔
” آپ کیوں سوری کر رہے ہیں عاھل، آپ مہمان تھے، شرمندہ تو ہمیں ہونا چاہئے ”
” ارے نہیں نہیں، اٹس اوکے، مجھے برا نہیں لگا، ارتسام ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا، اتنا برا کر چکا ہوں میں تمہارے ساتھ، اس فیملی کے ساتھ، جو میرے اپنے تھے اور پھر بھی سب کا مان توڑا میں نے، سب سے بڑھ کے تمہارا یقین توڑا میں نے، اس محبت کی لاج بھی نہ رکھی میں نے اور، تمہارا مان توڑ دیا میں نے، ”
وہ خاموش ہوا تھا جبکہ پریشے اپنے امڈتے آنسوؤں چھپانے کے لئے، پلکیں جھکا گئی جبکہ عاھل اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
” میں بس جا رہا تھا پھر سے”
پریشے نے چونک کے پلکیں اٹھائی تھی ۔
” پاکستان میں کچھ دنوں کے لئے آیا تھا، اب پھر سے جانا ہے، ایک بار پھر تم سے معافی مانگنا چاہوں گا پریشے، جو بھی ہوا شاید میری ہی غلطی تھی لیکن تمہیں کھونا کھبی نہیں چاہتا تھا میں، کیونکہ تم میری روح میں شامل ہو ”
پریشے کے گال پہ بےاختیار آنسو پھسلے تھے۔
” میں تمہیں رلانا نہیں چاہتا تھا کھبی اور نہ اب چاہتا ہوں، تم سے محبت میں نے روح سے کی ہے، تمہیں میں خوش دیکھنا چاہتا ہوں اور میرا ہونا یہاں تمہارے لئے اذیت کا باعث بن رہا ہے، میں نہیں چاہتا تھا اب بھی کہ تمہارے سامنے آؤں لیکن یہ ۔۔۔ یہاں ”
اس نے لب بھنیچے پہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھا تھا۔
” میں ملنے آ گیا، تمہیں دیکھ لینا چاہتا تھا، اختیار نہیں ہوتا ناں ان فیلنگز پہ ہمارا، اب جا رہا ہوں تو دعا ہے میری کہ تم ہمیشہ خوش رہو اور، پھر سے تمہارے سامنے آ کے، تمہارے لئے یوں اذیت کا باعث نہ بنوں، بس کوشش کروں گا کہ ایسا ہی ہو ”
وہ بات کرتے کرتے اٹھ کھڑا ہوا تھا جبکہ پریشے نظریں جھکائے بیٹھی رہی، ہاتھ کی مٹھی بنائے اس نے ٹیبل پہ رکھا تھا، عاھل نے ایک نظر اس کے ہاتھ پہ ڈالی تھی، شاید خود کو کچھ بھی کہنے سے روک رہی تھی، اداس نظروں نے اس کے سراپے کو، اپنی آنکھوں میں حفظ کیا تھا۔
” میری فلائٹ ہے اج رات، تو میں چلا جاؤں گا ”
پریشے کا دل ڈوبا تھا بےاختیار، لیکن وہ یونہی بیٹھی رہی، بنا کسی حرکت کے، وہ جا رہا تھا جیسے اس کے جسم سے، اس کی روح کھینچ کے لے جا رہا ہو،
” اپنا خیال رکھنا اور تمہاری خوشیوں کے لئے ہمیشہ دعاگو رہوں گا میں ”
اس نے پھر سے کہا تھا لیکن پریشے اب بھی خاموش تھی،
” اللہ حافظ ”
بھاری بوجھل آواز میں کہتا وہ تھکا تھکا سا دروازے کی طرف مڑا تھا، بھاری ہوتا ہاتھ، اس نے دروازے کے ہینڈل پہ رکھے تھے۔ سماعت منتظر تھی کہ وہ کچھ کہے، کچھ تو کہے، اسے پکار ہی لیں، اس کا نام لیں، اسے روک لیں، لیکن وہ کس قدر مضبوط تھی، عاھل کو حیرت ہوئی تھی، ایک آخری نظر مڑ کے، اس نے پریشے پہ ڈالی تھی جو ابھی تک سر جھکائے بیٹھی ہوئی تھی، وہ کیوں روکے گی؟ جب تم جانے کی بات کر رہے ہو تو وہ کیا کہہ کے روکے گی ؟؟
اس کے چہرے پہ ہلکی مسکراہٹ ابھری تھی، اور دروازہ کھول کے، وہ تیزی سے باہر نکل کے دروازہ بند کر چکا تھا،دروازہ بند ہونے کی آواز آئی تھی اور پھر سکوت تھا اس کمرے میں، لیکن اس سکوت کو پریشے کی ہچکی نے توڑا تھا، ہاتھ کی بند مٹھی کھلی تھی اور ہچکیوں کو راستہ مل گیا تھا جیسے، آنسوؤں کو بہہ نکلنے کی راہ مل گئی تھی، وہ یونہی بیٹھی روتی رہی، وہ جا رہا تھا، وہ جا چکا تھا، بنا کچھ کہے، بنا اسے اپنی زندگی میں شامل کرنے کی درخواست کیے، وہ چلا گیا، تو آیا کیوں تھا ؟؟ پرانے زخم ادھیڑنے؟؟ زخم تو ابھی بھی تازہ تھے لیکن وہ مرہم لگا کے، خود کو صبر کا درس دے چکی تھی،اس شخص نے تو آکے، سارے زخم ادھیڑ دئیے اور پھر چلا بھی گیا، بنا ان زخموں کو دیکھے، بنا ان زخموں پہ مرہم لگائے، اس کا دل سلگنے لگا تھا، گہرا سانس لے کے، اس نے خود کو رونے سے روکنے کی کوشش کی تھی لیکن بےسود، بند دروازے پہ نظر پڑتے ہی، اس کے رونے میں شدت آئی تھی، جیسے آیا تھا ویسے ہی جا رہا ہے، بنا سوال کیے، بنا کوئی جواب دئیے، بنا کچھ کہے۔ وہ تیزی سے اٹھ کے اپنے آنسو صاف کرتی، دروازہ کھول کے باہر نکلی تھی، کوریڈور میں ادھر ادھر دیکھتی وہ آگے بڑھ رہی تھی، کلینک کے احاطے سے بھی باہر نکل کے دیکھا اس نے، وہ کہیں نہیں تھا، اسے لگا شاید یہیں کہیں منتظر ہو، جانے میں دشواری پیش آرہی ہو اسے اور وہ رک چکا ہو یہیں کہیں،لیکن وہ جا چکا تھا، اس قدر جلدی تھی اسے جانے کی، کہ پل بھر کو رکا کے، اس عمارت کی طرف بھی نہیں دیکھا،جہاں وہ روح بستی تھی، جس کا روم روم صرف اس کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ تھکے قدموں پھر سے اس عمارت کی طرف بڑھنے لگی کہ یہی اس کا نصیب تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

میران نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا، اچانک سماہر آگے بڑھ کے، اس کے سینے سے جا لگی تھی، میران حیران حیران سا اسے بانہوں میں بھر چکا تھا،جبکہ وہ میران کے سینے سے لگی، اپنا چہرہ بھی اس کے سینے میں چھپا گئی تھی۔
” سماہر۔۔۔ ”
میران نے اس کے بکھرے بال، ہاتھ کی انگلیوں سے سمیٹتے، اس کا نام لیا تھا لیکن وہ خاموش ہی رہی، گہرے سانس لیتی، جیسے میران کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتار رہی تھی۔
” میران کی سماہر،کیا ہوا ہے میری جان ؟”
میران کے محبت بھرے لہجے پہ، وہ سمٹتی سی، اس کے سینے الگ ہو کے، اسے دیکھنے لگی۔
” میران،سماہر کا ہے ناں؟”
کس قدر معصومیت تھی اس وقت سماہر کی آنکھوں میں، وہ دیکھے گیا ۔
” مجھے تو یہی لگتا ہے ”
اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے، میران نے گہرا سانس لیا تھا جبکہ سماہر اب بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“پیار، محبت، عشق اور پھر محرم ہونا، کس قدر خوبصورت احساسات ہیں یہ سب ”
سماہر کھوئے لہجے میں کہتی اس کے قریب ہوئی تھی، کہ دونوں کے لبوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں رہا تھا۔
” تم کس قدر خوبصورت ہو سماہر، کس قدر خوبصورت الفاظ ہیں تمہارے، تمہارے ساتھ بیتتا ہر دن مجھے یہ باور کروا رہا ہے کہ اللہ پاک ہمارے لئے ہمیشہ بہترین کا انتخاب کرتے ہیں ”
سماہر کے لب مسکرا دیے تھے، دل کو جو خوف لاحق تھا وہ اب زائل ہونے لگا تھا۔
” کیا ہوا ہے میری سماہر کو، آج کیوں اداسی سی چھائی ہے ”
میران کے پوچھنے پہ، وہ سر نفی میں ہلانے لگی۔
” نہیں تو۔ ”
اس نے نظریں چرائی تھی جسے میران دیکھ چکا تھا۔
“کیا بات ہے میری جان ؟”
اس کی ٹھوڑی کو ہاتھ کی پشت سے سہلاتا وہ پوچھ رہا تھا جبکہ سماہر لب کاٹتی اسے دیکھنے لگی۔
” کیا ہوا ہے ؟؟ کسی نے کچھ کہا ہے ؟؟”
میران فکرمندی سے اس کے اداس چہرے کو دیکھنے لگا جبکہ وہ تیزی سے پیچھے ہو کے، اس سے الگ ہوئی تھی۔
” ن ۔۔۔ نہیں تو، مجھے کوئی کیا کہے گا ۔ ”
وہ مسکرانے کی کوشش کرتی رخ موڑ گئی۔
” میں کپڑے نکال دیتی ہوں تمہارے ”
وہ وارڈ روب کی طرف بڑھی تھی جبکہ میران کی کھوجتی نگاہیں اس کی پشت پہ تھی۔ وہ کپڑے نکال کے مڑ کے اسے دیکھنے لگی ۔
” ابھی تک یہیں کھڑے ہو، چلو جلدی کرو”
میران نے آگے بڑھ کے، اپنی شرٹ اور ٹراؤزر اس کے ہاتھ سے لے کے، صوفے پہ رکھا تھا اور اب اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے تھے۔
” کیا بات ہے جان میران ، کوئی بات ہے جو تم چھپا رہی ہو مجھ سے ؟”
‘ کتنا پڑھ لیتا ہے یہ شخص اسے’
وہ سوچ کے رہ گئی ۔
” ماریہ سے ریلیٹیڈ کوئی مسئلہ ہے ؟”
میران کے سوال پہ، سماہر نے چونک کے اسے دیکھا تھا، اس کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا تھا، دل کی دھڑکن پل بھر کے لئے مدھم ہوئی تھی۔
‘ کیسے پڑھ لیتا ہے یہ شخص مجھے ؟’
اس نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا تھا۔
” نہیں، میں اس کے بارے میں کیوں سوچوں گی، بس سر میں درد ہے تبھی ایسا لگ رہا ہے تمہیں ”
اس نے بات ٹالنے کی کوشش کی تھی،
” ہممم ”
میران نے ہنکارا بھرا تھا۔
” شاپنگ کیسی رہی؟”
میران پوچھنے لگا تو وہ مسکرا کے کندھے اچکا گئی ۔
” بہت اچھی ۔۔۔ ”
” آہاں، تو تم نے بتایا ہی نہیں ”
” تم۔نے پوچھا ہی نہیں ”
سماہر نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا تھا اور وہ کھل کے مسکرا دیا تھا ۔
” اچھا میں چینج کرتا ہوں پھر ڈنر کرتے ہیں ”
اس کے گال، اپنے ہاتھ سے ، نرمی سے سہلاتا میران بولا تھا اور وہ اثبات میں سر ہلانے لگی ۔ تب میران نے اس کے گال پہ اپنے لب رکھ کے، اپنے محبت کی مہر ثبت کی تھی اور پھر اس سے الگ ہو کے، وہ صوفے پہ رکھی اپنی شرٹ اور ٹراؤزر لے کے، واشروم چلا گیا جبکہ سماہر نے گہرا سانس لیتے، واشروم کے بند دروازے کو دیکھا تھا اور پھر خود کو ڈریسنگ ٹیبل کے مرر میں دیکھنے لگی، خود کو فریش ظاہر کرنے کی کوشش کرتی، اس نے اپنے گالوں پہ بلش آن کی ہلکی سی تہہ لگائی تھی، آنکھوں میں کاجل لگایا تھا اور ہونٹوں پہ ہلکے رنگ کا لپ گلوس لگا کے، وہ خود کو دیکھنے لگی، اپنے کسی بھی حرکت سے، وہ میران پہ یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی کہ وہ پریشان ہے یا کچھ ہوا ہے اس کے ساتھ یا ماریہ کا ہاتھ ہے اس کی پریشانی میں۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” آ گئی سمجھ محترمہ کہ نہیں؟؟”
ازمائر اسے دیکھتے پوچھ رہا تھا جبکہ مائزہ سر نفی میں ہلاتی، بیچارگی سے اسے دیکھنے لگی تھی جبکہ ازمائر کی آنکھیں باہر آنے کو تھی۔
” مائزہ یار ، ابھی تو اتنا سمجھایا ہے، ایک میتھس پرابلم سولو نہیں ہو رہا تم سے ۔۔ ”
مائزہ کی ہنسی گونجی تھی جبکہ ازمائر تاسف سے اسے دیکھ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” اتنا سج، سنور کے بھی تم لنگور ہی لگ رہے ہو ”
مائزہ کی آواز پہ وہ اچانک مڑا تھا اور بھرپور گھوری بھی دی تھی اسے،
” منہ اچھا نہ ہو تو بات اچھی کر لیا کریں بندہ ”
” اسی پہ تو عمل کر رہی ہوں، منہ زیادہ اچھا ہے میرا، اس لئے باتیں بری کرتی ہوں ”
مائزہ نے بھی دوبدو جواب دیا تھا جبکہ ازمائر نے منہ بنایا تھا۔
” واؤ گریٹ، ہنسنا تھا”
” ہاں ”
” لو ہنس لیا ”
بری آواز میں ہنستا ازمائر اسے دیکھنے لگا جبکہ مائزہ مسکرانے لگی کہ وہ شخص نظر لگ جانے کی حد تک، خوبصورت لگ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” یہ لڑکا کیوں ایسے گھور گھور کے دیکھ رہا تھا تمہیں، جیسے آنکھوں سے پیزا سمجھ کے کھانے کا ارادہ رکھتا ہے ”
ازمائر کے منہ بنا کے کہنے پہ مائزہ ہنس پڑی تھی۔
” jealousy on its peak ”
” استغفراللہ۔۔۔ کیا کہہ رہی ہو تم، ازمائر دا گریٹ کسی سے جیلس نہیں ہوتا ”
” تو پھر یہ کیا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور پھر منظر بدلا تھا، وہ ازمائر ہی تھا لیکن بےحد سفاک اور ظالم، نفرت کی حد تک جابر ازمائر،
” تم صرف ضد ہو میری، انتقام ہو اور کچھ نہیں ہو ”
۔
” سامنے مت آیا کرو، اور غصہ آنے لگتا ہے ”
۔
” تم خود چاہ رہی تھی، تو میں نے بھی تمہاری چاہ پوری کر دی ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چہرے پہ بکھری مسکراہٹ سکڑ گئی تھی اور آنسو گالوں پہ بہہ نکلے تھے، ماضی کی یادیں کھبی خوشگوار ہوتی ہے تو کھبی اذیتناک، اس نے اپنے سامنے پڑے پیپرز کو دیکھا تھا، اس کی آزادی کے پیپرز، اس کے اوپر ایک پین بھی رکھا ہوا تھا، اسے سائن کرنے تھے ان پیپرز، وہ پورے دو گھنٹے سے، ان پیپرز کو دیکھ رہی تھی، کھبی لب کاٹتی، کھبی پین اٹھا کے ان پیپرز پہ سائن کا سوچتی اور پھر رکھ دیتی، تو کھبی کھڑکی سے نظر آتے چڑیوں کو دیکھتی، جو درختوں پہ گردش کرتے، چوں چوں کر رہے تھے۔ کھبی ماضی کے خوشگوار یادوں میں کھو جاتی، تو کھبی اس دل کی سنتی، جس کی دھڑکنیں ازمائر کا نام الاپ رہی تھی، اس کا دھیان اپنے وجود میں پلتے، اس ننھی سی جان کی طرف گیا تو اس رات کا لمحہ لمحہ اس کی آنکھوں کے سامنے، کسی فلم کی مانند چلنے لگا۔ آنکھوں میں نمکین پانی پھر سے جمع ہونے لگا اور دل کانچ کی مانند ٹوٹ کے بکھرا تھا۔
” محبت کی تھی تم سے ازمائر، بےحد محبت، جب سے شعور کی منزل پہ قدم رکھا تھا، جب محبت کسی تتلی کی مانند، دل کی سرحدوں پہ آ ٹھہرتی ہے، جب کوئی غزل پڑھنے پہ، آنکھوں میں بےساختہ کسی کی تصویر بنتی ہے، جب پہلی بار دھڑکنیں منتشر ہوتی ہے کسی کے یوں سامنے آ جانے سے، جب لگنے لگتا ہے کہ کسی کا خاص ہونا، کس قدر خوبصورت احساس ہے، جب ۔۔۔ ”
وہ رکی تھی، دھیرے دھیرے خود کلامی کرتی، لفظوں کو لفظوں سے جوڑتی، وہ تھکنے لگی تو رک درختوں پہ، پرندوں کے جنڈ کو دیکھنے لگی، جو شام ہوتے ہی، چہچہانے لگے تھے۔
” تمہیں کیا لگتا ہے کہ ان بےاختیار جذبوں کی مدت محدود ہوتی ہے؟؟ لامحدود ہوتی ہے یا پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے، صدیاں بیت جاتی ہے لیکن وہ جو پہلی محبت کا، پہلا قدم، اس دل کی سرزمین پہ رکھا جا چکا ہوتا ہے، وہ جو اس پہلی محبت کے خواب پلکوں پہ سج جاتے ہیں، وہ جو ہر دعا کا پہلا ورد بن جاتے ہیں، جو ڈائری کے ہر ورق کا عکس بن جاتے ہیں، وہ کھبی نہیں مٹتے، وہ کھبی منظر سے غائب نہیں ہوتے ازمائر ارتضی ملک ”
اس نے پھر سے ان طلاق کے پیپرز کی طرف دیکھا تھا، جن پہ اسے سائن کرنے تھے ۔
” تم کھبی نہیں محسوس کر پاؤ گیں ازمائر ارتضی ملک۔ ”
گہرا سانس لیتی وہ جھکی تھی اور پین ہاتھ میں لے کے، اس نے ان پیپرز پہ سائن کرنے کے لئے خود کو آمادہ کیا تھا، اسے سائن کرنے ہی تھے اور وہ سائن کر رہی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

Forced Marriage Novels

انتظار ختم ہوا اور ایپسوڈ حاضر ہے 😊😊 لائک کرین، کمنٹ کریں اور شئیر کرین پوسٹ کو، اپنی کیوٹ سی رائٹر کی خاطر 🥰🥰 کیا لگتا ہے آپ کو؟؟ کیا صحیح فیصلہ ہے مائزہ کا؟ ازمائر سے طلاق لینے کا ؟؟ ضرور بتائیے گا 😊 بہت سا پیار آپ سب کے لئے ❤❤

ہمیشہ کی طرح پوسٹ کو لائک کریں ، کمنٹ کریں اور شئیر کریں پوسٹ کو۔ 😊😊
کیسی لگی آج کی ایپسوڈ ؟؟ ضرور بتائیے گا 🙂
خوش رہیں 🖤

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

One thought on “Ada e Ishq hn – Episode 18 19 & 20 Season 02

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *